اسرائیل-ایران جنگ اور غزہ میں قتل عام

خورشید عالم داؤد

تاریخی پس منظر اور موجودہ تناظر:
مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور ایران کی مزاحمتی پالیسی برسوں سے ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں، جیسے حزب اللہ، حماس اور انصاراللہ، اسرائیلی سامراج کے خلاف فعال مزاحمت کا استعارہ بن چکی ہیں۔ یہی مزاحمت اسرائیل کو ایک مضبوط اور منظم ریاست ایران سے براہ راست ٹکراؤ پر آمادہ کر رہی ہے۔ حالیہ جنگ اسی بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نتیجہ ہے، جس میں اسرائیل نے ایران کے فوجی، جوہری اور سائنسی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، اور ایران نے براہ راست اسرائیلی سرزمین پر میزائلوں کی بارش کر کے طاقت کا جواب طاقت سے دیا۔
خطے پر اثرات:
یہ جنگ صرف دو ملکوں تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے خطے میں سیاسی، معاشی اور تزویراتی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ خلیجی ریاستیں، عراق، شام اور لبنان پہلے ہی جیوپولیٹیکل دباؤ میں ہیں۔ ایران پر حملے اور اس کا ردعمل خلیج فارس میں تجارتی نقل و حمل، تیل کی سپلائی اور عالمی منڈیوں میں استحکام کو متاثر کر رہا ہے۔ عالمی قوتیں، بالخصوص امریکہ، چین اور روس، اس کشمکش کے تناظر میں اپنے مفادات کے توازن کو قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن ان کی غیر جانب داری مشکوک نظر آتی ہے۔
عرب قیادت کی خاموشی:
اسرائیل کے مسلسل حملوں، غزہ میں قتلِ عام اور ایران پر یلغار کے باوجود بیشتر عرب ریاستیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ بعض عرب ممالک تو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر چکے ہیں اور اسرائیلی بیانیے کی درپردہ حمایت بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی یہ خاموشی اور غیر فعالیت مسلم امہ کی اجتماعی بے حسی کی علامت بن چکی ہے۔ جب اسلامی دنیا کے بعض بڑے ممالک اسرائیل کے ساتھ مشترکہ مشقوں، انٹیلیجنس تعاون اور اقتصادی منصوبوں میں شریک ہوں، تو فلسطینی و ایرانی مظلوموں کی داد رسی کی امید محض ایک خواب ہی بن کر رہ جاتی ہے۔
اسلامی دنیا کی سیاسی غفلت:
موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) جیسے پلیٹ فارمز پر محض مذمتی بیانات سے آگے بڑھ کر ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ اسلامی دنیا کو مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ایک دفاعی اور سفارتی حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔ اگر مسلم ممالک اپنے اندرونی اختلافات سے بلند ہو کر فلسطین، ایران اور دیگر مظلوم خطوں کے لیے متحد ہو جائیں، تو عالمی توازنِ قوت میں تبدیلی ممکن ہے۔ اس وقت عالمی سیاسی منظرنامے پر مسلم قیادت کی بے عملی، کمزوری اور داخلی انتشار اسرائیل جیسے مظالم کے لیے کھلی چھوٹ بن چکی ہے۔
میڈیا اور بیانیے کی جنگ:
اسرائیل نہ صرف عسکری سطح پر بلکہ اطلاعاتی جنگ (Information Warfare) میں بھی پوری مہارت کے ساتھ سرگرم ہے۔ مغربی میڈیا اسرائیل کے مؤقف کو غالب بناتا ہے، جب کہ فلسطینی اور مسلم بیانیہ اکثر مسخ یا دبایا جاتا ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے مسلم دنیا کو چاہیے کہ وہ اپنی میڈیا صلاحیتوں کو مضبوط کرے۔ غیر جانبدار بین الاقوامی صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور تحقیقاتی رپورٹرز کے ذریعے اسرائیلی مظالم کو دستاویزی طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ ڈیجیٹل میڈیا، سوشل میڈیا، ویب سائٹس، جرائد اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز کا منظم اور حکمت عملی کے ساتھ استعمال ناگزیر ہے۔
مزاحمت کی اخلاقی حیثیت:
اسلامی تاریخ میں مزاحمت، استعمار اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونا دین و انسانیت دونوں کا مشترکہ فریضہ رہا ہے۔ امام حسینؓ کی کربلا سے لے کر صلاح الدین ایوبی اور عمر مختار تک، تاریخ نے ہمیشہ ان لوگوں کو سرفراز کیا جنہوں نے طاقتور ظالموں کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ ایران کا حالیہ ردعمل اسی تسلسل کی ایک کڑی محسوس ہوتا ہے۔ غزہ کی معصوم عوام، فلسطینی مزاحمت اور لبنانی سرحدی دفاعی فورسز ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ظلم کے خلاف خاموشی خود بھی جرم ہے۔
اختتامیہ – ایک بیداری کی صدا:
اسرائیلی مظالم، ایران پر حملے اور غزہ میں قتل عام نے پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اب خاموشی، لاتعلقی اور مذمتی بیانات کافی نہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ دنیا بالخصوص مسلم دنیا مظلوموں کے ساتھ عملی یکجہتی کا ثبوت دے۔ اگر آج بھی ہم غافل رہے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹتا ضرور ہے — شرط یہ ہے کہ مزاحمت زندہ ہو، اور ضمیر بیدار ہو۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

تازہ ترین خبریں

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

اسرائیل-ایران جنگ اور غزہ میں قتل عام

خورشید عالم داؤد

تاریخی پس منظر اور موجودہ تناظر:
مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور ایران کی مزاحمتی پالیسی برسوں سے ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں، جیسے حزب اللہ، حماس اور انصاراللہ، اسرائیلی سامراج کے خلاف فعال مزاحمت کا استعارہ بن چکی ہیں۔ یہی مزاحمت اسرائیل کو ایک مضبوط اور منظم ریاست ایران سے براہ راست ٹکراؤ پر آمادہ کر رہی ہے۔ حالیہ جنگ اسی بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نتیجہ ہے، جس میں اسرائیل نے ایران کے فوجی، جوہری اور سائنسی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، اور ایران نے براہ راست اسرائیلی سرزمین پر میزائلوں کی بارش کر کے طاقت کا جواب طاقت سے دیا۔
خطے پر اثرات:
یہ جنگ صرف دو ملکوں تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے خطے میں سیاسی، معاشی اور تزویراتی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ خلیجی ریاستیں، عراق، شام اور لبنان پہلے ہی جیوپولیٹیکل دباؤ میں ہیں۔ ایران پر حملے اور اس کا ردعمل خلیج فارس میں تجارتی نقل و حمل، تیل کی سپلائی اور عالمی منڈیوں میں استحکام کو متاثر کر رہا ہے۔ عالمی قوتیں، بالخصوص امریکہ، چین اور روس، اس کشمکش کے تناظر میں اپنے مفادات کے توازن کو قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن ان کی غیر جانب داری مشکوک نظر آتی ہے۔
عرب قیادت کی خاموشی:
اسرائیل کے مسلسل حملوں، غزہ میں قتلِ عام اور ایران پر یلغار کے باوجود بیشتر عرب ریاستیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ بعض عرب ممالک تو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر چکے ہیں اور اسرائیلی بیانیے کی درپردہ حمایت بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی یہ خاموشی اور غیر فعالیت مسلم امہ کی اجتماعی بے حسی کی علامت بن چکی ہے۔ جب اسلامی دنیا کے بعض بڑے ممالک اسرائیل کے ساتھ مشترکہ مشقوں، انٹیلیجنس تعاون اور اقتصادی منصوبوں میں شریک ہوں، تو فلسطینی و ایرانی مظلوموں کی داد رسی کی امید محض ایک خواب ہی بن کر رہ جاتی ہے۔
اسلامی دنیا کی سیاسی غفلت:
موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) جیسے پلیٹ فارمز پر محض مذمتی بیانات سے آگے بڑھ کر ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ اسلامی دنیا کو مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ایک دفاعی اور سفارتی حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔ اگر مسلم ممالک اپنے اندرونی اختلافات سے بلند ہو کر فلسطین، ایران اور دیگر مظلوم خطوں کے لیے متحد ہو جائیں، تو عالمی توازنِ قوت میں تبدیلی ممکن ہے۔ اس وقت عالمی سیاسی منظرنامے پر مسلم قیادت کی بے عملی، کمزوری اور داخلی انتشار اسرائیل جیسے مظالم کے لیے کھلی چھوٹ بن چکی ہے۔
میڈیا اور بیانیے کی جنگ:
اسرائیل نہ صرف عسکری سطح پر بلکہ اطلاعاتی جنگ (Information Warfare) میں بھی پوری مہارت کے ساتھ سرگرم ہے۔ مغربی میڈیا اسرائیل کے مؤقف کو غالب بناتا ہے، جب کہ فلسطینی اور مسلم بیانیہ اکثر مسخ یا دبایا جاتا ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے مسلم دنیا کو چاہیے کہ وہ اپنی میڈیا صلاحیتوں کو مضبوط کرے۔ غیر جانبدار بین الاقوامی صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور تحقیقاتی رپورٹرز کے ذریعے اسرائیلی مظالم کو دستاویزی طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ ڈیجیٹل میڈیا، سوشل میڈیا، ویب سائٹس، جرائد اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز کا منظم اور حکمت عملی کے ساتھ استعمال ناگزیر ہے۔
مزاحمت کی اخلاقی حیثیت:
اسلامی تاریخ میں مزاحمت، استعمار اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونا دین و انسانیت دونوں کا مشترکہ فریضہ رہا ہے۔ امام حسینؓ کی کربلا سے لے کر صلاح الدین ایوبی اور عمر مختار تک، تاریخ نے ہمیشہ ان لوگوں کو سرفراز کیا جنہوں نے طاقتور ظالموں کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ ایران کا حالیہ ردعمل اسی تسلسل کی ایک کڑی محسوس ہوتا ہے۔ غزہ کی معصوم عوام، فلسطینی مزاحمت اور لبنانی سرحدی دفاعی فورسز ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ظلم کے خلاف خاموشی خود بھی جرم ہے۔
اختتامیہ – ایک بیداری کی صدا:
اسرائیلی مظالم، ایران پر حملے اور غزہ میں قتل عام نے پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اب خاموشی، لاتعلقی اور مذمتی بیانات کافی نہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ دنیا بالخصوص مسلم دنیا مظلوموں کے ساتھ عملی یکجہتی کا ثبوت دے۔ اگر آج بھی ہم غافل رہے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹتا ضرور ہے — شرط یہ ہے کہ مزاحمت زندہ ہو، اور ضمیر بیدار ہو۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں