=انس مسرورانصاری
وہ ایک صبح کہ جس کاتھاانتظارہمیں
وہ ایک صبح ابھی تک نظرنھیں آئی
جوآئی بھی تولئےاپنےرخ پہ شب کی نقاب
کہیں نہ امن کاسورج نہ راحتوں کی نسیم
نہ رنگِ گل نہ تبسم نہ کیفِ موجِ شمیم
تباہیوں کاہراک سمت ایک سیلِ عظیم
کوئی کرن جسے قاتل کہیں اندھیروں کی
ابھی تلک نہ کسی کی نظرسےٹکرائی
وہ ایک صبح ابھی تک نظرنہیں آئی
نگاہیں گم بھی رہی ہیں بہت خلاؤں میں
تلاشِ خنکیِ صبحِ طرب بھی جاری رہی
چمن چمن کی مہکتی ہوئی ہواؤں میں
افق سےتابہ افق تیرگی کےجالوں سے
الجھ کےرہ گئیں نظریں مگرپتانہ چلا
کہ صبحِ عشرتِ انساں کاہےسراغ کہاں
چھلکتی پڑتی ہوجس سے شرابِ آزادی
وہ رنگ ونورسے روشن حسیں ایاغ کہاں
بجھےہیں کتنےہی دل کتنی آنکھ پتھرائی
وہ ایک صبح کہ جس کاتھاانتظارہمیں
وہ صبح ابھی تک نظرنہیں آئی


