ڈیجیٹل گرفتاری کا اور سائبر دھوکہ دہی

ڈیجیٹل گرفتاری کے نام پر ہونے والی دھوکہ دہی محض عوام کی نادانی کا نتیجہ نہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تئیں خوف اور عدم اعتماد کا بھی عکاس ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے 29 اکتوبر کو اس معاملے کی سماعت کے دوران اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ بار بار انتباہات کے باوجود لوگ ان جرائم کا شکار ہو رہے ہیں۔ رواں سال ان دھوکہ دہیوں کے ذریعے تقریباً 800 کروڑ روپے ہڑپ کیے جا چکے ہیں۔
دھوکہ باز خود کو سی بی آئی یا پولیس افسر ظاہر کرکے بالخصوص بزرگ شہریوں کو خوف زدہ کرتے ہیں اور ویڈیو کال کے ذریعے گرفتاری کی دھمکی دے کر ان کی جمع پونجی لوٹ لیتے ہیں۔ اس رجحان کی ایک بڑی وجہ پولیس کے تئیں عام شہریوں کا خوف بھی ہے۔ ایسے حالات میں جب پولیس کا رویہ اکثر عام لوگوں کے لئے سخت تصور کیا جاتا ہو، تو جعلی گرفتاری کی دھمکی بھی کئی افراد کو حقیقت محسوس ہونے لگتی ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے ریزرو بینک آف انڈیا کو مشتبہ بینک کھاتوں کی نشاندہی اور ان پر عارضی پابندی عائد کرنے سے متعلق ہدایات جلد نافذ کرنے پر زور دینا خوش آئند ہے۔ دھوکہ دہی کی رقوم کی منتقلی میں استعمال ہونے والے نام نہاد ’میول اکاؤنٹس‘ اس پورے جرائم پیشہ نظام کی اہم کڑی ہیں۔ بینکوں کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے مشتبہ لین دین کی بروقت نشاندہی کرنی چاہیے اور غفلت ثابت ہونے پر متاثرین کو معاوضہ بھی ملنا چاہیے۔
تاہم اس عمل میں احتیاط ناگزیر ہے۔ مشتبہ لین دین کے نام پر چھوٹے تاجروں اور عام شہریوں، خصوصاً جن دھن کھاتہ داروں کے بینک کھاتے طویل عرصے تک منجمد کر دیے جائیں، ان کے لئے یہ ایک نئی مصیبت بن سکتی ہے۔ بینکوں کی کوتاہی کی سزا بے قصور کھاتہ داروں کو نہیں ملنی چاہیے۔ اسی طرح ہر غیر معمولی لین دین کی پولیس کو خودکار اطلاع اور جسمانی تصدیق کے عمل میں شہریوں کی نجی زندگی کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔اس کے ساتھ میانمار، کمبوڈیا اور لاؤس میں سرگرم ان جرائم پیشہ مراکز کے خلاف بھی سخت کارروائی ہونی چاہیے جہاں مبینہ طور پر بھارتی شہریوں کو جبراً سائبر دھوکہ دہی کے کام میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکومت ہند کو سفارتی اثر و رسوخ بروئے کار لاتے ہوئے ان ممالک پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔ ڈیجیٹل گرفتاری کے اس بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ صرف عوامی بیداری سے نہیں بلکہ مؤثر قانون نافذ کرنے، بینکوں کی جواب دہی اور بین الاقوامی تعاون سے ہی ممکن ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ابتدائی موسمیاتی اپڈیٹ

ایک مغربی ہواؤں کا سلسلہ (Western Disturbance) 11 سے...

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی

جنگ نیوز سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ...

تازہ ترین خبریں

ابتدائی موسمیاتی اپڈیٹ

ایک مغربی ہواؤں کا سلسلہ (Western Disturbance) 11 سے...

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی

جنگ نیوز سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ...

ڈیجیٹل گرفتاری کا اور سائبر دھوکہ دہی

ڈیجیٹل گرفتاری کے نام پر ہونے والی دھوکہ دہی محض عوام کی نادانی کا نتیجہ نہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تئیں خوف اور عدم اعتماد کا بھی عکاس ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے 29 اکتوبر کو اس معاملے کی سماعت کے دوران اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ بار بار انتباہات کے باوجود لوگ ان جرائم کا شکار ہو رہے ہیں۔ رواں سال ان دھوکہ دہیوں کے ذریعے تقریباً 800 کروڑ روپے ہڑپ کیے جا چکے ہیں۔
دھوکہ باز خود کو سی بی آئی یا پولیس افسر ظاہر کرکے بالخصوص بزرگ شہریوں کو خوف زدہ کرتے ہیں اور ویڈیو کال کے ذریعے گرفتاری کی دھمکی دے کر ان کی جمع پونجی لوٹ لیتے ہیں۔ اس رجحان کی ایک بڑی وجہ پولیس کے تئیں عام شہریوں کا خوف بھی ہے۔ ایسے حالات میں جب پولیس کا رویہ اکثر عام لوگوں کے لئے سخت تصور کیا جاتا ہو، تو جعلی گرفتاری کی دھمکی بھی کئی افراد کو حقیقت محسوس ہونے لگتی ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے ریزرو بینک آف انڈیا کو مشتبہ بینک کھاتوں کی نشاندہی اور ان پر عارضی پابندی عائد کرنے سے متعلق ہدایات جلد نافذ کرنے پر زور دینا خوش آئند ہے۔ دھوکہ دہی کی رقوم کی منتقلی میں استعمال ہونے والے نام نہاد ’میول اکاؤنٹس‘ اس پورے جرائم پیشہ نظام کی اہم کڑی ہیں۔ بینکوں کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے مشتبہ لین دین کی بروقت نشاندہی کرنی چاہیے اور غفلت ثابت ہونے پر متاثرین کو معاوضہ بھی ملنا چاہیے۔
تاہم اس عمل میں احتیاط ناگزیر ہے۔ مشتبہ لین دین کے نام پر چھوٹے تاجروں اور عام شہریوں، خصوصاً جن دھن کھاتہ داروں کے بینک کھاتے طویل عرصے تک منجمد کر دیے جائیں، ان کے لئے یہ ایک نئی مصیبت بن سکتی ہے۔ بینکوں کی کوتاہی کی سزا بے قصور کھاتہ داروں کو نہیں ملنی چاہیے۔ اسی طرح ہر غیر معمولی لین دین کی پولیس کو خودکار اطلاع اور جسمانی تصدیق کے عمل میں شہریوں کی نجی زندگی کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔اس کے ساتھ میانمار، کمبوڈیا اور لاؤس میں سرگرم ان جرائم پیشہ مراکز کے خلاف بھی سخت کارروائی ہونی چاہیے جہاں مبینہ طور پر بھارتی شہریوں کو جبراً سائبر دھوکہ دہی کے کام میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکومت ہند کو سفارتی اثر و رسوخ بروئے کار لاتے ہوئے ان ممالک پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔ ڈیجیٹل گرفتاری کے اس بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ صرف عوامی بیداری سے نہیں بلکہ مؤثر قانون نافذ کرنے، بینکوں کی جواب دہی اور بین الاقوامی تعاون سے ہی ممکن ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں