باغات کی حفاظت ہم سب کا فریضہ

شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں حالیہ واقعے میں شرپسند عناصر نے درجنوں سیب کے درخت کاٹ ڈالے، جس سے مقامی باغبانوں کے لیے ایک بار پھر مایوسی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ماضی میں بھی وادی کے مختلف گاؤں کے مختلف باغات میں اس قسم کی توڑ پھوڑ کی جا چکی ہے، جس نے مقامی معیشت اور کسانوں کے روزگار پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔
یہ باغات صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ کشمیر کی معیشت اور ثقافت کی پہچان بھی ہیں۔ ہر درخت جو برسوں کی محنت سے پروان چڑھایا جاتا ہے، ہر شاخ جسے باریک بینی سے تراشا جاتا ہے، ہر کلی جو ایک خوشحال فصل کی امید دلاتی ہے،یہ سب یہاں کے کسانوں کی زندگی کی علامت ہیں۔ درختوں کی اس بے رحمانہ کٹائی کو محض تخریب کاری کہنا ناکافی ہے؛ یہ دراصل خطے کی خوشحالی، محنت اور ورثے پر حملہ ہے۔
بدقسمتی سے، ہر واقعے کے بعدردعمل محض بیانات تک محدود رہتا ہے۔ تحقیقات ادھوری رہ جاتی ہیں، اکثر ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں آتی، اور نقصان اٹھانے والے کسانوں کو تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔
یہ وقت ہے کہ حکومت کے علاوہ عام لوگ بھی اس سنگین مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور اس کو ایک بڑا جرم تصور کرے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کو یقینی بنائیں کہ ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے، تاکہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ حکومت متاثرہ کسانوں کے لیے معاوضے اور امدادی پروگرام شروع کرے، تاکہ وہ اس نقصان سے جلد از جلد بحال ہو سکیں۔
انتظامیہ کو چاہیے کہ باغات کی حفاظت کے لیے خصوصی فورس تشکیل دے، جس میں مقامی علاقوں کے رضا کاروں کو شامل کیا جائے، باغات کی نگرانی کے لیے سکیورٹی گشت کو بڑھایا جائے، اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسے جرائم کی روک تھام کی جائے۔
متاثرہ کسان محض ہمدردی کے نہیں بلکہ عملی مدد کے مستحق ہیں، تاکہ ان کے باغات خوشحالی اور ترقی کی ضمانت بنے رہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری اور مؤثر کارروائی کرے، تاکہ بانڈی پورہ کے سیب کے پھول آنے والی نسلوں کے لیے بھی امید کا پیغام بنے رہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

باغات کی حفاظت ہم سب کا فریضہ

شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں حالیہ واقعے میں شرپسند عناصر نے درجنوں سیب کے درخت کاٹ ڈالے، جس سے مقامی باغبانوں کے لیے ایک بار پھر مایوسی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ماضی میں بھی وادی کے مختلف گاؤں کے مختلف باغات میں اس قسم کی توڑ پھوڑ کی جا چکی ہے، جس نے مقامی معیشت اور کسانوں کے روزگار پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔
یہ باغات صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ کشمیر کی معیشت اور ثقافت کی پہچان بھی ہیں۔ ہر درخت جو برسوں کی محنت سے پروان چڑھایا جاتا ہے، ہر شاخ جسے باریک بینی سے تراشا جاتا ہے، ہر کلی جو ایک خوشحال فصل کی امید دلاتی ہے،یہ سب یہاں کے کسانوں کی زندگی کی علامت ہیں۔ درختوں کی اس بے رحمانہ کٹائی کو محض تخریب کاری کہنا ناکافی ہے؛ یہ دراصل خطے کی خوشحالی، محنت اور ورثے پر حملہ ہے۔
بدقسمتی سے، ہر واقعے کے بعدردعمل محض بیانات تک محدود رہتا ہے۔ تحقیقات ادھوری رہ جاتی ہیں، اکثر ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں آتی، اور نقصان اٹھانے والے کسانوں کو تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔
یہ وقت ہے کہ حکومت کے علاوہ عام لوگ بھی اس سنگین مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور اس کو ایک بڑا جرم تصور کرے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کو یقینی بنائیں کہ ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے، تاکہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ حکومت متاثرہ کسانوں کے لیے معاوضے اور امدادی پروگرام شروع کرے، تاکہ وہ اس نقصان سے جلد از جلد بحال ہو سکیں۔
انتظامیہ کو چاہیے کہ باغات کی حفاظت کے لیے خصوصی فورس تشکیل دے، جس میں مقامی علاقوں کے رضا کاروں کو شامل کیا جائے، باغات کی نگرانی کے لیے سکیورٹی گشت کو بڑھایا جائے، اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسے جرائم کی روک تھام کی جائے۔
متاثرہ کسان محض ہمدردی کے نہیں بلکہ عملی مدد کے مستحق ہیں، تاکہ ان کے باغات خوشحالی اور ترقی کی ضمانت بنے رہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری اور مؤثر کارروائی کرے، تاکہ بانڈی پورہ کے سیب کے پھول آنے والی نسلوں کے لیے بھی امید کا پیغام بنے رہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں