عالمی پیرا شوٹنگ ورلڈ کپ: کشمیر کے بیٹے عامر بٹ نے دو طلائی، ایک چاندی کا تمغہ جیت لیا

جنگ نیوز ڈیسک
اننت ناگ، 5 جون: 30 سالہ پیرا پسٹل شوٹر اور بھارتی فوج میں جونیئر کمیشنڈ آفیسر (جے سی او) عامر احمدبٹ نے جنوبی کوریا کے چانگ وون میں جاری عالمی پیرا شوٹنگ ورلڈ کپ میں دو طلائی اور ایک چاندی کا تمغہ جیت کر قوم کا نام روشن کر دیا۔
جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع کے ڈم ہل گاؤں کے رہائشی عامر نے 25 میٹر اسپورٹس پسٹل ایونٹ میں انفرادی اور ٹیم کیٹیگری میں طلائی تمغے حاصل کیے، جبکہ 10 میٹر اسٹینڈرڈ پسٹل ایونٹ میں چاندی کا تمغہ جیتا۔
اس باوقار ایونٹ میں 26 ممالک کے 300 سے زائد شوٹرز نے حصہ لیا، جو 28 مئی سے 6 جون 2025 تک جاری رہا۔
عامر، جو بھارت کے پہلے پیرا شوٹر ہیں جنہوں نے دو سال سے کم عرصے میں پیرا اولمپکس کے لیے کوالیفائی کیا، اس سے قبل 2024 پیرس پیرا اولمپک گیمز میں مکسڈ P3-25M پسٹل ایونٹ میں ملک کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
بھارتی فوج میں جونیئر کمیشنڈ آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے عامر کی زندگی 2018 میں ایک بارودی سرنگ کے دھماکے میں شدید زخمی ہونے کے بعد بدل گئی۔ تاہم اس حادثے کو اپنی راہ میں رکاوٹ نہ بناتے ہوئے انہوں نے شوٹنگ کی طرف رخ کیا، جہاں ایک سینئر افسر نے ان کی صلاحیت کو پہچان کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔
تب سے عامر نے بین الاقوامی شوٹنگ سرکٹ میں تیزی سے ترقی کی، اور متعدد تمغے اور اعزازات اپنے نام کیے۔
جنوبی کوریا سے بات کرتے ہوئے عامر نے کہا: ’’دو طلائی تمغے گلے میں ڈال کر اور قومی ترانہ سنتے ہوئے جھنڈے کو تھامنا میری زندگی کا ایک یادگار لمحہ تھا۔ یہ محض فتح نہیں بلکہ ملک کی خدمت ہے — پہلے رائفل کے ساتھ، اب پسٹل کے ساتھ۔‘‘
اپنے سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’میرا سفر آسان نہیں تھا، لیکن میں نے کبھی مشکلات کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا۔ 300 سے زائد شوٹرز کے درمیان ورلڈ کپ میں دو طلائی اور ایک چاندی کا تمغہ جیتنا ہر سپاہی اور کھلاڑی کے لیے یہ پیغام ہے کہ اگر آپ اپنے مقصد پر یقین رکھتے ہیں تو کچھ بھی ناممکن نہیں۔‘‘
عامر نے اپنے کوچز، بھارتی فوج، اور تمام حمایتیوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا: ’’یہ تو ابھی شروعات ہے۔ میرا مقصد مستقبل کے پیرا اولمپکس اور دیگر بین الاقوامی چیمپئن شپ میں ملک کے لیے مزید فخر لانا ہے۔‘‘

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

عالمی پیرا شوٹنگ ورلڈ کپ: کشمیر کے بیٹے عامر بٹ نے دو طلائی، ایک چاندی کا تمغہ جیت لیا

جنگ نیوز ڈیسک
اننت ناگ، 5 جون: 30 سالہ پیرا پسٹل شوٹر اور بھارتی فوج میں جونیئر کمیشنڈ آفیسر (جے سی او) عامر احمدبٹ نے جنوبی کوریا کے چانگ وون میں جاری عالمی پیرا شوٹنگ ورلڈ کپ میں دو طلائی اور ایک چاندی کا تمغہ جیت کر قوم کا نام روشن کر دیا۔
جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع کے ڈم ہل گاؤں کے رہائشی عامر نے 25 میٹر اسپورٹس پسٹل ایونٹ میں انفرادی اور ٹیم کیٹیگری میں طلائی تمغے حاصل کیے، جبکہ 10 میٹر اسٹینڈرڈ پسٹل ایونٹ میں چاندی کا تمغہ جیتا۔
اس باوقار ایونٹ میں 26 ممالک کے 300 سے زائد شوٹرز نے حصہ لیا، جو 28 مئی سے 6 جون 2025 تک جاری رہا۔
عامر، جو بھارت کے پہلے پیرا شوٹر ہیں جنہوں نے دو سال سے کم عرصے میں پیرا اولمپکس کے لیے کوالیفائی کیا، اس سے قبل 2024 پیرس پیرا اولمپک گیمز میں مکسڈ P3-25M پسٹل ایونٹ میں ملک کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
بھارتی فوج میں جونیئر کمیشنڈ آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے عامر کی زندگی 2018 میں ایک بارودی سرنگ کے دھماکے میں شدید زخمی ہونے کے بعد بدل گئی۔ تاہم اس حادثے کو اپنی راہ میں رکاوٹ نہ بناتے ہوئے انہوں نے شوٹنگ کی طرف رخ کیا، جہاں ایک سینئر افسر نے ان کی صلاحیت کو پہچان کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔
تب سے عامر نے بین الاقوامی شوٹنگ سرکٹ میں تیزی سے ترقی کی، اور متعدد تمغے اور اعزازات اپنے نام کیے۔
جنوبی کوریا سے بات کرتے ہوئے عامر نے کہا: ’’دو طلائی تمغے گلے میں ڈال کر اور قومی ترانہ سنتے ہوئے جھنڈے کو تھامنا میری زندگی کا ایک یادگار لمحہ تھا۔ یہ محض فتح نہیں بلکہ ملک کی خدمت ہے — پہلے رائفل کے ساتھ، اب پسٹل کے ساتھ۔‘‘
اپنے سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’میرا سفر آسان نہیں تھا، لیکن میں نے کبھی مشکلات کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا۔ 300 سے زائد شوٹرز کے درمیان ورلڈ کپ میں دو طلائی اور ایک چاندی کا تمغہ جیتنا ہر سپاہی اور کھلاڑی کے لیے یہ پیغام ہے کہ اگر آپ اپنے مقصد پر یقین رکھتے ہیں تو کچھ بھی ناممکن نہیں۔‘‘
عامر نے اپنے کوچز، بھارتی فوج، اور تمام حمایتیوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا: ’’یہ تو ابھی شروعات ہے۔ میرا مقصد مستقبل کے پیرا اولمپکس اور دیگر بین الاقوامی چیمپئن شپ میں ملک کے لیے مزید فخر لانا ہے۔‘‘

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں