بسولی کو ضلع کا درجہ: سیاست نہیں، انصاف کا مطالبہ!

مدثر علی

جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ کے پہاڑی اور دورافتادہ علاقوں میں آباد ہزاروں افراد آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ نظرانداز شدہ علاقہ بسولی ہے، جو اپنی تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی اہمیت کے باوجود تاحال ضلع کا درجہ حاصل نہیں کر سکا۔ یہ تحریر محض ایک انتظامی مطالبہ نہیں بلکہ ایک دیرینہ عوامی حق، ایک تاریخی شناخت اور ایک روشن مستقبل کی دہائی ہے۔
ضلع کٹھوعہ جموں و کشمیر کا ایک وسیع اور گنجان ضلع ہے، جو گیارہ تحصیلوں، پانچ سو بارہ دیہاتوں اور انیس بلاکس پر مشتمل ہے۔ اس کا رقبہ تقریباً 2502 مربع کلومیٹر ہے اور یہاں کی موجودہ آبادی کا تخمینہ سات لاکھ سے زائد لگایا جاتا ہے۔ اس ضلع کی خصوصیت اس کا جغرافیائی تنوع ہے، جہاں ایک طرف کٹھوعہ ٹاؤن اور ہیرانگر جیسے میدانوں میں بسے علاقے ہیں، وہیں دوسری طرف بنی، بسولی، بلاور اور لوہائی ملہار جیسے پہاڑی اور دشوار گزار علاقے بھی شامل ہیں۔
بسولی، جو کبھی وشوستھلی کہلاتی تھی، ایک ایسی تحصیل اور قصبہ ہے جو دریائے راوی کے دائیں کنارے پر واقع ہے اور پنجاب و ہماچل پردیش کی سرحدوں سے جڑا ہوا ہے۔ اس کا جغرافیہ نہ صرف اس کی ثقافتی تنوع کا عکاس ہے بلکہ اسے تجارتی مرکز بنانے کی بھرپور صلاحیت بھی فراہم کرتا ہے۔ 1635ء میں راجہ بھوپت پال کے ہاتھوں آباد ہونے والی بسولی آج بھی اپنی پہچان میں منفرد ہے۔ بسولی مصوری اور بسولی پشمینہ جیسے فنون، جنہیں حالیہ برسوں میں جی آئی ٹیگ بھی حاصل ہوا ہے، اس علاقے کی ثقافتی میراث کو عالمی سطح پر متعارف کراتے ہیں۔
تاہم اس سب کے باوجود بسولی آج بھی ان علاقوں میں شامل ہے جہاں کے عوام کو بنیادی سہولیات کے لیے طویل اور دشوار سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ تحصیل بسولی کے رہائشیوں کو ضلع ہیڈکوارٹر کٹھوعہ تک پہنچنے کے لیے 150 سے 170 کلومیٹر کا سفر درپیش ہوتا ہے، جو وقت، پیسے اور صحت کے ضیاع کا سبب بنتا ہے۔ دفاتر کے چکر، مہنگی سواری اور کئی دنوں کی چھٹی عوام کی زندگی کو اور بھی مشکل بنا دیتی ہے۔ بنیادی سہولیات جیسے تعلیم، صحت، بجلی، پانی، انٹرنیٹ، آج بھی ناکافی ہیں۔ متعدد دیہی علاقوں میں سرکاری اسکیمیں جیسے آیوشمان بھارت، اجولا یوجنا اور پی ایم آواس یوجنا محض کاغذی حیثیت رکھتی ہیں کیونکہ نہ تو مناسب آگہی ہے اور نہ ہی مؤثر رسائی۔
تعلیم کے شعبے میں بھی بسولی اور اس جیسے علاقوں کا حال نہایت افسوسناک ہے۔ ہر سال سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری کی سطح پر کامیاب ہونے والے ہزاروں طلبہ کو آگے تعلیم حاصل کرنے کے لیے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جو اکثر مالی وسائل کی کمی کے باعث ممکن نہیں ہوتا۔ اسی طرح صحت کے مراکز میں ڈاکٹروں اور ماہرین کی شدید کمی ہے، جس کے نتیجے میں مریضوں کو یا تو جموں یا کٹھوعہ بھیج دیا جاتا ہے، جہاں پہنچنے سے پہلے کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہوتی ہیں۔
یہ سب عوامل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بسولی کو ایک مکمل ضلع بنایا جانا ناگزیر ہے۔ مقامی افراد، پنچایتیں، سماجی کارکنان اور نوجوان قیادت بارہا اس مطالبے کو دھرنوں، احتجاج اور میمورنڈم کے ذریعے بلند کر چکے ہیں، مگر افسوس کہ عوامی نمائندوں نے اس آواز کو ایوانوں میں مؤثر طریقے سے نہیں اٹھایا۔
بسولی صرف تاریخی ورثہ نہیں بلکہ معاشی، سیاحتی اور ثقافتی امکانات کا خزانہ بھی ہے۔ یہاں کی خوبصورتی، قدرتی مقامات، مذہبی مقامات اور فنون لطیفہ اسے ایک بین الصوبائی سیاحتی مرکز میں تبدیل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ سرتھل ویلی، پرتو، رنجیت ساگر ڈیم جیسے مقامات ہر سال ہزاروں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، مگر ناقص سڑکیں، ناکافی ٹورزم انفراسٹرکچر اور حکومتی عدم توجہی ان مواقع کو ضائع کر رہی ہیں۔ اگر بسولی کو ضلع بنایا جائے تو نہ صرف سیاحت کو فروغ حاصل ہوگا بلکہ مقامی افراد کے لیے روزگار، کاروبار اور خودروزگاری کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔
بسولی کے عوام کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ اس علاقے کی محرومیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے فوری طور پر ضلع کا درجہ دے۔ یہ فیصلہ نہ صرف انتظامی بہتری کا سبب بنے گا بلکہ یہاں کے عوام کی زندگی میں حقیقی تبدیلی کا آغاز ہوگا۔ مقامی سطح پر دفاتر کی موجودگی سے عوام کو بروقت خدمات حاصل ہوں گی، اور ترقیاتی منصوبے مؤثر انداز میں نافذ کیے جا سکیں گے۔
یہ مطالبہ سیاست کا نہیں بلکہ انصاف کا ہے۔ یہ ان بزرگوں کا خواب ہے جنہوں نے اس دھرتی پر زندگی بسر کی، ان نوجوانوں کی امید ہے جو یہاں اپنا مستقبل تلاش کر رہے ہیں، اور ان بچوں کا حق ہے جن کے خواب صرف اس لیے ادھورے رہ جاتے ہیں کہ ان کا علاقہ ابھی تک ضلع نہیں بنا۔ حکومت کو چاہیے کہ اس جائز عوامی مطالبے کو تسلیم کرے اور بسولی کو وہ مقام دے جس کی وہ صدیوں سے حق دار ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

تازہ ترین خبریں

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

بسولی کو ضلع کا درجہ: سیاست نہیں، انصاف کا مطالبہ!

مدثر علی

جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ کے پہاڑی اور دورافتادہ علاقوں میں آباد ہزاروں افراد آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ نظرانداز شدہ علاقہ بسولی ہے، جو اپنی تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی اہمیت کے باوجود تاحال ضلع کا درجہ حاصل نہیں کر سکا۔ یہ تحریر محض ایک انتظامی مطالبہ نہیں بلکہ ایک دیرینہ عوامی حق، ایک تاریخی شناخت اور ایک روشن مستقبل کی دہائی ہے۔
ضلع کٹھوعہ جموں و کشمیر کا ایک وسیع اور گنجان ضلع ہے، جو گیارہ تحصیلوں، پانچ سو بارہ دیہاتوں اور انیس بلاکس پر مشتمل ہے۔ اس کا رقبہ تقریباً 2502 مربع کلومیٹر ہے اور یہاں کی موجودہ آبادی کا تخمینہ سات لاکھ سے زائد لگایا جاتا ہے۔ اس ضلع کی خصوصیت اس کا جغرافیائی تنوع ہے، جہاں ایک طرف کٹھوعہ ٹاؤن اور ہیرانگر جیسے میدانوں میں بسے علاقے ہیں، وہیں دوسری طرف بنی، بسولی، بلاور اور لوہائی ملہار جیسے پہاڑی اور دشوار گزار علاقے بھی شامل ہیں۔
بسولی، جو کبھی وشوستھلی کہلاتی تھی، ایک ایسی تحصیل اور قصبہ ہے جو دریائے راوی کے دائیں کنارے پر واقع ہے اور پنجاب و ہماچل پردیش کی سرحدوں سے جڑا ہوا ہے۔ اس کا جغرافیہ نہ صرف اس کی ثقافتی تنوع کا عکاس ہے بلکہ اسے تجارتی مرکز بنانے کی بھرپور صلاحیت بھی فراہم کرتا ہے۔ 1635ء میں راجہ بھوپت پال کے ہاتھوں آباد ہونے والی بسولی آج بھی اپنی پہچان میں منفرد ہے۔ بسولی مصوری اور بسولی پشمینہ جیسے فنون، جنہیں حالیہ برسوں میں جی آئی ٹیگ بھی حاصل ہوا ہے، اس علاقے کی ثقافتی میراث کو عالمی سطح پر متعارف کراتے ہیں۔
تاہم اس سب کے باوجود بسولی آج بھی ان علاقوں میں شامل ہے جہاں کے عوام کو بنیادی سہولیات کے لیے طویل اور دشوار سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ تحصیل بسولی کے رہائشیوں کو ضلع ہیڈکوارٹر کٹھوعہ تک پہنچنے کے لیے 150 سے 170 کلومیٹر کا سفر درپیش ہوتا ہے، جو وقت، پیسے اور صحت کے ضیاع کا سبب بنتا ہے۔ دفاتر کے چکر، مہنگی سواری اور کئی دنوں کی چھٹی عوام کی زندگی کو اور بھی مشکل بنا دیتی ہے۔ بنیادی سہولیات جیسے تعلیم، صحت، بجلی، پانی، انٹرنیٹ، آج بھی ناکافی ہیں۔ متعدد دیہی علاقوں میں سرکاری اسکیمیں جیسے آیوشمان بھارت، اجولا یوجنا اور پی ایم آواس یوجنا محض کاغذی حیثیت رکھتی ہیں کیونکہ نہ تو مناسب آگہی ہے اور نہ ہی مؤثر رسائی۔
تعلیم کے شعبے میں بھی بسولی اور اس جیسے علاقوں کا حال نہایت افسوسناک ہے۔ ہر سال سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری کی سطح پر کامیاب ہونے والے ہزاروں طلبہ کو آگے تعلیم حاصل کرنے کے لیے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جو اکثر مالی وسائل کی کمی کے باعث ممکن نہیں ہوتا۔ اسی طرح صحت کے مراکز میں ڈاکٹروں اور ماہرین کی شدید کمی ہے، جس کے نتیجے میں مریضوں کو یا تو جموں یا کٹھوعہ بھیج دیا جاتا ہے، جہاں پہنچنے سے پہلے کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہوتی ہیں۔
یہ سب عوامل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بسولی کو ایک مکمل ضلع بنایا جانا ناگزیر ہے۔ مقامی افراد، پنچایتیں، سماجی کارکنان اور نوجوان قیادت بارہا اس مطالبے کو دھرنوں، احتجاج اور میمورنڈم کے ذریعے بلند کر چکے ہیں، مگر افسوس کہ عوامی نمائندوں نے اس آواز کو ایوانوں میں مؤثر طریقے سے نہیں اٹھایا۔
بسولی صرف تاریخی ورثہ نہیں بلکہ معاشی، سیاحتی اور ثقافتی امکانات کا خزانہ بھی ہے۔ یہاں کی خوبصورتی، قدرتی مقامات، مذہبی مقامات اور فنون لطیفہ اسے ایک بین الصوبائی سیاحتی مرکز میں تبدیل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ سرتھل ویلی، پرتو، رنجیت ساگر ڈیم جیسے مقامات ہر سال ہزاروں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، مگر ناقص سڑکیں، ناکافی ٹورزم انفراسٹرکچر اور حکومتی عدم توجہی ان مواقع کو ضائع کر رہی ہیں۔ اگر بسولی کو ضلع بنایا جائے تو نہ صرف سیاحت کو فروغ حاصل ہوگا بلکہ مقامی افراد کے لیے روزگار، کاروبار اور خودروزگاری کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔
بسولی کے عوام کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ اس علاقے کی محرومیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے فوری طور پر ضلع کا درجہ دے۔ یہ فیصلہ نہ صرف انتظامی بہتری کا سبب بنے گا بلکہ یہاں کے عوام کی زندگی میں حقیقی تبدیلی کا آغاز ہوگا۔ مقامی سطح پر دفاتر کی موجودگی سے عوام کو بروقت خدمات حاصل ہوں گی، اور ترقیاتی منصوبے مؤثر انداز میں نافذ کیے جا سکیں گے۔
یہ مطالبہ سیاست کا نہیں بلکہ انصاف کا ہے۔ یہ ان بزرگوں کا خواب ہے جنہوں نے اس دھرتی پر زندگی بسر کی، ان نوجوانوں کی امید ہے جو یہاں اپنا مستقبل تلاش کر رہے ہیں، اور ان بچوں کا حق ہے جن کے خواب صرف اس لیے ادھورے رہ جاتے ہیں کہ ان کا علاقہ ابھی تک ضلع نہیں بنا۔ حکومت کو چاہیے کہ اس جائز عوامی مطالبے کو تسلیم کرے اور بسولی کو وہ مقام دے جس کی وہ صدیوں سے حق دار ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں