موت کا تانڈو کر رہا ہے ’’ڈرگز کا اناکونڈا‘‘


رشید پروین
سوپور، کشمیر

سارے بھارت دیش میں قریہ قریہ اور جگہ جگہ ڈرگز کا مہیب اناکونڈا اپنا رقص جاری رکھے ہوئے ہے، اور یہ ایسا نہیں کہ صرف بڑے بڑے شہر اور انڈسٹریل ہب ہی اس اناکونڈا کے نشانے پر ہوں، بلکہ حیرت کی بات یہ ہے کہ منشیات کا یہ اناکونڈا گلی گلی اور محلے محلے میں پہلے سے ہی موجود تھا، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اب یہ شہمار ہماری دانشگاہوں، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اپنا تانڈو پوری رفتار کے ساتھ، مستی، مدہوشی اور بے فکری کے عالم میں جاری رکھے ہوئے ہے۔
اتنے بڑے دیش کی بہتر پولیس اور دوسرے ادارے، جو خاص طور پر اسی مقصد سے منسوب ہیں، اس مافیا کو روکنے اور اس کا قلع قمع کرنے میں مکمل طور پر ناکام و نامراد ہو چکے ہیں۔ پچھلے برسوں سے اس مافیا کے خلاف لاکھوں روپے کے جرمانے اور ڈرگ پیڈلرز کی گرفتاریوں کی رپورٹیں ملک کے طول و عرض سے مسلسل اخبارات کی زینت بنتی رہی ہیں۔ یہ معاملات کسی ایک ریاست سے مخصوص نہیں بلکہ بھارت کی تمام ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز میں ڈرگز کا اناکونڈا موت کا تانڈو کر رہا ہے۔
ہم اس حقیقت سے بالکل بھی آشنا نہیں کہ ڈرگز کا مافیا کتنی تیزی اور کس قدر منظم طریقے سے اپنا زہر پھیلا رہا ہے، اور کتنی تیز رفتاری سے ملک کا نوجوان اس مافیا کا شکار ہو کر ڈرگز اناکونڈا کے لیے آسان لقمہ بنتا جا رہا ہے۔
اس وقت پورے بھارت میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق، یو این آفس آن ڈرگز اینڈ کرائم اور منسٹری آف سوشیل جسٹس برائے ہند کی رپورٹ کے مطابق حالات اتنے ہولناک ہیں کہ انڈیا گورنمنٹ نے یہ رپورٹ کئی مہینوں کے بعد شائع کی۔ اس رپورٹ کا ایک پیراگراف ہی ہمیں اس المناک اور خطرناک صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے کافی ہے:
“Applying estimates of prevalence to population figures, the survey estimated that in India, whose population is just over a billion, 62.5 million people use alcohol, 8.75 million use cannabis, two million use opiates, and 0.6 million use sedatives or hypnotics. Seventeen per cent to 26% of these people can be classified as dependent users who need urgent treatment, says the report. About 25% of users of opiates and cannabis are likely to seek treatment, while about one in six people who drink alcohol are likely to do so.”
اگر یہ اعداد و شمار صحیح ہیں تو آپ خود حساب لگا کر دیکھ سکتے ہیں کہ یہ آبادی کا کتنا بڑا حصہ ہے۔ اور اگر اس اناکونڈا نے اپنی یہ رفتار قائم رکھی تو آپ بخوبی سمجھ جائیں گے کہ یہ شاندار ماضی رکھنے والا ملک کتنی جلدی مکمل طور پر بھنگیوں اور چرسیوں کی آرام گاہ میں تبدیل ہو جائے گا۔
قائمہ کمیٹی برائے سماجی انصاف و عطائے اختیار نے جموں و کشمیر میں ڈرگز کے متعلق ایک سروے کے بعد کچھ برس پہلے اپنی حتمی رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر، جو کرپشن میں سرِفہرست مقام حاصل کر چکا ہے، شاید اب منشیات کے استعمال میں بھی اسی مقام پر پہنچ چکا ہے۔
اگر یہ حال جموں و کشمیر کا ہے، جہاں نہ تو بالی وڈ کی چمک دمک ہے، نہ ہی میٹرو سٹیوں کی جدید چکاچوند، تو ہندوستان کے ان بڑے اور کثیر آبادی والے شہروں کا حال کیا ہوگا جہاں گلیمر کے سوا کچھ نظر نہیں آتا؟
اس رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں 13 لاکھ 50 ہزار 700 ڈرگ ایڈکٹ موجود ہیں، جو 18 سے 75 برس کی عمر کے درمیان ہیں، لیکن ان میں سب سے بڑی تعداد 18 سے 27 برس کے نوجوانوں کی ہے، جن میں ایک بڑی تعداد صنف نازک سے بھی تعلق رکھتی ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار 2018 کی متوقع آبادی پر مبنی ہیں، اور 2018 سے اب تک اس اناکونڈا نے کتنے افراد کو نگل لیا ہوگا، اس کا ہم صرف اندازہ ہی لگا سکتے ہیں۔
معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 10 سے 17 برس کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد ایک لاکھ اٹھسٹھ ہزار سات سو ہے۔ ملک کی دوسری ریاستوں کا حال اس سے زیادہ ہی خراب ہوگا، یا تھوڑے بہت فرق کے ساتھ یہی صورتحال ہوگی۔ ہماری دلیل کے مطابق یہ تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ اس عمر کے بچے مڈل اسکول، ہائی اسکول یا ہائر سیکنڈری اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہوتے ہیں۔ ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ منشیات کا یہ ٹیرف اور مافیا انہی اسکولوں میں شدت سے سرگرم ہے، جس کی وجوہات کو سمجھنا نہایت آسان ہے۔ یہ عمر بچے کی معصومیت اور بے نیازی کی عمر ہوتی ہے، اور اس عمر میں بچوں سے بہت سے کام غیر شعوری طور پر بڑی آسانی سے کرائے جا سکتے ہیں۔ انہیں کوئی بھی کام کرانے کے لیے بہکایا جا سکتا ہے اور معمولی لالچ یا دوستی کی آڑ میں انہیں غلط راستے پر ڈالا جا سکتا ہے۔ یہ کام ان کے لیے تباہ کن ہوتے ہیں، لیکن یہ معصوم جانیں آنے والے طوفانوں سے بے خبر ہوتی ہیں۔
منشیات میں مبتلا بچوں اور بچیوں کی تعداد ہوشربا بھی ہے اور ہمارے پیروں تلے زمین کھینچنے کے لیے کافی ہے۔ ڈرگز کی یہ فراوانی اور اسے استعمال کرنے والوں کی یہ تعداد اتنی سادہ نہیں جتنی ہمیں دکھتی ہے۔ اس سنگین مسئلے کے کئی پہلو ہیں جن کی گرہیں کھولنا ہمارے لیے آسان نہیں۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ مافیا، جو اتنی آسانی اور اعتماد کے ساتھ ڈرگز کی ترسیل کر رہا ہے، کن سہاروں پر کھڑا ہے؟ پیڈلرز جو سپلائی کرتے ہیں، ڈسٹریبیوٹرز جو تقسیم کاری کرتے ہیں، اور تیسرے نمبر پر وہ معصوم بچے جو نشانے پر ہوتے ہیں—یہ سب کچھ جاننے کے باوجود ہم ان دو بڑے مراحل کو نظر انداز کر رہے ہیں جو بنیادی مجرموں کی فہرست میں آتے ہیں۔
یہ لوگ کس طرح اپنے راستے ہموار کرتے ہیں اور سماج کی بنیادوں کو بلاخوف و خطر کھوکھلا کرتے ہیں؟ یہ شاید اتنے پیچیدہ معمہ نہیں، لیکن اس مافیا، جو اب ایک تناور درخت بن چکا ہے، کی جڑیں کاٹنے میں ہم بری طرح ناکام ہیں۔
سوال یہ ہے کہ سرکار یا وہ ادارے جو اس مافیا کی بیخ کنی کے ذمہ دار ہیں، وہ اس کا علاج کہاں تلاش کرتے ہیں؟
مرکزی سرکار نے NAPDDR یعنی National Action Plan for Drug Demand Reduction قائم کیا ہے۔ یہ تنظیم ریاستی و مرکزی حکومتوں، مختلف این جی اوز، ٹرسٹس، خودمختار اداروں اور اسپتالوں کے باہمی اشتراک سے ڈی ایڈکشن پر کام کرتی ہے یا تجاویز پیش کرتی ہے۔
مگر سوال یہ ہے: کیا صرف یہی کافی ہے؟ کیا اس کے لیے پولیس ڈیپارٹمنٹ کافی نہیں؟ جب کسی ریاست میں دہشت گردی یا ملیٹنسی کو ختم کیا جا سکتا ہے، تو اتنا طاقتور ادارہ ایک نسبتاً چھوٹے مافیا کو کیوں زمین بوس نہیں کر سکتا؟ یا تو اس ادارے کے ہاتھ بندھے ہیں یا ہمارا آئینی نظام مکڑی کا وہ جالا بن چکا ہے جسے طاقتور بار بار توڑ کر نکل جاتا ہے۔
سرکار ان تنظیموں کو فنڈز دے گی، اسپتالوں میں سہولیات فراہم کرے گی، اور ڈرگ ایڈکشن سینٹرز قائم کرے گی، لیکن مافیا کی بیخ کنی کے لیے سخت اقدامات اور قوانین بنانے سے قاصر رہے گی۔
یہ وہ گورکھ دھندے اور الجھنیں ہیں جنہیں ہم جیسے لوگ سمجھ نہیں پاتے۔
ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ آخر کیسے اور کیوں پچھلے پچیس تیس برسوں میں درسگاہوں، کالجوں، اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم و تربیت اور اعلیٰ انسانی اقدار کی جگہ یہ عفریتیں پنپنے میں کامیاب رہیں؟ کون لوگ ہیں جن کی رسائی ان اداروں تک آسان بنی ہوئی ہے؟ کیا اساتذہ بھی ذمہ دار ہیں یا وہ اپنی جان کے خوف سے خاموش ہیں؟
یہ سب سوالات قابلِ غور ہیں جن کے جوابات تلاش کرنا ضروری ہے۔
سال بھر اخبارات میں ڈرگ پیڈلرز کے خلاف مہم چلتی ہے، جو سیمینار، تقریروں، اسکولوں اور کالجوں میں مباحثوں کی صورت میں جاری ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایسی مہمات واقعی کوئی خاص نتائج پیدا کر پاتی ہیں؟
ہم نے اب ہر سنجیدہ قومی مسئلے کا حل جلسوں، پریڈوں، مباحثوں اور سوشل میڈیا کی نمائش تک محدود کر دیا ہے، جو لاحاصل ہی نہیں بلکہ بے حسی اور اپنی قوم و وطن کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔
اس عفریت کا تدارک سخت سزاؤں، خلوص اور دیانت داری کے ساتھ تمام پیڈلرز—چاہے وہ کتنے ہی بااثر یا سرمایہ دار کیوں نہ ہوں—کو پابہ زنجیر کیے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ ان سب کی پناہ گاہیں شاید وہاں ہیں جہاں تک ہماری رسائی ہی ممکن نہیں۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ہم مروجہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں میں قرآن فہمی کا شوق پیدا کریں، کیونکہ اصلِ حیات بھی یہی ہے اور اصل زندگی بھی۔ یہ تعلیمات انسان کو معاشرے میں متوازن، مطمئن اور بغیر ڈیپریشن یا ریپریشن کے زندگی گزارنے پر آمادہ کرتی ہیں۔ کیونکہ جب اسلام کی بنیادی تعلیمات ذہن پر نقش ہو جاتی ہیں، تو انسان اللہ کی مشیّت اور منشا سے بغاوت نہیں کرتا، اور یہی بغاوت دراصل ڈیپریشن، ریپریشن اور سپریشن کو جنم دیتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

تازہ ترین خبریں

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

موت کا تانڈو کر رہا ہے ’’ڈرگز کا اناکونڈا‘‘


رشید پروین
سوپور، کشمیر

سارے بھارت دیش میں قریہ قریہ اور جگہ جگہ ڈرگز کا مہیب اناکونڈا اپنا رقص جاری رکھے ہوئے ہے، اور یہ ایسا نہیں کہ صرف بڑے بڑے شہر اور انڈسٹریل ہب ہی اس اناکونڈا کے نشانے پر ہوں، بلکہ حیرت کی بات یہ ہے کہ منشیات کا یہ اناکونڈا گلی گلی اور محلے محلے میں پہلے سے ہی موجود تھا، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اب یہ شہمار ہماری دانشگاہوں، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اپنا تانڈو پوری رفتار کے ساتھ، مستی، مدہوشی اور بے فکری کے عالم میں جاری رکھے ہوئے ہے۔
اتنے بڑے دیش کی بہتر پولیس اور دوسرے ادارے، جو خاص طور پر اسی مقصد سے منسوب ہیں، اس مافیا کو روکنے اور اس کا قلع قمع کرنے میں مکمل طور پر ناکام و نامراد ہو چکے ہیں۔ پچھلے برسوں سے اس مافیا کے خلاف لاکھوں روپے کے جرمانے اور ڈرگ پیڈلرز کی گرفتاریوں کی رپورٹیں ملک کے طول و عرض سے مسلسل اخبارات کی زینت بنتی رہی ہیں۔ یہ معاملات کسی ایک ریاست سے مخصوص نہیں بلکہ بھارت کی تمام ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز میں ڈرگز کا اناکونڈا موت کا تانڈو کر رہا ہے۔
ہم اس حقیقت سے بالکل بھی آشنا نہیں کہ ڈرگز کا مافیا کتنی تیزی اور کس قدر منظم طریقے سے اپنا زہر پھیلا رہا ہے، اور کتنی تیز رفتاری سے ملک کا نوجوان اس مافیا کا شکار ہو کر ڈرگز اناکونڈا کے لیے آسان لقمہ بنتا جا رہا ہے۔
اس وقت پورے بھارت میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق، یو این آفس آن ڈرگز اینڈ کرائم اور منسٹری آف سوشیل جسٹس برائے ہند کی رپورٹ کے مطابق حالات اتنے ہولناک ہیں کہ انڈیا گورنمنٹ نے یہ رپورٹ کئی مہینوں کے بعد شائع کی۔ اس رپورٹ کا ایک پیراگراف ہی ہمیں اس المناک اور خطرناک صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے کافی ہے:
“Applying estimates of prevalence to population figures, the survey estimated that in India, whose population is just over a billion, 62.5 million people use alcohol, 8.75 million use cannabis, two million use opiates, and 0.6 million use sedatives or hypnotics. Seventeen per cent to 26% of these people can be classified as dependent users who need urgent treatment, says the report. About 25% of users of opiates and cannabis are likely to seek treatment, while about one in six people who drink alcohol are likely to do so.”
اگر یہ اعداد و شمار صحیح ہیں تو آپ خود حساب لگا کر دیکھ سکتے ہیں کہ یہ آبادی کا کتنا بڑا حصہ ہے۔ اور اگر اس اناکونڈا نے اپنی یہ رفتار قائم رکھی تو آپ بخوبی سمجھ جائیں گے کہ یہ شاندار ماضی رکھنے والا ملک کتنی جلدی مکمل طور پر بھنگیوں اور چرسیوں کی آرام گاہ میں تبدیل ہو جائے گا۔
قائمہ کمیٹی برائے سماجی انصاف و عطائے اختیار نے جموں و کشمیر میں ڈرگز کے متعلق ایک سروے کے بعد کچھ برس پہلے اپنی حتمی رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر، جو کرپشن میں سرِفہرست مقام حاصل کر چکا ہے، شاید اب منشیات کے استعمال میں بھی اسی مقام پر پہنچ چکا ہے۔
اگر یہ حال جموں و کشمیر کا ہے، جہاں نہ تو بالی وڈ کی چمک دمک ہے، نہ ہی میٹرو سٹیوں کی جدید چکاچوند، تو ہندوستان کے ان بڑے اور کثیر آبادی والے شہروں کا حال کیا ہوگا جہاں گلیمر کے سوا کچھ نظر نہیں آتا؟
اس رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں 13 لاکھ 50 ہزار 700 ڈرگ ایڈکٹ موجود ہیں، جو 18 سے 75 برس کی عمر کے درمیان ہیں، لیکن ان میں سب سے بڑی تعداد 18 سے 27 برس کے نوجوانوں کی ہے، جن میں ایک بڑی تعداد صنف نازک سے بھی تعلق رکھتی ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار 2018 کی متوقع آبادی پر مبنی ہیں، اور 2018 سے اب تک اس اناکونڈا نے کتنے افراد کو نگل لیا ہوگا، اس کا ہم صرف اندازہ ہی لگا سکتے ہیں۔
معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 10 سے 17 برس کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد ایک لاکھ اٹھسٹھ ہزار سات سو ہے۔ ملک کی دوسری ریاستوں کا حال اس سے زیادہ ہی خراب ہوگا، یا تھوڑے بہت فرق کے ساتھ یہی صورتحال ہوگی۔ ہماری دلیل کے مطابق یہ تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ اس عمر کے بچے مڈل اسکول، ہائی اسکول یا ہائر سیکنڈری اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہوتے ہیں۔ ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ منشیات کا یہ ٹیرف اور مافیا انہی اسکولوں میں شدت سے سرگرم ہے، جس کی وجوہات کو سمجھنا نہایت آسان ہے۔ یہ عمر بچے کی معصومیت اور بے نیازی کی عمر ہوتی ہے، اور اس عمر میں بچوں سے بہت سے کام غیر شعوری طور پر بڑی آسانی سے کرائے جا سکتے ہیں۔ انہیں کوئی بھی کام کرانے کے لیے بہکایا جا سکتا ہے اور معمولی لالچ یا دوستی کی آڑ میں انہیں غلط راستے پر ڈالا جا سکتا ہے۔ یہ کام ان کے لیے تباہ کن ہوتے ہیں، لیکن یہ معصوم جانیں آنے والے طوفانوں سے بے خبر ہوتی ہیں۔
منشیات میں مبتلا بچوں اور بچیوں کی تعداد ہوشربا بھی ہے اور ہمارے پیروں تلے زمین کھینچنے کے لیے کافی ہے۔ ڈرگز کی یہ فراوانی اور اسے استعمال کرنے والوں کی یہ تعداد اتنی سادہ نہیں جتنی ہمیں دکھتی ہے۔ اس سنگین مسئلے کے کئی پہلو ہیں جن کی گرہیں کھولنا ہمارے لیے آسان نہیں۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ مافیا، جو اتنی آسانی اور اعتماد کے ساتھ ڈرگز کی ترسیل کر رہا ہے، کن سہاروں پر کھڑا ہے؟ پیڈلرز جو سپلائی کرتے ہیں، ڈسٹریبیوٹرز جو تقسیم کاری کرتے ہیں، اور تیسرے نمبر پر وہ معصوم بچے جو نشانے پر ہوتے ہیں—یہ سب کچھ جاننے کے باوجود ہم ان دو بڑے مراحل کو نظر انداز کر رہے ہیں جو بنیادی مجرموں کی فہرست میں آتے ہیں۔
یہ لوگ کس طرح اپنے راستے ہموار کرتے ہیں اور سماج کی بنیادوں کو بلاخوف و خطر کھوکھلا کرتے ہیں؟ یہ شاید اتنے پیچیدہ معمہ نہیں، لیکن اس مافیا، جو اب ایک تناور درخت بن چکا ہے، کی جڑیں کاٹنے میں ہم بری طرح ناکام ہیں۔
سوال یہ ہے کہ سرکار یا وہ ادارے جو اس مافیا کی بیخ کنی کے ذمہ دار ہیں، وہ اس کا علاج کہاں تلاش کرتے ہیں؟
مرکزی سرکار نے NAPDDR یعنی National Action Plan for Drug Demand Reduction قائم کیا ہے۔ یہ تنظیم ریاستی و مرکزی حکومتوں، مختلف این جی اوز، ٹرسٹس، خودمختار اداروں اور اسپتالوں کے باہمی اشتراک سے ڈی ایڈکشن پر کام کرتی ہے یا تجاویز پیش کرتی ہے۔
مگر سوال یہ ہے: کیا صرف یہی کافی ہے؟ کیا اس کے لیے پولیس ڈیپارٹمنٹ کافی نہیں؟ جب کسی ریاست میں دہشت گردی یا ملیٹنسی کو ختم کیا جا سکتا ہے، تو اتنا طاقتور ادارہ ایک نسبتاً چھوٹے مافیا کو کیوں زمین بوس نہیں کر سکتا؟ یا تو اس ادارے کے ہاتھ بندھے ہیں یا ہمارا آئینی نظام مکڑی کا وہ جالا بن چکا ہے جسے طاقتور بار بار توڑ کر نکل جاتا ہے۔
سرکار ان تنظیموں کو فنڈز دے گی، اسپتالوں میں سہولیات فراہم کرے گی، اور ڈرگ ایڈکشن سینٹرز قائم کرے گی، لیکن مافیا کی بیخ کنی کے لیے سخت اقدامات اور قوانین بنانے سے قاصر رہے گی۔
یہ وہ گورکھ دھندے اور الجھنیں ہیں جنہیں ہم جیسے لوگ سمجھ نہیں پاتے۔
ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ آخر کیسے اور کیوں پچھلے پچیس تیس برسوں میں درسگاہوں، کالجوں، اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم و تربیت اور اعلیٰ انسانی اقدار کی جگہ یہ عفریتیں پنپنے میں کامیاب رہیں؟ کون لوگ ہیں جن کی رسائی ان اداروں تک آسان بنی ہوئی ہے؟ کیا اساتذہ بھی ذمہ دار ہیں یا وہ اپنی جان کے خوف سے خاموش ہیں؟
یہ سب سوالات قابلِ غور ہیں جن کے جوابات تلاش کرنا ضروری ہے۔
سال بھر اخبارات میں ڈرگ پیڈلرز کے خلاف مہم چلتی ہے، جو سیمینار، تقریروں، اسکولوں اور کالجوں میں مباحثوں کی صورت میں جاری ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایسی مہمات واقعی کوئی خاص نتائج پیدا کر پاتی ہیں؟
ہم نے اب ہر سنجیدہ قومی مسئلے کا حل جلسوں، پریڈوں، مباحثوں اور سوشل میڈیا کی نمائش تک محدود کر دیا ہے، جو لاحاصل ہی نہیں بلکہ بے حسی اور اپنی قوم و وطن کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔
اس عفریت کا تدارک سخت سزاؤں، خلوص اور دیانت داری کے ساتھ تمام پیڈلرز—چاہے وہ کتنے ہی بااثر یا سرمایہ دار کیوں نہ ہوں—کو پابہ زنجیر کیے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ ان سب کی پناہ گاہیں شاید وہاں ہیں جہاں تک ہماری رسائی ہی ممکن نہیں۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ہم مروجہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں میں قرآن فہمی کا شوق پیدا کریں، کیونکہ اصلِ حیات بھی یہی ہے اور اصل زندگی بھی۔ یہ تعلیمات انسان کو معاشرے میں متوازن، مطمئن اور بغیر ڈیپریشن یا ریپریشن کے زندگی گزارنے پر آمادہ کرتی ہیں۔ کیونکہ جب اسلام کی بنیادی تعلیمات ذہن پر نقش ہو جاتی ہیں، تو انسان اللہ کی مشیّت اور منشا سے بغاوت نہیں کرتا، اور یہی بغاوت دراصل ڈیپریشن، ریپریشن اور سپریشن کو جنم دیتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں