افسانہ: آخری مہلت

 

صائمہ مقبول
ٹیکی پورہ لولاب
جموں و کشمیر

اللہ اکبر۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔اللہ اکبر
اشہد ان لا الٰہ الا اللہ۔۔۔۔۔
رات کے چار بج رہے تھے۔۔ تہجد کے لئے اٹھنے والوں کی خاموش دعاؤں میں ابھی رات کی نمی باقی تھی مسجد سے بلند ہونے والی اذان کی آواز سناٹے کو چیرتی ہوئی گلیوں میں پھیل رہی تھی۔کہیں کسی دروازے کے کھلنے کی ہلکی سی آواز آتی۔۔ کہیں وضو کے پانی کی چھن چھن سنائی دیتی۔ ساجد کے گھر میں بھی ایک چراغ جل اٹھا اس کی ماں کی آنکھ کھل چکی تھی۔ فجر نماز کے لئے اٹھنا اس کی برسوں پرانی عادت تھی وہ بستر سے اٹھی۔۔ چادر اوڑھی اور وضو کے لئے جانے لگی اچانک اس کی نظر سامنے والے کمرے کے دروازے پر پڑی۔ دروازے کے نیچے سے روشنی کی ایک باریک لکیر باہر آ رہی تھی وہ چند لمحے وہیں رک گئی۔ "ابھی تک جاگ رہا ہے۔۔۔؟” اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا اندر اس کا بیٹا ساجد موبائل ہاتھ میں لئے بیٹھا تھا۔
"بیٹا ابھی تک سوئے نہیں۔۔۔؟” ماں نے حیرت سے پوچھا۔ وہ موبائل سے نظریں اٹھا کر مسکرایا "بس امی ابھی سونے ہی والا تھا” ماں نے گھڑی کی طرف دیکھا ۔۔۔پھر اسے دیکھا "رات کے چار بج گئے ہیں۔۔ اتنی دیر تک جاگنے کے بجائے فجر ہی پڑھ لیتے” ۔وہ ہنس دیا۔۔۔ "امی ابھی مجھے تو نیند آ رہی ہے”۔ "نیند تو نماز کے بعد بھی آ جائے گی بیٹا۔ وہ موبائل ایک طرف رکھتے ہوئے بولا۔۔۔”امی ابھی میری عمر ہی کیا ہے۔۔؟ میں ابھی چھوٹا ہوں نماز تو بعد میں بھی پڑھ سکتا ہوں”۔ ماں کے چہرے پر ایک لمحے کے لئے اداسی اتر آئی۔۔۔”بیٹا نماز پڑھنے کے لئے عمر بڑی ہونے کا انتظار مت کرنا۔ موت عمر بڑی ہونے کا انتظار نہیں کرے گی”۔
​وہ کچھ لمحے خاموش رہا پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا "امی آپ ہر بات میں موت کہاں سے لے آتی ہیں۔۔؟ ابھی تو میری پوری زندگی پڑی ہے”۔ ماں نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔اس کی آنکھوں میں محبت بھی تھی اور ایک انجانا خوف بھی۔۔”پوری زندگی کسی کے پاس نہیں ہوتی بیٹا۔۔ہمارے پاس صرف وہ لمحہ ہوتا ہے جو ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے”۔ وہ خاموشی سے موبائل کی طرف دیکھنے لگا۔۔ ماں دروازے سے واپس مڑ گئی مگر چند قدم چل کر پھر رک گئی۔۔۔ "ایک بات یاد رکھنا بعد میں کبھی کبھی بہت دیر سے آتا ہے اور کبھی آتا ہی نہیں” ۔اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ ماں اپنے کمرے میں چلی گئی اور وضو بنانے گئی۔۔۔۔ پھر جب مصلےپر بیٹھی اور دعاکی "یا اللہ میرے بیٹے کو ہدایت دے”۔ ادھر بیٹا پھر موبائل کی روشنی میں گم ہو گیا۔
کچھ دیر بعد اس نے موبائل ایک طرف رکھا آنکھوں پر نیند غالب آچکی تھی اس نے تکیے پر سر رکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔ کمرے میں خاموشی اتر آئی۔ باہر رات اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔۔ مگر اس کے اندر ایک ایسی دنیا کے دروازے کھل رہے تھے جس سے وہ ہمیشہ بے فکر رہا تھا۔ اچانک اسے محسوس ہوا جیسے زمین اس کے قدموں کے نیچے سے سرک گئی ہو۔اس نے آنکھیں کھولیں تو وہ اپنے کمرے میں نہیں تھا۔ اس کے سامنے ایک وسیع میدان پھیلا ہوا تھا۔ دور تک انسانوں کا ہجوم تھا۔ کوئی خوف سے کانپ رہا تھا کوئی اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا کوئی رو رہا تھا اور کوئی بے بسی سے آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔نہ کوئی گھر تھا، نہ سڑک، نہ درخت، نہ دنیا کی وہ رونق جس میں وہ کل تک گم تھا۔ وہ گھبرا کر بولا۔۔”میں کہاں ہوں۔۔۔؟ یہاں سب لوگ کون ہیں؟” اس کی آواز جیسے خلا میں جذب ہو گئی
اسی لمحے ایک عجیب نور فضا میں پھیلا۔۔ اس نور کے ساتھ چند ہیبت ناک ہستیاں اس کے سامنے نمودار ہوئیں۔ اس کا جسم خوف سے کانپنے لگا۔وہ نظریں اٹھانے کی ہمت نہ کر سکا۔ ایک فرشتے کی آواز گونجی۔۔۔”تمہیں دنیا میں کیوں بھیجا گیا تھا۔۔؟” وہ خاموش رہا”جو وقت تمہیں دیا گیا کہاں خرچ کیا۔۔؟” اس نے کانپتے ہوئے کہا۔۔۔”میں میں۔۔۔میں جوان تھا۔ مجھے لگا تھا میرے پاس بہت وقت ہے”۔آواز آئی ۔۔۔”وقت تمہارے پاس تھا یا تمہیں دیا گیا تھا۔۔؟” وہ جواب نہ دے سکا فرشتوں نے پھر سوال کیا۔۔”اذان سنتے تھے؟” "جی۔۔۔جی ” "پھر نماز کیوں چھوڑتے تھے۔۔؟” اس کے ذہن میں ماں کا چہرہ ابھر آیا۔۔ "بیٹا نماز پڑھ لیا کرو” اور اس کا اپنا جواب۔۔ "امی ابھی میری عمر ہی کیا ہے۔۔؟” وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا کر رونے لگا۔۔مجھے معلوم نہیں تھا ۔فرشتے کی آواز پہلے سے زیادہ گہری تھی۔۔ "تمہیں معلوم نہیں تھا یا تم جاننا نہیں چاہتے تھے۔۔؟” وہ زمین پر بیٹھ گیا۔۔”مجھے ایک موقع دے دیں میں سب بدل دوں گا”۔
اچانک اس کے سامنے ایک کتاب رکھ دی گئی "یہ ۔۔۔ یہ ۔۔۔یہ کیا ہے۔؟” ۔”تمہارا نامۂ اعمال” ۔اس کے ہاتھ لرزنے لگے اس نے کتاب کھولی۔ ہر صفحہ اس کی زندگی کی ایک تصویر تھی ۔ایک صفحے پر وہ دوستوں کے ساتھ ہنس رہا تھا۔ دوسرے پر گھٹنوں موبائل میں مصروف تھا۔ تیسرے پر اذان کی آواز کے باوجود بستر پر پڑا تھا۔پھر ایک منظر آیا جس میں اس کی ماں مصلے پر ہاتھ اٹھائے رو رہی تھی۔۔۔”یا اللہ میرے بیٹے کو نماز کی توفیق دے”۔۔۔ وہ چیخ اٹھا "یہ صفحہ بند کرو”۔ فرشتہ بولا ۔۔۔”دنیا میں کرتے وقت کیوں نہیں سوچا تھا۔۔؟” ۔وہ سسکنے لگا۔ "میں سمجھتا تھا ابھی بہت وقت ہے۔” فرشتہ بولا۔۔۔”ہر انسان یہی سمجھتا ہے”۔ اس نے نامۂ اعمال کا اگلا صفحہ کھولا وہاں ایک اور منظر تھا۔۔ وہ اپنی ماں کی آواز سن کر کہہ رہا تھا۔۔۔”بعد میں پڑھ لوں گا”۔ پھر دوسرا منظر، پھر تیسرا، ہر جگہ ایک ہی لفظ اس کے پیچھے چل رہا تھا بعد میں۔۔۔ بعد میں۔۔۔ بعد میں۔۔۔
اچانک میدان میں ایک اعلان گونجا، لوگ قطاروں میں آگے بڑھنے لگے اس نے دیکھا کہ کچھ لوگ اپنے نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں لئے ہوئے تھے۔ ان کے چہروں پر خوف کے بجائے اطمینان تھا۔کوئی مسکرا رہا تھا، کوئی اپنے رب کا شکر ادا کر رہا تھا۔پھر اس کی نظر دوسری طرف گئی۔ کچھ لوگ اپنے نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں لئے کھڑے تھے۔۔ ان کے چہروں پر وحشت تھی۔کوئی رو رہا تھا۔ کوئی چیخ رہا تھا۔کوئی اپنے سر کو پیٹ رہا تھا۔ ایک شخص چیخ کر کہہ رہا تھا۔”کاش مجھے ایک دن اور مل جاتا”۔
دوسرا روتے ہوئے بولا، "کاش میں نے دنیا میں نماز نہ چھوڑی ہوتی” اس کے قدموں تلے جیسے زمین کانپ گئی۔”یا اللہ، مجھے واپس بھیج دے۔۔۔صرف ایک بار میں نماز پڑھوں گا، میں اپنی زندگی بدل دوں گا”۔۔۔اچانک ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔ دور اندر والے کمرے سے اس کی ماں کی تلاوتِ کلامِ پاک کی خوبصورت آواز گونجنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ۔۔۔ اچانک اس مبارک آواز اس کے کانوں میں پڑتے ہی اس کی آنکھیں کھل گئیں اور وہ اس ہولناک خواب سے بیدار ہو گیا۔
​وہ ہانپتے ہوئے بستر پر اٹھ بیٹھا۔ اس کا جسم پسینے سے بھرا پڑاتھا۔ دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا جیسے سینے سے باہر آ جائے گا۔۔ اس نے گھبرا کر اپنے ہاتھ دیکھے، پھر کمرے کو دیکھا، وہی دیواریں، وہی بستر، وہی موبائل، اس نے فوراً گھڑی کی طرف دیکھا صبح کے قریب چار بجکر تیس منٹ ہوئے تھے۔وہ چند لمحے بے حس و حرکت بیٹھا رہا۔ پھر اسے مصلے کی طرف سے ماں کی آواز سنائی دی۔۔۔ "بیٹا اٹھ گئے۔۔؟” وہ بستر سے اترا اور دروازہ کھول کر باہر آیا۔ ماں مصلے پر بیٹھی تھی۔ اسے دیکھتے ہی ماں نے پوچھا، "کیا ہوا؟ تم اتنے پریشان کیوں ہو؟” وہ کچھ نہ کہہ سکا۔ ماں کے پاس جا کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اس کی گود میں سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
​ ماں نے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔۔”بیٹا کیا ہوا۔۔؟وہ روتے ہوئے بولا۔۔امی آپ ٹھیک کہتی تھیں۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔؟۔میں سمجھتا تھا میرے پاس بہت وقت ہے۔ ماں خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔ وہ بولا۔۔”امی اگر وہ خواب حقیقت ہوتا تو ۔۔۔اگر آج واقعی میری آخری رات ہوتی تو۔۔؟”۔ ماں کی آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگے۔ اس نے بیٹے کو اپنے سینے سے لگا لیا۔۔”بیٹا۔۔۔جب اللہ کسی کو جگا دے تو اسے دوبارہ غفلت میں نہیں سونا چاہیے”۔وہ اٹھا وضو کیا اور مصلے پر کھڑا ہو گیا۔ اس رات پہلی بار اس نے نماز صرف ایک فرض سمجھ کر نہیں ۔۔۔بلکہ اپنی زندگی کی سب سے قیمتی مہلت سمجھ کر ادا کی۔ سجدے میں اس کے آنسو مسلسل بہتے رہے اور اس کے لبوں پر صرف ایک دعا تھی۔۔”یا رب العزت آج تو نے مجھے جگا دیا۔ باہر فجر کی روشنی آہستہ آہستہ اندھیرے کو نگل رہی تھی اور اس کے اندر بھی ایک اندھیری دنیا پر پہلی بار روشنی اتر رہی تھی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

افسانہ: آخری مہلت

 

صائمہ مقبول
ٹیکی پورہ لولاب
جموں و کشمیر

اللہ اکبر۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔اللہ اکبر
اشہد ان لا الٰہ الا اللہ۔۔۔۔۔
رات کے چار بج رہے تھے۔۔ تہجد کے لئے اٹھنے والوں کی خاموش دعاؤں میں ابھی رات کی نمی باقی تھی مسجد سے بلند ہونے والی اذان کی آواز سناٹے کو چیرتی ہوئی گلیوں میں پھیل رہی تھی۔کہیں کسی دروازے کے کھلنے کی ہلکی سی آواز آتی۔۔ کہیں وضو کے پانی کی چھن چھن سنائی دیتی۔ ساجد کے گھر میں بھی ایک چراغ جل اٹھا اس کی ماں کی آنکھ کھل چکی تھی۔ فجر نماز کے لئے اٹھنا اس کی برسوں پرانی عادت تھی وہ بستر سے اٹھی۔۔ چادر اوڑھی اور وضو کے لئے جانے لگی اچانک اس کی نظر سامنے والے کمرے کے دروازے پر پڑی۔ دروازے کے نیچے سے روشنی کی ایک باریک لکیر باہر آ رہی تھی وہ چند لمحے وہیں رک گئی۔ "ابھی تک جاگ رہا ہے۔۔۔؟” اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا اندر اس کا بیٹا ساجد موبائل ہاتھ میں لئے بیٹھا تھا۔
"بیٹا ابھی تک سوئے نہیں۔۔۔؟” ماں نے حیرت سے پوچھا۔ وہ موبائل سے نظریں اٹھا کر مسکرایا "بس امی ابھی سونے ہی والا تھا” ماں نے گھڑی کی طرف دیکھا ۔۔۔پھر اسے دیکھا "رات کے چار بج گئے ہیں۔۔ اتنی دیر تک جاگنے کے بجائے فجر ہی پڑھ لیتے” ۔وہ ہنس دیا۔۔۔ "امی ابھی مجھے تو نیند آ رہی ہے”۔ "نیند تو نماز کے بعد بھی آ جائے گی بیٹا۔ وہ موبائل ایک طرف رکھتے ہوئے بولا۔۔۔”امی ابھی میری عمر ہی کیا ہے۔۔؟ میں ابھی چھوٹا ہوں نماز تو بعد میں بھی پڑھ سکتا ہوں”۔ ماں کے چہرے پر ایک لمحے کے لئے اداسی اتر آئی۔۔۔”بیٹا نماز پڑھنے کے لئے عمر بڑی ہونے کا انتظار مت کرنا۔ موت عمر بڑی ہونے کا انتظار نہیں کرے گی”۔
​وہ کچھ لمحے خاموش رہا پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا "امی آپ ہر بات میں موت کہاں سے لے آتی ہیں۔۔؟ ابھی تو میری پوری زندگی پڑی ہے”۔ ماں نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔اس کی آنکھوں میں محبت بھی تھی اور ایک انجانا خوف بھی۔۔”پوری زندگی کسی کے پاس نہیں ہوتی بیٹا۔۔ہمارے پاس صرف وہ لمحہ ہوتا ہے جو ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے”۔ وہ خاموشی سے موبائل کی طرف دیکھنے لگا۔۔ ماں دروازے سے واپس مڑ گئی مگر چند قدم چل کر پھر رک گئی۔۔۔ "ایک بات یاد رکھنا بعد میں کبھی کبھی بہت دیر سے آتا ہے اور کبھی آتا ہی نہیں” ۔اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ ماں اپنے کمرے میں چلی گئی اور وضو بنانے گئی۔۔۔۔ پھر جب مصلےپر بیٹھی اور دعاکی "یا اللہ میرے بیٹے کو ہدایت دے”۔ ادھر بیٹا پھر موبائل کی روشنی میں گم ہو گیا۔
کچھ دیر بعد اس نے موبائل ایک طرف رکھا آنکھوں پر نیند غالب آچکی تھی اس نے تکیے پر سر رکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔ کمرے میں خاموشی اتر آئی۔ باہر رات اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔۔ مگر اس کے اندر ایک ایسی دنیا کے دروازے کھل رہے تھے جس سے وہ ہمیشہ بے فکر رہا تھا۔ اچانک اسے محسوس ہوا جیسے زمین اس کے قدموں کے نیچے سے سرک گئی ہو۔اس نے آنکھیں کھولیں تو وہ اپنے کمرے میں نہیں تھا۔ اس کے سامنے ایک وسیع میدان پھیلا ہوا تھا۔ دور تک انسانوں کا ہجوم تھا۔ کوئی خوف سے کانپ رہا تھا کوئی اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا کوئی رو رہا تھا اور کوئی بے بسی سے آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔نہ کوئی گھر تھا، نہ سڑک، نہ درخت، نہ دنیا کی وہ رونق جس میں وہ کل تک گم تھا۔ وہ گھبرا کر بولا۔۔”میں کہاں ہوں۔۔۔؟ یہاں سب لوگ کون ہیں؟” اس کی آواز جیسے خلا میں جذب ہو گئی
اسی لمحے ایک عجیب نور فضا میں پھیلا۔۔ اس نور کے ساتھ چند ہیبت ناک ہستیاں اس کے سامنے نمودار ہوئیں۔ اس کا جسم خوف سے کانپنے لگا۔وہ نظریں اٹھانے کی ہمت نہ کر سکا۔ ایک فرشتے کی آواز گونجی۔۔۔”تمہیں دنیا میں کیوں بھیجا گیا تھا۔۔؟” وہ خاموش رہا”جو وقت تمہیں دیا گیا کہاں خرچ کیا۔۔؟” اس نے کانپتے ہوئے کہا۔۔۔”میں میں۔۔۔میں جوان تھا۔ مجھے لگا تھا میرے پاس بہت وقت ہے”۔آواز آئی ۔۔۔”وقت تمہارے پاس تھا یا تمہیں دیا گیا تھا۔۔؟” وہ جواب نہ دے سکا فرشتوں نے پھر سوال کیا۔۔”اذان سنتے تھے؟” "جی۔۔۔جی ” "پھر نماز کیوں چھوڑتے تھے۔۔؟” اس کے ذہن میں ماں کا چہرہ ابھر آیا۔۔ "بیٹا نماز پڑھ لیا کرو” اور اس کا اپنا جواب۔۔ "امی ابھی میری عمر ہی کیا ہے۔۔؟” وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا کر رونے لگا۔۔مجھے معلوم نہیں تھا ۔فرشتے کی آواز پہلے سے زیادہ گہری تھی۔۔ "تمہیں معلوم نہیں تھا یا تم جاننا نہیں چاہتے تھے۔۔؟” وہ زمین پر بیٹھ گیا۔۔”مجھے ایک موقع دے دیں میں سب بدل دوں گا”۔
اچانک اس کے سامنے ایک کتاب رکھ دی گئی "یہ ۔۔۔ یہ ۔۔۔یہ کیا ہے۔؟” ۔”تمہارا نامۂ اعمال” ۔اس کے ہاتھ لرزنے لگے اس نے کتاب کھولی۔ ہر صفحہ اس کی زندگی کی ایک تصویر تھی ۔ایک صفحے پر وہ دوستوں کے ساتھ ہنس رہا تھا۔ دوسرے پر گھٹنوں موبائل میں مصروف تھا۔ تیسرے پر اذان کی آواز کے باوجود بستر پر پڑا تھا۔پھر ایک منظر آیا جس میں اس کی ماں مصلے پر ہاتھ اٹھائے رو رہی تھی۔۔۔”یا اللہ میرے بیٹے کو نماز کی توفیق دے”۔۔۔ وہ چیخ اٹھا "یہ صفحہ بند کرو”۔ فرشتہ بولا ۔۔۔”دنیا میں کرتے وقت کیوں نہیں سوچا تھا۔۔؟” ۔وہ سسکنے لگا۔ "میں سمجھتا تھا ابھی بہت وقت ہے۔” فرشتہ بولا۔۔۔”ہر انسان یہی سمجھتا ہے”۔ اس نے نامۂ اعمال کا اگلا صفحہ کھولا وہاں ایک اور منظر تھا۔۔ وہ اپنی ماں کی آواز سن کر کہہ رہا تھا۔۔۔”بعد میں پڑھ لوں گا”۔ پھر دوسرا منظر، پھر تیسرا، ہر جگہ ایک ہی لفظ اس کے پیچھے چل رہا تھا بعد میں۔۔۔ بعد میں۔۔۔ بعد میں۔۔۔
اچانک میدان میں ایک اعلان گونجا، لوگ قطاروں میں آگے بڑھنے لگے اس نے دیکھا کہ کچھ لوگ اپنے نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں لئے ہوئے تھے۔ ان کے چہروں پر خوف کے بجائے اطمینان تھا۔کوئی مسکرا رہا تھا، کوئی اپنے رب کا شکر ادا کر رہا تھا۔پھر اس کی نظر دوسری طرف گئی۔ کچھ لوگ اپنے نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں لئے کھڑے تھے۔۔ ان کے چہروں پر وحشت تھی۔کوئی رو رہا تھا۔ کوئی چیخ رہا تھا۔کوئی اپنے سر کو پیٹ رہا تھا۔ ایک شخص چیخ کر کہہ رہا تھا۔”کاش مجھے ایک دن اور مل جاتا”۔
دوسرا روتے ہوئے بولا، "کاش میں نے دنیا میں نماز نہ چھوڑی ہوتی” اس کے قدموں تلے جیسے زمین کانپ گئی۔”یا اللہ، مجھے واپس بھیج دے۔۔۔صرف ایک بار میں نماز پڑھوں گا، میں اپنی زندگی بدل دوں گا”۔۔۔اچانک ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔ دور اندر والے کمرے سے اس کی ماں کی تلاوتِ کلامِ پاک کی خوبصورت آواز گونجنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ۔۔۔ اچانک اس مبارک آواز اس کے کانوں میں پڑتے ہی اس کی آنکھیں کھل گئیں اور وہ اس ہولناک خواب سے بیدار ہو گیا۔
​وہ ہانپتے ہوئے بستر پر اٹھ بیٹھا۔ اس کا جسم پسینے سے بھرا پڑاتھا۔ دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا جیسے سینے سے باہر آ جائے گا۔۔ اس نے گھبرا کر اپنے ہاتھ دیکھے، پھر کمرے کو دیکھا، وہی دیواریں، وہی بستر، وہی موبائل، اس نے فوراً گھڑی کی طرف دیکھا صبح کے قریب چار بجکر تیس منٹ ہوئے تھے۔وہ چند لمحے بے حس و حرکت بیٹھا رہا۔ پھر اسے مصلے کی طرف سے ماں کی آواز سنائی دی۔۔۔ "بیٹا اٹھ گئے۔۔؟” وہ بستر سے اترا اور دروازہ کھول کر باہر آیا۔ ماں مصلے پر بیٹھی تھی۔ اسے دیکھتے ہی ماں نے پوچھا، "کیا ہوا؟ تم اتنے پریشان کیوں ہو؟” وہ کچھ نہ کہہ سکا۔ ماں کے پاس جا کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اس کی گود میں سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
​ ماں نے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔۔”بیٹا کیا ہوا۔۔؟وہ روتے ہوئے بولا۔۔امی آپ ٹھیک کہتی تھیں۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔؟۔میں سمجھتا تھا میرے پاس بہت وقت ہے۔ ماں خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔ وہ بولا۔۔”امی اگر وہ خواب حقیقت ہوتا تو ۔۔۔اگر آج واقعی میری آخری رات ہوتی تو۔۔؟”۔ ماں کی آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگے۔ اس نے بیٹے کو اپنے سینے سے لگا لیا۔۔”بیٹا۔۔۔جب اللہ کسی کو جگا دے تو اسے دوبارہ غفلت میں نہیں سونا چاہیے”۔وہ اٹھا وضو کیا اور مصلے پر کھڑا ہو گیا۔ اس رات پہلی بار اس نے نماز صرف ایک فرض سمجھ کر نہیں ۔۔۔بلکہ اپنی زندگی کی سب سے قیمتی مہلت سمجھ کر ادا کی۔ سجدے میں اس کے آنسو مسلسل بہتے رہے اور اس کے لبوں پر صرف ایک دعا تھی۔۔”یا رب العزت آج تو نے مجھے جگا دیا۔ باہر فجر کی روشنی آہستہ آہستہ اندھیرے کو نگل رہی تھی اور اس کے اندر بھی ایک اندھیری دنیا پر پہلی بار روشنی اتر رہی تھی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون