
قیصر محمود عراقی
ہر روز جمہوریت جمہورت کے الفاظ سن سن کر ہر ہندوستانی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ آخر عوام سے زیادہ سیاست دانوں کو جمہوریت کی کیوں پڑی ہوئی ہے؟ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو دور جمہوریت میںعوامی مشکلات دور آمریت سے زیادہ ہورہی ہیں۔ میں یہاں آمریت کی تعریف نہیں کررہا اور نہ میں جمہوریت کے خلاف ہوں، ہاں یہ ضرور ہے کہ ایسی جمہوریت جس میں تمام اختیارات کا حق ایک فرد واحد کو حاصل ہو اسے جمہوریت نہیں بلکہ فردِ واحد کی بادشاہت کہا جاسکتا ہے۔
ہندوستان کے عوام اکثر اوقات حکمرانوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوتے رہتے ہیں، پھر بھی جمہوریت کی رٹ لگائی جاتی ہے ۔ بھلا ایک ایسی جمہوریت کا کیا فائدہ جہاں صرف حکمرانوں اور سرمایہ داروں کا راج ہوتا ہے۔ کیونکہ اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ جب ایسے لوگ اپنی دولت کے بل بوتے پر حکمرانی کی کرسی حاصل کرلیتے ہیں تو اس کو اپنے فائدہ کیلئے استعمال کرتے ہیں، آئین اور قانون میں ایسی ترامیم کروائی جاتی ہیںجن کا براہ راست فائدہ صرف امیروں اور حکمرانوں پر محدود ہوجاتا ہے، جس وجہ سے مہنگائی ، بیروزگاری ، لاقانونیت ، اقرباپروری ، کرپشن اور نہ جانے کون کون سی برائیاں جنم لیتی ہیں۔ بیشک جمہوریت ایک اچھا نظام ہے لیکن یہ ان ملکوں میں کار آمد ہے جہاں اسے عوام کی فلاح کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، یہ وہاں کامیاب ہے جہاں کا نظامِ تعلیم بہت اعلیٰ ہے ،جہاں کی عدالتیں اور قانون سب سے زیادہ سپریم ہیںلیکن ہندوستان جیسے ملک میںیہ عوام کیلئے وبال جان بن جاتا ہے کیونکہ یہاں کے حکمرانوں کا ایک ہی نعرہ ہوتا ہے کہ اپنی اپنی باری لگائو، کیا پتہ اگلی بار باری آئے یا نہ آئے ، اس منفی سوچ کی وجہ سے عوامی مسائل کر پس پشت ڈال دیا جاتا ہے اور بڑی فنکاری سے نان ایشو باتوں کو ایشو بنادیا جاتا ہے اور حکومت کی جاتی ہے۔
جمہوریت سے پہلے کے شاہانہ دور میں عوام کی ضروریاتِ زندگی ان کا حق نہیں ہوتی تھی بلکہ نیک دل بادشاہ عوام کی ضروریات زندگی کا خیال رکھتے تھے تو یہ ان کی عنایت ہوتی تھی، اس عنایات سلطانی کے کلچر کو تبدیل کرنے کیلئے دنیا کے مفکرین نے جمہوریت کو متعارف کرایا تاکہ اختیارات شخص واحد کے ہاتھوں سے نکل کر عوام کے ہاتھوں میں آئیںاور ملکوںکا تو ہم نہیں کہہ سکتے لیکن ہمارے ملک میں جمہوریت کے باوجود عوام اختیار ات سے محروم ہیں جبکہ جمہوریت کا مطلب ’’عوام کی حکومت‘‘عوام کیلئے ، عوام کے ذریعے ہوتا ہے۔ آج ستہتر سال سے امیروں کا ایک چھوٹا سا طبقہ جمہوریت کے ثمرات سمیٹ رہا ہے اور اس ملک کے ایک ارب پچیس کروڑ عوام جمہوریت کے ثمرات سے محروم ہیں، کیونکہ ہمارے ملک میں جمہورت کا وجود ہی نہیں ہے۔ کیا ہمارے ملک کے عوام کو وہ حقوق حاصل ہیں جو حکمرانوں کو حاصل ہیں ؟ کیا ہماری حکومتوں کا ہر کام اور اقدام عوامی یا ملکی مفاد میں ہوتا ہے؟ کیا ہمارے ملک میں انتخابات ایسے شفاف ہوتے ہیں ؟ کیا اس کے نتیجے میںبننے والی حکومت کو عوام کی نمائندہ حکومت کہا جاسکتا ہے؟ نہیں ایسا بالکل نہیں، جب جمہوریت سے یہ بنیادی اور ابتدائی تقاضے پورے نہیں ہوتے تو پھر جمہوریت کی جھوٹی گردان کیوں کی جاتی ہے، سچ تو یہ ہے کہ چند ہزار مفاد پرست ، لالچی لوگ باہمی گٹھ جوڑ کرکے جمہوریت کا جھوٹا راگ آلاپتے رہتے ہیں تاکہ عوام اس کی مدھر دھن میں غافل رہیں اور یہ اپنا اُلوسیدھا کرتے رہیں۔
ہندوستان میں جمہوریت کا مطلب ہے ’’کچھ خاص لوگوں کی حکومت ، کچھ خاص لوگوں کے ذریعہ اور کچھ خاص لوگوں کیلئے‘‘ اور اس جمہوریت میں ہر طرح کی مالی بدعنوانی کی کھلی چھوٹ ہے، اس جمہوریت میں ہر طرح کی اقربا پروری کی مطلق آزادی ہے، اس جمہوریت میں ہر جماعتوں پر خاندان کی اجارہ داری ہے، اس جمہوریت میں ذاتی مفاد سب سے پہلے کا اصول کارفرما ہے، اس جمہوریت میں سرکاری ملازم غلام ہیں، اس کے علاوہ ہمارے ملک میں جمہوریت سرے سے موجود ہی نہیں ہے بلکہ جدید شاہوں کی حکمرانی کو جمہوریت کا جام دے دیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جس جمہوریت کی فضا میں ہم سانس لے رہے ہیں، رہ بس رہے ہیں، ان میں سینکڑوں خوبیاں ہیں، سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں تمام مذاہب کو پھلنے پھولنے اور پروان چڑھنے کی آزادی ہے۔ جبکہ دورِ حاضر کی جمہوریت کے یہ اوصاف اب ہمارے ملک کے معاشرے میں کہا دیکھے جاسکتے ہیں اور ان خوبیوں سے متصف اور عوام کے منتخب کردہ ارباب اقتدار کہا ہیں، آج باشندگان ملک انہیں دیکھنے کیلئے ترس رہے ہیں، آج اس جمہوریت کو سچے اور نیک دل انسان نہیں مل رہے ہیں کیونکہ آج سیکولرازم مفاد پرستوں کیلئے ایک لباس ہے ، جب چاہا پہن لیا اور جب چاہا اتار دیا۔ جمہوریت میں جہاں سینکڑوں اچھائیاں ہیں وہیں اس نظام کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس میں اگر انچاس آدمی سچ بولتے ہیں اور اکاون آدمی دروغ گوئی سے کام لیتے ہیں ، تو اکاون جھوٹوں کی بات بھی درست مانی جائیگی۔ جمہوری نظام میں اکاون جاہلوں کا چنا ہوا نمائندہ انچاس پڑھے لکھے افراد پر راج کرنے کا حق پاجاتا ہے، اس نظام کا ایک نقص یہ بھی ہے کہ اگر اکاون افراد کسی غنڈے یا قاتل کو پسند کرتے ہوں تو وہ غنڈہ اور قاتل انچاس شریف انسانوں پر راج کرنے کا اہل قرار پاتا ہے۔ اسی خامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی قاتل ، اسمگلر ، مافیا سرغنہ اور پیشہ ور غنڈے ہمارے ملک کی پارلیامنٹ اور اسمبلیوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ یہ ہمارے ملک کی بدنصیبی ہی ہے کہ آج ایک ارب لوگوں پر ایک ایسے آدمی کو راج کرنے کا موقع مل جاتا ہے جس کے ساتھ پچیس کروڑ سے بھی کم لوگ ہیں۔
یہ سچ ہے کہ جمہوریت کے عنوان سے انسان کو کچھ آزادیاں ملیں ، جن کا پہلے کوئی وجود نہ تھا۔ مثلاً: آزادی نقل، آزادی عمل، آزادی اجتماع، آزادی رائے اور آزادی صحافت اور کچھ ایسی ضمانتی بھی ملیں جو پہلے موجود نہ تھیں۔ مثلاً:اہتمام ، تحقیق اور عدالت کی ضمانتیں۔ ان آزادیوںاور ضمانتوں کو دیکر انسان کو سمجھا یا گیا کہ اب وہ مکمل آزاد ہوگیا، پھر پارلیامنٹ وجود میں آئی، آزادانہ انتخابات ، عوامی نمائندگی ، عوام کی نمائندہ حکومت اور عوام کی مرضی سے چلائی جانے والی حکومت کاڈھونگ رچایا گیا۔ اب عوام غلام بن گئے اور سیاست آزاد ہوگئی، اب جس طبقے کے ہاتھ میں سیاسی اقتدار ہوتا ہے وہ بقیہ طبقات کے مفادات کے خلاف اپنے مفاد کو سامنے رکھ کر حکومت کرنے لگا اور اس کا نام جمہوریت رکھ دیا۔
زززز


