ایران کی للکار، اُمت کا امتحان

سرفراز احمد

اسرائیل نے گزشتہ 13 جون جمعہ کی رات ایران پر حملہ کر دیا، جس کا اعلانیہ مقصد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعطل کا شکار نیوکلیائی مذاکرات کے دوران ایران کی تیز رفتار نیوکلیائی پیش رفت کو روکنا تھا۔ ایران نے بھی بھرپور جوابی حملہ کیا۔ لڑائی کے تازہ ترین دور میں دونوں فریقین کو کافی جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ایران کی دشمنی وقت کے ساتھ مزید گہری ہوتی جا رہی ہے، اور ایران اسرائیل کی جاریہ جنگ دراصل خطے میں طاقت کے توازن کی جنگ ہے۔ یہ جنگ کہاں جا کر ختم ہوگی؟ علاقے میں اس کے اثرات کیا ہوں گے؟ ابھی یہ سب کچھ واضح نہیں ہے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ جنگ یہیں تھمتی ہے یا پھر امریکہ کی براہ راست شمولیت کے ساتھ اس میں مزید شدت پیدا ہوتی ہے۔ جنگ تو بہرحال جنگ ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کا یومیہ میزائل دفاعی نظام تقریباً 250 ملین ڈالر لاگت کا حامل ہے۔ ذرائع کے مطابق، اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام پر ہونے والے اخراجات حیران کن حد تک زیادہ ہیں۔ یومیہ 250 ملین ڈالر کی یہ لاگت اسرائیل کے لیے نہ صرف ایک مالی چیلنج ہے بلکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ خطے کی صورت حال کس قدر سنگین اور مہنگی ہو چکی ہے۔ اگر یہ کشیدگی جاری رہی تو دفاعی اخراجات اسرائیل کی معیشت پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔ اسرائیل کو ایک ایرانی میزائل کو انٹرسیپٹ (فضا میں ناکارہ بنانے) کرنے پر 30 ہزار ڈالر سے 7 لاکھ ڈالر تک کا مالی نقصان ہوتا ہے۔
خبروں کے مطابق، ایران نے جنگ بندی کے لیے عرب ممالک سے رابطے بھی کیے ہیں۔ ایران کی جانب سے جنگ بندی کے لیے تین خلیجی ممالک کا تعاون لینے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق، ایران نے سعودی عرب، سلطنتِ عمان اور قطر سے درخواست کی ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیل پر جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ اسی پس منظر میں، اسرائیلی جارحیت کے خلاف جہاں ایک طرف دنیا بھر میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں، وہیں دوسری جانب مسلم ممالک نے بھی صیہونی شر انگیزی کے خلاف اتحاد کا زبردست مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔ سعودی عرب سمیت 21 عرب اور مسلم ممالک نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیا اور اس کشیدہ صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
مصری وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ پریس اعلامیہ میں ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ کشیدگی کو فی الفور کم کیا جائے تاکہ جنگ بندی اور مکمل امن کی فضا قائم کی جا سکے۔ بیان پر دستخط کرنے والے ممالک میں سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، پاکستان، بحرین، برونائی، چاڈ، جبوتی، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، ترکیہ، عمان، دارالسلام، الجزائر، جمہوریہ کومور، عراق، قطر، کویت اور موریطانیہ شامل ہیں۔
پریس اعلامیہ میں 13 جون 2025 سے اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ وزرائے خارجہ نے ریاستوں کی خودمختاری، سرحدی سالمیت، حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں اور پرامن ذرائع سے تنازعات کے حل کی اہمیت پر زور دیا۔ مشترکہ بیان میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں اور ہر قسم کے تباہ کن اسلحہ سے پاک علاقہ بنایا جانا چاہیے، جیسا کہ عالمی قراردادوں میں درج ہے۔ تمام علاقائی ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں بغیر کسی امتیاز کے شامل ہوں۔ اعلامیہ میں ان جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی بھی مخالفت کی گئی ہے جو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں ہیں، کیونکہ یہ عمل 1949 کے جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
عرب و مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کو جلد از جلد دوبارہ شروع کیا جائے تاکہ اس مسئلے کا ایک پائیدار اور متفقہ حل تلاش کیا جا سکے۔ انہوں نے عالمی بحری راستوں میں آزادیِ نقل و حرکت کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ کسی بھی ایسی کوشش کو روکنا ضروری ہے جو سمندری سلامتی کے لیے خطرہ بنے۔ آخر میں، ان 21 ممالک نے واضح کیا کہ علاقائی بحرانوں کا واحد حل سفارت کاری اور مکالمہ ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے منشور اور حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں پر عمل درآمد کو ناگزیر قرار دیا اور کہا کہ فوجی حل بحرانوں کو ختم کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔
مسلم ممالک کے اس بیان سے ایک دن پہلے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ دشمن کسی غلط فہمی میں نہ رہے، ایران نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں وزیر برائے اقتصادی امور کو رائے اعتماد دینے کے موقع پر اپنے خطاب کے دوران حالیہ شہادتوں پر تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تمنا ہے کہ ہماری زندگی کا اختتام شہادت پر ہو۔ یہ ایک عقیدہ اور فکری اثاثہ ہے، جو ہمیں دین اور ائمہ علیہم السلام سے ورثے میں ملا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شہادت بستر پر مرنے سے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن اسرائیلی قوم کو شہید کرکے میدان سے نہیں نکال سکتا۔ اگر کوئی ہیرو شہید ہوتا ہے تو سیکڑوں دوسرے اس کا پرچم اٹھا لیتے ہیں اور ظلم و بربریت کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حملہ شروع نہیں کیا بلکہ صرف اپنے دفاع میں کھڑے ہیں۔ ہم نے نہ تو کمانڈروں کو قتل کیا، نہ سائنسدانوں کو۔ دشمن دنیا کے دوسرے کنارے سے آتا ہے اور ایک سائنس دان اور اس کے خاندان کو مار دیتا ہے، یہ کہاں کا انصاف ہے؟ ایرانی سائنس دانوں کے ہاتھ میں بندوق نہیں بلکہ علم ہوتا ہے۔ یہی سائنس داں ملکی دفاع کو ممکن بناتے ہیں، اسی لیے دشمن انہیں نشانہ بناتا ہے۔
آج ملت کو اتحاد، رحم دلی اور یکجہتی کی شدید ضرورت ہے۔ تمام اختلافات اور شکوے چھوڑ کر ہمیں متحد ہو کر دشمن کے مقابل کھڑا ہونا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم ایٹمی ہتھیار بنانا نہیں چاہتے۔ یہ ہمارے عقیدے اور رہبرِ معظم کی ہدایت کے مطابق ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیار نہیں چاہتے۔ اگر کوئی شخص اس پالیسی کے خلاف بات کرے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ البتہ ہمارا حق ہے کہ پُرامن نیوکلیائی توانائی اور تحقیق سے فائدہ اٹھائیں۔ یہ حق ہمیں بین الاقوامی قوانین کے تحت حاصل ہے، اور کوئی طاقت ہمیں اس سے محروم نہیں کر سکتی۔
صدر مسعود نے کہا کہ آج اسلامی ممالک کو متحد ہونا چاہیے۔ ہم نے ہمیشہ اسلامی ممالک کے ساتھ برادری کا ہاتھ بڑھایا ہے، مگر اسرائیل ایک ایک کر کے مسلمانوں کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ اپنی فاسد نیت کو ہم پر مسلط کرے۔ جیسا کہ کل پاکستان کی سینیٹ نے اسرائیل کی گھناؤنی پالیسیوں کے خلاف ایران کی حمایت میں قرارداد منظور کی، اسی طرح دیگر ممالک کو بھی کھل کر ہمارا ساتھ دینا ہوگا۔
اس دوران ایرانی پارلیمنٹ کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران، اسرائیل کو صیہونی وحشیوں کے لیے جہنم بنا دے گا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کو خبردار کیا کہ ایران کی مسلح افواج اپنے وحشی دشمن کو مکمل طور پر بے بس کر دیں گی۔ قالیباف نے مزید کہا کہ صیہونیوں کی راتوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں۔ ایرانی فوج دشمن کو جہنم کا مزہ چکھائے گی اور دنیا اس کی ذلت و رسوائی کا مشاہدہ کرے گی۔
اسپیکر قالیباف نے زور دے کر کہا کہ ہم غیر معمولی صورت حال سے گزر رہے ہیں اور ہمارا درندہ صفت دشمن کسی حدود و قانون کو نہیں مانتا۔ اگرچہ ہماری حتمی فتح یقینی ہے، مگر اس راہ میں نشیب و فراز آئیں گے۔ قالیباف نے ایرانی قوم کی وحدت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مختلف قومیتی اور فکری پس منظر رکھنے والے افراد نے متحد ہو کر مسلح افواج کی پشت پر کھڑے ہو کر دشمن کو ایک واضح پیغام دیا ہے۔
اسرائیلی حکومت کے دھمکی آمیز اقدامات نے ایرانی قوم کے اندر مزید اتحاد و استقامت کو فروغ دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور ایرانی فوج کی عسکری طاقت کی بھی ستائش کی اور رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنئی کی قیادت کو اس کامیابی کا محور قرار دیا۔ قالیباف کے مطابق، دشمن اس وقت ایک ہائبرڈ وار میں مصروف ہے، مگر ایران نے ان تمام چالوں کا مؤثر جواب دیا ہے۔
ایران کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے اسرائیل کے خلاف جنگ کے لیے اسلامی فوج کی تشکیل کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ایرانی رہنما محسن رضائی نے ترکی، سعودی عرب، پاکستان اور دیگر کئی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک متحدہ مخالف اسرائیلی اتحاد تشکیل دیں جو مشرقِ وسطیٰ کا تحفظ کر سکے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنئی نے بھی اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ہم نے خود کو شیعہ، سنی، عرب، عجم جیسے فرقوں میں بانٹ لیا ہے۔ اس تفرقے نے ہمیں کمزور کیا ہے۔ امت کی طاقت اتحاد میں ہے، اختلاف میں نہیں۔ اس لیے ہمیں متحد ہو کر دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایران کی اس اپیل پر لبیک کہا جائے گا؟ کیا مسلم ممالک ایران کے اس مطالبے کو تسلیم کرکے اسے عملی جامہ پہنائیں گے؟ کیا نیٹو افواج کی طرز پر مسلم ممالک اپنے دفاع اور تحفظ کے لیے اسلامی فوج کی تشکیل کریں گے؟ ایران نے آج پہلی بار اسلامی فوج کی تشکیل کا مطالبہ نہیں کیا ہے، بلکہ یہ آواز کافی پہلے سے اٹھائی جا رہی ہے اور مختلف ممالک پر مشتمل اسلامی فوج کی تشکیل کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اب تک یہ آواز صدا بہ صحرا ہی ثابت ہوئی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے مسلم ممالک متحدہ پلان پر آگے بڑھتے ہیں یا نہیں، اس پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ شیعہ، سنی کی دو دو اینٹوں کی مسجد و امام بارگاہ بنا کر امت کو تقسیم کرنے کا جو منصوبہ 1979ء سے شروع ہوا تھا، اس نے مشرقِ وسطیٰ کو صہیونی عفریت کی ہتھیلی میں رکھ کر ہی دم لیا۔
ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کہتے ہیں کہ ہماری شناخت ایک امت کی ہونی چاہیے، شیعہ سنی کی نہیں۔ کاش! یہ الفاظ ان مذہبی پیشواؤں کی زبانوں پر 2003ء میں عراق پر امریکی حملے اور 2011ء میں شامی تحریک کے وقت بھی آتے تو آج یہ منظر نامہ نہ ہوتا۔ ہم آج جہاں بھی اسرائیل کی جانب سے ایران پر ہونے والے حملوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور اس کی مذمت کرتے ہیں، تو عراق، شام، یمن اور لبنان کے سنی مسلمان اپنے ممالک کے کھنڈرات کی دلخراش تصاویر شیئر کرکے ایران کے کردار پر ہم سے سوال کرتے ہیں، جس کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔
اگر امت کے مجموعی عقیدے کا احترام اور ان کے رموز و مسلمات کی تقدیس کو ملحوظ رکھا جاتا، فرقہ پرست ملیشیا گروپوں پر ایرانی پیسہ خرچ نہ ہوتا، اور کف اڑاتے معممین کو گستاخیوں پر پیسے اور گاڑیاں گفٹ نہ کی جاتیں تو آج حالات یقیناً بہت مختلف ہوتے۔ حالیہ منظر اس حقیقت کی زندہ تصویر ہے جسے رب العالمین نے کھینچتے ہوئے فرمایا ہے: "وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ۔”
آج اختلاف اور تنازع اپنی انتہاؤں کو چھو کر ہمارے اوپر سے گزر چکا ہے اور اب ہم فشل اور خروجِ ریح کے مرحلے سے دوچار ہیں۔ ایسے میں ہمیں ماضی کی تلخ یادوں کو بھلا کر متحد ہونے کی ضرورت ہے، یہ وقت کا اہم تقاضا بھی ہے۔
ایران اسرائیل کے درمیان حالیہ تصادم دراصل مغرب اور مشرق کی اس کشمکش کا حصہ ہے جس میں مسلم ممالک صرف تماشائی ہیں۔ اس تناظر میں صرف مذمتی بیان جاری کرنا ہرگز کافی نہیں ہے۔ مسلم ممالک کے سربراہان اور قائدین کو متحد ہو کر ایک مشترکہ موقف قائم کرنا ہوگا۔ اگر مسلم ممالک اپنے دفاعی اقدام اور منظم منصوبہ بندی میں ناکام رہتے ہیں تو اس کے نتائج انتہائی خوفناک ہوں گے اور بیت المقدس سے لے کر تہران اور بغداد سے لے کر بیروت تک سارے مسلم شہر تباہ ہوتے رہیں گے۔ ایک ایک کرکے سب کی باری آئے گی۔ سامراجی طاقتوں اور ان کی تعصب پر مبنی پالیسیوں سے کوئی نہیں بچے گا۔
اب وقت آ چکا ہے کہ مسلم ممالک اپنی خود داری کا مظاہرہ کریں، امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ سے باہر نکل کر اپنی پالیسیوں کا تعین کریں اور ایک مضبوط مشترکہ اسلامی بلاک کی تشکیل کی طرف قدم بڑھائیں۔ عرب قیادت کو قرآن و سنت کی روشنی میں اپنے طرز عمل پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ انہیں سمجھنا ہوگا کہ امت کی تباہی میں خاموشی بھی جرم ہے اور دشمنوں کی حمایت کھلی غداری ہے۔ اگر آج وہ دنیا کی چند دن کی عیش و عشرت کے لیے مظلوم مسلمانوں کے خون پر سودا کریں گے تو کل نہ صرف تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی بلکہ اللہ کا عذاب بھی ان کے سروں پر نازل ہوگا۔ یہ وقت ہے کہ وہ قرآن کا مطالعہ کریں، ایمان کی روشنی کو دوبارہ دریافت کریں اور امت کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔
ایران کو بھی اپنی گزشتہ غلطیوں کو سنوارنا ہوگا اور مذہبی شدت پسندی، جس کے لیے انہوں نے مختلف مسلم ملکوں میں سنی مسلمانوں کا قتل کرایا، شیعت کے فروغ کے لیے بے دریغ پیسے اور طاقت کا استعمال کیا، خود ایران میں سنی مسلمانوں کے لیے زمین تنگ کی، ان چیزوں سے اسے باز رہنا ہوگا۔ اور آئندہ اس طرح کی تمام تر سرگرمیوں پر ایران کو روک لگانا ہوگا، تب جا کر کوئی مستحکم اتحاد ممکن ہے۔
کیا ایران اس کے لیے تیار ہے؟ تاکہ مسلم ممالک ان کے مطالبے کو عملی جامہ پہنا سکیں؟
ورنہ بقول شاعر:
درد کی حد سے گزارے تو سبھی جائیں گے
جلد یا دیر سے مارے تو سبھی جائیں گے
چاہے کتنی بھی بلندی پہ چلا جائے کوئی
آسمانوں سے اتارے تو سبھی جائیں گے
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

ایران کی للکار، اُمت کا امتحان

سرفراز احمد

اسرائیل نے گزشتہ 13 جون جمعہ کی رات ایران پر حملہ کر دیا، جس کا اعلانیہ مقصد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعطل کا شکار نیوکلیائی مذاکرات کے دوران ایران کی تیز رفتار نیوکلیائی پیش رفت کو روکنا تھا۔ ایران نے بھی بھرپور جوابی حملہ کیا۔ لڑائی کے تازہ ترین دور میں دونوں فریقین کو کافی جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ایران کی دشمنی وقت کے ساتھ مزید گہری ہوتی جا رہی ہے، اور ایران اسرائیل کی جاریہ جنگ دراصل خطے میں طاقت کے توازن کی جنگ ہے۔ یہ جنگ کہاں جا کر ختم ہوگی؟ علاقے میں اس کے اثرات کیا ہوں گے؟ ابھی یہ سب کچھ واضح نہیں ہے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ جنگ یہیں تھمتی ہے یا پھر امریکہ کی براہ راست شمولیت کے ساتھ اس میں مزید شدت پیدا ہوتی ہے۔ جنگ تو بہرحال جنگ ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کا یومیہ میزائل دفاعی نظام تقریباً 250 ملین ڈالر لاگت کا حامل ہے۔ ذرائع کے مطابق، اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام پر ہونے والے اخراجات حیران کن حد تک زیادہ ہیں۔ یومیہ 250 ملین ڈالر کی یہ لاگت اسرائیل کے لیے نہ صرف ایک مالی چیلنج ہے بلکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ خطے کی صورت حال کس قدر سنگین اور مہنگی ہو چکی ہے۔ اگر یہ کشیدگی جاری رہی تو دفاعی اخراجات اسرائیل کی معیشت پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔ اسرائیل کو ایک ایرانی میزائل کو انٹرسیپٹ (فضا میں ناکارہ بنانے) کرنے پر 30 ہزار ڈالر سے 7 لاکھ ڈالر تک کا مالی نقصان ہوتا ہے۔
خبروں کے مطابق، ایران نے جنگ بندی کے لیے عرب ممالک سے رابطے بھی کیے ہیں۔ ایران کی جانب سے جنگ بندی کے لیے تین خلیجی ممالک کا تعاون لینے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق، ایران نے سعودی عرب، سلطنتِ عمان اور قطر سے درخواست کی ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیل پر جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ اسی پس منظر میں، اسرائیلی جارحیت کے خلاف جہاں ایک طرف دنیا بھر میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں، وہیں دوسری جانب مسلم ممالک نے بھی صیہونی شر انگیزی کے خلاف اتحاد کا زبردست مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔ سعودی عرب سمیت 21 عرب اور مسلم ممالک نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیا اور اس کشیدہ صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
مصری وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ پریس اعلامیہ میں ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ کشیدگی کو فی الفور کم کیا جائے تاکہ جنگ بندی اور مکمل امن کی فضا قائم کی جا سکے۔ بیان پر دستخط کرنے والے ممالک میں سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، پاکستان، بحرین، برونائی، چاڈ، جبوتی، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، ترکیہ، عمان، دارالسلام، الجزائر، جمہوریہ کومور، عراق، قطر، کویت اور موریطانیہ شامل ہیں۔
پریس اعلامیہ میں 13 جون 2025 سے اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ وزرائے خارجہ نے ریاستوں کی خودمختاری، سرحدی سالمیت، حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں اور پرامن ذرائع سے تنازعات کے حل کی اہمیت پر زور دیا۔ مشترکہ بیان میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں اور ہر قسم کے تباہ کن اسلحہ سے پاک علاقہ بنایا جانا چاہیے، جیسا کہ عالمی قراردادوں میں درج ہے۔ تمام علاقائی ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں بغیر کسی امتیاز کے شامل ہوں۔ اعلامیہ میں ان جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی بھی مخالفت کی گئی ہے جو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں ہیں، کیونکہ یہ عمل 1949 کے جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
عرب و مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کو جلد از جلد دوبارہ شروع کیا جائے تاکہ اس مسئلے کا ایک پائیدار اور متفقہ حل تلاش کیا جا سکے۔ انہوں نے عالمی بحری راستوں میں آزادیِ نقل و حرکت کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ کسی بھی ایسی کوشش کو روکنا ضروری ہے جو سمندری سلامتی کے لیے خطرہ بنے۔ آخر میں، ان 21 ممالک نے واضح کیا کہ علاقائی بحرانوں کا واحد حل سفارت کاری اور مکالمہ ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے منشور اور حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں پر عمل درآمد کو ناگزیر قرار دیا اور کہا کہ فوجی حل بحرانوں کو ختم کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔
مسلم ممالک کے اس بیان سے ایک دن پہلے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ دشمن کسی غلط فہمی میں نہ رہے، ایران نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں وزیر برائے اقتصادی امور کو رائے اعتماد دینے کے موقع پر اپنے خطاب کے دوران حالیہ شہادتوں پر تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تمنا ہے کہ ہماری زندگی کا اختتام شہادت پر ہو۔ یہ ایک عقیدہ اور فکری اثاثہ ہے، جو ہمیں دین اور ائمہ علیہم السلام سے ورثے میں ملا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شہادت بستر پر مرنے سے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن اسرائیلی قوم کو شہید کرکے میدان سے نہیں نکال سکتا۔ اگر کوئی ہیرو شہید ہوتا ہے تو سیکڑوں دوسرے اس کا پرچم اٹھا لیتے ہیں اور ظلم و بربریت کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حملہ شروع نہیں کیا بلکہ صرف اپنے دفاع میں کھڑے ہیں۔ ہم نے نہ تو کمانڈروں کو قتل کیا، نہ سائنسدانوں کو۔ دشمن دنیا کے دوسرے کنارے سے آتا ہے اور ایک سائنس دان اور اس کے خاندان کو مار دیتا ہے، یہ کہاں کا انصاف ہے؟ ایرانی سائنس دانوں کے ہاتھ میں بندوق نہیں بلکہ علم ہوتا ہے۔ یہی سائنس داں ملکی دفاع کو ممکن بناتے ہیں، اسی لیے دشمن انہیں نشانہ بناتا ہے۔
آج ملت کو اتحاد، رحم دلی اور یکجہتی کی شدید ضرورت ہے۔ تمام اختلافات اور شکوے چھوڑ کر ہمیں متحد ہو کر دشمن کے مقابل کھڑا ہونا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم ایٹمی ہتھیار بنانا نہیں چاہتے۔ یہ ہمارے عقیدے اور رہبرِ معظم کی ہدایت کے مطابق ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیار نہیں چاہتے۔ اگر کوئی شخص اس پالیسی کے خلاف بات کرے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ البتہ ہمارا حق ہے کہ پُرامن نیوکلیائی توانائی اور تحقیق سے فائدہ اٹھائیں۔ یہ حق ہمیں بین الاقوامی قوانین کے تحت حاصل ہے، اور کوئی طاقت ہمیں اس سے محروم نہیں کر سکتی۔
صدر مسعود نے کہا کہ آج اسلامی ممالک کو متحد ہونا چاہیے۔ ہم نے ہمیشہ اسلامی ممالک کے ساتھ برادری کا ہاتھ بڑھایا ہے، مگر اسرائیل ایک ایک کر کے مسلمانوں کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ اپنی فاسد نیت کو ہم پر مسلط کرے۔ جیسا کہ کل پاکستان کی سینیٹ نے اسرائیل کی گھناؤنی پالیسیوں کے خلاف ایران کی حمایت میں قرارداد منظور کی، اسی طرح دیگر ممالک کو بھی کھل کر ہمارا ساتھ دینا ہوگا۔
اس دوران ایرانی پارلیمنٹ کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران، اسرائیل کو صیہونی وحشیوں کے لیے جہنم بنا دے گا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کو خبردار کیا کہ ایران کی مسلح افواج اپنے وحشی دشمن کو مکمل طور پر بے بس کر دیں گی۔ قالیباف نے مزید کہا کہ صیہونیوں کی راتوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں۔ ایرانی فوج دشمن کو جہنم کا مزہ چکھائے گی اور دنیا اس کی ذلت و رسوائی کا مشاہدہ کرے گی۔
اسپیکر قالیباف نے زور دے کر کہا کہ ہم غیر معمولی صورت حال سے گزر رہے ہیں اور ہمارا درندہ صفت دشمن کسی حدود و قانون کو نہیں مانتا۔ اگرچہ ہماری حتمی فتح یقینی ہے، مگر اس راہ میں نشیب و فراز آئیں گے۔ قالیباف نے ایرانی قوم کی وحدت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مختلف قومیتی اور فکری پس منظر رکھنے والے افراد نے متحد ہو کر مسلح افواج کی پشت پر کھڑے ہو کر دشمن کو ایک واضح پیغام دیا ہے۔
اسرائیلی حکومت کے دھمکی آمیز اقدامات نے ایرانی قوم کے اندر مزید اتحاد و استقامت کو فروغ دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور ایرانی فوج کی عسکری طاقت کی بھی ستائش کی اور رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنئی کی قیادت کو اس کامیابی کا محور قرار دیا۔ قالیباف کے مطابق، دشمن اس وقت ایک ہائبرڈ وار میں مصروف ہے، مگر ایران نے ان تمام چالوں کا مؤثر جواب دیا ہے۔
ایران کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے اسرائیل کے خلاف جنگ کے لیے اسلامی فوج کی تشکیل کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ایرانی رہنما محسن رضائی نے ترکی، سعودی عرب، پاکستان اور دیگر کئی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک متحدہ مخالف اسرائیلی اتحاد تشکیل دیں جو مشرقِ وسطیٰ کا تحفظ کر سکے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنئی نے بھی اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ہم نے خود کو شیعہ، سنی، عرب، عجم جیسے فرقوں میں بانٹ لیا ہے۔ اس تفرقے نے ہمیں کمزور کیا ہے۔ امت کی طاقت اتحاد میں ہے، اختلاف میں نہیں۔ اس لیے ہمیں متحد ہو کر دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایران کی اس اپیل پر لبیک کہا جائے گا؟ کیا مسلم ممالک ایران کے اس مطالبے کو تسلیم کرکے اسے عملی جامہ پہنائیں گے؟ کیا نیٹو افواج کی طرز پر مسلم ممالک اپنے دفاع اور تحفظ کے لیے اسلامی فوج کی تشکیل کریں گے؟ ایران نے آج پہلی بار اسلامی فوج کی تشکیل کا مطالبہ نہیں کیا ہے، بلکہ یہ آواز کافی پہلے سے اٹھائی جا رہی ہے اور مختلف ممالک پر مشتمل اسلامی فوج کی تشکیل کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اب تک یہ آواز صدا بہ صحرا ہی ثابت ہوئی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے مسلم ممالک متحدہ پلان پر آگے بڑھتے ہیں یا نہیں، اس پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ شیعہ، سنی کی دو دو اینٹوں کی مسجد و امام بارگاہ بنا کر امت کو تقسیم کرنے کا جو منصوبہ 1979ء سے شروع ہوا تھا، اس نے مشرقِ وسطیٰ کو صہیونی عفریت کی ہتھیلی میں رکھ کر ہی دم لیا۔
ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کہتے ہیں کہ ہماری شناخت ایک امت کی ہونی چاہیے، شیعہ سنی کی نہیں۔ کاش! یہ الفاظ ان مذہبی پیشواؤں کی زبانوں پر 2003ء میں عراق پر امریکی حملے اور 2011ء میں شامی تحریک کے وقت بھی آتے تو آج یہ منظر نامہ نہ ہوتا۔ ہم آج جہاں بھی اسرائیل کی جانب سے ایران پر ہونے والے حملوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور اس کی مذمت کرتے ہیں، تو عراق، شام، یمن اور لبنان کے سنی مسلمان اپنے ممالک کے کھنڈرات کی دلخراش تصاویر شیئر کرکے ایران کے کردار پر ہم سے سوال کرتے ہیں، جس کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔
اگر امت کے مجموعی عقیدے کا احترام اور ان کے رموز و مسلمات کی تقدیس کو ملحوظ رکھا جاتا، فرقہ پرست ملیشیا گروپوں پر ایرانی پیسہ خرچ نہ ہوتا، اور کف اڑاتے معممین کو گستاخیوں پر پیسے اور گاڑیاں گفٹ نہ کی جاتیں تو آج حالات یقیناً بہت مختلف ہوتے۔ حالیہ منظر اس حقیقت کی زندہ تصویر ہے جسے رب العالمین نے کھینچتے ہوئے فرمایا ہے: "وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ۔”
آج اختلاف اور تنازع اپنی انتہاؤں کو چھو کر ہمارے اوپر سے گزر چکا ہے اور اب ہم فشل اور خروجِ ریح کے مرحلے سے دوچار ہیں۔ ایسے میں ہمیں ماضی کی تلخ یادوں کو بھلا کر متحد ہونے کی ضرورت ہے، یہ وقت کا اہم تقاضا بھی ہے۔
ایران اسرائیل کے درمیان حالیہ تصادم دراصل مغرب اور مشرق کی اس کشمکش کا حصہ ہے جس میں مسلم ممالک صرف تماشائی ہیں۔ اس تناظر میں صرف مذمتی بیان جاری کرنا ہرگز کافی نہیں ہے۔ مسلم ممالک کے سربراہان اور قائدین کو متحد ہو کر ایک مشترکہ موقف قائم کرنا ہوگا۔ اگر مسلم ممالک اپنے دفاعی اقدام اور منظم منصوبہ بندی میں ناکام رہتے ہیں تو اس کے نتائج انتہائی خوفناک ہوں گے اور بیت المقدس سے لے کر تہران اور بغداد سے لے کر بیروت تک سارے مسلم شہر تباہ ہوتے رہیں گے۔ ایک ایک کرکے سب کی باری آئے گی۔ سامراجی طاقتوں اور ان کی تعصب پر مبنی پالیسیوں سے کوئی نہیں بچے گا۔
اب وقت آ چکا ہے کہ مسلم ممالک اپنی خود داری کا مظاہرہ کریں، امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ سے باہر نکل کر اپنی پالیسیوں کا تعین کریں اور ایک مضبوط مشترکہ اسلامی بلاک کی تشکیل کی طرف قدم بڑھائیں۔ عرب قیادت کو قرآن و سنت کی روشنی میں اپنے طرز عمل پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ انہیں سمجھنا ہوگا کہ امت کی تباہی میں خاموشی بھی جرم ہے اور دشمنوں کی حمایت کھلی غداری ہے۔ اگر آج وہ دنیا کی چند دن کی عیش و عشرت کے لیے مظلوم مسلمانوں کے خون پر سودا کریں گے تو کل نہ صرف تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی بلکہ اللہ کا عذاب بھی ان کے سروں پر نازل ہوگا۔ یہ وقت ہے کہ وہ قرآن کا مطالعہ کریں، ایمان کی روشنی کو دوبارہ دریافت کریں اور امت کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔
ایران کو بھی اپنی گزشتہ غلطیوں کو سنوارنا ہوگا اور مذہبی شدت پسندی، جس کے لیے انہوں نے مختلف مسلم ملکوں میں سنی مسلمانوں کا قتل کرایا، شیعت کے فروغ کے لیے بے دریغ پیسے اور طاقت کا استعمال کیا، خود ایران میں سنی مسلمانوں کے لیے زمین تنگ کی، ان چیزوں سے اسے باز رہنا ہوگا۔ اور آئندہ اس طرح کی تمام تر سرگرمیوں پر ایران کو روک لگانا ہوگا، تب جا کر کوئی مستحکم اتحاد ممکن ہے۔
کیا ایران اس کے لیے تیار ہے؟ تاکہ مسلم ممالک ان کے مطالبے کو عملی جامہ پہنا سکیں؟
ورنہ بقول شاعر:
درد کی حد سے گزارے تو سبھی جائیں گے
جلد یا دیر سے مارے تو سبھی جائیں گے
چاہے کتنی بھی بلندی پہ چلا جائے کوئی
آسمانوں سے اتارے تو سبھی جائیں گے
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں