حضرت مولانا ابو نصر فاروق صارمؔکاسانحۂ ارتحال

 

 

یوسف شمسی

علم و فکر کی دنیا میں بعض شخصیات اپنی تحریروں، اپنے نظریات اور اپنے فکری و اصلاحی کارناموں کے ذریعے ایک ایسی شناخت قائم کرتی ہیں جو ان کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔ ان کی تحریریں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتیں، بلکہ ان میں ایک عہد کے فکری رجحانات، معاشرتی مسائل اور اصلاح احوال کی فکر سمٹی ہوتی ہے۔ مولانا ابو نصر فاروق بھی ایسی ہی علمی و فکری شخصیت کے مالک تھے، جن کے انتقال سے بہار کے علمی، دینی اور ادبی حلقوں میں ایک خلا پیدا ہوگیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق معروف اسلامی اسکالر، مصنف اور مابین المذاہب مکالمے کے داعی مولانا ابو نصر فاروق صارمؔ کا 13 اکتوبر 2026ء کو پٹنہ، بہار میں اچانک انتقال ہوگیا۔ ان کی وفات علمی و فکری حلقوں کے لئے ایک افسوس ناک خبر ہے۔ وہ ان اہل علم میں شامل تھے جنہوں نے مذہبی تعلیمات کو عصر حاضر کے معاشرتی مسائل سے مربوط کرنے اور اسلامی فکر کے مختلف پہلوؤں کو تحریری صورت میں پیش کرنے کی کوشش کی۔
پٹنہ سے علمی و فکری وابستگی:
مولانا ابو نصر فاروق کی پیدائش 17 اپریل 1947ء کو پٹنہ شہر کے محلہ کھجور بننا میں ہوئی تھی۔ پٹنہ کی علمی، تہذیبی اور دینی فضا سے ان کی وابستگی ان کی شناخت کا ایک اہم حصہ تھی۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے اسلامی تعلیمات، معاشرتی اصلاح اور امت مسلمہ کو درپیش مسائل پر اظہار خیال کیا اور اپنے مطالعے و فکر کو قارئین تک پہنچانے کی کوشش کی۔
بہار کی سرزمین ہمیشہ سے علم و ادب، دینی شعور اور فکری مباحث کا مرکز رہی ہے۔ اس سرزمین نے مختلف ادوار میں ایسے اہل علم پیدا کیے جنہوں نے اپنے اپنے دائرۂ کار میں ملت اور معاشرے کی رہنمائی کی۔ مولانا ابو نصر فاروق صارمؔ کا شمار بھی ان اہل قلم میں کیا جاتا تھا جنہوں نے مذہبی موضوعات کو محض روایتی انداز میں پیش کرنے کے بجائے ان کے معاشرتی پہلوؤں کو اجاگر کرنے پر توجہ دی۔
دینی تحریریں اور تصنیفی خدمات:
حضرت کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی قلمی سرگرمیاں تھیں۔ وہ اسلامی معاشرت، تاریخ، دینی شعور اور معاصر سماجی مسائل پر لکھتے رہے۔ ان کی تحریریں الواقعہ میگزین جیسے دینی اشاعتی پلیٹ فارم پر بھی شائع ہوئیں۔ ان کے مضامین میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کے مسائل کو سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش نمایاں نظر آتی ہے۔
ان کی تحریروں کا ایک اہم موضوع اسلامی نظام معیشت تھا۔ بیت المال کا اسلامی تصور اور زکوٰۃ جیسے موضوعات پر ان کے مضامین اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ وہ اسلامی تعلیمات کے معاشی و سماجی پہلوؤں میں دلچسپی رکھتے تھے۔ ان موضوعات کے ذریعے اسلامی معاشرے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم، ضرورت مندوں کی کفالت اور اجتماعی ذمہ داری کے تصور کو سمجھنے کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔
اسلامی نظام معیشت کا بنیادی مقصد محض مالی معاملات کو ضابطے میں لانا نہیں، بلکہ معاشرے میں عدل و انصاف، معاشی توازن اور انسانی وقار کو فروغ دینا بھی ہے۔ زکوٰۃ اور بیت المال کا نظام اسی اجتماعی ذمہ داری کی یاد دہانی کراتا ہے۔ جناب ابو نصر فاروق نے ان موضوعات پر قلم اٹھا کر اسلامی فکر کے ان پہلوؤں کو نمایاں کرنے کی کوشش کی جو آج بھی معاشرتی اصلاح کے لئے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
حقوق انسانی اور معاشرتی اصلاح کا جذبہ:
کسی بھی مذہبی فکر کی معنویت اس وقت زیادہ واضح ہوتی ہے جب وہ انسانی زندگی کے حقیقی مسائل سے مربوط ہو۔ معاشرے کے کمزور، محروم اور پس ماندہ طبقات کے حقوق، ضرورت مندوں کی اعانت اور سماجی ناانصافیوں کا ازالہ ایسے موضوعات ہیں جن پر اسلامی تعلیمات میں خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
مولانا ابو نصر فاروق کی تحریروں میں بھی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں معاشرتی مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کی طرف توجہ دلانے کا پہلو ملتا ہے۔ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرت طیبہ انسانی ہمدردی، عدل، امانت، مساوات اور کمزوروں کی حمایت کا ایک جامع نمونہ ہے۔ ان تعلیمات کو عصر حاضر کے حالات میں سمجھنا اور معاشرے تک پہنچانا اہل علم کی اہم ذمہ داری ہے۔
مولانا کی قلمی کاوشوں کو اسی وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مضامین اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ مذہبی مطالعہ محض علمی بحثوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اس کا تعلق انسانی زندگی، سماجی ذمہ داری اور عملی اصلاح سے بھی ہونا چاہیے۔
مابین المذاہب مکالمے کی اہمیت:
محترم ابو نصر فاروق کی شناخت کا ایک اہم پہلو مابین المذاہب مکالمے سے ان کی وابستگی بھی تھا۔ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان مکالمہ، باہمی احترام اور ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش کثیر مذہبی معاشرے میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔
ہندوستان جیسے متنوع ملک میں مذہبی و تہذیبی اختلافات کے باوجود پُرامن بقائے باہمی، باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ مذہبی شناختوں کے احترام کے ساتھ اختلاف رائے کے مہذب طریقوں کو بھی فروغ دیا جائے۔
مابین المذاہب مکالمے کا اصل مقصد اپنے عقائد سے دست بردار ہونا نہیں، بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے، غلط فہمیوں کو دور کرنے اور مشترکہ انسانی مسائل پر مثبت گفتگو کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ مولانا ابو نصر فاروق کی اس میدان سے وابستگی ان کی فکری دلچسپیوں کے ایک اہم پہلو کی نشان دہی کرتی ہے۔
دینی و اصلاحی اجتماعات میں شرکت:
مولانا پٹنہ اور بہار کے مختلف اہم دینی، سماجی اور اصلاحی پروگراموں میں شریک ہوتے رہے۔ ان کی شرکت ان اجتماعات میں بھی رہی جہاں سیرت نبوی ﷺ کے پیغام کو عام کرنے اور دینی و معاشرتی موضوعات پر گفتگو کے مواقع فراہم کیے جاتے تھے۔ پٹنہ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل (PMCH) کے سالانہ جلسۂ سیرت النبی ﷺ جیسے پروگراموں میں بحیثیت مقرر ان کی شرکت بھی ان کی سرگرمیوں کا حصہ تھی۔
سیرت النبی ﷺ کے اجتماعات محض مذہبی عقیدت کے اظہار کا ذریعہ نہیں، بلکہ رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کرنے، انسانی حقوق کا احترام کرنے، معاشرتی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور اخلاقی اقدار کو مضبوط بنانے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ ایسے اجتماعات میں اہل علم کی شرکت ان پیغامات کو عام کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
مولانا کی علمی و تحریری سرگرمیوں کے ساتھ ان اجتماعات میں شرکت ان کے دینی و اصلاحی رجحان کو نمایاں کرتی ہے۔
ایک قلم کار کی فکری میراث:
مولانا ابو نصر فاروق صاحب سے راقم الحروف کے گہرے مراسم تھے۔ ان سے میرا تعلق محض رسمی نہیں، بلکہ علمی و دینی استفادے کا بھی تھا۔ جب کبھی کسی دینی مسئلے کے سلسلے میں معلومات یا رہنمائی کی ضرورت پیش آتی تو راقم الحروف موبائل فون پر محترم مولانا ابو نصر فاروق صاحب سے رابطہ کرتا اور ان سے ضروری معلومات حاصل کرتا تھا۔ ان کا انتقال میرے لئے ذاتی طور پر بھی باعث رنج و ملال ہے، کیوں کہ ایک ایسی علمی شخصیت ہم سے جدا ہوگئی جن سے وقتاً فوقتاً دینی امور میں رہنمائی حاصل کرنے کا موقع ملتا تھا۔ ان سے وابستہ یادیں اور ان کے ساتھ علمی استفادے کے وہ لمحات ہمیشہ یاد رہیں گے۔
اہل قلم کی زندگی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ان کے افکار ان کی تحریروں میں محفوظ رہتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ شخصیات ہماری نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں، لیکن ان کی تحریریں آنے والی نسلوں کے لئے مطالعے، غور و فکر اور استفادے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
مولانا ابو نصر فاروق کی تحریروں کو محفوظ کرنا، ان کے مضامین کو یکجا کرنا اور ان کے علمی کام کا سنجیدہ جائزہ لینا ایک مفید علمی کام ہوگا۔ بالخصوص اسلامی معاشرت، نظام معیشت، زکوٰۃ، بیت المال اور عصر حاضر کے سماجی مسائل سے متعلق ان کی تحریروں کو مرتب کیا جائے تو ان کے فکری رجحانات اور علمی دلچسپیوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ان کے علمی کام کو محض تعزیتی مضامین تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ ان کے افکار کا مطالعہ کیا جائے اور ان موضوعات پر علمی مکالمے کو آگے بڑھایا جائے جن کے لئے انہوں نے اپنے قلم کو استعمال کیا۔
علمی و دینی حلقوں کے لئے ایک لمحۂ فکر:
محترم کا انتقال اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اہل علم اور اہل قلم کی خدمات کو ان کی زندگی ہی میں مناسب طور پر محفوظ اور متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ دینی و علمی شخصیات کے مضامین، تقاریر، علمی مباحث اور فکری کاوشیں کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں۔ ان کی حفاظت اور نئی نسل تک ان کی رسائی علمی اداروں، اہل قلم اور اشاعتی حلقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آج جب معاشرہ مختلف فکری، اخلاقی اور سماجی چیلنجوں سے دوچار ہے، تو ایسے اہل علم کی تحریروں کا مطالعہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے جنہوں نے مذہبی تعلیمات کو زندگی کے مسائل سے مربوط کرنے کی کوشش کی۔ ان کے علمی کام کا جائزہ لینے سے نہ صرف ماضی کی فکری کاوشوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، بلکہ مستقبل کے لئے بھی رہنمائی کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
دعا اور خراج عقیدت:
مولانا ابو نصر فاروق صاحب کی وفات پر دلی افسوس ہے۔ ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ دینی و اصلاحی تحریروں، اسلامی موضوعات کے مطالعے اور معاشرتی مسائل پر اظہار خیال میں گزرا۔ ان کے انتقال سے ان کے اہل خانہ، متعلقین، قارئین اور علمی و دینی حلقوں کو یقیناً صدمہ پہنچا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں اور علمی و قلمی خدمات کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

حضرت مولانا ابو نصر فاروق صارمؔکاسانحۂ ارتحال

 

 

یوسف شمسی

علم و فکر کی دنیا میں بعض شخصیات اپنی تحریروں، اپنے نظریات اور اپنے فکری و اصلاحی کارناموں کے ذریعے ایک ایسی شناخت قائم کرتی ہیں جو ان کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔ ان کی تحریریں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتیں، بلکہ ان میں ایک عہد کے فکری رجحانات، معاشرتی مسائل اور اصلاح احوال کی فکر سمٹی ہوتی ہے۔ مولانا ابو نصر فاروق بھی ایسی ہی علمی و فکری شخصیت کے مالک تھے، جن کے انتقال سے بہار کے علمی، دینی اور ادبی حلقوں میں ایک خلا پیدا ہوگیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق معروف اسلامی اسکالر، مصنف اور مابین المذاہب مکالمے کے داعی مولانا ابو نصر فاروق صارمؔ کا 13 اکتوبر 2026ء کو پٹنہ، بہار میں اچانک انتقال ہوگیا۔ ان کی وفات علمی و فکری حلقوں کے لئے ایک افسوس ناک خبر ہے۔ وہ ان اہل علم میں شامل تھے جنہوں نے مذہبی تعلیمات کو عصر حاضر کے معاشرتی مسائل سے مربوط کرنے اور اسلامی فکر کے مختلف پہلوؤں کو تحریری صورت میں پیش کرنے کی کوشش کی۔
پٹنہ سے علمی و فکری وابستگی:
مولانا ابو نصر فاروق کی پیدائش 17 اپریل 1947ء کو پٹنہ شہر کے محلہ کھجور بننا میں ہوئی تھی۔ پٹنہ کی علمی، تہذیبی اور دینی فضا سے ان کی وابستگی ان کی شناخت کا ایک اہم حصہ تھی۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے اسلامی تعلیمات، معاشرتی اصلاح اور امت مسلمہ کو درپیش مسائل پر اظہار خیال کیا اور اپنے مطالعے و فکر کو قارئین تک پہنچانے کی کوشش کی۔
بہار کی سرزمین ہمیشہ سے علم و ادب، دینی شعور اور فکری مباحث کا مرکز رہی ہے۔ اس سرزمین نے مختلف ادوار میں ایسے اہل علم پیدا کیے جنہوں نے اپنے اپنے دائرۂ کار میں ملت اور معاشرے کی رہنمائی کی۔ مولانا ابو نصر فاروق صارمؔ کا شمار بھی ان اہل قلم میں کیا جاتا تھا جنہوں نے مذہبی موضوعات کو محض روایتی انداز میں پیش کرنے کے بجائے ان کے معاشرتی پہلوؤں کو اجاگر کرنے پر توجہ دی۔
دینی تحریریں اور تصنیفی خدمات:
حضرت کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی قلمی سرگرمیاں تھیں۔ وہ اسلامی معاشرت، تاریخ، دینی شعور اور معاصر سماجی مسائل پر لکھتے رہے۔ ان کی تحریریں الواقعہ میگزین جیسے دینی اشاعتی پلیٹ فارم پر بھی شائع ہوئیں۔ ان کے مضامین میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کے مسائل کو سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش نمایاں نظر آتی ہے۔
ان کی تحریروں کا ایک اہم موضوع اسلامی نظام معیشت تھا۔ بیت المال کا اسلامی تصور اور زکوٰۃ جیسے موضوعات پر ان کے مضامین اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ وہ اسلامی تعلیمات کے معاشی و سماجی پہلوؤں میں دلچسپی رکھتے تھے۔ ان موضوعات کے ذریعے اسلامی معاشرے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم، ضرورت مندوں کی کفالت اور اجتماعی ذمہ داری کے تصور کو سمجھنے کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔
اسلامی نظام معیشت کا بنیادی مقصد محض مالی معاملات کو ضابطے میں لانا نہیں، بلکہ معاشرے میں عدل و انصاف، معاشی توازن اور انسانی وقار کو فروغ دینا بھی ہے۔ زکوٰۃ اور بیت المال کا نظام اسی اجتماعی ذمہ داری کی یاد دہانی کراتا ہے۔ جناب ابو نصر فاروق نے ان موضوعات پر قلم اٹھا کر اسلامی فکر کے ان پہلوؤں کو نمایاں کرنے کی کوشش کی جو آج بھی معاشرتی اصلاح کے لئے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
حقوق انسانی اور معاشرتی اصلاح کا جذبہ:
کسی بھی مذہبی فکر کی معنویت اس وقت زیادہ واضح ہوتی ہے جب وہ انسانی زندگی کے حقیقی مسائل سے مربوط ہو۔ معاشرے کے کمزور، محروم اور پس ماندہ طبقات کے حقوق، ضرورت مندوں کی اعانت اور سماجی ناانصافیوں کا ازالہ ایسے موضوعات ہیں جن پر اسلامی تعلیمات میں خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
مولانا ابو نصر فاروق کی تحریروں میں بھی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں معاشرتی مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کی طرف توجہ دلانے کا پہلو ملتا ہے۔ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرت طیبہ انسانی ہمدردی، عدل، امانت، مساوات اور کمزوروں کی حمایت کا ایک جامع نمونہ ہے۔ ان تعلیمات کو عصر حاضر کے حالات میں سمجھنا اور معاشرے تک پہنچانا اہل علم کی اہم ذمہ داری ہے۔
مولانا کی قلمی کاوشوں کو اسی وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مضامین اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ مذہبی مطالعہ محض علمی بحثوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اس کا تعلق انسانی زندگی، سماجی ذمہ داری اور عملی اصلاح سے بھی ہونا چاہیے۔
مابین المذاہب مکالمے کی اہمیت:
محترم ابو نصر فاروق کی شناخت کا ایک اہم پہلو مابین المذاہب مکالمے سے ان کی وابستگی بھی تھا۔ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان مکالمہ، باہمی احترام اور ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش کثیر مذہبی معاشرے میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔
ہندوستان جیسے متنوع ملک میں مذہبی و تہذیبی اختلافات کے باوجود پُرامن بقائے باہمی، باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ مذہبی شناختوں کے احترام کے ساتھ اختلاف رائے کے مہذب طریقوں کو بھی فروغ دیا جائے۔
مابین المذاہب مکالمے کا اصل مقصد اپنے عقائد سے دست بردار ہونا نہیں، بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے، غلط فہمیوں کو دور کرنے اور مشترکہ انسانی مسائل پر مثبت گفتگو کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ مولانا ابو نصر فاروق کی اس میدان سے وابستگی ان کی فکری دلچسپیوں کے ایک اہم پہلو کی نشان دہی کرتی ہے۔
دینی و اصلاحی اجتماعات میں شرکت:
مولانا پٹنہ اور بہار کے مختلف اہم دینی، سماجی اور اصلاحی پروگراموں میں شریک ہوتے رہے۔ ان کی شرکت ان اجتماعات میں بھی رہی جہاں سیرت نبوی ﷺ کے پیغام کو عام کرنے اور دینی و معاشرتی موضوعات پر گفتگو کے مواقع فراہم کیے جاتے تھے۔ پٹنہ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل (PMCH) کے سالانہ جلسۂ سیرت النبی ﷺ جیسے پروگراموں میں بحیثیت مقرر ان کی شرکت بھی ان کی سرگرمیوں کا حصہ تھی۔
سیرت النبی ﷺ کے اجتماعات محض مذہبی عقیدت کے اظہار کا ذریعہ نہیں، بلکہ رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کرنے، انسانی حقوق کا احترام کرنے، معاشرتی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور اخلاقی اقدار کو مضبوط بنانے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ ایسے اجتماعات میں اہل علم کی شرکت ان پیغامات کو عام کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
مولانا کی علمی و تحریری سرگرمیوں کے ساتھ ان اجتماعات میں شرکت ان کے دینی و اصلاحی رجحان کو نمایاں کرتی ہے۔
ایک قلم کار کی فکری میراث:
مولانا ابو نصر فاروق صاحب سے راقم الحروف کے گہرے مراسم تھے۔ ان سے میرا تعلق محض رسمی نہیں، بلکہ علمی و دینی استفادے کا بھی تھا۔ جب کبھی کسی دینی مسئلے کے سلسلے میں معلومات یا رہنمائی کی ضرورت پیش آتی تو راقم الحروف موبائل فون پر محترم مولانا ابو نصر فاروق صاحب سے رابطہ کرتا اور ان سے ضروری معلومات حاصل کرتا تھا۔ ان کا انتقال میرے لئے ذاتی طور پر بھی باعث رنج و ملال ہے، کیوں کہ ایک ایسی علمی شخصیت ہم سے جدا ہوگئی جن سے وقتاً فوقتاً دینی امور میں رہنمائی حاصل کرنے کا موقع ملتا تھا۔ ان سے وابستہ یادیں اور ان کے ساتھ علمی استفادے کے وہ لمحات ہمیشہ یاد رہیں گے۔
اہل قلم کی زندگی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ان کے افکار ان کی تحریروں میں محفوظ رہتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ شخصیات ہماری نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں، لیکن ان کی تحریریں آنے والی نسلوں کے لئے مطالعے، غور و فکر اور استفادے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
مولانا ابو نصر فاروق کی تحریروں کو محفوظ کرنا، ان کے مضامین کو یکجا کرنا اور ان کے علمی کام کا سنجیدہ جائزہ لینا ایک مفید علمی کام ہوگا۔ بالخصوص اسلامی معاشرت، نظام معیشت، زکوٰۃ، بیت المال اور عصر حاضر کے سماجی مسائل سے متعلق ان کی تحریروں کو مرتب کیا جائے تو ان کے فکری رجحانات اور علمی دلچسپیوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ان کے علمی کام کو محض تعزیتی مضامین تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ ان کے افکار کا مطالعہ کیا جائے اور ان موضوعات پر علمی مکالمے کو آگے بڑھایا جائے جن کے لئے انہوں نے اپنے قلم کو استعمال کیا۔
علمی و دینی حلقوں کے لئے ایک لمحۂ فکر:
محترم کا انتقال اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اہل علم اور اہل قلم کی خدمات کو ان کی زندگی ہی میں مناسب طور پر محفوظ اور متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ دینی و علمی شخصیات کے مضامین، تقاریر، علمی مباحث اور فکری کاوشیں کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں۔ ان کی حفاظت اور نئی نسل تک ان کی رسائی علمی اداروں، اہل قلم اور اشاعتی حلقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آج جب معاشرہ مختلف فکری، اخلاقی اور سماجی چیلنجوں سے دوچار ہے، تو ایسے اہل علم کی تحریروں کا مطالعہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے جنہوں نے مذہبی تعلیمات کو زندگی کے مسائل سے مربوط کرنے کی کوشش کی۔ ان کے علمی کام کا جائزہ لینے سے نہ صرف ماضی کی فکری کاوشوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، بلکہ مستقبل کے لئے بھی رہنمائی کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
دعا اور خراج عقیدت:
مولانا ابو نصر فاروق صاحب کی وفات پر دلی افسوس ہے۔ ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ دینی و اصلاحی تحریروں، اسلامی موضوعات کے مطالعے اور معاشرتی مسائل پر اظہار خیال میں گزرا۔ ان کے انتقال سے ان کے اہل خانہ، متعلقین، قارئین اور علمی و دینی حلقوں کو یقیناً صدمہ پہنچا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں اور علمی و قلمی خدمات کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں