جنگ نیوز
کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے انفرادی جنگلاتی حقوق کے 270 دعووں کو منظوری دے دی۔ فاریسٹ رائٹس کولیشن جموں و کشمیر کے مطابق، یہ کامیابی کئی ماہ کی عوامی بیداری مہم اور دعوے داروں کو دستاویزات کی تیاری میں معاونت فراہم کرنے کے نتیجے میں حاصل ہوئی۔
گرام سبھا میں پیش کیے گئے 272 دعووں میں سے 270 کو مزید کارروائی کے لئے منظور کیا گیا، جبکہ دو دعوے دستاویزات کی کمی کے باعث منظور نہیں ہوسکے۔ منظور شدہ دعوے مزید جانچ کے لئے سب ڈویژنل سطح کی کمیٹی (SDLC) کو بھیجے جائیں گے۔
اجلاس میں خواتین، سابق پنچایت اراکین، ولیج فاریسٹ رائٹس کمیٹی کے اراکین اور محکمۂ دیہی ترقی، مال، جنگلات، وائلڈ لائف پروٹیکشن اور زراعت کے نمائندوں نے شرکت کی۔ فاریسٹ رائٹس کولیشن کے چوہدری سجاد کاسانہ، بشیر احمد ٹیڈوا اور الیاس جگال نے دعووں کی تیاری اور کارروائی میں اہم کردار ادا کیا۔
کولیشن کے بانی ڈاکٹر شیخ غلام رسول نے کامیابی پر مقامی لوگوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ جنگلاتی حقوق کوئی خیرات نہیں بلکہ قانونی حق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات پر انحصار کرنے والی برادریوں کے حقوق تسلیم کیے بغیر پائیدار تحفظِ جنگلات ممکن نہیں۔
کولیشن کے کنوینر زاہد پرویز چوہدری نے زیرِ التوا دعووں پر فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے جنگلات پر انحصار کرنے والی برادریوں اور خانہ بدوش قبائلی آبادیوں کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی خلاف ورزیوں، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی رکاوٹوں کے الزامات کی تحقیقات کرکے جوابدہی یقینی بنائی جائے۔
کولیشن کے مطابق، ہزاروں انفرادی جنگلاتی حقوق کے دعوے اور کمیونٹی فاریسٹ رائٹس کے 32 سے زائد دعوے متعلقہ کمیٹیوں میں زیرِ التوا ہیں۔ تنظیم نے کمیٹیوں کے باقاعدہ اجلاس منعقد کرنے، مقررہ مدت میں فیصلے کرنے اور اہل دعوے داروں کو شفاف طریقے سے حقوق فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
ضلع گاندربل کے ڈسٹرکٹ ٹرائبل ویلفیئر آفیسر طاہر محی الدین نے کولیشن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ متعلقہ محکمہ دعووں کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔
کولیشن نے واضح کیا کہ جنگلات کا تحفظ اور مقامی آبادی کے قانونی حقوق ایک دوسرے کے معاون ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ زیرِ التوا دعووں پر تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے جنگلات پر انحصار کرنے والی برادریوں کے وقار، روزگار اور روایتی طرزِ زندگی کا تحفظ یقینی بنائے۔


