عالمی سطح پر دہشت گردی ایک مشترکہ چیلنج ہے جو ممالک کی ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ بھارت نے دہشت گردی کے خلاف بھرپور مہم شروع کی ہے، جس میں دہشت گردوں اور ان کے حمایتیوں میں کوئی فرق نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس حوالے سے بھارت نے پاکستان کے IMF قرض پر اعتراضات کیے اور 7 بین الاقوامی وفود کو دہشت گردی کی فنڈنگ کے بارے میں آگاہی پھیلانے کےلئے روانہ کیا۔ اس کے علاوہ بھارت 25 جون 2025 کو ہونے والے FATF اجلاس میں پاکستان کے خلاف مالی معاونت کے الزامات پیش کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
بھارت کا موقف ہے کہ پاکستان نے 2022 میں FATF کی گرے لسٹ سے نکلنے کے باوجود دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے وعدوں کی پاسداری نہیں کی۔ اس مقصد کےلئے بھارت نے ایک جامع ڈوزیئر تیار کیا ہے جس میں پاکستان کے مالی نیٹ ورکس کی نشاندہی کی گئی ہے، خاص طور پر کشمیر میں ہونے والے دہشت گرد حملوں سے منسلک مالی بہاؤ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
بھارت اس ڈوزیئر کو FATF اجلاس میں پیش کرے گا اور IMF اور دیگر مالیاتی اداروں سے پاکستان کے مالی امداد کے استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔ بھارت اس عمل کو پاکستان پر سفارتی اور مالی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ دہشت گردی کی مالی معاونت پر قابو پایا جا سکے۔
بھارت کی یہ کوششیں اسٹریٹجک اور سفارتی سطح پر پاکستان کےلئے چیلنج بن سکتی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان اقتصادی بحران سے نبرد آزما ہے۔ FATF کی گرے لسٹ میں دوبارہ شمولیت پاکستان کےلئے سرمایہ کاری کے مواقع اور بین الاقوامی ساکھ پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
دہشت گردی کیخلاف بھارت کا کردار
دہشت گردی کیخلاف بھارت کا کردار
عالمی سطح پر دہشت گردی ایک مشترکہ چیلنج ہے جو ممالک کی ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ بھارت نے دہشت گردی کے خلاف بھرپور مہم شروع کی ہے، جس میں دہشت گردوں اور ان کے حمایتیوں میں کوئی فرق نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس حوالے سے بھارت نے پاکستان کے IMF قرض پر اعتراضات کیے اور 7 بین الاقوامی وفود کو دہشت گردی کی فنڈنگ کے بارے میں آگاہی پھیلانے کےلئے روانہ کیا۔ اس کے علاوہ بھارت 25 جون 2025 کو ہونے والے FATF اجلاس میں پاکستان کے خلاف مالی معاونت کے الزامات پیش کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
بھارت کا موقف ہے کہ پاکستان نے 2022 میں FATF کی گرے لسٹ سے نکلنے کے باوجود دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے وعدوں کی پاسداری نہیں کی۔ اس مقصد کےلئے بھارت نے ایک جامع ڈوزیئر تیار کیا ہے جس میں پاکستان کے مالی نیٹ ورکس کی نشاندہی کی گئی ہے، خاص طور پر کشمیر میں ہونے والے دہشت گرد حملوں سے منسلک مالی بہاؤ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
بھارت اس ڈوزیئر کو FATF اجلاس میں پیش کرے گا اور IMF اور دیگر مالیاتی اداروں سے پاکستان کے مالی امداد کے استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔ بھارت اس عمل کو پاکستان پر سفارتی اور مالی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ دہشت گردی کی مالی معاونت پر قابو پایا جا سکے۔
بھارت کی یہ کوششیں اسٹریٹجک اور سفارتی سطح پر پاکستان کےلئے چیلنج بن سکتی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان اقتصادی بحران سے نبرد آزما ہے۔ FATF کی گرے لسٹ میں دوبارہ شمولیت پاکستان کےلئے سرمایہ کاری کے مواقع اور بین الاقوامی ساکھ پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔


