باقی جو بچا مہنگائی مار گئی

 

 

ڈاکٹر اسد اللہ خان

اعداد بولتے نہیں؛ مگر اس اکتوبر میں وہ چیخ رہے ہیں۔ اور ان کی چیخ کسی وزارت کی فائل میں نہیں، ہمارے آپ کے باورچی خانے میں سنائی دے رہی ہے۔ اس ماں کے ہاتھ میں جو تھیلا لے کر سبزی منڈی سے خالی لوٹتی ہے؛ اس باپ کی جیب میں جو پیٹرول پمپ پر میٹر کو بھاگتا دیکھ کر چپ ہو جاتا ہے؛ اس بیٹے کی آنکھوں میں جو ڈگری لئے دفتر دفتر بھٹک رہا ہے۔ یہ مضمون معیشت کا نہیں، انسان کا ہے۔ کیونکہ مہنگائی کوئی اعداد کا کھیل نہیں؛ یہ وہ آگ ہے جو ہر گھر کے چولھے کو بجھا رہی ہے۔
ستمبر میں خوردہ مہنگائی ۵.۵۴ فیصد رہی، تقریباً دو برس کی بلند ترین سطح؛ لگاتار چوتھا مہینہ جب قیمتیں ریزرو بینک کے ۴ فیصد ہدف سے اوپر رہیں۔ برداشت کی آخری حد، ۶ فیصد، اب صرف ۰.۴۶ فیصد دور ہے۔ مگر یہ تو صرف آدھی تصویر ہے۔ ۱۴ اکتوبر کو تھوک مہنگائی کے اعداد آئے، اور وہ کسی دھماکے سے کم نہیں: ستمبر میں تھوک مہنگائی ۱۱.۳۹ فیصد ہو گئی، جو اگست میں ۹.۹۲ فیصد تھی۔ ایندھن اور بجلی کے زمرے میں ۲۵.۸۵ فیصد، تیار شدہ اشیا میں ۹.۷۶ فیصد، اور غذائی اشاریے میں ۸.۶۶ فیصد۔
جو آج تھوک بازار میں مہنگا ہے، وہ کل آپ کی گلی کی دکان پر مہنگا ہوگا۔ تھوک مہنگائی وہ طوفان ہے جو ابھی سمندر میں ہے؛ ساحل پر پہنچنے میں دیر نہیں لگتی۔ گیارہ فیصد کا یہ طوفان کل ہمارے دسترخوان پر اترے گا، اور حکومت کہتی ہے: گھبرائیے نہیں؟
قومی اوسط ایک پردہ ہے۔ ستمبر میں دیہی مہنگائی ۶.۰۸ فیصد ہو گئی، یعنی برداشت کی حد پار۔ دیہی غذائی مہنگائی ایک ہی مہینے میں تقریباً دو فیصدی پوائنٹ اچھل کر ۸.۰۶ فیصد پر جا پہنچی۔ اور یہ اس گاؤں کا حال ہے جس کی فصل پہلے ہی کمزور مانسون، ایل نینو کے خطرات اور جھلسا دینے والی گرمی کی زد میں ہے۔ کسان کی کھیتی بارش کو ترس رہی ہے، اور بازار اس کی جیب کو بھی نچوڑ رہا ہے۔ جس کی آمدنی کم ہو اور خرچ بڑھے، وہ کیا کرے؟ ایک وقت کا کھانا چھوڑے؟ بچے کی فیس روکے؟ ماں کی دوا کم کرے؟ یہ سوال کوئی تجزیہ نگار نہیں، ہر روز لاکھوں گھروں کی عورتیں چولھے کے سامنے بیٹھ کر حل کرتی ہیں۔
پیاز کی قیمت ایک سال میں ۱۰۸.۰۹ فیصد بڑھی؛ دُگنی سے بھی زیادہ۔ لہسن ۵۴.۶۲ فیصد، ادرک ۶۲.۸۵ فیصد۔ آلو اور ٹماٹر کچھ سستے رہے، مگر جب پیاز، لہسن اور ادرک ہی پہنچ سے باہر ہوں تو غریب کے سالن کا تڑکا کس چیز سے لگے؟ اس ملک نے پیاز کی قیمتوں پر حکومتیں رلتی اور گرتی دیکھی ہیں۔ پیاز کاٹتے وقت آنسو قدرتی ہیں؛ پیاز خریدتے وقت آنسو آئیں تو یہ حکمرانی کی ناکامی ہے۔
اور یہ سب عین تہواروں کے موسم میں۔ دیوالی کے دیے، گھر کی صفائی، بچوں کے نئے کپڑے، تھوڑی مٹھائی؛ کسی کی بیٹی کی شادی، کسی کے گھر کا کوئی مبارک موقع۔ ہر رسم اس سال پچھلے سال سے کہیں مہنگی ہے۔ مزدور کی دیہاڑی وہی، کسان کی فصل کی قیمت وہی، مگر بازار کا ہر ترازو بھاری۔ تہوار خوشی کا نام ہے؛ جب خوشی کی قیمت آمدنی سے بڑھ جائے، تو تہوار قرض کا دوسرا نام بن جاتا ہے۔ کیا اس ملک کا غریب اب اپنی خوشیاں بھی قسطوں پر خریدے گا؟
اس آگ کی جڑ مغربی ایشیا کی جنگ ہے۔ ہندوستان کی خام تیل کی ٹوکری جولائی میں ۸۲.۰۴ ڈالر فی بیرل تھی، ستمبر میں ۱۱۶.۰۹ ڈالر؛ تین مہینے میں ۴۱ فیصد اضافہ۔ ۱۶ اکتوبر کو بھی برینٹ ۱۰۵ ڈالر فی بیرل سے اوپر تھا۔ اور اب یہ آگ پیٹرول پمپ تک پہنچ چکی ہے۔ نایارا انرجی نے ۳ اکتوبر کو اور جیو بی پی نے ۱۱ اکتوبر کو پیٹرول پانچ روپے اور ڈیزل تین روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا۔ سرکاری تیل کمپنیوں نے ابھی قیمتیں روک رکھی ہیں اور نقصان خود اٹھا رہی ہیں؛ مگر کب تک؟ ممبئی میں پیٹرول ۱۱۱.۲۱ روپے لیٹر ہے۔
یکم اکتوبر سے کمرشل ایل پی جی کا انیس کلو کا سلنڈر ۶۲.۵۰ روپے مہنگا ہو کر ۲,۸۱۰ روپے کا ہو گیا۔ اس کا مطلب سمجھیے: ہر ڈھابے کی روٹی، ہر ٹھیلے کی چائے، ہر ہوٹل کی تھالی مہنگی۔ ریستوران اور رہائش کی خدمات پہلے ہی ۹.۳۶ فیصد مہنگی ہیں۔ ہوائی جہاز کا ایندھن سولہ روپے لیٹر بڑھ کر ۱۳۷ روپے ہو گیا۔ اور سامان کی ڈھلائی کی خدمات میں مہنگائی ستمبر میں ۱۴.۷۳ فیصد رہی۔ تیل صرف گاڑی میں نہیں جلتا؛ وہ کھیت سے منڈی، منڈی سے دکان اور دکان سے گھر تک ہر قدم پر جلتا ہے، اور ہر قدم پر ہماری جیب جلاتا ہے۔
اور ایک تلخ سوال۔ یکم سے ۱۵ اکتوبر کے لئے حکومت نے ایندھن کی برآمدات پر ونڈ فال ٹیکس گھٹایا: ڈیزل پر خصوصی اضافی ایکسائز ۲۰ روپے سے ۱۶ روپے لیٹر۔ یعنی برآمد کرنے والوں کو راحت مل گئی۔ مگر ملک کے اندر پیٹرول پمپ پر کھڑے عام آدمی کے لئے ایکسائز میں کٹوتی کی کوئی خبر ابھی تک نہیں۔ کیا راحت صرف ان کے لئے ہے جن کے ٹینکر سمندر پار جاتے ہیں، اور ان کے لئے نہیں جن کی سائیکل بھی اب بوجھ لگنے لگی ہے؟
حکام کی پرانی تسلی ہے کہ یہ سبزیوں کا موسمی اتار چڑھاؤ ہے۔ مگر بنیادی مہنگائی، جس میں خوراک اور ایندھن شامل نہیں، اگست کے ۴.۱۶ فیصد سے بڑھ کر ستمبر میں ۴.۶ فیصد ہو گئی۔ مہنگائی اب صرف باورچی خانے کی بیماری نہیں رہی؛ وہ معیشت کی رگ رگ میں اتر رہی ہے۔ ریزرو بینک نے اکتوبر میں ریپو ریٹ ۲۵ بیسس پوائنٹ بڑھا کر ۵.۵۰ فیصد کر دیا، فروری ۲۰۲۳ء کے بعد پہلا اضافہ، اور دسمبر میں ایک اور اضافہ ممکن ہے۔ مگر شرحِ سود سے قرض مہنگا کیا جا سکتا ہے، پیاز سستا نہیں۔ ریپو ریٹ سے نہ جنگ رکتی ہے، نہ بارش برستی ہے۔
اور اب وہ زخم جو سب کو دکھائی نہیں دیتا۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ستمبر تک نو مہینوں میں ہندوستانی حصص بازار سے ریکارڈ ۳.۰۸ ٹریلین روپے نکال لئے، پورے ۲۰۲۵ء کا تقریباً دُگنا؛ اور اکتوبر میں بھی فروخت جاری ہے، صرف ۱۵ اکتوبر کو پانچ ہزار کروڑ روپے سے زیادہ۔ نتیجہ: روپیہ ڈالر کے مقابلے میں ۹۵ کے قریب پہنچ چکا ہے۔ کمزور روپیہ ایک خاموش ٹیکس ہے۔ ہر وہ چیز جو باہر سے آتی ہے، تیل سے خوردنی تیل اور دواؤں کے خام مال تک، اس ٹیکس کا بوجھ اٹھاتی ہے؛ اور یہ ٹیکس کسی بجٹ تقریر کے بغیر، سب سے زیادہ اسی جیب سے وصول ہوتا ہے جو پہلے ہی خالی ہے۔
مہنگائی اکیلی آتی تو شاید سہی جاتی۔ مگر وہ بے روزگاری کا ہاتھ پکڑ کر آئی ہے۔ ۱۵ اکتوبر کو جاری سرکاری لیبر سروے کے مطابق ستمبر میں شہری بے روزگاری ۶.۹ فیصد رہی، اور شہری عورتوں میں ۹.۲ فیصد۔ اور شہروں کے پندرہ سے انتیس برس کے نوجوانوں میں بے روزگاری ۱۹ فیصد، جبکہ نوجوان عورتوں میں ۲۶.۶ فیصد۔ یعنی شہر کی ہر چار میں سے ایک پڑھی لکھی نوجوان لڑکی کام ڈھونڈ رہی ہے اور اسے کام نہیں مل رہا۔ جس گھر میں قیمتیں بڑھ رہی ہوں اور کمانے والا ہاتھ خالی ہو، وہاں مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں رہتی؛ وہ عزتِ نفس کا مسئلہ بن جاتی ہے۔ وہ نوجوان جو ماں باپ سے جیب خرچ مانگتے شرماتا ہے، وہ باپ جو بچے کی فرمائش پر نظریں چرا لیتا ہے؛ یہ اعداد انہی کی کہانی ہیں۔
حکومت سے سیدھے سوال !
ریزرو بینک نے اپنا کام کیا؛ حکومت کیا کر رہی ہے؟ جب خام تیل برداشت سے باہر ہو تو ایندھن پر ٹیکس کم کرنا عیاشی نہیں، فرض ہے۔ جب پیاز دُگنا ہو جائے تو ذخیرہ اندوزوں پر کڑی گرفت اور سرکاری ذخائر سے بروقت فراہمی احسان نہیں، ذمہ داری ہے۔ جب گاؤں کی مہنگائی شہر سے آگے نکل جائے تو عوامی تقسیم کے نظام کو مضبوط کرنا، دیہی روزگار کی اسکیموں میں جان ڈالنا اور کمزور مانسون کے مارے کسانوں کو بروقت راحت دینا انتخابی وعدہ نہیں، آئینی فرض ہے۔ اور جب بے روزگاری نوجوانوں کو کھا رہی ہو، تو تقریریں نہیں، نوکریاں چاہئیں۔
سب سے بڑھ کر ایمانداری چاہیے۔ یہ ماننے کی کہ حالات مشکل ہیں، اور یہ یقین دلانے کی کہ بوجھ منصفانہ طور پر بٹے گا؛ یہ نہیں کہ برآمد کنندہ کو راحت ملے اور صارف کو تسلی، کارپوریٹ کو چھوٹ اور کسان کو صبر کا درس۔ جو حکومت اپنے شہری سے سچ بولتی ہے، اس کا شہری مشکل دن بھی جھیل لیتا ہے۔ جو اعداد پر پردہ ڈالتی ہے، اس کا شہری ایک دن پردہ پھاڑ دیتا ہے۔
یہ ہر انسان کا سوال ہے!
یہ مسئلہ کسی جماعت کا نہیں، کسی مذہب کا نہیں، کسی ذات کا نہیں۔ پیاز ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی سب کے لئے ایک ہی دام پر بکتا ہے۔ بھوک کسی کا مذہب نہیں پوچھتی، اور خالی جیب کی کوئی ذات نہیں ہوتی۔ آج مہنگائی کے خلاف آواز اٹھانا سیاست نہیں، انسانیت ہے۔ یہ اس ماں کی آواز ہے جو خود آدھا کھا کر بچے کو پورا کھلاتی ہے؛ اس باپ کی جو اوور ٹائم کرتا ہے اور پھر بھی مہینہ پورا نہیں ہوتا؛ اس نوجوان کی جو ڈگری کو فریم کر کے دیوار پر ٹانگ چکا ہے کیونکہ کسی دفتر میں اس کی جگہ نہیں۔
معیشت کی کامیابی کا پیمانہ حصص بازار کا گراف یا جی ڈی پی کا عدد نہیں؛ وہ ہانڈی ہے جو کسی کچے گھر میں چولھے پر چڑھی ہے۔ اگر اس ہانڈی میں پیاز نہیں، دال پتلی ہے اور بچے آدھے پیٹ سو رہے ہیں، تو کوئی اشتہار یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ ملک ترقی کر رہا ہے۔ چولھا بجھ رہا ہے، اور دہلی سو رہی ہے۔ مگر یاد رہے: مہنگائی پہلے غریب کا کھانا کھاتی ہے، پھر اس کا صبر، اور آخر میں اس کا اعتماد۔ اور جس دن اعتماد ختم ہوا، اس دن نہ کوئی ریپو ریٹ کام آئے گا، نہ کوئی تقریر، نہ کوئی نعرہ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

باقی جو بچا مہنگائی مار گئی

 

 

ڈاکٹر اسد اللہ خان

اعداد بولتے نہیں؛ مگر اس اکتوبر میں وہ چیخ رہے ہیں۔ اور ان کی چیخ کسی وزارت کی فائل میں نہیں، ہمارے آپ کے باورچی خانے میں سنائی دے رہی ہے۔ اس ماں کے ہاتھ میں جو تھیلا لے کر سبزی منڈی سے خالی لوٹتی ہے؛ اس باپ کی جیب میں جو پیٹرول پمپ پر میٹر کو بھاگتا دیکھ کر چپ ہو جاتا ہے؛ اس بیٹے کی آنکھوں میں جو ڈگری لئے دفتر دفتر بھٹک رہا ہے۔ یہ مضمون معیشت کا نہیں، انسان کا ہے۔ کیونکہ مہنگائی کوئی اعداد کا کھیل نہیں؛ یہ وہ آگ ہے جو ہر گھر کے چولھے کو بجھا رہی ہے۔
ستمبر میں خوردہ مہنگائی ۵.۵۴ فیصد رہی، تقریباً دو برس کی بلند ترین سطح؛ لگاتار چوتھا مہینہ جب قیمتیں ریزرو بینک کے ۴ فیصد ہدف سے اوپر رہیں۔ برداشت کی آخری حد، ۶ فیصد، اب صرف ۰.۴۶ فیصد دور ہے۔ مگر یہ تو صرف آدھی تصویر ہے۔ ۱۴ اکتوبر کو تھوک مہنگائی کے اعداد آئے، اور وہ کسی دھماکے سے کم نہیں: ستمبر میں تھوک مہنگائی ۱۱.۳۹ فیصد ہو گئی، جو اگست میں ۹.۹۲ فیصد تھی۔ ایندھن اور بجلی کے زمرے میں ۲۵.۸۵ فیصد، تیار شدہ اشیا میں ۹.۷۶ فیصد، اور غذائی اشاریے میں ۸.۶۶ فیصد۔
جو آج تھوک بازار میں مہنگا ہے، وہ کل آپ کی گلی کی دکان پر مہنگا ہوگا۔ تھوک مہنگائی وہ طوفان ہے جو ابھی سمندر میں ہے؛ ساحل پر پہنچنے میں دیر نہیں لگتی۔ گیارہ فیصد کا یہ طوفان کل ہمارے دسترخوان پر اترے گا، اور حکومت کہتی ہے: گھبرائیے نہیں؟
قومی اوسط ایک پردہ ہے۔ ستمبر میں دیہی مہنگائی ۶.۰۸ فیصد ہو گئی، یعنی برداشت کی حد پار۔ دیہی غذائی مہنگائی ایک ہی مہینے میں تقریباً دو فیصدی پوائنٹ اچھل کر ۸.۰۶ فیصد پر جا پہنچی۔ اور یہ اس گاؤں کا حال ہے جس کی فصل پہلے ہی کمزور مانسون، ایل نینو کے خطرات اور جھلسا دینے والی گرمی کی زد میں ہے۔ کسان کی کھیتی بارش کو ترس رہی ہے، اور بازار اس کی جیب کو بھی نچوڑ رہا ہے۔ جس کی آمدنی کم ہو اور خرچ بڑھے، وہ کیا کرے؟ ایک وقت کا کھانا چھوڑے؟ بچے کی فیس روکے؟ ماں کی دوا کم کرے؟ یہ سوال کوئی تجزیہ نگار نہیں، ہر روز لاکھوں گھروں کی عورتیں چولھے کے سامنے بیٹھ کر حل کرتی ہیں۔
پیاز کی قیمت ایک سال میں ۱۰۸.۰۹ فیصد بڑھی؛ دُگنی سے بھی زیادہ۔ لہسن ۵۴.۶۲ فیصد، ادرک ۶۲.۸۵ فیصد۔ آلو اور ٹماٹر کچھ سستے رہے، مگر جب پیاز، لہسن اور ادرک ہی پہنچ سے باہر ہوں تو غریب کے سالن کا تڑکا کس چیز سے لگے؟ اس ملک نے پیاز کی قیمتوں پر حکومتیں رلتی اور گرتی دیکھی ہیں۔ پیاز کاٹتے وقت آنسو قدرتی ہیں؛ پیاز خریدتے وقت آنسو آئیں تو یہ حکمرانی کی ناکامی ہے۔
اور یہ سب عین تہواروں کے موسم میں۔ دیوالی کے دیے، گھر کی صفائی، بچوں کے نئے کپڑے، تھوڑی مٹھائی؛ کسی کی بیٹی کی شادی، کسی کے گھر کا کوئی مبارک موقع۔ ہر رسم اس سال پچھلے سال سے کہیں مہنگی ہے۔ مزدور کی دیہاڑی وہی، کسان کی فصل کی قیمت وہی، مگر بازار کا ہر ترازو بھاری۔ تہوار خوشی کا نام ہے؛ جب خوشی کی قیمت آمدنی سے بڑھ جائے، تو تہوار قرض کا دوسرا نام بن جاتا ہے۔ کیا اس ملک کا غریب اب اپنی خوشیاں بھی قسطوں پر خریدے گا؟
اس آگ کی جڑ مغربی ایشیا کی جنگ ہے۔ ہندوستان کی خام تیل کی ٹوکری جولائی میں ۸۲.۰۴ ڈالر فی بیرل تھی، ستمبر میں ۱۱۶.۰۹ ڈالر؛ تین مہینے میں ۴۱ فیصد اضافہ۔ ۱۶ اکتوبر کو بھی برینٹ ۱۰۵ ڈالر فی بیرل سے اوپر تھا۔ اور اب یہ آگ پیٹرول پمپ تک پہنچ چکی ہے۔ نایارا انرجی نے ۳ اکتوبر کو اور جیو بی پی نے ۱۱ اکتوبر کو پیٹرول پانچ روپے اور ڈیزل تین روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا۔ سرکاری تیل کمپنیوں نے ابھی قیمتیں روک رکھی ہیں اور نقصان خود اٹھا رہی ہیں؛ مگر کب تک؟ ممبئی میں پیٹرول ۱۱۱.۲۱ روپے لیٹر ہے۔
یکم اکتوبر سے کمرشل ایل پی جی کا انیس کلو کا سلنڈر ۶۲.۵۰ روپے مہنگا ہو کر ۲,۸۱۰ روپے کا ہو گیا۔ اس کا مطلب سمجھیے: ہر ڈھابے کی روٹی، ہر ٹھیلے کی چائے، ہر ہوٹل کی تھالی مہنگی۔ ریستوران اور رہائش کی خدمات پہلے ہی ۹.۳۶ فیصد مہنگی ہیں۔ ہوائی جہاز کا ایندھن سولہ روپے لیٹر بڑھ کر ۱۳۷ روپے ہو گیا۔ اور سامان کی ڈھلائی کی خدمات میں مہنگائی ستمبر میں ۱۴.۷۳ فیصد رہی۔ تیل صرف گاڑی میں نہیں جلتا؛ وہ کھیت سے منڈی، منڈی سے دکان اور دکان سے گھر تک ہر قدم پر جلتا ہے، اور ہر قدم پر ہماری جیب جلاتا ہے۔
اور ایک تلخ سوال۔ یکم سے ۱۵ اکتوبر کے لئے حکومت نے ایندھن کی برآمدات پر ونڈ فال ٹیکس گھٹایا: ڈیزل پر خصوصی اضافی ایکسائز ۲۰ روپے سے ۱۶ روپے لیٹر۔ یعنی برآمد کرنے والوں کو راحت مل گئی۔ مگر ملک کے اندر پیٹرول پمپ پر کھڑے عام آدمی کے لئے ایکسائز میں کٹوتی کی کوئی خبر ابھی تک نہیں۔ کیا راحت صرف ان کے لئے ہے جن کے ٹینکر سمندر پار جاتے ہیں، اور ان کے لئے نہیں جن کی سائیکل بھی اب بوجھ لگنے لگی ہے؟
حکام کی پرانی تسلی ہے کہ یہ سبزیوں کا موسمی اتار چڑھاؤ ہے۔ مگر بنیادی مہنگائی، جس میں خوراک اور ایندھن شامل نہیں، اگست کے ۴.۱۶ فیصد سے بڑھ کر ستمبر میں ۴.۶ فیصد ہو گئی۔ مہنگائی اب صرف باورچی خانے کی بیماری نہیں رہی؛ وہ معیشت کی رگ رگ میں اتر رہی ہے۔ ریزرو بینک نے اکتوبر میں ریپو ریٹ ۲۵ بیسس پوائنٹ بڑھا کر ۵.۵۰ فیصد کر دیا، فروری ۲۰۲۳ء کے بعد پہلا اضافہ، اور دسمبر میں ایک اور اضافہ ممکن ہے۔ مگر شرحِ سود سے قرض مہنگا کیا جا سکتا ہے، پیاز سستا نہیں۔ ریپو ریٹ سے نہ جنگ رکتی ہے، نہ بارش برستی ہے۔
اور اب وہ زخم جو سب کو دکھائی نہیں دیتا۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ستمبر تک نو مہینوں میں ہندوستانی حصص بازار سے ریکارڈ ۳.۰۸ ٹریلین روپے نکال لئے، پورے ۲۰۲۵ء کا تقریباً دُگنا؛ اور اکتوبر میں بھی فروخت جاری ہے، صرف ۱۵ اکتوبر کو پانچ ہزار کروڑ روپے سے زیادہ۔ نتیجہ: روپیہ ڈالر کے مقابلے میں ۹۵ کے قریب پہنچ چکا ہے۔ کمزور روپیہ ایک خاموش ٹیکس ہے۔ ہر وہ چیز جو باہر سے آتی ہے، تیل سے خوردنی تیل اور دواؤں کے خام مال تک، اس ٹیکس کا بوجھ اٹھاتی ہے؛ اور یہ ٹیکس کسی بجٹ تقریر کے بغیر، سب سے زیادہ اسی جیب سے وصول ہوتا ہے جو پہلے ہی خالی ہے۔
مہنگائی اکیلی آتی تو شاید سہی جاتی۔ مگر وہ بے روزگاری کا ہاتھ پکڑ کر آئی ہے۔ ۱۵ اکتوبر کو جاری سرکاری لیبر سروے کے مطابق ستمبر میں شہری بے روزگاری ۶.۹ فیصد رہی، اور شہری عورتوں میں ۹.۲ فیصد۔ اور شہروں کے پندرہ سے انتیس برس کے نوجوانوں میں بے روزگاری ۱۹ فیصد، جبکہ نوجوان عورتوں میں ۲۶.۶ فیصد۔ یعنی شہر کی ہر چار میں سے ایک پڑھی لکھی نوجوان لڑکی کام ڈھونڈ رہی ہے اور اسے کام نہیں مل رہا۔ جس گھر میں قیمتیں بڑھ رہی ہوں اور کمانے والا ہاتھ خالی ہو، وہاں مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں رہتی؛ وہ عزتِ نفس کا مسئلہ بن جاتی ہے۔ وہ نوجوان جو ماں باپ سے جیب خرچ مانگتے شرماتا ہے، وہ باپ جو بچے کی فرمائش پر نظریں چرا لیتا ہے؛ یہ اعداد انہی کی کہانی ہیں۔
حکومت سے سیدھے سوال !
ریزرو بینک نے اپنا کام کیا؛ حکومت کیا کر رہی ہے؟ جب خام تیل برداشت سے باہر ہو تو ایندھن پر ٹیکس کم کرنا عیاشی نہیں، فرض ہے۔ جب پیاز دُگنا ہو جائے تو ذخیرہ اندوزوں پر کڑی گرفت اور سرکاری ذخائر سے بروقت فراہمی احسان نہیں، ذمہ داری ہے۔ جب گاؤں کی مہنگائی شہر سے آگے نکل جائے تو عوامی تقسیم کے نظام کو مضبوط کرنا، دیہی روزگار کی اسکیموں میں جان ڈالنا اور کمزور مانسون کے مارے کسانوں کو بروقت راحت دینا انتخابی وعدہ نہیں، آئینی فرض ہے۔ اور جب بے روزگاری نوجوانوں کو کھا رہی ہو، تو تقریریں نہیں، نوکریاں چاہئیں۔
سب سے بڑھ کر ایمانداری چاہیے۔ یہ ماننے کی کہ حالات مشکل ہیں، اور یہ یقین دلانے کی کہ بوجھ منصفانہ طور پر بٹے گا؛ یہ نہیں کہ برآمد کنندہ کو راحت ملے اور صارف کو تسلی، کارپوریٹ کو چھوٹ اور کسان کو صبر کا درس۔ جو حکومت اپنے شہری سے سچ بولتی ہے، اس کا شہری مشکل دن بھی جھیل لیتا ہے۔ جو اعداد پر پردہ ڈالتی ہے، اس کا شہری ایک دن پردہ پھاڑ دیتا ہے۔
یہ ہر انسان کا سوال ہے!
یہ مسئلہ کسی جماعت کا نہیں، کسی مذہب کا نہیں، کسی ذات کا نہیں۔ پیاز ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی سب کے لئے ایک ہی دام پر بکتا ہے۔ بھوک کسی کا مذہب نہیں پوچھتی، اور خالی جیب کی کوئی ذات نہیں ہوتی۔ آج مہنگائی کے خلاف آواز اٹھانا سیاست نہیں، انسانیت ہے۔ یہ اس ماں کی آواز ہے جو خود آدھا کھا کر بچے کو پورا کھلاتی ہے؛ اس باپ کی جو اوور ٹائم کرتا ہے اور پھر بھی مہینہ پورا نہیں ہوتا؛ اس نوجوان کی جو ڈگری کو فریم کر کے دیوار پر ٹانگ چکا ہے کیونکہ کسی دفتر میں اس کی جگہ نہیں۔
معیشت کی کامیابی کا پیمانہ حصص بازار کا گراف یا جی ڈی پی کا عدد نہیں؛ وہ ہانڈی ہے جو کسی کچے گھر میں چولھے پر چڑھی ہے۔ اگر اس ہانڈی میں پیاز نہیں، دال پتلی ہے اور بچے آدھے پیٹ سو رہے ہیں، تو کوئی اشتہار یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ ملک ترقی کر رہا ہے۔ چولھا بجھ رہا ہے، اور دہلی سو رہی ہے۔ مگر یاد رہے: مہنگائی پہلے غریب کا کھانا کھاتی ہے، پھر اس کا صبر، اور آخر میں اس کا اعتماد۔ اور جس دن اعتماد ختم ہوا، اس دن نہ کوئی ریپو ریٹ کام آئے گا، نہ کوئی تقریر، نہ کوئی نعرہ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں