
بلال بشیربٹ
مدیر اعلیٰ
روزنامہ سرینگر جنگ
بعض لوگ اپنی تحریروں سے صرف قارئین کے ذہنوں کو نہیں بلکہ ان کے دلوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ ان کے الفاظ علم کی روشنی، ان کی فکر اصلاح کا پیغام اور ان کا قلم دین و اخلاق کی خدمت کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ مولانا ابو نصر فاروق صارمؔ بھی ایسی ہی شخصیت تھے، جن کے انتقال کی خبر نے مجھے ذاتی طور پر غم زدہ کردیا ہے۔ ان کی رحلت میرے لئے محض ایک علمی شخصیت کی جدائی نہیں، بلکہ ایک ایسے مخلص قلم کار سے محرومی ہے جن سے روزنامہ سرینگر جنگ کا ایک خاص تعلق قائم تھا۔
مولانا ابو نصر فاروق صارمؔ روزنامہ سرینگر جنگ کے مستقل کالم نگار تھے۔ وہ پابندی کے ساتھ اسلامی موضوعات پر اپنے مضامین ارسال کرتے، جن میں قرآن کریم اور مستند احادیث نبوی ﷺ کی روشنی میں دینی تعلیمات، اخلاقی اقدار اور معاشرتی اصلاح کے پہلوؤں کو اجاگر کیا جاتا تھا۔ ان کی تحریروں کا مقصد محض معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ قارئین کو دین کی بنیادی تعلیمات سمجھنے، اپنی زندگیوں کا جائزہ لینے اور اسلامی اصولوں پر عمل کرنے کی ترغیب دینا بھی تھا۔
روزنامہ سرینگر جنگ کے لئے ان کی تحریریں ایک قیمتی علمی سرمایہ تھیں۔ ایک مدیر کی حیثیت سے میرے لئے یہ امر باعث اطمینان رہا کہ مولانا جیسے صاحب علم اور دینی موضوعات سے گہری وابستگی رکھنے والے قلم کار ہمارے قارئین تک اپنا پیغام پہنچا رہے تھے۔ ان کے مضامین اخبار کے صفحات کو علمی و اصلاحی معنویت عطا کرتے تھے اور قارئین کو قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتے تھے۔
ان کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا آسانی سے پُر نہیں ہوسکے گا۔ اخبار میں لکھنے والے بہت سے لوگ اپنے الفاظ کے ذریعے قارئین سے تعلق قائم کرتے ہیں، لیکن کچھ قلم کار ایسے ہوتے ہیں جن کی تحریروں کا انتظار کیا جاتا ہے اور جن کی غیر موجودگی دیر تک محسوس ہوتی ہے۔ مولانا ابو نصر فاروق صاحب بھی انہی مخلص اہل قلم میں شامل تھے۔ ان کی تحریروں کے ذریعے قائم ہونے والا تعلق اب یادوں اور ان کے علمی ورثے کی صورت میں باقی رہے گا۔
ان کی وفات کا دکھ میرے لئے اس لئے بھی گہرا ہے کہ روزنامہ سرینگر جنگ کے ساتھ ان کی مستقل وابستگی محض ایک اشاعتی تعلق نہیں تھی، بلکہ علم دین کی اشاعت اور اصلاح معاشرہ کے مشترکہ مقصد سے جڑی ہوئی تھی۔ ان کی تحریروں میں دین سے محبت، اسلامی تعلیمات سے وابستگی اور قارئین کی فکری و اخلاقی رہنمائی کا جذبہ نمایاں تھا۔ ایسے اہل قلم کی قدر ان کی زندگی میں بھی ضروری ہے اور ان کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد ان کے علمی کام کو محفوظ رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
میں مولانا مرحوم کے اہل خانہ، شاگردوں، متعلقین اور ان تمام قارئین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتا ہوں جنہوں نے ان کے مضامین سے استفادہ کیا اور جن کے دلوں میں ان کے لئے احترام و محبت کے جذبات موجود ہیں۔ ان کے شاگردوں کے لئے اپنے استاد کی جدائی یقیناً ایک بڑا صدمہ ہے، جبکہ ان کے قارئین ایک ایسی آواز سے محروم ہوگئے ہیں جو انہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں زندگی گزارنے کی ترغیب دیتی تھی۔
روزنامہ سرینگر ای جنگ مولانا ابو نصر فاروق صارمؔ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے۔ ہم ایک ایسے مستقل کالم نگار کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے قلم کو دینی و اصلاحی مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ ان کی تحریری خدمات اور ان سے وابستہ یادیں ہمارے لئے ہمیشہ قابل قدر رہیں گی۔
اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی علمی و قلمی خدمات کو شرف قبولیت عطا کرے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہل خانہ، شاگردوں، متعلقین اور قارئین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔


