مودی کی صدر ٹرمپ کو 35 منٹ طویل فون کال: ثالثی کی پیشکش مسترد

جنگ نیوز ڈیسک
نئی دلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے واضح طور پر کہا ہے کہ بھارت کسی بھی مسئلے پر ثالثی قبول نہیں کرے گا اور گزشتہ ماہ بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی کارروائی کا خاتمہ اسلام آباد کی درخواست پر ہوا تھا۔
بھارتی سکریٹری خارجہ وکرم مسری نے بدھ کو کہا کہ مودی نے امریکی صدر سے 35 منٹ طویل فون کال میں یہ باتیں کیں اور واضح کیا کہ بھارت کے لیے دہشت گردی اب پراکسی وار نہیں بلکہ براہ راست جنگ ہے۔
مودی نے کہا کہ بھارت کا فوجی آپریشن ’سِندور‘ اب بھی جاری ہے اور بھارت نے اپنے اقدامات کے دوران صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، وہ بھی انتہائی ناپ تول کر اور غیر اشتعال انگیز انداز میں۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 10 مئی کو امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دشمنی کا خاتمہ ان کی ثالثی اور تجارتی دباؤ کی دھمکی کے بعد ممکن ہوا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر دونوں ممالک جنگ بندی پر راضی نہ ہوتے تو وہ تجارتی تعلقات روکنے کا انتباہ دینے والے تھے۔
تاہم، وکرم مسری کے مطابق، مودی نے ٹرمپ کو واضح کیا کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان نہ تو کسی تجارتی معاہدے پر بات ہوئی، اور نہ ہی کسی ثالثی کی پیشکش زیرِ غور آئی۔ بلکہ جنگ بندی کی بات بھارت اور پاکستان کی افواج کے درمیان براہ راست چینلز سے ہوئی، اور یہ عمل پاکستان کی درخواست پر شروع ہوا۔
مودی نے مزید کہا کہ 22 اپریل کو پاہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت نے بین الاقوامی سطح پر یہ عزم ظاہر کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔
سکریٹری خارجہ کے مطابق، 9 مئی کی رات امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مودی کو فون کر کے آگاہ کیا تھا کہ پاکستان بھارت پر بڑا حملہ کر سکتا ہے۔ اس پر مودی نے انہیں صاف الفاظ میں کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو بھارت اس سے بھی شدید ردعمل دے گا۔
وکرم مسری نے بتایا کہ 9 اور 10 مئی کی درمیانی رات بھارت نے پاکستان کے حملے کا منہ توڑ جواب دیا جس میں پاکستانی فوج کو بھاری نقصان پہنچا اور کئی فوجی ہوائی اڈے ناکارہ بنا دیے گئے، جس کے بعد پاکستان نے خود جنگ بندی کی اپیل کی۔
فون کال کے دوران ٹرمپ نے مودی سے یہ بھی کہا کہ وہ کینیڈا سے واپسی پر امریکہ کا مختصر دورہ کریں، تاہم مودی نے پہلے سے طے شدہ مصروفیات کا حوالہ دیتے ہوئے انکار کر دیا۔
سکریٹری خارجہ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے آئندہ جلد ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

مودی کی صدر ٹرمپ کو 35 منٹ طویل فون کال: ثالثی کی پیشکش مسترد

جنگ نیوز ڈیسک
نئی دلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے واضح طور پر کہا ہے کہ بھارت کسی بھی مسئلے پر ثالثی قبول نہیں کرے گا اور گزشتہ ماہ بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی کارروائی کا خاتمہ اسلام آباد کی درخواست پر ہوا تھا۔
بھارتی سکریٹری خارجہ وکرم مسری نے بدھ کو کہا کہ مودی نے امریکی صدر سے 35 منٹ طویل فون کال میں یہ باتیں کیں اور واضح کیا کہ بھارت کے لیے دہشت گردی اب پراکسی وار نہیں بلکہ براہ راست جنگ ہے۔
مودی نے کہا کہ بھارت کا فوجی آپریشن ’سِندور‘ اب بھی جاری ہے اور بھارت نے اپنے اقدامات کے دوران صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، وہ بھی انتہائی ناپ تول کر اور غیر اشتعال انگیز انداز میں۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 10 مئی کو امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دشمنی کا خاتمہ ان کی ثالثی اور تجارتی دباؤ کی دھمکی کے بعد ممکن ہوا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر دونوں ممالک جنگ بندی پر راضی نہ ہوتے تو وہ تجارتی تعلقات روکنے کا انتباہ دینے والے تھے۔
تاہم، وکرم مسری کے مطابق، مودی نے ٹرمپ کو واضح کیا کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان نہ تو کسی تجارتی معاہدے پر بات ہوئی، اور نہ ہی کسی ثالثی کی پیشکش زیرِ غور آئی۔ بلکہ جنگ بندی کی بات بھارت اور پاکستان کی افواج کے درمیان براہ راست چینلز سے ہوئی، اور یہ عمل پاکستان کی درخواست پر شروع ہوا۔
مودی نے مزید کہا کہ 22 اپریل کو پاہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت نے بین الاقوامی سطح پر یہ عزم ظاہر کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔
سکریٹری خارجہ کے مطابق، 9 مئی کی رات امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مودی کو فون کر کے آگاہ کیا تھا کہ پاکستان بھارت پر بڑا حملہ کر سکتا ہے۔ اس پر مودی نے انہیں صاف الفاظ میں کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو بھارت اس سے بھی شدید ردعمل دے گا۔
وکرم مسری نے بتایا کہ 9 اور 10 مئی کی درمیانی رات بھارت نے پاکستان کے حملے کا منہ توڑ جواب دیا جس میں پاکستانی فوج کو بھاری نقصان پہنچا اور کئی فوجی ہوائی اڈے ناکارہ بنا دیے گئے، جس کے بعد پاکستان نے خود جنگ بندی کی اپیل کی۔
فون کال کے دوران ٹرمپ نے مودی سے یہ بھی کہا کہ وہ کینیڈا سے واپسی پر امریکہ کا مختصر دورہ کریں، تاہم مودی نے پہلے سے طے شدہ مصروفیات کا حوالہ دیتے ہوئے انکار کر دیا۔
سکریٹری خارجہ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے آئندہ جلد ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں