بھارتی اسٹاک مارکیٹ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی بے رغبتی معیشت کے لئے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ 2024-25 سے اب تک غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کار تقریباً 51 ارب ڈالر بھارتی ایکویٹی مارکیٹ سے نکال چکے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر طویل مدتی سرمایہ جاتی منافع پر ٹیکس میں کمی کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا صرف ٹیکس میں رعایت سے غیر ملکی سرمایہ کار دوبارہ بھارت کا رخ کریں گے؟سرمایے کے انخلا کی وجوہات محض ٹیکس پالیسی تک محدود نہیں ہیں۔ عالمی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ مصنوعی ذہانت (AI) سے وابستہ کمپنیوں کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ امریکہ کی Nvidia اور Google، جنوبی کوریا کی Samsung اور SK Hynix اور تائیوان کی TSMC جیسی کمپنیاں سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہی ہیں، جبکہ بھارت اس شعبے میں ابھی نمایاں عالمی مقام حاصل نہیں کر سکا ہے۔
دوسری جانب امریکہ سمیت ترقی یافتہ ممالک میں بانڈز پر منافع کی شرح میں اضافے نے بھی سرمایہ کاروں کو متوجہ کیا ہے۔ امریکی دس سالہ بانڈ پر تقریباً 4.9 فیصد منافع کی شرح نسبتاً محفوظ سرمایہ کاری کا متبادل فراہم کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی کمپنیوں کی آمدنی سے متعلق توقعات اور حصص کی بلند قیمتیں بھی سرمایہ نکالنے کی وجوہات میں شامل ہیں۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کا یہ کہنا درست ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی کو صرف ٹیکس رعایت سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ اس کے باوجود بھارت کو عالمی سرمایہ کاری کے لئے اپنا مالیاتی اور ضابطہ جاتی نظام زیادہ آسان، شفاف اور مسابقتی بنانا ہوگا۔ حکومت نے جون میں سرکاری بانڈز میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے سود اور مختصر و طویل مدتی سرمایہ جاتی منافع پر ٹیکس چھوٹ سمیت اقدامات کیے تھے۔
تاہم غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات دیتے ہوئے ملکی سرمایہ کاروں کے مفادات نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔ اگر ڈالر میں سرمایہ لانے والوں کو اضافی سہولتیں دی جائیں تو روپیہ میں سرمایہ کاری کرنے والے شہریوں کے ساتھ امتیاز کا سوال پیدا ہوگا۔ وزیر خزانہ نے بھی یہی نکتہ اٹھایا ہے کہ اگر ڈالر سرمایہ کاروں کی فکر ہے تو ملکی روپیہ سرمایہ کاروں کا کیا ہوگا؟ اسی طرح بیرون ملک بھارتی شہریوں کی سرمایہ کاری پر پابندیاں عائد کرنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔ لبرلائزڈ ریمیٹنس اسکیم کے تحت 2026 کے ابتدائی آٹھ ماہ میں بیرون ملک بھیجی گئی رقم 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ سرمائے کے اخراج کو روکنے کے لئے قدغنیں لگانے کے بجائے سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
بھارت کو سمجھنا ہوگا کہ عالمی سرمایہ صرف ٹیکس کی شرح نہیں بلکہ معاشی امکانات، پالیسیوں کے تسلسل، کاروباری تحفظ اور منافع کی توقعات دیکھ کر سرمایہ کاری کرتا ہے۔ لہٰذا غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے ٹیکس میں کمی کافی نہیں؛ ایسا متوازن نظام ضروری ہے جو بیرونی سرمائے کو متوجہ کرنے کے ساتھ ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی برقرار رکھے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کا انخلا
غیر ملکی سرمایہ کاری کا انخلا
بھارتی اسٹاک مارکیٹ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی بے رغبتی معیشت کے لئے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ 2024-25 سے اب تک غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کار تقریباً 51 ارب ڈالر بھارتی ایکویٹی مارکیٹ سے نکال چکے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر طویل مدتی سرمایہ جاتی منافع پر ٹیکس میں کمی کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا صرف ٹیکس میں رعایت سے غیر ملکی سرمایہ کار دوبارہ بھارت کا رخ کریں گے؟سرمایے کے انخلا کی وجوہات محض ٹیکس پالیسی تک محدود نہیں ہیں۔ عالمی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ مصنوعی ذہانت (AI) سے وابستہ کمپنیوں کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ امریکہ کی Nvidia اور Google، جنوبی کوریا کی Samsung اور SK Hynix اور تائیوان کی TSMC جیسی کمپنیاں سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہی ہیں، جبکہ بھارت اس شعبے میں ابھی نمایاں عالمی مقام حاصل نہیں کر سکا ہے۔
دوسری جانب امریکہ سمیت ترقی یافتہ ممالک میں بانڈز پر منافع کی شرح میں اضافے نے بھی سرمایہ کاروں کو متوجہ کیا ہے۔ امریکی دس سالہ بانڈ پر تقریباً 4.9 فیصد منافع کی شرح نسبتاً محفوظ سرمایہ کاری کا متبادل فراہم کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی کمپنیوں کی آمدنی سے متعلق توقعات اور حصص کی بلند قیمتیں بھی سرمایہ نکالنے کی وجوہات میں شامل ہیں۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کا یہ کہنا درست ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی کو صرف ٹیکس رعایت سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ اس کے باوجود بھارت کو عالمی سرمایہ کاری کے لئے اپنا مالیاتی اور ضابطہ جاتی نظام زیادہ آسان، شفاف اور مسابقتی بنانا ہوگا۔ حکومت نے جون میں سرکاری بانڈز میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے سود اور مختصر و طویل مدتی سرمایہ جاتی منافع پر ٹیکس چھوٹ سمیت اقدامات کیے تھے۔
تاہم غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات دیتے ہوئے ملکی سرمایہ کاروں کے مفادات نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔ اگر ڈالر میں سرمایہ لانے والوں کو اضافی سہولتیں دی جائیں تو روپیہ میں سرمایہ کاری کرنے والے شہریوں کے ساتھ امتیاز کا سوال پیدا ہوگا۔ وزیر خزانہ نے بھی یہی نکتہ اٹھایا ہے کہ اگر ڈالر سرمایہ کاروں کی فکر ہے تو ملکی روپیہ سرمایہ کاروں کا کیا ہوگا؟ اسی طرح بیرون ملک بھارتی شہریوں کی سرمایہ کاری پر پابندیاں عائد کرنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔ لبرلائزڈ ریمیٹنس اسکیم کے تحت 2026 کے ابتدائی آٹھ ماہ میں بیرون ملک بھیجی گئی رقم 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ سرمائے کے اخراج کو روکنے کے لئے قدغنیں لگانے کے بجائے سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
بھارت کو سمجھنا ہوگا کہ عالمی سرمایہ صرف ٹیکس کی شرح نہیں بلکہ معاشی امکانات، پالیسیوں کے تسلسل، کاروباری تحفظ اور منافع کی توقعات دیکھ کر سرمایہ کاری کرتا ہے۔ لہٰذا غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے ٹیکس میں کمی کافی نہیں؛ ایسا متوازن نظام ضروری ہے جو بیرونی سرمائے کو متوجہ کرنے کے ساتھ ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی برقرار رکھے۔


