آپریشن سندورنے دشمن کو صرف 22 منٹ میں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا

جنگ نیوز ڈیسک

نئی دہلی/وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے وگیان بھون میں ہندوستان کے دو عظیم ترین روحانی اور اخلاقی رہنماؤں سری نارائن گرو اور مہاتما گاندھی کے درمیان تاریخی گفتگو کی صد سالہ تقریب سے خطاب کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ آج کا بھارت صرف قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرتا ہے۔ انہوں نے ’آپریشن سندور‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی نے دنیا کے سامنے بھارت کی دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل پالیسی کو ثابت کر دیا، جہاں ملکی ساختہ ہتھیاروں کے ذریعے دشمن کو صرف 22 منٹ میں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اب دفاعی میدان میں خود کفیل ہو رہا ہے اور ’میڈ ان انڈیا‘ ہتھیار عالمی سطح پر پہچان پا رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے حکومت کی کامیاب اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے خدمت کو مشن بنایا، کروڑوں غریب، دلت اور قبائلی خاندانوں کو پکے مکانات فراہم کیے۔ انہوں نے بتایا کہ پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت بننے والے گھروں میں گیس، بجلی اور بیت الخلاء جیسی سہولیات بھی شامل ہیں۔
انہوں نے جل جیون مشن اور پی ایم جن من یوجنا جیسی اسکیموں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اب دور دراز قبائلی علاقوں میں بھی ترقی پہنچ رہی ہے۔
مودی نے کہا کہ خواتین آج کھیل سے خلا تک ہر میدان میں ملک کا فخر بن رہی ہیں۔ حکومت نے کئی رکاوٹیں ختم کیں، اور ویمن لیڈ ڈیولپمنٹ کا منتر اپنایا۔ انہوں نے یوگا ڈے، ’ون سن، ون ارتھ، ون گرڈ‘ اور G20 کی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت عالمی سطح پر فلاح انسانیت کی رہنمائی کر رہا ہے۔
وزیر اعظم نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کو ثقافتی ایونٹ کے اِنعقاد کو سراہا اور اُمید ظاہر کی کہ یہ کانفرنس گوجر کمیونٹی میں علاقائی و ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دے گی۔اِس موقعہ پر اِنجینئر خورشید احمد نے اپنے خطاب میں گوجر و بکر وال کمیونٹی کے روایتی علم و ورثے کی دستاویزی تشکیل کی اہمیت پر زور دیا اور ٹرائبل ریسرچ انسٹی چیوٹ اور جموںوکشمیر کلچرل اکیڈیمی سے اس سلسلے میں فوری اقدامات کی اپیل کی۔جی ڈی طاہر نے کشمیر یونیورسٹی اور جموں یونیورسٹی میں گوجری زبان کے شعبے قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اِس تاریخی زبان کے تحفظ کے لئے اِدارہ جاتی کوششوں کو ناگزیر قرار دیا۔ڈاکٹر جاوید راہیؔ نے اِستقبالیہ خطاب میں بتایا کہ اِس کانفرنس میں ریاست کے مختلف علاقوں سے 200 سے زائد گوجری ادیب، شاعر اور فنکار شرکت کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ تقریب قبائلی طبقات کو اَپنی اَدبی و ثقافتی خدمات اور درپیش چیلنجوں پر اظہارِ خیال کا پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔اِفتتاحی سیشن کی نظامت کے فرائض معروف گوجری ادیبہ نسیم اختر نے اَنجام دی جب کہ مشہور لوک گلوکار محمد رفیع (شوپیاں) نے حضرت میاں نیام الدین لارویؒ کے سحر فیاں سوز و جذب کے ساتھ پیش کئے ۔اِفتتاحی سیشن کے بعد تحقیقی مقالات کا سیشن منعقد ہوا جس کی صدارت نامور سکالر پروفیسر ایم کے وقار اور ایم منشا خاکی نے کی۔ اس دوران مولوی محی الدین اور ابراہیم مصباحی نے گوجری زبان و ادب سے متعلق مختلف پہلوؤں پر مقالے پیش کئے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

آپریشن سندورنے دشمن کو صرف 22 منٹ میں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا

جنگ نیوز ڈیسک

نئی دہلی/وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے وگیان بھون میں ہندوستان کے دو عظیم ترین روحانی اور اخلاقی رہنماؤں سری نارائن گرو اور مہاتما گاندھی کے درمیان تاریخی گفتگو کی صد سالہ تقریب سے خطاب کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ آج کا بھارت صرف قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرتا ہے۔ انہوں نے ’آپریشن سندور‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی نے دنیا کے سامنے بھارت کی دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل پالیسی کو ثابت کر دیا، جہاں ملکی ساختہ ہتھیاروں کے ذریعے دشمن کو صرف 22 منٹ میں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اب دفاعی میدان میں خود کفیل ہو رہا ہے اور ’میڈ ان انڈیا‘ ہتھیار عالمی سطح پر پہچان پا رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے حکومت کی کامیاب اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے خدمت کو مشن بنایا، کروڑوں غریب، دلت اور قبائلی خاندانوں کو پکے مکانات فراہم کیے۔ انہوں نے بتایا کہ پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت بننے والے گھروں میں گیس، بجلی اور بیت الخلاء جیسی سہولیات بھی شامل ہیں۔
انہوں نے جل جیون مشن اور پی ایم جن من یوجنا جیسی اسکیموں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اب دور دراز قبائلی علاقوں میں بھی ترقی پہنچ رہی ہے۔
مودی نے کہا کہ خواتین آج کھیل سے خلا تک ہر میدان میں ملک کا فخر بن رہی ہیں۔ حکومت نے کئی رکاوٹیں ختم کیں، اور ویمن لیڈ ڈیولپمنٹ کا منتر اپنایا۔ انہوں نے یوگا ڈے، ’ون سن، ون ارتھ، ون گرڈ‘ اور G20 کی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت عالمی سطح پر فلاح انسانیت کی رہنمائی کر رہا ہے۔
وزیر اعظم نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کو ثقافتی ایونٹ کے اِنعقاد کو سراہا اور اُمید ظاہر کی کہ یہ کانفرنس گوجر کمیونٹی میں علاقائی و ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دے گی۔اِس موقعہ پر اِنجینئر خورشید احمد نے اپنے خطاب میں گوجر و بکر وال کمیونٹی کے روایتی علم و ورثے کی دستاویزی تشکیل کی اہمیت پر زور دیا اور ٹرائبل ریسرچ انسٹی چیوٹ اور جموںوکشمیر کلچرل اکیڈیمی سے اس سلسلے میں فوری اقدامات کی اپیل کی۔جی ڈی طاہر نے کشمیر یونیورسٹی اور جموں یونیورسٹی میں گوجری زبان کے شعبے قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اِس تاریخی زبان کے تحفظ کے لئے اِدارہ جاتی کوششوں کو ناگزیر قرار دیا۔ڈاکٹر جاوید راہیؔ نے اِستقبالیہ خطاب میں بتایا کہ اِس کانفرنس میں ریاست کے مختلف علاقوں سے 200 سے زائد گوجری ادیب، شاعر اور فنکار شرکت کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ تقریب قبائلی طبقات کو اَپنی اَدبی و ثقافتی خدمات اور درپیش چیلنجوں پر اظہارِ خیال کا پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔اِفتتاحی سیشن کی نظامت کے فرائض معروف گوجری ادیبہ نسیم اختر نے اَنجام دی جب کہ مشہور لوک گلوکار محمد رفیع (شوپیاں) نے حضرت میاں نیام الدین لارویؒ کے سحر فیاں سوز و جذب کے ساتھ پیش کئے ۔اِفتتاحی سیشن کے بعد تحقیقی مقالات کا سیشن منعقد ہوا جس کی صدارت نامور سکالر پروفیسر ایم کے وقار اور ایم منشا خاکی نے کی۔ اس دوران مولوی محی الدین اور ابراہیم مصباحی نے گوجری زبان و ادب سے متعلق مختلف پہلوؤں پر مقالے پیش کئے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں