برازیل کے صدارتی انتخابات میں لوئز اناسیو لولا دا سلوا کی کامیابی نے لاطینی امریکہ میں دائیں بازو کی بڑھتی ہوئی سیاسی لہر کو وقتی طور پر روک دیا ہے۔ پہلے مرحلے میں انتہائی دائیں بازو کے امیدوار فلاویو بولسونارو سے پیچھے رہنے کے باوجود لولا نے دوسرے مرحلے میں تقریباً 52 فیصد ووٹ حاصل کرکے چوتھی بار صدارتی منصب حاصل کیا۔ ان کی کامیابی نہ صرف برازیل بلکہ عالمی سطح پر بائیں بازو کی سیاست کے لئے بھی اہم سمجھی جارہی ہے۔ تاہم اس کامیابی کو دائیں بازو کی سیاست کی کمزوری قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ انتخابی نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ برازیلی معاشرہ نظریاتی اور سیاسی طور پر گہری تقسیم کا شکار ہے۔ سابق صدر جائیر بولسونارو کے حامیوں کی مقبولیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ قدامت پسند نظریات، مذہب اور ریاست کے کردار سے متعلق خدشات معاشرے کے ایک بڑے طبقے میں اب بھی موجود ہیں۔
لولا کے سامنے معاشی چیلنجز بھی کم نہیں۔ اگرچہ بے روزگاری کی شرح تاریخی طور پر کم سطح کے قریب ہے، لیکن معاشی سست روی، مہنگائی، بلند شرح سود اور گھریلو قرضوں کا بڑھتا بوجھ عوامی مشکلات میں اضافہ کررہا ہے۔ کانگریس میں قدامت پسند اکثریت اور دائیں بازو کے ریاستی گورنروں کے باعث اصلاحات نافذ کرنا بھی ان کے لئے آسان نہیں ہوگا۔لولا کی اصل کامیابی محض انتخاب جیتنے میں نہیں، بلکہ منقسم معاشرے کو متحد کرنے اور عوام کے معاشی مسائل حل کرنے میں ہوگی۔ انہیں اپنے روایتی حامیوں سے آگے بڑھ کر ان شہریوں کا اعتماد بھی حاصل کرنا ہوگا جنہوں نے ان کے خلاف ووٹ دیا۔ اگر وہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر روزگار، معاشی استحکام اور سماجی انصاف پر توجہ مرکوز کرتے ہیں تو برازیل میں جمہوری استحکام کو تقویت مل سکتی ہے۔ بصورت دیگر، دائیں بازو کی سیاسی قوت مستقبل میں دوبارہ زیادہ شدت کے ساتھ ابھر سکتی ہے۔


