ڈاکٹر عامر ماجد
ریاستوں کے انضمام سے لے کر آرٹیکل 370 کی منسوخی اور جموں و کشمیر کی تنظیم نو تک، قومی یکجہتی کا دن ہندوستان کے اتحاد، جمہوری اقدار اور عوامی امنگوں کا جائزہ لینے کا ایک اہم موقع ہے۔
ہندوستان میں ہر سال 31 اکتوبر کو ’راشٹریہ ایکتا دیوس‘ یعنی قومی یکجہتی کا دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہندوستان کے پہلے نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کے یوم پیدائش کی مناسبت سے منایا جاتا ہے۔ انہیں تاریخ میں ’آہنی مرد‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ملک کی آزادی کے بعد سینکڑوں شاہی ریاستوں کو ہندوستانی یونین میں ضم کرنے اور ایک متحدہ ملک کی بنیاد مضبوط بنانے میں ان کا کردار تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔
قومی یکجہتی کا دن محض ایک رسمی تقریب یا کسی عظیم شخصیت کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع نہیں، بلکہ یہ ہندوستان کے قومی اتحاد، جغرافیائی سالمیت، ثقافتی تنوع اور مشترکہ آئینی اقدار پر غور و فکر کرنے کا دن بھی ہے۔ یہ موقع ہمیں اس بات کا جائزہ لینے کی دعوت دیتا ہے کہ آزادی کے بعد قومی یکجہتی کا تصور کس طرح پروان چڑھا اور مختلف خطوں نے اس تاریخی سفر میں کس نوعیت کے حالات کا سامنا کیا۔
سردار ولبھ بھائی پٹیل اور متحدہ ہندوستان کی تشکیل
سردار ولبھ بھائی پٹیل کا قومی یکجہتی کے حوالے سے کردار اس وقت سامنے آیا جب ہندوستان 1947 میں برطانوی اقتدار سے آزاد ہوا۔ آزادی کے وقت ملک میں 560 سے زائد شاہی ریاستیں موجود تھیں، جنہیں اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنا تھا۔ برطانوی اقتدار کے خاتمے کے بعد ان ریاستوں کا ہندوستانی یونین میں انضمام ایک بڑا سیاسی، انتظامی اور سفارتی چیلنج تھا۔
سردار پٹیل نے وی پی مینن کے ساتھ مل کر اس مشکل ذمہ داری کو انجام دیا۔ انہوں نے شاہی ریاستوں کے حکمرانوں کو ہندوستان کے ساتھ الحاق پر آمادہ کرنے کے لئے سیاسی مذاکرات، سفارتی کوششوں اور حکمت عملی سے کام لیا۔ جوناگڑھ اور حیدرآباد جیسی ریاستوں کے معاملات میں ان کا کردار خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
یہ عمل محض مختلف علاقوں کو ایک جغرافیائی نقشے میں شامل کرنے تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس کا مقصد ایک ایسے ملک کی تشکیل تھا جہاں مختلف زبانوں، مذاہب، تہذیبوں اور روایات سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک مشترکہ سیاسی نظام کے تحت زندگی گزار سکیں۔
تقسیم ہند کے بعد پیدا ہونے والے حالات، فرقہ وارانہ کشیدگی، نقل مکانی اور انتظامی مشکلات کے درمیان ہندوستان کو متحد رکھنا ایک غیر معمولی ذمہ داری تھی۔ سردار پٹیل نے اس ذمہ داری کو انجام دینے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں جدید ہندوستان کی سیاسی اور انتظامی تشکیل کے اہم معماروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
تاہم، ایک جمہوری ملک میں قومی اتحاد کا تصور صرف جغرافیائی یا انتظامی انضمام تک محدود نہیں ہوتا۔ اس کے لئے علاقائی شناختوں کا احترام، آئینی حقوق کا تحفظ اور تمام شہریوں کو قومی ترقی میں یکساں شرکت کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔
جموں و کشمیر: قومی یکجہتی کی تاریخ کا ایک اہم باب
جموں و کشمیر کی تاریخ ہندوستان کے بعد از آزادی سیاسی اور آئینی سفر میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ تقسیم ہند کے وقت ریاست جموں و کشمیر پر مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت تھی۔ اکتوبر 1947 میں قبائلی حملے کے بعد مہاراجہ ہری سنگھ نے 26 اکتوبر 1947 کو ہندوستان کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے، جس کے بعد ہندوستانی فوج ریاست کے دفاع کے لئے یہاں پہنچی۔
یہ الحاق جموں و کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ آئینی تعلقات کی بنیاد بنا۔ تاہم، دیگر کئی شاہی ریاستوں کے برعکس جموں و کشمیر کو ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت ایک خصوصی آئینی حیثیت حاصل رہی۔ اس دفعہ کے تحت ریاست کو متعدد قانون ساز اور انتظامی معاملات میں خصوصی اختیارات حاصل تھے، جبکہ ہندوستانی آئین کی مختلف دفعات مخصوص آئینی احکامات کے ذریعے ریاست پر نافذ کی جاتی تھیں۔
کئی دہائیوں تک آرٹیکل 370 ہندوستان کے وفاقی اور آئینی ڈھانچے کا ایک اہم اور بحث طلب حصہ رہا۔ اس دفعہ کے حامی اسے جموں و کشمیر کی ہندوستان کے ساتھ الحاق کی مخصوص تاریخی اور آئینی صورت حال سے جڑا ایک تحفظ قرار دیتے تھے، جبکہ اس کی مخالفت کرنے والوں کا مؤقف تھا کہ اس سے الگ آئینی انتظام قائم رہا اور مرکزی قوانین کے مکمل نفاذ میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔
یہ بحث مختلف حکومتوں، سیاسی جماعتوں اور آئینی اداروں کے درمیان جاری رہی اور جموں و کشمیر ہندوستانی سیاست کا ایک اہم موضوع بنا رہا۔
5 اگست 2019: آئینی تاریخ کا ایک بڑا موڑ
5 اگست 2019 کو مرکزی حکومت نے آئینی اقدامات کے ذریعے آرٹیکل 370 کو غیر مؤثر کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی پارلیمنٹ نے جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 منظور کیا، جس کے نتیجے میں سابق ریاست کو دو الگ الگ مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کیا گیا۔
31 اکتوبر 2019 سے جموں و کشمیر ایک ایسے مرکزی زیر انتظام علاقے میں تبدیل ہوگیا جسے قانون ساز اسمبلی حاصل ہے، جبکہ لداخ کو بغیر قانون ساز اسمبلی کے الگ مرکزی زیر انتظام علاقہ بنایا گیا۔
مرکزی حکومت نے اس فیصلے کو ہندوستان کے ساتھ مکمل آئینی انضمام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ اس تبدیلی سے ملک بھر میں یکساں قانونی اور انتظامی نظام قائم ہوگا، ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، حکمرانی میں بہتری آئے گی اور خطے کے عوام کو زیادہ مواقع فراہم ہوں گے۔
حکومت نے یہ بھی کہا کہ مرکزی قوانین اور فلاحی اسکیموں کے نفاذ سے جموں و کشمیر کے عوام کو ملک کے دیگر حصوں کے شہریوں کے مساوی فوائد حاصل ہوسکیں گے۔
تاہم، اس فیصلے کے بعد خطے میں سیاسی بے یقینی، پابندیوں اور انتظامی تبدیلیوں کا ایک طویل دور بھی دیکھنے میں آیا۔ سیاسی جماعتوں اور سماج کے مختلف طبقوں نے فیصلے کے طریقۂ کار، ریاستی حیثیت کے خاتمے اور خطے کی سیاسی و آئینی شناخت کے مستقبل کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
اس لئے 2019 کی آئینی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لئے مرکزی حکومت کے بیان کردہ مقاصد کے ساتھ ساتھ خطے کے عوام اور سیاسی حلقوں کے تحفظات کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ اور ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ
آرٹیکل 370 سے متعلق مرکزی حکومت کے فیصلے کو بعد ازاں سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ 11 دسمبر 2023 کو سپریم کورٹ نے متفقہ فیصلے میں آرٹیکل 370 کو غیر مؤثر کرنے کے حکومتی اقدام کو برقرار رکھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ آرٹیکل 370 ایک عارضی دفعہ تھی اور جموں و کشمیر کو ہندوستانی یونین سے الگ کوئی داخلی خودمختاری حاصل نہیں تھی۔
اس کے ساتھ ہی عدالت نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت جلد از جلد بحال کرنے کے لئے اقدامات کیے جائیں اور 30 ستمبر 2024 تک اسمبلی انتخابات منعقد کرائے جائیں۔
بعد ازاں اکتوبر 2024 میں جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد ہوئے اور عمر عبداللہ کی سربراہی میں منتخب حکومت قائم ہوئی۔
تاہم، ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ آج بھی خطے کی سیاست کا ایک اہم موضوع ہے۔ جموں و کشمیر اسمبلی نے 28 ستمبر 2026 کو ایک قرارداد منظور کرکے مرکزی حکومت سے مکمل ریاستی حیثیت فوری طور پر بحال کرنے کی اپیل کی۔ اس قرارداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ منتخب ایوان خطے کی سیاسی اور انتظامی حیثیت کی بحالی کو اہم سمجھتا ہے۔
یہ صورت حال قومی یکجہتی کے حوالے سے ایک اہم پہلو کو اجاگر کرتی ہے کہ قومی انضمام اور علاقائی سیاسی امنگوں کو جمہوری اداروں، آئینی طریقۂ کار اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھانا ضروری ہے۔
تنوع میں اتحاد: ہندوستان کی اصل طاقت
ہندوستان کا قومی اتحاد کبھی بھی زبان، مذہب یا ثقافت کی یکسانیت پر منحصر نہیں رہا۔ اس ملک کی اصل طاقت مختلف مذاہب، زبانوں، تہذیبوں، رسم و رواج اور علاقائی شناختوں کے باہمی وجود میں پوشیدہ ہے۔
ہمالیہ کی بلند وادیوں سے لے کر جنوبی ہندوستان کے ساحلی علاقوں تک، راجستھان کے صحراؤں سے وادیٔ کشمیر تک، ہندوستان کا ہر خطہ اپنی الگ تہذیبی اور تاریخی شناخت رکھتا ہے۔ یہی تنوع ہندوستانی معاشرے کی خوبصورتی اور قومی تشخص کا اہم حصہ ہے۔
’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘ کا تصور بھی اسی جذبے کو فروغ دینے کے لئے پیش کیا گیا ہے، تاکہ مختلف ریاستوں اور خطوں کے عوام ایک دوسرے کی ثقافت، زبان اور روایات کو سمجھ سکیں۔
جموں و کشمیر اس تنوع کی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہاں کی صوفیانہ روایات، ادبی ورثہ، دستکاری، کشمیری مہمان نوازی اور قدرتی خوبصورتی ہندوستان کی وسیع تہذیبی شناخت کا حصہ ہیں۔ کشمیری، ڈوگری، گوجری، پہاڑی، پنجابی، اردو، بلتی اور دیگر زبانیں وادی اور خطے کی کثیرالثقافتی شناخت کی عکاسی کرتی ہیں۔
لہٰذا قومی یکجہتی کا تقاضا ہے کہ علاقائی ثقافتوں اور زبانوں کا تحفظ کیا جائے، مختلف برادریوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے اور ہر خطے کے عوام کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ قومی ترقی کے برابر کے شریک ہیں۔
آئینی تبدیلیوں سے آگے: ترقی اور معاشی استحکام
2019 کی تنظیم نو کے حق میں مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے اہم دلائل میں سے ایک یہ تھا کہ اس سے جموں و کشمیر میں ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور انتظامی نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
اس کے بعد خطے میں بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، ریلوے، سیاحت، تعلیم، صحت اور سرمایہ کاری کے شعبوں پر توجہ دی گئی ہے۔ تاہم، ترقی کا حقیقی اندازہ صرف اعلانات، منصوبوں یا مالی وسائل کی فراہمی سے نہیں بلکہ عام شہریوں کی زندگی میں آنے والی مثبت تبدیلیوں سے لگایا جانا چاہیے۔
جموں و کشمیر کی معیشت میں سیاحت کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ ہوٹل مالکان، ہاؤس بوٹ آپریٹرز، ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد، دستکاروں، ریستورانوں اور چھوٹے کاروباریوں کی روزی روٹی بڑی حد تک سیاحت سے وابستہ ہے۔
اسی طرح زراعت اور باغبانی کے شعبے، خصوصاً سیب، زعفران اور دیگر اعلیٰ معیار کی فصلیں، دیہی معیشت کی بنیاد ہیں۔ ان شعبوں کو جدید ٹیکنالوجی، بہتر مارکیٹنگ، برآمدات اور مالی معاونت سے مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔
قالین بافی، پشمینہ، پیپر ماشی، اخروٹ کی لکڑی پر نقش و نگاری اور دیگر روایتی دستکاریوں کو عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنا بھی معاشی ترقی کے لئے اہم ہے۔
اس کے علاوہ بہتر سڑکیں، ریلوے رابطہ، بجلی، صحت کی سہولیات اور معیاری تعلیمی ادارے خطے کی مجموعی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات دور دراز پہاڑی علاقوں، سرحدی اضلاع اور پسماندہ خطوں تک بھی پہنچیں۔
قومی یکجہتی کی کامیابی اسی وقت نمایاں ہوگی جب عام شہریوں کو بہتر معیار زندگی، روزگار اور بنیادی سہولیات میسر ہوں گی۔
نوجوان نسل: قومی یکجہتی کے مستقبل کی ضامن
جموں و کشمیر کی نوجوان نسل خطے کے مستقبل کا سب سے اہم سرمایہ ہے۔ نوجوان صرف سیاسی مباحث اور آئینی تبدیلیوں تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ ان کی خواہشات میں معیاری تعلیم، روزگار، کاروبار، جدید ٹیکنالوجی، کھیلوں کی سہولیات اور محفوظ مستقبل بھی شامل ہیں۔
قومی یکجہتی کے دن نوجوانوں کے مسائل اور امکانات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں، یونیورسٹیوں، ہنرمندی کے مراکز اور سرکاری اداروں کو مل کر ایسے مواقع پیدا کرنے چاہئیں جن کے ذریعے مقامی نوجوان اپنی صلاحیتوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر منوا سکیں۔
اطلاعاتی ٹیکنالوجی، سیاحت، زراعت، کھیل، فلم سازی، تحقیق اور کاروبار کے شعبوں میں جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے لئے بے شمار امکانات موجود ہیں۔ نئے کاروبار شروع کرنے والوں کی حوصلہ افزائی، اسٹارٹ اپس کی معاونت اور پیشہ ورانہ تعلیم کو فروغ دے کر ان امکانات کو عملی شکل دی جاسکتی ہے۔
نوجوانوں کو جمہوری عمل، سماجی سرگرمیوں اور عوامی ترقی میں حصہ لینے کی ترغیب دینا بھی ضروری ہے۔ ان کی مثبت شرکت ہی مضبوط جمہوری اداروں اور ذمہ دار شہری معاشرے کی بنیاد بن سکتی ہے۔
اپنائیت اور قومی وابستگی کا احساس محض نعروں سے پیدا نہیں ہوتا، بلکہ اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب نوجوانوں کو یقین ہو کہ ان کی صلاحیتوں کی قدر کی جارہی ہے، ان کے مسائل سنے جارہے ہیں اور ان کے مستقبل کے لئے حقیقی مواقع موجود ہیں۔
قومی اتحاد کے لئے اعتماد، شمولیت اور جمہوری شرکت ضروری
راشٹریہ ایکتا دیوس کی اصل اہمیت اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ قومی اتحاد ایک مسلسل عمل ہے۔ آئینی انضمام سے قانونی اور انتظامی ڈھانچہ تو قائم کیا جاسکتا ہے، لیکن دیرپا اتحاد کے لئے عوامی اعتماد، اداروں کی جواب دہی اور جمہوری عمل میں تمام طبقات کی شرکت بھی لازمی ہے۔
جموں و کشمیر کے تناظر میں اس کا مطلب ہے کہ مختلف خطوں اور برادریوں کے خدشات کو دور کیا جائے، منتخب اداروں کو مضبوط بنایا جائے، شہری حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور حکومتی نظام کو عوامی ضروریات کے مطابق بنایا جائے۔
ریاستی حیثیت کی بحالی، مقامی جمہوری اداروں کو مستحکم کرنا اور معاشی ترقی کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنا خطے کے اہم سیاسی موضوعات ہیں۔ ان معاملات کو آئینی طریقۂ کار اور مرکزی حکومت، منتخب نمائندوں اور عوام کے درمیان مسلسل رابطے کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح قومی سلامتی اور عوامی فلاح و بہبود ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ امن اور استحکام سرمایہ کاری، سیاحت، تعلیم اور معاشی سرگرمیوں کے لئے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ دوسری جانب بہتر حکمرانی، انصاف اور عوامی اعتماد بھی ایک مستحکم معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سردار پٹیل کا ورثہ اور موجودہ ہندوستان
سردار ولبھ بھائی پٹیل کی خدمات اس لئے بھی اہم ہیں کہ ہندوستان کی تعمیر نو کا عمل آزادی کے ساتھ ختم نہیں ہوا تھا۔ 560 سے زائد شاہی ریاستوں کو متحد کرنا ایک ایسا تاریخی کارنامہ تھا جس کے لئے سیاسی بصیرت، سفارتی مہارت، انتظامی صلاحیت اور قومی عزم درکار تھا۔
سال 2014 میں راشٹریہ ایکتا دیوس کے باضابطہ آغاز نے سردار پٹیل کی خدمات کو یاد کرنے اور قومی اتحاد کے جذبے کو فروغ دینے کے لئے ایک مستقل پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اس دن ملک بھر میں ’رن فار یونٹی‘، قومی یکجہتی کے عہد، ثقافتی پروگرام، تعلیمی مباحث اور عوامی آگاہی کی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
تاہم، اس دن کی حقیقی اہمیت سرکاری تقریبات اور رسمی بیانات تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ یہ دن ہر شہری کو علاقائی، مذہبی، لسانی اور سماجی اختلافات سے بالاتر ہوکر ایک ایسے معاشرے کی تعمیر میں حصہ لینے کی ترغیب دیتا ہے جہاں باہمی احترام، مساوی مواقع اور اجتماعی ذمہ داری کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔
جموں و کشمیر کے لئے 31 اکتوبر کی تاریخ خصوصی تاریخی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اسی دن سردار ولبھ بھائی پٹیل کا یوم پیدائش منایا جاتا ہے اور 2019 میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تنظیم نو بھی اسی تاریخ سے نافذ ہوئی تھی۔
یہ موقع خطے کے آئینی سفر، 2019 کی تبدیلیوں کے اثرات اور عوام کی مستقبل سے وابستہ توقعات کا جائزہ لینے کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آئینی انضمام، جمہوری نمائندگی، ترقی اور ثقافتی تنوع کے درمیان ایک مثبت اور متوازن تعلق قائم کیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک متحدہ ہندوستان کی طاقت صرف اس کے جغرافیائی انضمام میں نہیں بلکہ اس کے شہریوں کے اعتماد، عزت، حقوق اور قومی ترقی میں ان کی بھرپور شرکت میں پوشیدہ ہے۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل کا ورثہ ہمیں ایک مضبوط اور متحد ملک کی تعمیر کی تاریخی ذمہ داری یاد دلاتا ہے۔ جموں و کشمیر کے موجودہ تناظر میں اس ذمہ داری کی تکمیل امن، خوشحالی، جمہوری اختیارات، معاشی ترقی اور ہر شہری کے لئے یکساں مواقع کی فراہمی سے ہی ممکن ہے۔
قومی یکجہتی کا دن صرف آہنی مرد کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع نہیں بلکہ ایک ایسے ہندوستان کی تعمیر کے عزم کی تجدید کا دن بھی ہونا چاہیے جہاں تنوع کا احترام ہو، جمہوری اداروں پر اعتماد قائم ہو اور ہر خطے اور ہر شہری کو ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کا مساوی موقع حاصل ہو۔


