امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی

جنگ نیوز

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کانگریس کے دونوں ایوانوں، سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرلی ہے، جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو بڑا سیاسی دھچکا لگا ہے۔
3 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں کے لئے ووٹنگ ہوئی، جبکہ 36 ریاستوں میں گورنروں کا بھی انتخاب کیا گیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈیموکریٹس نے روایتی طور پر ریپبلکن کے مضبوط سمجھی جانے والی ریاستوں ٹیکساس، جنوبی کیرولائنا، اوہائیو اور کنساس میں بھی کامیابی حاصل کی۔ انتخابی نتائج کو ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں، مہنگائی اور ایران جنگ کے خلاف عوامی ردعمل سے جوڑا جارہا ہے۔
ان نتائج کے بعد ڈیموکریٹس کو کانگریس میں قانون سازی، حکومتی فیصلوں کی نگرانی اور صدر کی نامزدگیوں کی منظوری کے عمل میں زیادہ سیاسی اختیار حاصل ہوگا۔

پالیسی تبدیل نہیں ہوگی/خامنہ ای
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج سے تہران کے بارے میں واشنگٹن کی پالیسی تبدیل ہونے کی توقع نہ رکھی جائے۔
بدھ کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکی انتخابات کے بعد ایران کے تئیں پالیسی میں تبدیلی کی امید رکھنے والے غلط فہمی کا شکار ہیں۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کو انتخابی دھچکا لگنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے خبردار کیا کہ امریکہ کی جانب سے کسی بھی نئی جارحیت کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہوگا۔ انہوں نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے خلاف ایران کی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات کو امریکی بالادستی کے خلاف وسیع تر جدوجہد کا حصہ قرار دیا۔

 

انتخابات میں بھارتی نژاد ڈیموکریٹس کی کامیابی

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں بھارتی نژاد امریکی امیدواروں نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے سہاس سبرامنیم اور ارونا ملر دوبارہ منتخب ہوگئے، جبکہ پیا ڈانڈیا نے فلوریڈا کے 22ویں کانگریشنل حلقے سے کامیابی حاصل کرکے پہلی مرتبہ امریکی ایوان نمائندگان میں جگہ بنالی۔
ورجینیا کے 10ویں انتخابی حلقے سے 40 سالہ سہاس سبرامنیم نے ریپبلکن امیدوار ڈیو بیک وتھ کو شکست دے کر اپنی نشست برقرار رکھی۔ میری لینڈ کی لیفٹیننٹ گورنر ارونا ملر بھی دوبارہ منتخب ہوگئیں۔
ڈیموکریٹک رہنما ایمی بیرا نے کیلیفورنیا کے تیسرے کانگریشنل حلقے سے ریپبلکن امیدوار روب ٹکر کو شکست دے کر آٹھویں مرتبہ ایوان نمائندگان میں کامیابی حاصل کی۔ رو کھنہ اور پرمیلا جیاپال نے بھی اپنی نشستیں برقرار رکھیں۔
دوسری جانب ریپبلکن امیدوار اور بھارتی نژاد رہنما وویک راماسوامی کو اوہائیو کے گورنر کے انتخاب میں ڈیموکریٹک امیدوار ایمی ایکٹن کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ نیویارک کے اٹارنی جنرل کے انتخاب میں ریپبلکن امیدوار سارتھا کوماتریڈی نے بھی شکست تسلیم کرلی۔

انیل مینن نےخلا سے اپنا وئوٹ ڈالا
NASAکے خلا باز انیل مینن نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) سے امریکی وسط مدتی انتخابات میں الیکٹرانک طریقے سے اپنا ووٹ ڈالا۔
منگل کو جاری کردہ ایک مختصر ویڈیو میں انہوں نے بتایا کہ خلائی اسٹیشن کے کمپیوٹر پر بیلٹ پُر کرنے کے بعد اسے ٹیکساس کی ہیرس کاؤنٹی کے انتخابی حکام کو بھیج دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ خلائی اسٹیشن پر موجود تینوں امریکی خلا بازوں کو ووٹ ڈالنے کا موقع فراہم کیا گیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

غیر ملکی سرمایہ کاری کا انخلا

بھارتی اسٹاک مارکیٹ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی...

عمان کے ساحل کے قریب ہندوستانی جہاز پر حملہ،

نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اور...

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ووٹنگ جاری،

واشنگٹن ڈی سی: 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے لیے...

تازہ ترین خبریں

غیر ملکی سرمایہ کاری کا انخلا

بھارتی اسٹاک مارکیٹ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی...

عمان کے ساحل کے قریب ہندوستانی جہاز پر حملہ،

نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اور...

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ووٹنگ جاری،

واشنگٹن ڈی سی: 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے لیے...

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی

جنگ نیوز

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کانگریس کے دونوں ایوانوں، سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرلی ہے، جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو بڑا سیاسی دھچکا لگا ہے۔
3 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں کے لئے ووٹنگ ہوئی، جبکہ 36 ریاستوں میں گورنروں کا بھی انتخاب کیا گیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈیموکریٹس نے روایتی طور پر ریپبلکن کے مضبوط سمجھی جانے والی ریاستوں ٹیکساس، جنوبی کیرولائنا، اوہائیو اور کنساس میں بھی کامیابی حاصل کی۔ انتخابی نتائج کو ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں، مہنگائی اور ایران جنگ کے خلاف عوامی ردعمل سے جوڑا جارہا ہے۔
ان نتائج کے بعد ڈیموکریٹس کو کانگریس میں قانون سازی، حکومتی فیصلوں کی نگرانی اور صدر کی نامزدگیوں کی منظوری کے عمل میں زیادہ سیاسی اختیار حاصل ہوگا۔

پالیسی تبدیل نہیں ہوگی/خامنہ ای
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج سے تہران کے بارے میں واشنگٹن کی پالیسی تبدیل ہونے کی توقع نہ رکھی جائے۔
بدھ کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکی انتخابات کے بعد ایران کے تئیں پالیسی میں تبدیلی کی امید رکھنے والے غلط فہمی کا شکار ہیں۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کو انتخابی دھچکا لگنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے خبردار کیا کہ امریکہ کی جانب سے کسی بھی نئی جارحیت کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہوگا۔ انہوں نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے خلاف ایران کی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات کو امریکی بالادستی کے خلاف وسیع تر جدوجہد کا حصہ قرار دیا۔

 

انتخابات میں بھارتی نژاد ڈیموکریٹس کی کامیابی

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں بھارتی نژاد امریکی امیدواروں نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے سہاس سبرامنیم اور ارونا ملر دوبارہ منتخب ہوگئے، جبکہ پیا ڈانڈیا نے فلوریڈا کے 22ویں کانگریشنل حلقے سے کامیابی حاصل کرکے پہلی مرتبہ امریکی ایوان نمائندگان میں جگہ بنالی۔
ورجینیا کے 10ویں انتخابی حلقے سے 40 سالہ سہاس سبرامنیم نے ریپبلکن امیدوار ڈیو بیک وتھ کو شکست دے کر اپنی نشست برقرار رکھی۔ میری لینڈ کی لیفٹیننٹ گورنر ارونا ملر بھی دوبارہ منتخب ہوگئیں۔
ڈیموکریٹک رہنما ایمی بیرا نے کیلیفورنیا کے تیسرے کانگریشنل حلقے سے ریپبلکن امیدوار روب ٹکر کو شکست دے کر آٹھویں مرتبہ ایوان نمائندگان میں کامیابی حاصل کی۔ رو کھنہ اور پرمیلا جیاپال نے بھی اپنی نشستیں برقرار رکھیں۔
دوسری جانب ریپبلکن امیدوار اور بھارتی نژاد رہنما وویک راماسوامی کو اوہائیو کے گورنر کے انتخاب میں ڈیموکریٹک امیدوار ایمی ایکٹن کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ نیویارک کے اٹارنی جنرل کے انتخاب میں ریپبلکن امیدوار سارتھا کوماتریڈی نے بھی شکست تسلیم کرلی۔

انیل مینن نےخلا سے اپنا وئوٹ ڈالا
NASAکے خلا باز انیل مینن نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) سے امریکی وسط مدتی انتخابات میں الیکٹرانک طریقے سے اپنا ووٹ ڈالا۔
منگل کو جاری کردہ ایک مختصر ویڈیو میں انہوں نے بتایا کہ خلائی اسٹیشن کے کمپیوٹر پر بیلٹ پُر کرنے کے بعد اسے ٹیکساس کی ہیرس کاؤنٹی کے انتخابی حکام کو بھیج دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ خلائی اسٹیشن پر موجود تینوں امریکی خلا بازوں کو ووٹ ڈالنے کا موقع فراہم کیا گیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں