جنگ نیوز ڈیسک
26 جون 2025 کو ایک تاریخی لمحے میں، بھارتی فضائیہ کے گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا نے تاریخ رقم کی اور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) میں داخل ہونے والے پہلے بھارتی خلانورد بن گئے۔
اسپیس ایکس ڈریگن خلائی جہاز، جو شبھانشو شکلا اور تین دیگر بین الاقوامی خلانوردوں کو لے کر جا رہا تھا، نے شمالی بحرِ اوقیانوس کے اوپر گردش کرتے ہوئے شام 4:01 بجے (IST) خلائی اسٹیشن کے ساتھ "سوفٹ کیپچر” کامیابی سے مکمل کیا، اور15:4بجے IST مکمل طور پر خلائی اسٹیشن سے جُڑ گیا۔ اس تاریخی لمحے کو ناسا نے براہِ راست نشر کیا۔
یہ مشن ایکشیم-4 (Ax-4) کا حصہ ہے، جو 25 جون 2025 کو فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے فالکن 9 راکٹ کے ذریعے روانہ ہوا۔ اس عملے میں شامل تھے:
•کمانڈر پیگی وِٹسن (امریکہ)
•مشن اسپیشلسٹ سلاوش اوزنانسکی-وشنیوسکی (پولینڈ)
•مشن اسپیشلسٹ ٹِبور کاپو (ہنگری)
•پائلٹ: گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا (بھارت)
ڈریگن اسپیس کرافٹ نے انہیں 28 گھنٹے طویل سفر کے بعد ISS تک پہنچایا۔
خلاء سے ایک براہِ راست ویڈیو پیغام میں، شبھانشو شکلا نے مائیکرو گریوٹی میں زندگی کے نئے تجربے کو "ایک نومولود بچے کی طرح زندگی سیکھنے” سے تشبیہ دی۔ انہوں نے خلاء میں تیرنے کو "حیران کن” تجربہ قرار دیا۔
خلائی اسٹیشن سے جُڑنے سے قبل، انہوں نے زمین والوں کو”نمسکار فرام اسپیس” کہہ کر خوش آمدید کہا۔
انہوں نے بتایا کہ مشن سے پہلے وہ 30 دن کے قرنطینہ میں تھے، جہاں وہ دنیا کی سرگرمیوں سے بالکل الگ تھلگ تھے۔ انہوں نے کہا:
"میرے ذہن میں بس ایک ہی بات تھی: بس اب چلیں!”
ایکشیم-4 مشن کی کامیاب روانگی اور خلائی اسٹیشن سے جُڑاؤ نہ صرف نجی خلائی مشنوں کے لیے ایک سنگِ میل ہے، بلکہ بھارت کے لیے بھی ایک فخر کا لمحہ ہے، جہاں شبھانشو شکلا نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں قدم رکھنے والے پہلے بھارتی بن کر قوم کی خلائی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔


