مسکراہٹوں اور مایوسیوں کے بیچ جموں کشمیر کابینہ کی قوت میں اضافہ

لیفٹیننٹ گورنر نے چار نئے وزرا کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا

بلال بشیر بٹ
جنگ نیوز ڈیسک

جموں و کشمیر کی سیاست میں منگل کا دن نئی امیدوں، سیاسی تبدیلیوں اور اندرونی بے چینی کی ملی جلی تصویر لے کر سامنے آیا، جب لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سرینگر کے لوک بھون میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے چار نئے وزرا کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ کابینہ میں توسیع کے ذریعے نیشنل کانفرنس کے کئی تجربہ کار رہنماؤں کو حکومت میں شامل کیا گیا، تاہم اس فیصلے نے پارٹی کے اندر بعض حلقوں میں ناراضی اور مایوسی کو بھی جنم دیا۔

حلف اٹھانے والوں میں علی محمد ساگر، شمیمہ فردوس، میر سیف اللہ اور الطاف احمد وانی المعروف الطاف کلو شامل ہیں۔ چاروں وزرا کا تعلق وادیٔ کشمیر سے ہے اور انہیں سیاست، عوامی خدمت اور قانون سازی کا طویل تجربہ حاصل ہے۔ اس توسیع سے حکومت کی انتظامی ٹیم مضبوط ہونے کی توقع ہے، تاہم نئے وزرا کو محکموں کی تقسیم کے بعد اپنی ذمہ داریاں سنبھالنی ہوں گی۔

حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، اسمبلی کے اسپیکر عبد الرحیم راتھر، اتحادی جماعتوں کے سینئر رہنماؤں اور حزب اختلاف کے ارکان نے شرکت کی۔ ان میں بی جے پی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے نمائندے بھی شامل تھے۔کابینہ میں توسیع ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عمر عبداللہ حکومت اپنی انتظامی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، اس توسیع کی کامیابی کا انحصار صرف نئے وزرا کی شمولیت پر نہیں بلکہ عوامی مسائل کے حل، تمام خطوں کو ساتھ لے کر چلنے اور پارٹی کے اندر پیدا ہونے والی ناراضی کو دور کرنے پر بھی ہوگا۔

مبارک گل کے حامیوں کا احتجاج، لارمی پریس نمائندوں کے سامنے رو پڑے

کابینہ میں توسیع کی خوش گوار سیاسی تصویر کے ساتھ نیشنل کانفرنس کے اندر ناراضی بھی کھل کر سامنے آئی۔ عیدگاہ حلقے کے رکن اسمبلی اور سینئر رہنما مبارک گل کو نئی کابینہ میں جگہ نہ ملنے پر ان کے حامیوں نے پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کے باہر احتجاج کیا اور ان کے حق میں نعرے بلند کیے۔
چھ مرتبہ اسمبلی کے رکن رہنے والے مبارک گل نے حلف برداری سے قبل اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے طویل سیاسی سفر کے باوجود انہیں ایک مرتبہ پھر نظرانداز کیا گیا ہے۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میں مناسب وقت پر بات کروں گا۔ میں حلف برداری کی ۲۰ تقریبات میں شریک ہو چکا ہوں اور ہر مرتبہ مجھے کابینہ سے باہر رکھا گیا۔ اس بار بھی مجھے خارج کر دیا گیا۔‘‘

حکومتی تحاد پارٹی کانگریس کا دوٹوک مؤقف، ریاستی درجے کی بحالی تک حکومت سے دوری

حکمران اتحاد میں شامل کانگریس نے کابینہ میں شامل نہ ہونے کے اپنے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حامد قرہ نے کہا کہ کابینہ میں توسیع کے معاملے پر نیشنل کانفرنس کے ساتھ بات چیت ہوئی تھی، تاہم کانگریس نے اپنے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال ہونے تک کانگریس حکومت کا حصہ نہیں بنے گی۔ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے درمیان تعاون کے باوجود بعض بنیادی سیاسی معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔

اپوزیشن پارٹی بی جے پی کا اعتراض،  کابینہ توسیع پرعلاقائی اور سماجی توازن پر سوال

کابینہ کی توسیع پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی تنقید کی۔ قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے الزام عائد کیا کہ نئی کابینہ میں علاقائی، مذہبی اور ثقافتی توازن کا مناسب خیال نہیں رکھا گیا۔
حلف برداری کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تمام خطوں، علاقوں اور برادریوں کو ساتھ لے کر چلے اور انتظامیہ میں ان کی مناسب نمائندگی یقینی بنائے۔ ان کے مطابق کابینہ کی تازہ تشکیل ان توقعات پر پوری نہیں اترتی۔
توسیع کے بعد جموں خطے سے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری اور جاوید رانا کابینہ میں شامل دو وزرا ہیں، جبکہ آٹھ وزرا کا تعلق وادیٔ کشمیر سے ہے۔ اس تقسیم نے خطوں کے درمیان نمائندگی کے معاملے کو ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سفارت کاری ہی واحد راستہ

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حوثی حملوں...

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

تازہ ترین خبریں

سفارت کاری ہی واحد راستہ

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حوثی حملوں...

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

مسکراہٹوں اور مایوسیوں کے بیچ جموں کشمیر کابینہ کی قوت میں اضافہ

لیفٹیننٹ گورنر نے چار نئے وزرا کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا

بلال بشیر بٹ
جنگ نیوز ڈیسک

جموں و کشمیر کی سیاست میں منگل کا دن نئی امیدوں، سیاسی تبدیلیوں اور اندرونی بے چینی کی ملی جلی تصویر لے کر سامنے آیا، جب لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سرینگر کے لوک بھون میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے چار نئے وزرا کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ کابینہ میں توسیع کے ذریعے نیشنل کانفرنس کے کئی تجربہ کار رہنماؤں کو حکومت میں شامل کیا گیا، تاہم اس فیصلے نے پارٹی کے اندر بعض حلقوں میں ناراضی اور مایوسی کو بھی جنم دیا۔

حلف اٹھانے والوں میں علی محمد ساگر، شمیمہ فردوس، میر سیف اللہ اور الطاف احمد وانی المعروف الطاف کلو شامل ہیں۔ چاروں وزرا کا تعلق وادیٔ کشمیر سے ہے اور انہیں سیاست، عوامی خدمت اور قانون سازی کا طویل تجربہ حاصل ہے۔ اس توسیع سے حکومت کی انتظامی ٹیم مضبوط ہونے کی توقع ہے، تاہم نئے وزرا کو محکموں کی تقسیم کے بعد اپنی ذمہ داریاں سنبھالنی ہوں گی۔

حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، اسمبلی کے اسپیکر عبد الرحیم راتھر، اتحادی جماعتوں کے سینئر رہنماؤں اور حزب اختلاف کے ارکان نے شرکت کی۔ ان میں بی جے پی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے نمائندے بھی شامل تھے۔کابینہ میں توسیع ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عمر عبداللہ حکومت اپنی انتظامی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، اس توسیع کی کامیابی کا انحصار صرف نئے وزرا کی شمولیت پر نہیں بلکہ عوامی مسائل کے حل، تمام خطوں کو ساتھ لے کر چلنے اور پارٹی کے اندر پیدا ہونے والی ناراضی کو دور کرنے پر بھی ہوگا۔

مبارک گل کے حامیوں کا احتجاج، لارمی پریس نمائندوں کے سامنے رو پڑے

کابینہ میں توسیع کی خوش گوار سیاسی تصویر کے ساتھ نیشنل کانفرنس کے اندر ناراضی بھی کھل کر سامنے آئی۔ عیدگاہ حلقے کے رکن اسمبلی اور سینئر رہنما مبارک گل کو نئی کابینہ میں جگہ نہ ملنے پر ان کے حامیوں نے پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کے باہر احتجاج کیا اور ان کے حق میں نعرے بلند کیے۔
چھ مرتبہ اسمبلی کے رکن رہنے والے مبارک گل نے حلف برداری سے قبل اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے طویل سیاسی سفر کے باوجود انہیں ایک مرتبہ پھر نظرانداز کیا گیا ہے۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میں مناسب وقت پر بات کروں گا۔ میں حلف برداری کی ۲۰ تقریبات میں شریک ہو چکا ہوں اور ہر مرتبہ مجھے کابینہ سے باہر رکھا گیا۔ اس بار بھی مجھے خارج کر دیا گیا۔‘‘

حکومتی تحاد پارٹی کانگریس کا دوٹوک مؤقف، ریاستی درجے کی بحالی تک حکومت سے دوری

حکمران اتحاد میں شامل کانگریس نے کابینہ میں شامل نہ ہونے کے اپنے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حامد قرہ نے کہا کہ کابینہ میں توسیع کے معاملے پر نیشنل کانفرنس کے ساتھ بات چیت ہوئی تھی، تاہم کانگریس نے اپنے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال ہونے تک کانگریس حکومت کا حصہ نہیں بنے گی۔ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے درمیان تعاون کے باوجود بعض بنیادی سیاسی معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔

اپوزیشن پارٹی بی جے پی کا اعتراض،  کابینہ توسیع پرعلاقائی اور سماجی توازن پر سوال

کابینہ کی توسیع پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی تنقید کی۔ قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے الزام عائد کیا کہ نئی کابینہ میں علاقائی، مذہبی اور ثقافتی توازن کا مناسب خیال نہیں رکھا گیا۔
حلف برداری کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تمام خطوں، علاقوں اور برادریوں کو ساتھ لے کر چلے اور انتظامیہ میں ان کی مناسب نمائندگی یقینی بنائے۔ ان کے مطابق کابینہ کی تازہ تشکیل ان توقعات پر پوری نہیں اترتی۔
توسیع کے بعد جموں خطے سے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری اور جاوید رانا کابینہ میں شامل دو وزرا ہیں، جبکہ آٹھ وزرا کا تعلق وادیٔ کشمیر سے ہے۔ اس تقسیم نے خطوں کے درمیان نمائندگی کے معاملے کو ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں