تابش ردولوی
محمد عربی سا کوئی نبی ہی نہیں
شبیہ ایسی کہ جس کی مصوری ہی نہیں
خدا کے عشق کا مظہر ہے کلمہء اوّل
کسی نے ایسی محبت کسی سے کی ہی نہیں
کہاں سے لاؤں وہ بے مثل سی تری تمثیل
مثال ایسی جہاں میں کوئی بنی ہی نہیں
بھرا پڑا ہے سخنور سے یہ جہاں لیکن
نبی کے جیسی کسی کی سخن وری ہی نہیں
تلاش تھی جو نبی کی مشابہت کے لئے
نبی کے گھر کے سوا یہ کہیں ملی ہی نہیں
خوشا ! کہ چشم تصوّر سے دیکھ لیتا ہوں
نظر نگاہ سے آگے کبھی بڑھی ہی نہیں
نظر جو بن گئی محراب گنبد خضریٰ
پھر اس نظر میں کوئی اور شے بسی ہی نہیں
نظر سے دیکھ لیا جس نے روضہء اطہر
اُسے جہاں میں کوئی اور شے جچی ہی نہیں
وفا ، خلوص ، کرم ، دوستی ہے اُس کا مزاج
کسی سے اُس کی زمانے میں دشمنی ہی نہیں
خوشا ! کہ ذات محمد سے ہو گئی نسبت
ہمارے جیسا کوئی اور اُمتی ہی نہیں
کمال عشق کا محور ہے ارفَع معراج
خدا نے ایسی بلندی کسی کو دی ہی نہیں
بجز حبیب خدا اس زمین آدم سے
کسی نے عرش معلیٰ کی سیر کی ہی نہیں
شہا ! کہ چشم کرم کچھ ادھر بھی ہو ورنہ
ترے بغیر یہ تابش ردولوی ہی نہیں


