کابینہ ردوبدل کے بعد نیشنل کانفرنس کی اندرونی سیاست گرم

بلال بشیر بٹ
جنگ نیوز ڈیسک

سری نگر/کابینہ میں حالیہ توسیع و ردوبدل کے بعد نیشنل کانفرنس میں ناراضگی شدت اختیار کرگئی ہے۔ یومِ قومی یکجہتی سے محض ایک روز قبل پارٹی کے 18 ارکانِ اسمبلی نے بند کمرے میں تقریباً پانچ گھنٹے طویل اجلاس منعقد کرکے اپنی الگ یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

نیشنل کانفرنس میں حالیہ کابینہ توسیع اور ردوبدل کے بعد اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ جمعہ کو پارٹی کے 17 ارکانِ اسمبلی اور حکومت کی حمایت کرنے والے ایک آزاد رکن سمیت 18 قانون سازوں نے کولاب کے رکن اسمبلی قیصر جمشید لون کی رہائش گاہ پر تقریباً پانچ گھنٹے طویل اجلاس منعقد کیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں کابینہ میں حالیہ تبدیلیوں پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے چار وزراء کو تبدیل کرنے اور وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔ ارکان نے الزام لگایا کہ داچھی گام میں طے پانے والے اتفاقِ رائے پر عمل نہیں کیا گیا اور جن وزراء کو ہٹایا جانا تھا، وہ بدستور عہدوں پر برقرار ہیں۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض ارکان نے وزراء پر بدعنوانی کے الزامات بھی عائد کیے اور ان کے حق میں شواہد ہونے کا دعویٰ کیا۔ اجلاس میں کابینہ میں نئی تقرریوں کے فیصلے کے لئے پارلیمانی بورڈ تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔

ارکان کا کہنا تھا کہ اکتوبر 2024 میں عہدہ سنبھالنے والے چار وزراء دو سال مکمل کرچکے ہیں، اس لئے ان کی جگہ نئے چہروں کو موقع دیا جانا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق باغی ارکان آنے والے دنوں میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے اپنے مطالبات پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سینئر لیڈر اور سابق سپیکر اسمبلی مبارک گل تین بعد جنرل سیکریٹری کے عہدے سے فارغ

نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے حاجی علی محمد ساگر کو مزید احکامات تک پارٹی کے جنرل سیکریٹری کے عہدے پر برقرار رکھنے کی ہدایت دی ہے۔
اس سلسلے میں جاری حکم نامے کے ذریعے ساگر کی تنظیمی عہدے پر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی تصدیق کی گئی ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ 27 اکتوبر کو پارٹی نے عیدگاہ کے رکن اسمبلی حاجی مبارک گل کو جنرل سیکریٹری مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ علی محمد ساگر کو کابینہ میں شامل کیا گیا تھا۔ تازہ حکم نامے کے بعد پارٹی کی تنظیمی تقرریوں سے متعلق صورتحال میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

آغا روح اللہ کے استعفے کے اعلان سے سیاسی سرگرمیاں تیز

نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی کے 3 نومبر کو پارٹی اور اپنے منصب سے مستعفی ہونے کے اعلان نے کشمیر میں سیاسی بحث تیز کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق وہ اپنے والد آغا سید مہدی کی 26ویں برسی کے موقع پر بڈگام میں بہشتِ زہرا پارک میں عوامی جلسے سے خطاب کریں گے، جس میں نوجوانوں کی بڑی شرکت متوقع ہے۔
آغا روح اللہ نے اگست میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے چیلنج کے جواب میں استعفے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے نیشنل کانفرنس قیادت سے اختلافات کی بنیادی وجوہات میں دفعہ 370 اور انتخابی منشور کے وعدوں پر پارٹی کا موقف شامل ہے۔
سیاسی رہنما افتخار حسین مسگر نے دعویٰ کیا کہ آغا روح اللہ نوجوانوں کی سیاسی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہیں اور ان کی جدوجہد عہدے کے بجائے عوامی حقوق اور سیاسی خودمختاری کے لئے ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تخلیق کار یا مشینی مصنف؟

دب محض الفاظ کی ترتیب نہیں بلکہ انسانی احساسات،...

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

تازہ ترین خبریں

تخلیق کار یا مشینی مصنف؟

دب محض الفاظ کی ترتیب نہیں بلکہ انسانی احساسات،...

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

کابینہ ردوبدل کے بعد نیشنل کانفرنس کی اندرونی سیاست گرم

بلال بشیر بٹ
جنگ نیوز ڈیسک

سری نگر/کابینہ میں حالیہ توسیع و ردوبدل کے بعد نیشنل کانفرنس میں ناراضگی شدت اختیار کرگئی ہے۔ یومِ قومی یکجہتی سے محض ایک روز قبل پارٹی کے 18 ارکانِ اسمبلی نے بند کمرے میں تقریباً پانچ گھنٹے طویل اجلاس منعقد کرکے اپنی الگ یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

نیشنل کانفرنس میں حالیہ کابینہ توسیع اور ردوبدل کے بعد اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ جمعہ کو پارٹی کے 17 ارکانِ اسمبلی اور حکومت کی حمایت کرنے والے ایک آزاد رکن سمیت 18 قانون سازوں نے کولاب کے رکن اسمبلی قیصر جمشید لون کی رہائش گاہ پر تقریباً پانچ گھنٹے طویل اجلاس منعقد کیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں کابینہ میں حالیہ تبدیلیوں پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے چار وزراء کو تبدیل کرنے اور وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔ ارکان نے الزام لگایا کہ داچھی گام میں طے پانے والے اتفاقِ رائے پر عمل نہیں کیا گیا اور جن وزراء کو ہٹایا جانا تھا، وہ بدستور عہدوں پر برقرار ہیں۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض ارکان نے وزراء پر بدعنوانی کے الزامات بھی عائد کیے اور ان کے حق میں شواہد ہونے کا دعویٰ کیا۔ اجلاس میں کابینہ میں نئی تقرریوں کے فیصلے کے لئے پارلیمانی بورڈ تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔

ارکان کا کہنا تھا کہ اکتوبر 2024 میں عہدہ سنبھالنے والے چار وزراء دو سال مکمل کرچکے ہیں، اس لئے ان کی جگہ نئے چہروں کو موقع دیا جانا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق باغی ارکان آنے والے دنوں میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے اپنے مطالبات پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سینئر لیڈر اور سابق سپیکر اسمبلی مبارک گل تین بعد جنرل سیکریٹری کے عہدے سے فارغ

نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے حاجی علی محمد ساگر کو مزید احکامات تک پارٹی کے جنرل سیکریٹری کے عہدے پر برقرار رکھنے کی ہدایت دی ہے۔
اس سلسلے میں جاری حکم نامے کے ذریعے ساگر کی تنظیمی عہدے پر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی تصدیق کی گئی ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ 27 اکتوبر کو پارٹی نے عیدگاہ کے رکن اسمبلی حاجی مبارک گل کو جنرل سیکریٹری مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ علی محمد ساگر کو کابینہ میں شامل کیا گیا تھا۔ تازہ حکم نامے کے بعد پارٹی کی تنظیمی تقرریوں سے متعلق صورتحال میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

آغا روح اللہ کے استعفے کے اعلان سے سیاسی سرگرمیاں تیز

نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی کے 3 نومبر کو پارٹی اور اپنے منصب سے مستعفی ہونے کے اعلان نے کشمیر میں سیاسی بحث تیز کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق وہ اپنے والد آغا سید مہدی کی 26ویں برسی کے موقع پر بڈگام میں بہشتِ زہرا پارک میں عوامی جلسے سے خطاب کریں گے، جس میں نوجوانوں کی بڑی شرکت متوقع ہے۔
آغا روح اللہ نے اگست میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے چیلنج کے جواب میں استعفے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے نیشنل کانفرنس قیادت سے اختلافات کی بنیادی وجوہات میں دفعہ 370 اور انتخابی منشور کے وعدوں پر پارٹی کا موقف شامل ہے۔
سیاسی رہنما افتخار حسین مسگر نے دعویٰ کیا کہ آغا روح اللہ نوجوانوں کی سیاسی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہیں اور ان کی جدوجہد عہدے کے بجائے عوامی حقوق اور سیاسی خودمختاری کے لئے ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں