غزل: ساحلؔ عرفان شفیع

 

 

ساحلؔ عرفان شفیع
گلاس باغ کھاگ بڈگام

وحشت بھری یاد آئی وہ اندھیری رات
دل و دماغ پہ چھائی وہ اندھیری رات
سہمے ہوئے تھے ہم کہ خاموشی نے گھیر لیا
درد و الم ہی ساتھ اپنے لائی وہ اندھیری رات
ڈرا رہی ہے اب تو سناٹوں کی گھن گرج
کرنے لگی یوں لب کشائی وہ اندھیری رات
اپنوں کے چہرے اجنبی لگنے لگے مجھے
کیااک عجب تماشا دکھائی وہ اندھیری رات
آواز اک نہ نکلی دل چیختا رہا
خامشی میں بہت کچھ سنائی وہ اندھیری رات
دائمی غم دے گئی، کچھ نہ چھوڑا پلے
ساحل! ؔ اک ایسی پائی وہ اندھیری رات

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی

جنگ نیوز سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ...

آشوتوش دکشت نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے طور پر عہدہ سنبھالا

جنگ نیوز   ایئر چیف مارشل آشوتوش دکشت پی وی ایس...

غزل: اسلم ٹیٹاگڑھی

    اسلم ٹیٹاگڑھی غم کے ہنگام سے خود پریشاں ہوں میں...

تازہ ترین خبریں

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی

جنگ نیوز سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ...

آشوتوش دکشت نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے طور پر عہدہ سنبھالا

جنگ نیوز   ایئر چیف مارشل آشوتوش دکشت پی وی ایس...

غزل: اسلم ٹیٹاگڑھی

    اسلم ٹیٹاگڑھی غم کے ہنگام سے خود پریشاں ہوں میں...

غزل: ساحلؔ عرفان شفیع

 

 

ساحلؔ عرفان شفیع
گلاس باغ کھاگ بڈگام

وحشت بھری یاد آئی وہ اندھیری رات
دل و دماغ پہ چھائی وہ اندھیری رات
سہمے ہوئے تھے ہم کہ خاموشی نے گھیر لیا
درد و الم ہی ساتھ اپنے لائی وہ اندھیری رات
ڈرا رہی ہے اب تو سناٹوں کی گھن گرج
کرنے لگی یوں لب کشائی وہ اندھیری رات
اپنوں کے چہرے اجنبی لگنے لگے مجھے
کیااک عجب تماشا دکھائی وہ اندھیری رات
آواز اک نہ نکلی دل چیختا رہا
خامشی میں بہت کچھ سنائی وہ اندھیری رات
دائمی غم دے گئی، کچھ نہ چھوڑا پلے
ساحل! ؔ اک ایسی پائی وہ اندھیری رات

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون