افسانہ: روسٹر

 

محمد عرفات وانی
کچھمولہ ترال پلوامہ کشمیر

شہر کی صبح ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوئی تھی۔ سڑکوں پر رات کی نمی باقی تھی اور دور پہاڑیوں کے پیچھے سے نکلتا ہوا سورج ہسپتال کی بلند عمارتوں کو زرد روشنی میں نہلا رہا تھا۔ شہریار نے گھر سے نکلتے ہوئے گھڑی دیکھی۔ سفر لمبا تھا…. ہسپتال اس کے گھر سے تقریباً پچاس کلومیٹر دور تھا۔ روز کا کرایہ، آنے جانے کی تھکن اور کئی گھنٹوں کی ڈیوٹی کے باوجود اس کے قدموں میں عجیب سی جلدی تھی۔ وہ نرسنگ کا طالب علم تھا اور اب اس کی انٹرن شپ ایک بڑے سرکاری ہسپتال ایس ایم ایچ ایس سرینگر میں شروع ہوئی تھی۔ گھر سے نکلتے وقت اس کی ماں ہمیشہ ایک ہی بات کہتی بیٹا آج کچھ نیا سیکھ کر آنا۔ شہریار مسکرا کر جواب دیتا…انشاءاللہ آج ضرور کچھ سیکھ کر آؤں گا۔ مگر گزشتہ بیس دنوں سے یہ آج کبھی نہیں آیا تھا۔
ہسپتال کی راہداریوں میں قدم رکھتے ہی اسے سفید لباسوں کا ایک سمندر دکھائی دیتا۔ کہیں نرسیں تیزی سے مریضوں کی طرف جا رہی ہوتیں، کہیں ڈاکٹر فائلوں میں جھکے ہوتے، کہیں سینیئر نرسنگ طلبہ اپنے گروپ کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ شہریار بھی اپنے روسٹر کے مطابق وارڈ میں پہنچ جاتا مگر وہاں ایک عجیب مسئلہ تھا۔ ایک مریض کے اردگرد کئی طلبہ موجود ہوتے اور سینیئرز پہلے ہی ہر کام سنبھال لیتے۔ آٹھ مریضوں کے وارڈ میں کبھی بیس سے زیادہ طلبہ کھڑے ہوتے۔ شہریار کسی کام کے قریب جاتا تو کوئی نہ کوئی پہلے ہی وہاں موجود ہوتا۔ وہ سیکھنا چاہتا تھا مگر سیکھنے کے لئے جگہ نہیں تھی۔ وہ سوال کرنا چاہتا تھا مگر سوال کرنے کے لئے موقع نہیں تھا۔ دن گزرتے گئے اور اس کے اندر ایک خاموش بے چینی بڑھتی گئی۔
شام کو جب وہ تھکا ہارا گھر پہنچتا تو والد دروازے پر ہی پوچھ لیتے اور کہتے بیٹا آج کیا سیکھا…. شہریار چند لمحے خاموش رہتا پھر پانی کا گلاس اٹھا کر کہتا کہ اباجان بس، آج بھی بہت کچھ دیکھا اور مشاہدہ آدھا سیکھنا ہے۔ والد اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے مگر مزید سوال نہ کرتے۔ شہریار اپنے کمرے میں جاتا، بیگ ایک طرف رکھتا اور دیر تک چھت کو دیکھتا رہتا۔ ایک دن اس نے خود سے پوچھا، آخر میں یہاں کیوں آرہا ہوں…. صرف حاضری لگانے کے لئے…. پچاس کلومیٹر کا سفر، روز کا کرایہ، اتنی تھکن… اور بیس دن بعد بھی میرے ہاتھ میں سیکھنے کے نام پر کیا ہے؟ اس سوال نے اسے رات بھر سونے نہیں دیا۔

اگلے دن اس نے اپنے دوست حمزہ سے بات کی۔ حمزہ نے کہا اگر واقعی سیکھنا ہے تو میرے ساتھ ایمرجنسی میں چلو۔ وہاں کام بہت ہوتا ہے، عملی طور پر کام سیکھنے کا موقع ملے گا اور تجربہ بھی ہوگا۔ شہریار ایک لمحے کو خاموش ہوا۔ لیکن میرا روسٹر ایمرجنسی میں نہیں ہے۔ حمزہ نے ہنس کر کہا شہریار ایک رات سے کیا ہوگا… وہاں کا اسٹاف تمہیں سکھا دے گا۔ شہریار کے اندر سیکھنے کی خواہش نے اسے ہاں کہنے پر مجبور کر دیا لیکن اس کے دل کے کسی کونے میں ایک آواز مسلسل کہہ رہی تھی کہ کالج کے اصول نہیں توڑنے چاہئیں۔
اس رات حمزہ اسے ایمرجنسی لے گیا۔ وہاں مریضوں کا ہجوم تھا، نرسیں مسلسل کام کر رہی تھیں اور ہر چند لمحوں بعد کسی نئے مریض کو اندر لایا جا رہا تھا۔ اسٹاف نے شہریار کو دیکھا تو پوچھا کہ تم نئے ہو… اس نے اپنا تعارف کروایا۔ ایک نرس نے مسکرا کر کہا، یہاں رہو، کام دیکھو، جو سمجھ نہ آئے پوچھو۔ ہم تمہیں سکھائیں گے۔ شہریار نے پہلی مرتبہ محسوس کیا کہ شاید وہ اسی جگہ کے لئے بنا ہے۔ اس نے ایک رات میں جتنا سیکھا، گزشتہ کئی دنوں میں نہ سیکھ سکا تھا۔ مریضوں کی خدمت کرتے ہوئے اسے عجیب سا سکون مل رہا تھا۔ مگر اگلی رات اس سکون پر اچانک ایک سخت آواز نے ضرب لگائی۔
نرسنگ سپروائزر میسٹر نذیر اچانک ایمرجنسی میں داخل ہوئیں۔ ان کی نظر شہریار پر پڑی تو وہ رک گئیں۔ تم یہاں کیا کر رہے ہو… تمہارا روسٹر تو یہاں نہیں ہے۔ شہریار نے احترام سے کہا…سر میں صرف سیکھنے کے لئے آیا ہوں۔ اسٹاف نے اجازت دی ہے۔ مگر جواب سخت تھا۔ یہاں اجازت سے نہیں روسٹر سے بیٹھا جاتا ہے۔ فوراً باہر جاؤ۔ شہریار نے وضاحت کی کوشش کی مگر بات سننے کا موقع نہ ملا۔ اس سے کہا گیا کہ اگر وہ فوراً باہر نہ نکلا تو پولیس بلائی جائے گی۔ وہ خاموشی سے باہر آ گیا۔ اس کے پیچھے ایمرجنسی کا دروازہ بند ہو گیا مگر اس کے اندر جیسے کوئی دروازہ ہمیشہ کے لئے کھل گیا تھا. ایسا دروازہ جس کے پیچھے ذلت، سوال اور بے بسی کھڑی تھی۔

مگر شہریار اکیلا نہیں تھا۔ اس جیسے بہت سے دوسرے طالب علم بھی تھے جو روسٹر کے بغیر ایمرجنسی میں موجود تھے اور انہیں بھی مختلف انداز میں سخت رویے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کسی کو تھپڑ مارا گیا، کسی کا کارڈ لے لیا گیا، کسی کی تصویر اٹھا لی گئی اور کسی کو سب کے سامنے ڈانٹ کر باہر نکال دیا گیا۔ شہریار کے دل میں یہی سوال بار بار اٹھتا رہا کہ اگر ان سے غلطی ہوئی بھی تھی تو کیا انہیں سمجھانے اور عزت کے ساتھ باہر بھیجنے کے بجائے اس طرح ذلیل کرنا ضروری تھا۔ وہ سوچتا تھا کہ ہم طالب علم تھے، مجرم نہیں، ہم یہاں وقت گزارنے نہیں بلکہ کچھ سیکھنے اور مریضوں کی خدمت کرنے آئے تھے۔
اس رات شہریار نے حمزہ کے کمرے میں قیام کیا مگر آنکھوں میں نیند نہیں تھی۔ اسے مریض یاد آرہے تھے، وہ نرسیں یاد آرہی تھیں جن کے ساتھ چند گھنٹوں میں ایک اعتماد پیدا ہو گیا تھا اور سب سے بڑھ کر وہ لمحہ یاد آ رہا تھا جب کئی لوگوں کے سامنے اسے ایمرجنسی سے باہر جانے کو کہا گیا تھا۔ وہ اپنی غلطی تسلیم کرتا تھا۔ ہاں، میرا روسٹر وہاں نہیں تھا۔ مجھے نہیں جانا چاہیے تھا۔ مگر پھر اس کے دل میں ایک دوسرا سوال اٹھتا کہ کیا ایک طالب علم کی غلطی کا جواب اسے سب کے سامنے اس طرح رسوا کرنا ہونا چاہیے…کیا اسے سمجھایا نہیں جا سکتا تھا… وہ کروٹ بدلتا رہا۔ صبح کی اذان ہوئی تو بھی اس کی آنکھیں خشک تھیں مگر دل میں فیصلہ پیدا ہو چکا تھا۔

اگلے دن شہریار نے اپنے ایک جاننے والے ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر غلام رسول سے رابطہ کیا جو ہسپتال کے انتظامی حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ شہریار نے کسی انتقام کی بات نہیں کی۔ اس نے صرف کہا، سر مجھے ایک موقع چاہیے۔ میں ایمرجنسی میں سیکھنا چاہتا ہوں۔ اگر مجھے قانونی طور پر روسٹر مل جائے تو میں پوری ذمہ داری کے ساتھ کام کروں گا۔ ڈاکٹر غلام رسول نے اس کی بات سنی اور ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر مسٹر راشد سے بات کی۔ راشد نے شہریار کو دفتر بلایا، تم ایمرجنسی میں کیوں جانا چاہتے ہو… انہوں نے پوچھا۔ شہریار نے جواب دیا، سر، پیسے کے لئے نہیں۔ مجھے کام سیکھنا ہے۔ میں مریضوں کے قریب رہ کر سیکھنا چاہتا ہوں۔ راشد نے چند لمحے اسے دیکھا پھر کہا، ٹھیک ہے، میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے بات کرتا ہوں۔
میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سائرہ ایک سنجیدہ مگر شفیق خاتون تھیں۔ شہریار ان کے دفتر پہنچا تو انہوں نے پہلے اس کی بات پوری توجہ سے سنی۔ تم ہفتے میں کتنی راتیں دینا چاہتے ہو۔۔انہوں نے پوچھا۔ شہریار نے کہا کہ کم از کم دو راتیں۔ ڈاکٹر سائرہ مسکرائیں۔ دو کیوں۔۔۔ہفتہ میں چار دن نائیٹ ڈیوٹی دو اگر واقعی سیکھنا چاہتے ہو۔ شہریار نے فوراً کہا کہ میم دن کی ڈیوٹی کالج کے روسٹر کے حساب سے بھی دینی ہوتی ہے۔ رات میں اپنی مرضی سے دینا چاہتا ہوں۔ میں پڑھنا بھی چاہتا ہوں اور مریضوں کی خدمت بھی کرنا چاہتا ہوں۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سائرہ کے چہرے پر مسکراہٹ گہری ہوگئی۔ بیٹا، جذبہ اچھا ہے مگر اپنی صحت کا بھی خیال رکھنا۔ بہرحال میں تمہارا روسٹر ایمرجنسی میں رکھوا دیتی ہوں۔ اب تم قانونی طور پر یہاں کام کرو گے۔

ڈاکٹر سائرہ نے صرف روسٹر ہی نہیں بنوایا بلکہ شہریار سے یہ بھی کہا کہ جب تک وہ اپنی ذمہ داری پوری ایمانداری سے نبھائے گا، اسے سیکھنے کے مواقع دیے جائیں گے۔ شہریار نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میم میں کسی عہدے یا خاص رعایت کے لئے نہیں آیا ہوں، میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ مجھے کام سیکھنے دیا جائے۔ ڈاکٹر سائرہ نے جواب دیا کہ بیٹا، ایسے طالب علم جو سیکھنے کے لئے خود راستہ تلاش کرتے ہیں، اداروں کے لئے بوجھ نہیں ہوتے سرمایہ ہوتے ہیں۔
چند دن بعد شہریار دوبارہ اسی ایمرجنسی میں کھڑا تھا جہاں کبھی اسے باہر نکالا گیا تھا۔ اس بار اس کے ہاتھ میں باقاعدہ روسٹر تھا۔ اسٹاف نے اسے دیکھا تو خوشی سے استقبال کیا۔ ارے شہریار تم واپس آ گئے… اس نے مسکرا کر کہا، جی، اب باقاعدہ روسٹر کے ساتھ۔ سب ہنس پڑے۔ اسی دوران نرسنگ سپروائزر مسٹر نزیر اور مسٹر منظور اندر داخل ہوئیں۔ ان کی نظر شہریار پر پڑی تو دونوں رک گئیں۔ تم یہاں.. شہریار نے کارڈ اور روسٹر پیش کیا۔ منظور نے کاغذ دیکھا پھر حیرت سے پوچھا، یہ روسٹر کس نے بنایا… اسٹاف کی ایک نرس نے جواب دیا، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور ایڈمنسٹریٹر کی منظوری سے۔ چند لمحوں میں لہجہ مکمل طور پر بدل چکا تھا۔ اچھا بیٹا، کیسے ہو؟ آؤ، بیٹھو اور آرام سے کام کرو۔ شہریار نے صرف مسکرا کر کہا، جی شکریہ۔۔

اس دن شہریار نے ایک عجیب حقیقت دیکھی۔ وہی لوگ جن کے سامنے چند دن پہلے اس کا وجود ایک غیر ضروری طالب علم سے زیادہ نہیں تھا، اب اس سے انتہائی احترام سے بات کر رہے تھے۔ اسے پہلی بار سمجھ آیا کہ بعض اوقات انسان کی قابلیت نہیں بلکہ اس کے بارے میں دوسروں کی معلومات اس کے ساتھ برتاؤ بدل دیتی ہیں۔ مگر شہریار نے دل میں فیصلہ کیا کہ وہ اس عزت کو اپنے تکبر کا سبب نہیں بنائے گا۔ وہ وہی شہریار رہے گا جو مریض کی فائل اٹھانے، خدمت کرنے، نئے طالب علم کو طریقہ سمجھانے اور ضرورت مند کے پاس کھڑے ہونے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔
اس کے بعد شہریار کی زندگی بدلنے لگی۔ وہ دن میں کالج کی ڈیوٹی کرتا اور رات کو ایمرجنسی میں پہنچ جاتا۔ کبھی رات دس بجے اباجان کا فون آتا، بیٹا، سو گئے…وہ تھکے ہوئے لہجے میں کہتا، جی اباجان…بس ابھی سونے لگا ہوں۔ مگر حقیقت یہ ہوتی کہ وہ پوری رات مریضوں کی خدمت میں مصروف رہتا تھا۔ کبھی صبح تک کام کرنے کے بعد پھر دن کی ڈیوٹی کالج کے روسٹر کے حساب سے دیتا، پھر گھر پہنچ کر چند گھنٹے آرام کرتا اور پھر دوبارہ ہسپتال کے لئے نکل جاتا۔ اسٹاف حیران تھا کہ یہ لڑکا خود کو تھکاتا کیوں ہے۔ مگر شہریار کے لئے یہ تھکن نہیں تھی۔ اسے لگتا تھا کہ ہر مریض ایک کتاب ہے جس کا ایک صفحہ بھی اگر توجہ سے پڑھ لیا جائے تو وہ کچھ نہ کچھ سیکھ سکتا ہے۔
ایک رات اس کے والد نے پھر فون کیا۔ بیٹا، آج بھی ڈیوٹی پر ہو…. شہریار نے مسکرا کر کہا، جی اباجان۔ والد نے کچھ لمحے خاموش رہ کر کہا، بیٹا اپنے آپ کو اتنا مت تھکاؤ۔ شہریار نے جواب دیا، اباجان جب میں کسی مریض کو بہتر حالت میں دیکھتا ہوں تو میری تھکن خود ختم ہو جاتی ہے۔ والد نے فون بند کرنے سے پہلے صرف اتنا کہا، اللہ تمہیں کامیاب کرے۔ شہریار نے فون جیب میں رکھا اور دوبارہ مریض کی طرف متوجہ ہوگیا۔

آہستہ آہستہ میڈیکل اور سرجیکل ایمرجنسی کے اسٹاف میں بھی اس کی جگہ بن گئی۔ کبھی دونوں طرف سے آواز آتی کہ اج شہریار ہمارے ساتھ رہے گا۔ وہ کبھی ادھر جاتا، کبھی ادھر۔ جس وارڈ میں کسی طالب علم کو کوئی طریقہ نہیں آتا، شہریار مدد کے لئے پہنچ جاتا۔ کبھی کوئی سینیئر اس سے سوال پوچھتا اور شہریار جواب دے دیتا۔ نئے طلبہ آتے تو وہ اسے سینیئر سمجھتے۔ بعض تو اسے سر کہہ کر مخاطب کرتے۔ شہریار ہنس کر کہتا، میں بھی تمہاری طرح طالب علم ہوں۔
کبھی میڈیکل ایمرجنسی کا اسٹاف اسے اپنے پاس بلاتا اور کبھی سرجیکل ایمرجنسی والے کہتے کہ آج شہریار ہمارے ساتھ رہے گا۔ بعض اوقات یہ دوستانہ مقابلہ اتنا بڑھ جاتا کہ شہریار دونوں طرف کا دل رکھنے کے لئے کچھ وقت میڈیکل میں اور کچھ وقت سرجیکل میں گزارتا۔ اسے کسی ایک جگہ بیٹھنے سے زیادہ یہ پسند تھا کہ جہاں ضرورت ہو وہاں پہنچ جائے۔

ایک دن ایک نئی نرس مریم ڈیوٹی پر آئی۔ اسے کئی کاموں میں دشواری تھی۔ شہریار نے بغیر کسی غرور کے اسے وہ طریقے سمجھائے جو وہ سیکھ چکا تھا۔ چند ہفتوں بعد مریم نے کہا کہ میری پہلی تنخواہ آپ کے نام۔ شہریار نے فوراً ہاتھ روک دیا۔ نہیں، یہ آپ کی محنت ہے۔ مجھے صرف دعا میں یاد رکھیے۔

مریم نے کہا، آپ نے میرے لئے جو کیا وہ میں کبھی نہیں بھولوں گی۔ شہریار نے مسکرا کر کہا، میں نے صرف وہی کیا جو کبھی کسی نے میرے لئے کیا تھا۔ سیکھنے والا جب سیکھ جائے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ اگلے شخص کے لئے راستہ آسان کرے۔

مریم کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ اس نے کہا، آپ نے مجھے صرف کام نہیں سکھایا، اعتماد دیا ہے۔ شہریار نے کہا، اعتماد ہی نرسنگ کی پہلی دوا ہے۔

ہسپتال میں شہریار کی چھٹی بھی عجیب تھی۔ اسٹاف کو معلوم تھا کہ اگر چھٹی کے دن کسی اضافی مدد کی ضرورت پڑی تو شہریار کو بلایا جا سکتا ہے۔ ایک اتوار ایمرجنسی میں کام بڑھ گیا۔ کسی نے کہا، شہریار کو فون کرو۔ دوسرے نے جواب دیا، آج تو اس کی چھٹی ہے اور وہ پچاس کلو میٹر دور رہتا ہے۔ نرس نے کہا چھٹی ہے مگر اگر اسے بتا دو کہ مریض زیادہ ہیں تو وہ آ جائے گا۔ فون گیا اور کچھ گھنٹے بعد شہریار ہسپتال کے دروازے پر تھا۔ اسے دیکھ کر نرسنگ سپروائزر نے کہا کہ تم واقعی عجیب لڑکے ہو۔ چھٹی کے دن بھی آجاتے ہو۔ شہریار مسکرایا اور کہا "سر” اگر مریض کی چھٹی نہیں تو میری کیسے ہو سکتی ہے۔۔۔ سب خاموش ہوگئے۔ اس ایک جملے نے اس کی پوری شخصیت بیان کر دی۔

رفتہ رفتہ یہ بات پورے اسٹاف میں مشہور ہوگئی کہ اگر کوئی ہنگامی ضرورت ہو اور چھٹی کا دن ہو تو شہریار کو فون کر لیا جائے۔ کئی بار اسے آرام کے دن بھی بلایا گیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ شہریار بہانہ نہیں بنائے گا۔ وہ آتا، اپنا کام کرتا اور واپس چلا جاتا۔ اسے کبھی اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ وہ دوسروں سے زیادہ کام کر رہا ہے۔ اس کے لئے یہ صرف مریض کی خدمت تھی۔

اسی دوران، شہریار کی انٹرن شپ کے دوران پیش آنے والا ایک اور واقعہ بھی اس کے ذہن میں تازہ تھا۔ اس کے چند دوستوں کا ہسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر یعنی CMO ڈاکٹر اعجاز احمد کے ساتھ ایک تنازع ہوگیا تھا۔ شہریار کا براہ راست اس معاملے سے تعلق نہیں تھا مگر وہ دوستوں کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔ وہ خود CMO کے دفتر گیا اور ان کی طرف سے معافی مانگی۔

چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر اعجاز احمد سخت مزاج اور اپنے عہدے کے وقار کے حوالے سے محتاط افسر تھے۔ انہوں نے ابتدا میں شہریار کو بھی کافی کچھ سنایا۔ شہریار خاموشی سے سنتا رہا۔ اس نے اپنی صفائی پیش کرنے کے بجائے صرف اتنا کہا کہ سر، میں اپنے دوستوں کی طرف سے معافی مانگنے آیا ہوں۔ اگر ان سے غلطی ہوئی ہے تو میں اس پر شرمندہ ہوں۔

ڈاکٹر اعجاز نے اس کا فون دیکھا اور اس کے بعض انتظامی اور سماجی رابطوں کا اندازہ ہوا۔ ان پر بھی یہ بات واضح ہوگئی کہ شہریار شاید بظاہر ایک عام سا طالب علم ہے مگر اس کے تعلقات اور جان پہچان کافی دور تک ہیں۔ مگر شہریار نے کبھی ان رابطوں کو اپنی ذاتی طاقت بنانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ وہ اس دن بھی کسی فائدے کے لئے نہیں بلکہ اپنے دوستوں کے لئے گیا تھا۔

کچھ دیر بعد CMO کا لہجہ بدل گیا۔ انہوں نے چائے منگوائی۔ شہریار کے ساتھ موجود میم کے لئے بھی چائے لائی گئی۔ جو ملاقات سختی سے شروع ہوئی تھی وہ نسبتاً نرم ماحول میں ختم ہوئی۔ شہریار نے محسوس کیا کہ اصل کامیابی کسی بڑے آدمی سے اپنی جان پہچان ثابت کرنا نہیں بلکہ اپنے مقصد کی وضاحت کرنا تھی۔

بعد میں جب کالج انتظامیہ کو معلوم ہوا کہ شہریار CMO کے پاس گیا تھا تو کچھ لوگ اس سے ناراض ہوئے۔ اسے کہا گیا کہ کل کالج آنا ہے ورنہ گھسیٹ کر لائیں گے۔ شہریار کو اس بات کا دکھ ہوا کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ اس نے اپنے دوستوں اور ادارے کی عزت بچانے کے لئے قدم اٹھایا تھا۔ اسی دوران CMO ڈاکٹر اعجاز نے اس کے ساتھ موجود میم سے کہا تھا کہ اگر کالج میں شہریار کو کسی نے کچھ کہا تو وہ خود کالج جائیں گے۔ معاملہ وہیں ختم ہوگیا اور اگلے دن شہریار کو کالج نہیں بلایا گیا۔

شہریار کے دل میں یہ بات رہ گئی کہ اس نے جو کیا تھا وہ خودغرضی کے لئے نہیں کیا تھا۔ اس کے لئے دوستوں کی مدد کرنا بھی خدمت کا حصہ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کے کالج کی ساکھ خراب نہ ہو اور ہسپتال میں اس کے ساتھیوں کے لئے مسئلہ پیدا نہ ہو۔ مگر ادارے نے اس وقت اس کی نیت کو پوری طرح نہیں سمجھا۔

اس کے باوجود شہریار نے کسی کے خلاف نفرت نہیں رکھی۔ اس نے اپنے دل میں یہ طے کیا کہ اگر کبھی اسے اختیار ملا تو وہ کسی طالب علم کو اس طرح نہیں ڈانٹے گا جس طرح اسے کبھی ڈانٹا گیا تھا۔ وہ غلطی پر ضرور سمجھائے گا مگر عزت کے ساتھ۔

وقت گزرتا گیا۔ اب ہسپتال کے نرسنگ سپروائزرز شہریار کی عزت کرنے لگے تھے۔ کبھی کسی طالب علم کو کوئی کام سمجھ نہ آتا تو اسے شہریار کے پاس بھیجا جاتا۔ کبھی کوئی نیا اسٹاف ممبر گھبرا جاتا تو اسے کہا جاتا کہ شہریار سے پوچھ لو۔ بعض لوگوں کو ابتدا میں حیرت ہوتی کہ ایک طالب علم کو اتنی ذمہ داریاں کیوں دی جا رہی ہیں مگر جب وہ اس کا کام دیکھتے تو سوال ختم ہو جاتے۔

ایک دن شہریار نے دیکھا کہ ایک سینیئر طالب علم کسی مریض کے ساتھ پریشان کھڑا ہے۔ شہریار اس کے پاس گیا اور پوچھا کیا ہوا۔ اس نے کہا مجھے یہ کام سمجھ نہیں آرہا۔ شہریار نے بغیر یہ سوچے کہ وہ خود اس سے جونیئر ہے، اسے طریقہ سمجھایا۔ وہ طالب علم حیران ہو کر بولا، تم تو ہم سے جونیئر ہو۔ شہریار نے ہنس کر جواب دیا، مریض کے سامنے سینئر اور جونیئر نہیں ہوتے وہاں صرف سیکھنے والے اور خدمت کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہ جملہ بعد میں کئی طلبہ کے درمیان مشہور ہوگیا۔

شہریار کی شہرت کسی عہدے سے نہیں بنی تھی۔ اس کا کوئی بڑا نام نہیں تھا۔ وہ صرف ایک طالب علم تھا جو دن میں اپنی کالج ڈیوٹی پوری کرتا اور رات کو اپنی خواہش سے ہسپتال آتا۔ مگر آہستہ آہستہ لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ شہریار کے لئے نرسنگ صرف ایک ڈگری نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔

اور شاید یہی وجہ تھی کہ جب کسی چھٹی کے دن ہسپتال میں عملے کی کمی ہوتی تو سب سے پہلے شہریار کا نام لیا جاتا۔ کوئی کہتا، اسے فون کرو۔ وہ آ جائے گا۔ کبھی شہریار تھکا ہوتا، کبھی اس کی اپنی پڑھائی ہوتی، کبھی اسے آرام کی ضرورت ہوتی مگر مریضوں کی خبر سنتے ہی وہ پہنچ جاتا۔

ایک دن ایک نرسنگ سپروائزر نے اس سے کہا، شہریار، تمہیں معلوم ہے تمہیں سب سے زیادہ عزت کیوں ملتی ہے…. شہریار نے سر ہلایا۔ سپروائزر نے کہا، اس لئے نہیں کہ تم کسی کے جاننے والے ہو، اس لئے نہیں کہ تمہاری سفارش ہے بلکہ اس لئے کہ جب کام آتا ہے تو تم غائب نہیں ہوتے۔ شہریار نے کچھ نہیں کہا۔ اس کے لئے یہ شاید سب سے بڑی تعریف تھی۔ لیکن انٹرن شپ کے آخری دن قریب آ رہے تھے۔ اب انٹرن شپ کے آخری دو دن تھے۔ شہریار ان لوگوں کو بہت یاد کر رہا تھا جنہوں نے اسے ہمیشہ عزت دی، کھانا کھلایا اور اپنوں کی طرح اپنے پاس بلایا۔ خاص طور پر دو اسٹاف ممبر اس کے دل کے بہت قریب تھے، جنہوں نے اسے صرف عزت ہی نہیں دی بلکہ بہت کچھ سکھایا بھی تھا۔ ان سے بچھڑنے کا خیال ہی شہریار کو اداس کر رہا تھا۔

مگر ہر روشنی کے پیچھے ایک سایہ ہوتا ہے۔ ایک دن شہریار سرجیکل وارڈ میں اپنے گاؤں کے ایک مریض کے ساتھ موجود تھا مگر اس کا روسٹر وہاں نہیں تھا۔ اس کے کلاس میٹس ایک مشکل مریض کے ساتھ تھے اور انہیں کینولیشن میں دشواری ہو رہی تھی۔ انہوں نے شہریار سے مدد مانگی۔ شہریار نے مریض کی حالت دیکھی، ضروری احتیاط کے ساتھ مدد کی اور واپس اپنے کام پر چلا گیا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ اسی واقعے کو کچھ سینیئر طلبہ نے شکایت بنا دیا ہے۔ اگلے دن کالج سے فون آیا، شہریار، کل کالج آنا ہے۔ اسے لگا شاید وضاحت مانگی جائے گی۔ وہ مطمئن تھا کیونکہ اسے یقین تھا کہ اس نے مریض کی مدد کے سوا کچھ نہیں کیا۔

اگلی صبح گاڑی دیر سے ملی، اس لئے وہ تقریباً بارہ بجے کالج پہنچا۔ لائبریری میں جا کر اس نے اپنے فون نکالا۔ انٹرن شپ کے آخری دو دن باقی تھے۔ اچانک گروپ میں ایک نوٹس آیا۔ شہریار کو دو دن کے لئے معطل کر دیا گیا تھا۔ وہ دیر تک اس کاغذ کو دیکھتا رہا۔ اس کے ذہن میں ایک ہی سوال تھا کہ کیا خدمت کا صلہ یہی ہے۔۔۔ اسی وقت ایک میم، مس حنا وہاں آئیں۔ انہوں نے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا…. شہریار نے سب بتایا۔ انہوں نے حیرت سے پوچھا کہ تم رات کو ایمرجنسی میں کیوں ہوتے ہو… شہریار نے کہا، میم، وہاں میرا باقاعدہ روسٹر ہے۔ ایڈمنسٹریٹر اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی منظوری سے۔ مس حنا نے کہا مجھے روسٹر نہیں آرڈر دیکھاوں۔ شہریار نے جواب دیا، میں آرڈر بھی پیش کر دوں گا۔

اس کے بعد معاملہ اچانک سنگین ہوگیا۔ کچھ لوگوں نے شہریار کی بات کو اس انداز میں لیا جیسے وہ کالج کے اختیار کو چیلنج کر رہا ہو۔ اسے دفتر میں بلایا گیا۔ آوازیں بلند ہوئیں۔ ایک استاد نے کہا کہ اگر تمہیں چیف منسٹر بھی روسٹر رکھیں گا تب بھی وہ غیر قانونی ہے۔

شہریار نے کوشش کی کہ وہ غصے میں جواب نہ دے۔ اس نے کہا کہ میم میں کالج کے وقت میں کالج کی ذمہ داری میں ہوں۔ چار بجے کے بعد میں ہسپتال کے انتظامی روسٹر کے مطابق ہوتا ہوں۔ میں نے اپنے کوآرڈینیٹر کو بھی پہلے بتایا تھا۔ میں کالج کا کارڈ بھی اس وقت استعمال نہیں کرتا۔ اگر کوئی غلطی ہے تو مجھے سمجھا دیجیے مگر میری بات بھی سن لیجیے۔

لیکن اس کی بات پوری طرح سنی نہیں گئی۔ اسے دو دن کے لئے معطل کر دیا گیا اور کلاس ریپریزنٹیٹو کی ذمہ داری سے بھی ہٹا دیا گیا۔ اس لمحے شہریار کو پہلی مرتبہ یہ خیال آیا کہ شاید ادارے اسے ایک طالب علم کے طور پر نہیں بلکہ ایک مسئلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اسے دکھ اس بات کا نہیں تھا کہ اسے سزا ملی، دکھ اس بات کا تھا کہ جس جذبے سے وہ کام کر رہا تھا، اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

اسی دوران ایک اور میم نے اس سے پوچھا، کیا تم چار بجے کے بعد کالج کا کارڈ پہنتے تھے…شہریار نے کہا نہیں۔ پھر پوچھا گیا، کیا تم نے کوآرڈینیٹر کو بتایا تھا…شہریار نے کہا جی، میں نے پہلے ہی بتایا تھا کہ چار بجے کے بعد میں ہسپتال میں ہوتا ہوں اور وہاں کالج کی طرف سے نہیں بلکہ ہسپتال کی انتظامیہ کے روسٹر کے مطابق کام کرتا ہوں۔ میم نے کہا، پھر پہلے مکمل حقیقت دیکھنی چاہیے تھی۔ تم چار بجے تک کالج کی ذمہ داری ہو، اس کے بعد اگر ہسپتال نے باقاعدہ اجازت دی ہے تو معاملہ مختلف ہے۔ اس ایک بات نے شہریار کے دل کو کچھ سکون دیا۔ اسے لگا کہ شاید ابھی بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو سزا دینے سے پہلے حقیقت دیکھنا چاہتے ہیں۔

وہ کبھی کبھی سوچتا کہ اگر کالج اسے معطل کرنے کے بجائے اس کے جذبے پر فخر کرتا تو شاید اس کے دل میں ادارے کے لئے اور بھی زیادہ محبت پیدا ہوتی۔ آخر ایک ادارے کے لئے اس سے بڑا فخر کیا ہوسکتا ہے کہ اس کا طالب علم دن کی ڈیوٹی کے بعد رات کو اپنی مرضی سے ہسپتال جائے، مریضوں کی خدمت کرے، نئے لوگوں کو سکھائے اور چھٹی کے دن بھی ضرورت پڑنے پر پہنچ جائے۔ مگر ادارے اکثر انسان کو اس کے پورے کردار سے نہیں دیکھتے۔ کبھی ایک غلطی پوری شخصیت پر بھاری پڑ جاتی ہے۔ شہریار بھی اسی حقیقت سے گزر رہا تھا۔

معطلی کے بعد شہریار نے ہسپتال کا رخ نہیں کیا۔ انٹرن شپ کے وہ آخری دو دن، جنہیں وہ اپنے سیکھنے اور خدمت کے سفر کا حصہ سمجھ رہا تھا، اچانک اس کے لئے رک گئے تھے۔ وہ گھر میں بیٹھا اپنی پوری انٹرن شپ کے بارے میں سوچتا رہا۔ اسے وہ پہلا دن یاد آیا جب اسے کچھ نہیں آتا تھا۔ وہ رات یاد آئی جب اسے روسٹر کے بغیر ایمرجنسی سے نکالا گیا تھا۔ وہ دن یاد آیا جب ڈاکٹر سائرہ نے اس کے جذبے کو سمجھا تھا۔ اسے وہ نرسیں یاد آئیں جو اب اسے اپنے ساتھی کی طرح سمجھتی تھیں۔ اسے وہ نئے طلبہ یاد آئے جنہیں اس نے سکھایا تھا۔ اسے وہ اتوار یاد آیا جب چھٹی کے باوجود وہ مریضوں کے لئے ہسپتال پہنچ گیا تھا۔ اچانک اسے احساس ہوا کہ شاید اس کا اصل امتحان کسی کتاب یا امتحان میں نہیں بلکہ اسی کشمکش میں ہے کہ وہ حالات کے تلخ رویے کے باوجود اپنے اندر کی انسانیت کو زندہ رکھ سکتا ہے یا نہیں۔

اسے انچارج نرس کی وہ بات بھی یاد آئی کہ عزت مانگنے سے نہیں ملتی کام سے ملتی ہے۔ شہریار نے خود سے کہا کہ میں نے بھی یہی سیکھا ہے کہ انسان کو اپنے کام سے جواب دینا چاہیے۔

اسے نرسنگ سپروائزر مسٹر نزیر بھی یاد آئے۔ وہی نزیر جن کے سامنے کبھی شہریار کو ایمرجنسی سے باہر نکالا گیا تھا۔ شہریار سوچتا رہا کہ شاید لوگوں کو وقت کے ساتھ یہ سمجھ آتا ہے کہ سختی اور نظم کے درمیان بھی ایک فرق ہوتا ہے۔ شہریار نے کبھی کسی سے شکایت نہیں کی تھی۔ اس نے صرف یہی سیکھا تھا کہ اصول ضروری ہیں، مگر طالب علم کی عزت بھی ضروری ہے۔

شہریار کے ذہن میں ہسپتال کے وہ دن ایک ایک کرکے واپس آتے رہے۔ کبھی میڈیکل ایمرجنسی، کبھی سرجیکل ایمرجنسی، کبھی وارڈ، کبھی کسی طالب علم کی مدد۔ اسے یاد آیا کہ کس طرح نرسنگ سپروائزرز بھی اسے اعتماد سے دیکھنے لگے تھے۔ بعض اوقات اگر انہیں معلوم ہوتا کہ کوئی مشکل کام ہے تو وہ کہتے، شہریار کو بلا لو، اسے سمجھ ہے۔

اسے مریم بھی یاد آئی، جس نے کہا تھا کہ میری پہلی تنخواہ آپ کے نام۔ شہریار ہنس کر سوچنے لگا کہ میں نے تو صرف وہی کیا تھا جو کبھی کسی نے میرے لئے کیا تھا۔ سیکھنے والا جب سیکھ جائے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ اگلے شخص کے لئے راستہ آسان کرے۔

اسے وہ اتوار بھی یاد آیا جب چھٹی کے باوجود وہ ہسپتال پہنچ گیا تھا۔ کسی نے کہا تھا کہ تم واقعی عجیب لڑکے ہو، چھٹی کے دن بھی آجاتے ہو۔ شہریار نے مسکرا کر جواب دیا تھا، سر، اگر مریض کی چھٹی نہیں تو میری کیسے ہو سکتی ہے۔ اب گھر میں بیٹھے اسے اپنا وہ جملہ یاد آیا تو اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔

پھر اسے وہ دن بھی یاد آیا جب اس نے اپنے دوستوں کے لئے CMO ڈاکٹر اعجاز احمد کے پاس جا کر معافی مانگی تھی۔ اس نے کسی فائدے کے لئے ایسا نہیں کیا تھا۔ وہ صرف اپنے دوستوں کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔ اسے اس وقت بھی یہی محسوس ہوا تھا کہ دوستوں کی مدد کرنا بھی خدمت کا حصہ ہے۔

اس کے بعد اسے اپنی معطلی کا کاغذ یاد آیا۔ وہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا۔ اس کے دل میں دکھ تھا مگر نفرت نہیں۔ اسے لگا کہ شاید اسے ایک بار پھر غلط سمجھا گیا ہے۔ لیکن اس بار بھی اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی تلخی کو نفرت نہیں بننے دے گا۔ اگر کبھی اسے اختیار ملا تو وہ کسی طالب علم کو اس طرح نہیں ڈانٹے گا جس طرح اسے کبھی ڈانٹا گیا تھا۔ وہ غلطی پر ضرور سمجھائے گا، مگر عزت کے ساتھ۔

رات گئے شہریار اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔ میز پر اس کا پرانا روسٹر رکھا تھا، ساتھ ہی معطلی کا کاغذ بھی تھا۔ اس نے دونوں کاغذ ایک ساتھ دیکھے۔ ایک کاغذ اسے بتا رہا تھا کہ وہ کہاں کھڑا ہو سکتا ہے، دوسرا اسے یاد دلا رہا تھا کہ وہ کہاں کھڑا ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس نے دونوں کو احتیاط سے ایک فائل میں رکھ دیا۔ پھر کھڑکی کھولی۔ باہر شہر سو رہا تھا، مگر ہسپتال کی دور کی روشنیاں اب بھی جل رہی تھیں۔ شہریار نے آہستہ سے خود سے کہا، شاید ایک اچھے نرس کی پہچان یہ نہیں کہ اسے کتنے اختیارات ملے بلکہ یہ ہے کہ اختیار نہ ہونے کے باوجود وہ کتنے لوگوں کے کام آیا۔

کمرے میں پھر خاموشی اتر آئی۔ شہریار نے کھڑکی سے دور جلتی ہوئی انہی روشنیوں کو دیکھا جن کے درمیان اس نے اپنی انٹرن شپ کے دن اور راتیں گزار دی تھیں۔ اسے معلوم تھا کہ اگلی صبح وہ ہسپتال نہیں جائے گا۔ انٹرن شپ کے آخری دو دن اس سے چھین لئے گئے تھے۔ مگر اسے یہ بھی معلوم تھا کہ ہسپتال سے باہر آ جانے سے وہ سیکھنا بند نہیں کرے گا۔

اس نے میز پر رکھا معطلی کا کاغذ دوبارہ اٹھایا، اسے تہہ کیا اور روسٹر کے ساتھ فائل میں رکھ دیا۔ پھر اس نے لائٹ بند کر دی۔ شہر سو رہا تھا۔ مگر شہریار کے اندر ایک نئی صبح جاگ چکی تھی۔

کئی برس بعد اسی ہسپتال کی ایک راہداری میں نئے طلبہ کا ایک گروہ کھڑا تھا۔ ایک نوجوان نے دوسرے سے پوچھا وہ شہریار کون تھا جس کا سب اتنا ذکر کرتے ہیں؟ قریب کھڑی ایک سینیئر نرس نے یہ سوال سنا تو چند لمحوں کے لئے خاموش ہوگئی جیسے برسوں پرانی کوئی یاد اچانک اس کے سامنے زندہ ہوگئی ہو۔ پھر وہ آہستہ سے بولی، وہ ایک ایسا شخص تھا جس نے شاید کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس ہسپتال کی راہداریاں ایک دن اسے ہمیشہ یاد رکھیں گی۔ وہ دوسروں سے مختلف تھا جہاں اکثر لوگ وقت گزرنے اور ڈیوٹی ختم ہونے کا انتظار کرتے تھے، وہ ہر گزرتے لمحے سے کچھ سیکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ نوجوان نے حیرت سے پوچھا کہ کیا وہ یہاں کوئی بہت بڑا افسر تھا۔ نرس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی مگر اس کی آنکھوں میں عجیب سی سنجیدگی تھی۔ اس نے چند لمحے توقف کے بعد کہا، نہیں وہ نہ کوئی بڑا افسر تھا اور نہ ہی کسی بڑے عہدے پر فائز تھا وہ صرف ایک طالب علم تھا۔ نوجوان حیرت سے اسے دیکھنے لگا تو نرس نے راہداری کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، مگر اس نے ہمیں یہ سکھایا کہ کبھی کبھی انسان کا عہدہ چھوٹا ہوتا ہے مگر اس کا کردار اتنا بڑا۔

اور شاید شہریار کی اصل کہانی یہی تھی۔ ایک پچاس کلومیٹر دور گھر سے روز ہسپتال آنے والے ایک عام سے طالب علم کی کہانی جسے ابتدا میں کسی نے خاص نہیں سمجھا، جس نے غلطی بھی کی، جسے ڈانٹ بھی پڑی، جسے ذلت بھی برداشت کرنا پڑی، جسے معطلی کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر جس نے اپنی تلخی کو نفرت نہیں بننے دیا۔ اس نے روسٹر مانگا تو اس لئے نہیں کہ اسے اختیار چاہیے تھا بلکہ اس لئے کہ اسے سیکھنے کا حق چاہیے تھا۔ اس نے چھٹی کے دن ہسپتال کا رخ اس لئے نہیں کیا کہ اسے کوئی انعام ملے گا بلکہ اس لئے کہ اسے یقین تھا کہ مریض کی تکلیف وقت نہیں دیکھتی۔ اور جب اس کے ہاتھ میں آخرکار کوئی بڑا عہدہ نہیں بلکہ صرف ایک نرسنگ کی شناخت آئی، تب بھی اس نے اپنے آپ سے یہی کہا کہ میں پہلے بھی طالب علم تھا، آج بھی سیکھ رہا ہوں اور جب تک کسی کے درد کو کم کرنے کی کوشش کرتا رہوں گا، میری تعلیم ختم نہیں ہوگی۔

شاید اسی لئے اس ہسپتال کے کچھ پرانے ملازمین آج بھی شہریار کا نام لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ کالج کو اسے معطل نہیں بلکہ اس پر فخر محسوس کرنا چاہیے تھا کیونکہ ہر ادارے کو ایسے طالب علم ملنا خوش قسمتی ہوتی ہے جو صرف نصاب مکمل کرنے نہیں آتے بلکہ اپنے کردار سے ادارے کی پہچان بن جاتے ہیں۔ شہریار نے کوئی بڑا عہدہ حاصل نہیں کیا تھا مگر اس نے لوگوں کے دلوں میں ایک چھوٹی سی جگہ ضرور بنا لی تھی۔ اور کبھی کبھی انسان کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ جب وہ کسی جگہ سے رخصت ہو تو عمارت وہیں کھڑی رہے، مگر اس کی غیر موجودگی محسوس ہونے لگے۔

افسانہ نگار
محمد عرفات وانی

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

لولا نے چوتھی بار برازیل کے صدارتی انتخابات میں میدان مار لیا

جنگ نیوز برازیل کے صدارتی انتخابات میں لوئز اناسیو لولا...

تازہ ترین خبریں

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

لولا نے چوتھی بار برازیل کے صدارتی انتخابات میں میدان مار لیا

جنگ نیوز برازیل کے صدارتی انتخابات میں لوئز اناسیو لولا...

افسانہ: روسٹر

 

محمد عرفات وانی
کچھمولہ ترال پلوامہ کشمیر

شہر کی صبح ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوئی تھی۔ سڑکوں پر رات کی نمی باقی تھی اور دور پہاڑیوں کے پیچھے سے نکلتا ہوا سورج ہسپتال کی بلند عمارتوں کو زرد روشنی میں نہلا رہا تھا۔ شہریار نے گھر سے نکلتے ہوئے گھڑی دیکھی۔ سفر لمبا تھا…. ہسپتال اس کے گھر سے تقریباً پچاس کلومیٹر دور تھا۔ روز کا کرایہ، آنے جانے کی تھکن اور کئی گھنٹوں کی ڈیوٹی کے باوجود اس کے قدموں میں عجیب سی جلدی تھی۔ وہ نرسنگ کا طالب علم تھا اور اب اس کی انٹرن شپ ایک بڑے سرکاری ہسپتال ایس ایم ایچ ایس سرینگر میں شروع ہوئی تھی۔ گھر سے نکلتے وقت اس کی ماں ہمیشہ ایک ہی بات کہتی بیٹا آج کچھ نیا سیکھ کر آنا۔ شہریار مسکرا کر جواب دیتا…انشاءاللہ آج ضرور کچھ سیکھ کر آؤں گا۔ مگر گزشتہ بیس دنوں سے یہ آج کبھی نہیں آیا تھا۔
ہسپتال کی راہداریوں میں قدم رکھتے ہی اسے سفید لباسوں کا ایک سمندر دکھائی دیتا۔ کہیں نرسیں تیزی سے مریضوں کی طرف جا رہی ہوتیں، کہیں ڈاکٹر فائلوں میں جھکے ہوتے، کہیں سینیئر نرسنگ طلبہ اپنے گروپ کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ شہریار بھی اپنے روسٹر کے مطابق وارڈ میں پہنچ جاتا مگر وہاں ایک عجیب مسئلہ تھا۔ ایک مریض کے اردگرد کئی طلبہ موجود ہوتے اور سینیئرز پہلے ہی ہر کام سنبھال لیتے۔ آٹھ مریضوں کے وارڈ میں کبھی بیس سے زیادہ طلبہ کھڑے ہوتے۔ شہریار کسی کام کے قریب جاتا تو کوئی نہ کوئی پہلے ہی وہاں موجود ہوتا۔ وہ سیکھنا چاہتا تھا مگر سیکھنے کے لئے جگہ نہیں تھی۔ وہ سوال کرنا چاہتا تھا مگر سوال کرنے کے لئے موقع نہیں تھا۔ دن گزرتے گئے اور اس کے اندر ایک خاموش بے چینی بڑھتی گئی۔
شام کو جب وہ تھکا ہارا گھر پہنچتا تو والد دروازے پر ہی پوچھ لیتے اور کہتے بیٹا آج کیا سیکھا…. شہریار چند لمحے خاموش رہتا پھر پانی کا گلاس اٹھا کر کہتا کہ اباجان بس، آج بھی بہت کچھ دیکھا اور مشاہدہ آدھا سیکھنا ہے۔ والد اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے مگر مزید سوال نہ کرتے۔ شہریار اپنے کمرے میں جاتا، بیگ ایک طرف رکھتا اور دیر تک چھت کو دیکھتا رہتا۔ ایک دن اس نے خود سے پوچھا، آخر میں یہاں کیوں آرہا ہوں…. صرف حاضری لگانے کے لئے…. پچاس کلومیٹر کا سفر، روز کا کرایہ، اتنی تھکن… اور بیس دن بعد بھی میرے ہاتھ میں سیکھنے کے نام پر کیا ہے؟ اس سوال نے اسے رات بھر سونے نہیں دیا۔

اگلے دن اس نے اپنے دوست حمزہ سے بات کی۔ حمزہ نے کہا اگر واقعی سیکھنا ہے تو میرے ساتھ ایمرجنسی میں چلو۔ وہاں کام بہت ہوتا ہے، عملی طور پر کام سیکھنے کا موقع ملے گا اور تجربہ بھی ہوگا۔ شہریار ایک لمحے کو خاموش ہوا۔ لیکن میرا روسٹر ایمرجنسی میں نہیں ہے۔ حمزہ نے ہنس کر کہا شہریار ایک رات سے کیا ہوگا… وہاں کا اسٹاف تمہیں سکھا دے گا۔ شہریار کے اندر سیکھنے کی خواہش نے اسے ہاں کہنے پر مجبور کر دیا لیکن اس کے دل کے کسی کونے میں ایک آواز مسلسل کہہ رہی تھی کہ کالج کے اصول نہیں توڑنے چاہئیں۔
اس رات حمزہ اسے ایمرجنسی لے گیا۔ وہاں مریضوں کا ہجوم تھا، نرسیں مسلسل کام کر رہی تھیں اور ہر چند لمحوں بعد کسی نئے مریض کو اندر لایا جا رہا تھا۔ اسٹاف نے شہریار کو دیکھا تو پوچھا کہ تم نئے ہو… اس نے اپنا تعارف کروایا۔ ایک نرس نے مسکرا کر کہا، یہاں رہو، کام دیکھو، جو سمجھ نہ آئے پوچھو۔ ہم تمہیں سکھائیں گے۔ شہریار نے پہلی مرتبہ محسوس کیا کہ شاید وہ اسی جگہ کے لئے بنا ہے۔ اس نے ایک رات میں جتنا سیکھا، گزشتہ کئی دنوں میں نہ سیکھ سکا تھا۔ مریضوں کی خدمت کرتے ہوئے اسے عجیب سا سکون مل رہا تھا۔ مگر اگلی رات اس سکون پر اچانک ایک سخت آواز نے ضرب لگائی۔
نرسنگ سپروائزر میسٹر نذیر اچانک ایمرجنسی میں داخل ہوئیں۔ ان کی نظر شہریار پر پڑی تو وہ رک گئیں۔ تم یہاں کیا کر رہے ہو… تمہارا روسٹر تو یہاں نہیں ہے۔ شہریار نے احترام سے کہا…سر میں صرف سیکھنے کے لئے آیا ہوں۔ اسٹاف نے اجازت دی ہے۔ مگر جواب سخت تھا۔ یہاں اجازت سے نہیں روسٹر سے بیٹھا جاتا ہے۔ فوراً باہر جاؤ۔ شہریار نے وضاحت کی کوشش کی مگر بات سننے کا موقع نہ ملا۔ اس سے کہا گیا کہ اگر وہ فوراً باہر نہ نکلا تو پولیس بلائی جائے گی۔ وہ خاموشی سے باہر آ گیا۔ اس کے پیچھے ایمرجنسی کا دروازہ بند ہو گیا مگر اس کے اندر جیسے کوئی دروازہ ہمیشہ کے لئے کھل گیا تھا. ایسا دروازہ جس کے پیچھے ذلت، سوال اور بے بسی کھڑی تھی۔

مگر شہریار اکیلا نہیں تھا۔ اس جیسے بہت سے دوسرے طالب علم بھی تھے جو روسٹر کے بغیر ایمرجنسی میں موجود تھے اور انہیں بھی مختلف انداز میں سخت رویے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کسی کو تھپڑ مارا گیا، کسی کا کارڈ لے لیا گیا، کسی کی تصویر اٹھا لی گئی اور کسی کو سب کے سامنے ڈانٹ کر باہر نکال دیا گیا۔ شہریار کے دل میں یہی سوال بار بار اٹھتا رہا کہ اگر ان سے غلطی ہوئی بھی تھی تو کیا انہیں سمجھانے اور عزت کے ساتھ باہر بھیجنے کے بجائے اس طرح ذلیل کرنا ضروری تھا۔ وہ سوچتا تھا کہ ہم طالب علم تھے، مجرم نہیں، ہم یہاں وقت گزارنے نہیں بلکہ کچھ سیکھنے اور مریضوں کی خدمت کرنے آئے تھے۔
اس رات شہریار نے حمزہ کے کمرے میں قیام کیا مگر آنکھوں میں نیند نہیں تھی۔ اسے مریض یاد آرہے تھے، وہ نرسیں یاد آرہی تھیں جن کے ساتھ چند گھنٹوں میں ایک اعتماد پیدا ہو گیا تھا اور سب سے بڑھ کر وہ لمحہ یاد آ رہا تھا جب کئی لوگوں کے سامنے اسے ایمرجنسی سے باہر جانے کو کہا گیا تھا۔ وہ اپنی غلطی تسلیم کرتا تھا۔ ہاں، میرا روسٹر وہاں نہیں تھا۔ مجھے نہیں جانا چاہیے تھا۔ مگر پھر اس کے دل میں ایک دوسرا سوال اٹھتا کہ کیا ایک طالب علم کی غلطی کا جواب اسے سب کے سامنے اس طرح رسوا کرنا ہونا چاہیے…کیا اسے سمجھایا نہیں جا سکتا تھا… وہ کروٹ بدلتا رہا۔ صبح کی اذان ہوئی تو بھی اس کی آنکھیں خشک تھیں مگر دل میں فیصلہ پیدا ہو چکا تھا۔

اگلے دن شہریار نے اپنے ایک جاننے والے ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر غلام رسول سے رابطہ کیا جو ہسپتال کے انتظامی حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ شہریار نے کسی انتقام کی بات نہیں کی۔ اس نے صرف کہا، سر مجھے ایک موقع چاہیے۔ میں ایمرجنسی میں سیکھنا چاہتا ہوں۔ اگر مجھے قانونی طور پر روسٹر مل جائے تو میں پوری ذمہ داری کے ساتھ کام کروں گا۔ ڈاکٹر غلام رسول نے اس کی بات سنی اور ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر مسٹر راشد سے بات کی۔ راشد نے شہریار کو دفتر بلایا، تم ایمرجنسی میں کیوں جانا چاہتے ہو… انہوں نے پوچھا۔ شہریار نے جواب دیا، سر، پیسے کے لئے نہیں۔ مجھے کام سیکھنا ہے۔ میں مریضوں کے قریب رہ کر سیکھنا چاہتا ہوں۔ راشد نے چند لمحے اسے دیکھا پھر کہا، ٹھیک ہے، میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے بات کرتا ہوں۔
میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سائرہ ایک سنجیدہ مگر شفیق خاتون تھیں۔ شہریار ان کے دفتر پہنچا تو انہوں نے پہلے اس کی بات پوری توجہ سے سنی۔ تم ہفتے میں کتنی راتیں دینا چاہتے ہو۔۔انہوں نے پوچھا۔ شہریار نے کہا کہ کم از کم دو راتیں۔ ڈاکٹر سائرہ مسکرائیں۔ دو کیوں۔۔۔ہفتہ میں چار دن نائیٹ ڈیوٹی دو اگر واقعی سیکھنا چاہتے ہو۔ شہریار نے فوراً کہا کہ میم دن کی ڈیوٹی کالج کے روسٹر کے حساب سے بھی دینی ہوتی ہے۔ رات میں اپنی مرضی سے دینا چاہتا ہوں۔ میں پڑھنا بھی چاہتا ہوں اور مریضوں کی خدمت بھی کرنا چاہتا ہوں۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سائرہ کے چہرے پر مسکراہٹ گہری ہوگئی۔ بیٹا، جذبہ اچھا ہے مگر اپنی صحت کا بھی خیال رکھنا۔ بہرحال میں تمہارا روسٹر ایمرجنسی میں رکھوا دیتی ہوں۔ اب تم قانونی طور پر یہاں کام کرو گے۔

ڈاکٹر سائرہ نے صرف روسٹر ہی نہیں بنوایا بلکہ شہریار سے یہ بھی کہا کہ جب تک وہ اپنی ذمہ داری پوری ایمانداری سے نبھائے گا، اسے سیکھنے کے مواقع دیے جائیں گے۔ شہریار نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میم میں کسی عہدے یا خاص رعایت کے لئے نہیں آیا ہوں، میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ مجھے کام سیکھنے دیا جائے۔ ڈاکٹر سائرہ نے جواب دیا کہ بیٹا، ایسے طالب علم جو سیکھنے کے لئے خود راستہ تلاش کرتے ہیں، اداروں کے لئے بوجھ نہیں ہوتے سرمایہ ہوتے ہیں۔
چند دن بعد شہریار دوبارہ اسی ایمرجنسی میں کھڑا تھا جہاں کبھی اسے باہر نکالا گیا تھا۔ اس بار اس کے ہاتھ میں باقاعدہ روسٹر تھا۔ اسٹاف نے اسے دیکھا تو خوشی سے استقبال کیا۔ ارے شہریار تم واپس آ گئے… اس نے مسکرا کر کہا، جی، اب باقاعدہ روسٹر کے ساتھ۔ سب ہنس پڑے۔ اسی دوران نرسنگ سپروائزر مسٹر نزیر اور مسٹر منظور اندر داخل ہوئیں۔ ان کی نظر شہریار پر پڑی تو دونوں رک گئیں۔ تم یہاں.. شہریار نے کارڈ اور روسٹر پیش کیا۔ منظور نے کاغذ دیکھا پھر حیرت سے پوچھا، یہ روسٹر کس نے بنایا… اسٹاف کی ایک نرس نے جواب دیا، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور ایڈمنسٹریٹر کی منظوری سے۔ چند لمحوں میں لہجہ مکمل طور پر بدل چکا تھا۔ اچھا بیٹا، کیسے ہو؟ آؤ، بیٹھو اور آرام سے کام کرو۔ شہریار نے صرف مسکرا کر کہا، جی شکریہ۔۔

اس دن شہریار نے ایک عجیب حقیقت دیکھی۔ وہی لوگ جن کے سامنے چند دن پہلے اس کا وجود ایک غیر ضروری طالب علم سے زیادہ نہیں تھا، اب اس سے انتہائی احترام سے بات کر رہے تھے۔ اسے پہلی بار سمجھ آیا کہ بعض اوقات انسان کی قابلیت نہیں بلکہ اس کے بارے میں دوسروں کی معلومات اس کے ساتھ برتاؤ بدل دیتی ہیں۔ مگر شہریار نے دل میں فیصلہ کیا کہ وہ اس عزت کو اپنے تکبر کا سبب نہیں بنائے گا۔ وہ وہی شہریار رہے گا جو مریض کی فائل اٹھانے، خدمت کرنے، نئے طالب علم کو طریقہ سمجھانے اور ضرورت مند کے پاس کھڑے ہونے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔
اس کے بعد شہریار کی زندگی بدلنے لگی۔ وہ دن میں کالج کی ڈیوٹی کرتا اور رات کو ایمرجنسی میں پہنچ جاتا۔ کبھی رات دس بجے اباجان کا فون آتا، بیٹا، سو گئے…وہ تھکے ہوئے لہجے میں کہتا، جی اباجان…بس ابھی سونے لگا ہوں۔ مگر حقیقت یہ ہوتی کہ وہ پوری رات مریضوں کی خدمت میں مصروف رہتا تھا۔ کبھی صبح تک کام کرنے کے بعد پھر دن کی ڈیوٹی کالج کے روسٹر کے حساب سے دیتا، پھر گھر پہنچ کر چند گھنٹے آرام کرتا اور پھر دوبارہ ہسپتال کے لئے نکل جاتا۔ اسٹاف حیران تھا کہ یہ لڑکا خود کو تھکاتا کیوں ہے۔ مگر شہریار کے لئے یہ تھکن نہیں تھی۔ اسے لگتا تھا کہ ہر مریض ایک کتاب ہے جس کا ایک صفحہ بھی اگر توجہ سے پڑھ لیا جائے تو وہ کچھ نہ کچھ سیکھ سکتا ہے۔
ایک رات اس کے والد نے پھر فون کیا۔ بیٹا، آج بھی ڈیوٹی پر ہو…. شہریار نے مسکرا کر کہا، جی اباجان۔ والد نے کچھ لمحے خاموش رہ کر کہا، بیٹا اپنے آپ کو اتنا مت تھکاؤ۔ شہریار نے جواب دیا، اباجان جب میں کسی مریض کو بہتر حالت میں دیکھتا ہوں تو میری تھکن خود ختم ہو جاتی ہے۔ والد نے فون بند کرنے سے پہلے صرف اتنا کہا، اللہ تمہیں کامیاب کرے۔ شہریار نے فون جیب میں رکھا اور دوبارہ مریض کی طرف متوجہ ہوگیا۔

آہستہ آہستہ میڈیکل اور سرجیکل ایمرجنسی کے اسٹاف میں بھی اس کی جگہ بن گئی۔ کبھی دونوں طرف سے آواز آتی کہ اج شہریار ہمارے ساتھ رہے گا۔ وہ کبھی ادھر جاتا، کبھی ادھر۔ جس وارڈ میں کسی طالب علم کو کوئی طریقہ نہیں آتا، شہریار مدد کے لئے پہنچ جاتا۔ کبھی کوئی سینیئر اس سے سوال پوچھتا اور شہریار جواب دے دیتا۔ نئے طلبہ آتے تو وہ اسے سینیئر سمجھتے۔ بعض تو اسے سر کہہ کر مخاطب کرتے۔ شہریار ہنس کر کہتا، میں بھی تمہاری طرح طالب علم ہوں۔
کبھی میڈیکل ایمرجنسی کا اسٹاف اسے اپنے پاس بلاتا اور کبھی سرجیکل ایمرجنسی والے کہتے کہ آج شہریار ہمارے ساتھ رہے گا۔ بعض اوقات یہ دوستانہ مقابلہ اتنا بڑھ جاتا کہ شہریار دونوں طرف کا دل رکھنے کے لئے کچھ وقت میڈیکل میں اور کچھ وقت سرجیکل میں گزارتا۔ اسے کسی ایک جگہ بیٹھنے سے زیادہ یہ پسند تھا کہ جہاں ضرورت ہو وہاں پہنچ جائے۔

ایک دن ایک نئی نرس مریم ڈیوٹی پر آئی۔ اسے کئی کاموں میں دشواری تھی۔ شہریار نے بغیر کسی غرور کے اسے وہ طریقے سمجھائے جو وہ سیکھ چکا تھا۔ چند ہفتوں بعد مریم نے کہا کہ میری پہلی تنخواہ آپ کے نام۔ شہریار نے فوراً ہاتھ روک دیا۔ نہیں، یہ آپ کی محنت ہے۔ مجھے صرف دعا میں یاد رکھیے۔

مریم نے کہا، آپ نے میرے لئے جو کیا وہ میں کبھی نہیں بھولوں گی۔ شہریار نے مسکرا کر کہا، میں نے صرف وہی کیا جو کبھی کسی نے میرے لئے کیا تھا۔ سیکھنے والا جب سیکھ جائے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ اگلے شخص کے لئے راستہ آسان کرے۔

مریم کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ اس نے کہا، آپ نے مجھے صرف کام نہیں سکھایا، اعتماد دیا ہے۔ شہریار نے کہا، اعتماد ہی نرسنگ کی پہلی دوا ہے۔

ہسپتال میں شہریار کی چھٹی بھی عجیب تھی۔ اسٹاف کو معلوم تھا کہ اگر چھٹی کے دن کسی اضافی مدد کی ضرورت پڑی تو شہریار کو بلایا جا سکتا ہے۔ ایک اتوار ایمرجنسی میں کام بڑھ گیا۔ کسی نے کہا، شہریار کو فون کرو۔ دوسرے نے جواب دیا، آج تو اس کی چھٹی ہے اور وہ پچاس کلو میٹر دور رہتا ہے۔ نرس نے کہا چھٹی ہے مگر اگر اسے بتا دو کہ مریض زیادہ ہیں تو وہ آ جائے گا۔ فون گیا اور کچھ گھنٹے بعد شہریار ہسپتال کے دروازے پر تھا۔ اسے دیکھ کر نرسنگ سپروائزر نے کہا کہ تم واقعی عجیب لڑکے ہو۔ چھٹی کے دن بھی آجاتے ہو۔ شہریار مسکرایا اور کہا "سر” اگر مریض کی چھٹی نہیں تو میری کیسے ہو سکتی ہے۔۔۔ سب خاموش ہوگئے۔ اس ایک جملے نے اس کی پوری شخصیت بیان کر دی۔

رفتہ رفتہ یہ بات پورے اسٹاف میں مشہور ہوگئی کہ اگر کوئی ہنگامی ضرورت ہو اور چھٹی کا دن ہو تو شہریار کو فون کر لیا جائے۔ کئی بار اسے آرام کے دن بھی بلایا گیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ شہریار بہانہ نہیں بنائے گا۔ وہ آتا، اپنا کام کرتا اور واپس چلا جاتا۔ اسے کبھی اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ وہ دوسروں سے زیادہ کام کر رہا ہے۔ اس کے لئے یہ صرف مریض کی خدمت تھی۔

اسی دوران، شہریار کی انٹرن شپ کے دوران پیش آنے والا ایک اور واقعہ بھی اس کے ذہن میں تازہ تھا۔ اس کے چند دوستوں کا ہسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر یعنی CMO ڈاکٹر اعجاز احمد کے ساتھ ایک تنازع ہوگیا تھا۔ شہریار کا براہ راست اس معاملے سے تعلق نہیں تھا مگر وہ دوستوں کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔ وہ خود CMO کے دفتر گیا اور ان کی طرف سے معافی مانگی۔

چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر اعجاز احمد سخت مزاج اور اپنے عہدے کے وقار کے حوالے سے محتاط افسر تھے۔ انہوں نے ابتدا میں شہریار کو بھی کافی کچھ سنایا۔ شہریار خاموشی سے سنتا رہا۔ اس نے اپنی صفائی پیش کرنے کے بجائے صرف اتنا کہا کہ سر، میں اپنے دوستوں کی طرف سے معافی مانگنے آیا ہوں۔ اگر ان سے غلطی ہوئی ہے تو میں اس پر شرمندہ ہوں۔

ڈاکٹر اعجاز نے اس کا فون دیکھا اور اس کے بعض انتظامی اور سماجی رابطوں کا اندازہ ہوا۔ ان پر بھی یہ بات واضح ہوگئی کہ شہریار شاید بظاہر ایک عام سا طالب علم ہے مگر اس کے تعلقات اور جان پہچان کافی دور تک ہیں۔ مگر شہریار نے کبھی ان رابطوں کو اپنی ذاتی طاقت بنانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ وہ اس دن بھی کسی فائدے کے لئے نہیں بلکہ اپنے دوستوں کے لئے گیا تھا۔

کچھ دیر بعد CMO کا لہجہ بدل گیا۔ انہوں نے چائے منگوائی۔ شہریار کے ساتھ موجود میم کے لئے بھی چائے لائی گئی۔ جو ملاقات سختی سے شروع ہوئی تھی وہ نسبتاً نرم ماحول میں ختم ہوئی۔ شہریار نے محسوس کیا کہ اصل کامیابی کسی بڑے آدمی سے اپنی جان پہچان ثابت کرنا نہیں بلکہ اپنے مقصد کی وضاحت کرنا تھی۔

بعد میں جب کالج انتظامیہ کو معلوم ہوا کہ شہریار CMO کے پاس گیا تھا تو کچھ لوگ اس سے ناراض ہوئے۔ اسے کہا گیا کہ کل کالج آنا ہے ورنہ گھسیٹ کر لائیں گے۔ شہریار کو اس بات کا دکھ ہوا کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ اس نے اپنے دوستوں اور ادارے کی عزت بچانے کے لئے قدم اٹھایا تھا۔ اسی دوران CMO ڈاکٹر اعجاز نے اس کے ساتھ موجود میم سے کہا تھا کہ اگر کالج میں شہریار کو کسی نے کچھ کہا تو وہ خود کالج جائیں گے۔ معاملہ وہیں ختم ہوگیا اور اگلے دن شہریار کو کالج نہیں بلایا گیا۔

شہریار کے دل میں یہ بات رہ گئی کہ اس نے جو کیا تھا وہ خودغرضی کے لئے نہیں کیا تھا۔ اس کے لئے دوستوں کی مدد کرنا بھی خدمت کا حصہ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کے کالج کی ساکھ خراب نہ ہو اور ہسپتال میں اس کے ساتھیوں کے لئے مسئلہ پیدا نہ ہو۔ مگر ادارے نے اس وقت اس کی نیت کو پوری طرح نہیں سمجھا۔

اس کے باوجود شہریار نے کسی کے خلاف نفرت نہیں رکھی۔ اس نے اپنے دل میں یہ طے کیا کہ اگر کبھی اسے اختیار ملا تو وہ کسی طالب علم کو اس طرح نہیں ڈانٹے گا جس طرح اسے کبھی ڈانٹا گیا تھا۔ وہ غلطی پر ضرور سمجھائے گا مگر عزت کے ساتھ۔

وقت گزرتا گیا۔ اب ہسپتال کے نرسنگ سپروائزرز شہریار کی عزت کرنے لگے تھے۔ کبھی کسی طالب علم کو کوئی کام سمجھ نہ آتا تو اسے شہریار کے پاس بھیجا جاتا۔ کبھی کوئی نیا اسٹاف ممبر گھبرا جاتا تو اسے کہا جاتا کہ شہریار سے پوچھ لو۔ بعض لوگوں کو ابتدا میں حیرت ہوتی کہ ایک طالب علم کو اتنی ذمہ داریاں کیوں دی جا رہی ہیں مگر جب وہ اس کا کام دیکھتے تو سوال ختم ہو جاتے۔

ایک دن شہریار نے دیکھا کہ ایک سینیئر طالب علم کسی مریض کے ساتھ پریشان کھڑا ہے۔ شہریار اس کے پاس گیا اور پوچھا کیا ہوا۔ اس نے کہا مجھے یہ کام سمجھ نہیں آرہا۔ شہریار نے بغیر یہ سوچے کہ وہ خود اس سے جونیئر ہے، اسے طریقہ سمجھایا۔ وہ طالب علم حیران ہو کر بولا، تم تو ہم سے جونیئر ہو۔ شہریار نے ہنس کر جواب دیا، مریض کے سامنے سینئر اور جونیئر نہیں ہوتے وہاں صرف سیکھنے والے اور خدمت کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہ جملہ بعد میں کئی طلبہ کے درمیان مشہور ہوگیا۔

شہریار کی شہرت کسی عہدے سے نہیں بنی تھی۔ اس کا کوئی بڑا نام نہیں تھا۔ وہ صرف ایک طالب علم تھا جو دن میں اپنی کالج ڈیوٹی پوری کرتا اور رات کو اپنی خواہش سے ہسپتال آتا۔ مگر آہستہ آہستہ لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ شہریار کے لئے نرسنگ صرف ایک ڈگری نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔

اور شاید یہی وجہ تھی کہ جب کسی چھٹی کے دن ہسپتال میں عملے کی کمی ہوتی تو سب سے پہلے شہریار کا نام لیا جاتا۔ کوئی کہتا، اسے فون کرو۔ وہ آ جائے گا۔ کبھی شہریار تھکا ہوتا، کبھی اس کی اپنی پڑھائی ہوتی، کبھی اسے آرام کی ضرورت ہوتی مگر مریضوں کی خبر سنتے ہی وہ پہنچ جاتا۔

ایک دن ایک نرسنگ سپروائزر نے اس سے کہا، شہریار، تمہیں معلوم ہے تمہیں سب سے زیادہ عزت کیوں ملتی ہے…. شہریار نے سر ہلایا۔ سپروائزر نے کہا، اس لئے نہیں کہ تم کسی کے جاننے والے ہو، اس لئے نہیں کہ تمہاری سفارش ہے بلکہ اس لئے کہ جب کام آتا ہے تو تم غائب نہیں ہوتے۔ شہریار نے کچھ نہیں کہا۔ اس کے لئے یہ شاید سب سے بڑی تعریف تھی۔ لیکن انٹرن شپ کے آخری دن قریب آ رہے تھے۔ اب انٹرن شپ کے آخری دو دن تھے۔ شہریار ان لوگوں کو بہت یاد کر رہا تھا جنہوں نے اسے ہمیشہ عزت دی، کھانا کھلایا اور اپنوں کی طرح اپنے پاس بلایا۔ خاص طور پر دو اسٹاف ممبر اس کے دل کے بہت قریب تھے، جنہوں نے اسے صرف عزت ہی نہیں دی بلکہ بہت کچھ سکھایا بھی تھا۔ ان سے بچھڑنے کا خیال ہی شہریار کو اداس کر رہا تھا۔

مگر ہر روشنی کے پیچھے ایک سایہ ہوتا ہے۔ ایک دن شہریار سرجیکل وارڈ میں اپنے گاؤں کے ایک مریض کے ساتھ موجود تھا مگر اس کا روسٹر وہاں نہیں تھا۔ اس کے کلاس میٹس ایک مشکل مریض کے ساتھ تھے اور انہیں کینولیشن میں دشواری ہو رہی تھی۔ انہوں نے شہریار سے مدد مانگی۔ شہریار نے مریض کی حالت دیکھی، ضروری احتیاط کے ساتھ مدد کی اور واپس اپنے کام پر چلا گیا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ اسی واقعے کو کچھ سینیئر طلبہ نے شکایت بنا دیا ہے۔ اگلے دن کالج سے فون آیا، شہریار، کل کالج آنا ہے۔ اسے لگا شاید وضاحت مانگی جائے گی۔ وہ مطمئن تھا کیونکہ اسے یقین تھا کہ اس نے مریض کی مدد کے سوا کچھ نہیں کیا۔

اگلی صبح گاڑی دیر سے ملی، اس لئے وہ تقریباً بارہ بجے کالج پہنچا۔ لائبریری میں جا کر اس نے اپنے فون نکالا۔ انٹرن شپ کے آخری دو دن باقی تھے۔ اچانک گروپ میں ایک نوٹس آیا۔ شہریار کو دو دن کے لئے معطل کر دیا گیا تھا۔ وہ دیر تک اس کاغذ کو دیکھتا رہا۔ اس کے ذہن میں ایک ہی سوال تھا کہ کیا خدمت کا صلہ یہی ہے۔۔۔ اسی وقت ایک میم، مس حنا وہاں آئیں۔ انہوں نے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا…. شہریار نے سب بتایا۔ انہوں نے حیرت سے پوچھا کہ تم رات کو ایمرجنسی میں کیوں ہوتے ہو… شہریار نے کہا، میم، وہاں میرا باقاعدہ روسٹر ہے۔ ایڈمنسٹریٹر اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی منظوری سے۔ مس حنا نے کہا مجھے روسٹر نہیں آرڈر دیکھاوں۔ شہریار نے جواب دیا، میں آرڈر بھی پیش کر دوں گا۔

اس کے بعد معاملہ اچانک سنگین ہوگیا۔ کچھ لوگوں نے شہریار کی بات کو اس انداز میں لیا جیسے وہ کالج کے اختیار کو چیلنج کر رہا ہو۔ اسے دفتر میں بلایا گیا۔ آوازیں بلند ہوئیں۔ ایک استاد نے کہا کہ اگر تمہیں چیف منسٹر بھی روسٹر رکھیں گا تب بھی وہ غیر قانونی ہے۔

شہریار نے کوشش کی کہ وہ غصے میں جواب نہ دے۔ اس نے کہا کہ میم میں کالج کے وقت میں کالج کی ذمہ داری میں ہوں۔ چار بجے کے بعد میں ہسپتال کے انتظامی روسٹر کے مطابق ہوتا ہوں۔ میں نے اپنے کوآرڈینیٹر کو بھی پہلے بتایا تھا۔ میں کالج کا کارڈ بھی اس وقت استعمال نہیں کرتا۔ اگر کوئی غلطی ہے تو مجھے سمجھا دیجیے مگر میری بات بھی سن لیجیے۔

لیکن اس کی بات پوری طرح سنی نہیں گئی۔ اسے دو دن کے لئے معطل کر دیا گیا اور کلاس ریپریزنٹیٹو کی ذمہ داری سے بھی ہٹا دیا گیا۔ اس لمحے شہریار کو پہلی مرتبہ یہ خیال آیا کہ شاید ادارے اسے ایک طالب علم کے طور پر نہیں بلکہ ایک مسئلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اسے دکھ اس بات کا نہیں تھا کہ اسے سزا ملی، دکھ اس بات کا تھا کہ جس جذبے سے وہ کام کر رہا تھا، اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

اسی دوران ایک اور میم نے اس سے پوچھا، کیا تم چار بجے کے بعد کالج کا کارڈ پہنتے تھے…شہریار نے کہا نہیں۔ پھر پوچھا گیا، کیا تم نے کوآرڈینیٹر کو بتایا تھا…شہریار نے کہا جی، میں نے پہلے ہی بتایا تھا کہ چار بجے کے بعد میں ہسپتال میں ہوتا ہوں اور وہاں کالج کی طرف سے نہیں بلکہ ہسپتال کی انتظامیہ کے روسٹر کے مطابق کام کرتا ہوں۔ میم نے کہا، پھر پہلے مکمل حقیقت دیکھنی چاہیے تھی۔ تم چار بجے تک کالج کی ذمہ داری ہو، اس کے بعد اگر ہسپتال نے باقاعدہ اجازت دی ہے تو معاملہ مختلف ہے۔ اس ایک بات نے شہریار کے دل کو کچھ سکون دیا۔ اسے لگا کہ شاید ابھی بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو سزا دینے سے پہلے حقیقت دیکھنا چاہتے ہیں۔

وہ کبھی کبھی سوچتا کہ اگر کالج اسے معطل کرنے کے بجائے اس کے جذبے پر فخر کرتا تو شاید اس کے دل میں ادارے کے لئے اور بھی زیادہ محبت پیدا ہوتی۔ آخر ایک ادارے کے لئے اس سے بڑا فخر کیا ہوسکتا ہے کہ اس کا طالب علم دن کی ڈیوٹی کے بعد رات کو اپنی مرضی سے ہسپتال جائے، مریضوں کی خدمت کرے، نئے لوگوں کو سکھائے اور چھٹی کے دن بھی ضرورت پڑنے پر پہنچ جائے۔ مگر ادارے اکثر انسان کو اس کے پورے کردار سے نہیں دیکھتے۔ کبھی ایک غلطی پوری شخصیت پر بھاری پڑ جاتی ہے۔ شہریار بھی اسی حقیقت سے گزر رہا تھا۔

معطلی کے بعد شہریار نے ہسپتال کا رخ نہیں کیا۔ انٹرن شپ کے وہ آخری دو دن، جنہیں وہ اپنے سیکھنے اور خدمت کے سفر کا حصہ سمجھ رہا تھا، اچانک اس کے لئے رک گئے تھے۔ وہ گھر میں بیٹھا اپنی پوری انٹرن شپ کے بارے میں سوچتا رہا۔ اسے وہ پہلا دن یاد آیا جب اسے کچھ نہیں آتا تھا۔ وہ رات یاد آئی جب اسے روسٹر کے بغیر ایمرجنسی سے نکالا گیا تھا۔ وہ دن یاد آیا جب ڈاکٹر سائرہ نے اس کے جذبے کو سمجھا تھا۔ اسے وہ نرسیں یاد آئیں جو اب اسے اپنے ساتھی کی طرح سمجھتی تھیں۔ اسے وہ نئے طلبہ یاد آئے جنہیں اس نے سکھایا تھا۔ اسے وہ اتوار یاد آیا جب چھٹی کے باوجود وہ مریضوں کے لئے ہسپتال پہنچ گیا تھا۔ اچانک اسے احساس ہوا کہ شاید اس کا اصل امتحان کسی کتاب یا امتحان میں نہیں بلکہ اسی کشمکش میں ہے کہ وہ حالات کے تلخ رویے کے باوجود اپنے اندر کی انسانیت کو زندہ رکھ سکتا ہے یا نہیں۔

اسے انچارج نرس کی وہ بات بھی یاد آئی کہ عزت مانگنے سے نہیں ملتی کام سے ملتی ہے۔ شہریار نے خود سے کہا کہ میں نے بھی یہی سیکھا ہے کہ انسان کو اپنے کام سے جواب دینا چاہیے۔

اسے نرسنگ سپروائزر مسٹر نزیر بھی یاد آئے۔ وہی نزیر جن کے سامنے کبھی شہریار کو ایمرجنسی سے باہر نکالا گیا تھا۔ شہریار سوچتا رہا کہ شاید لوگوں کو وقت کے ساتھ یہ سمجھ آتا ہے کہ سختی اور نظم کے درمیان بھی ایک فرق ہوتا ہے۔ شہریار نے کبھی کسی سے شکایت نہیں کی تھی۔ اس نے صرف یہی سیکھا تھا کہ اصول ضروری ہیں، مگر طالب علم کی عزت بھی ضروری ہے۔

شہریار کے ذہن میں ہسپتال کے وہ دن ایک ایک کرکے واپس آتے رہے۔ کبھی میڈیکل ایمرجنسی، کبھی سرجیکل ایمرجنسی، کبھی وارڈ، کبھی کسی طالب علم کی مدد۔ اسے یاد آیا کہ کس طرح نرسنگ سپروائزرز بھی اسے اعتماد سے دیکھنے لگے تھے۔ بعض اوقات اگر انہیں معلوم ہوتا کہ کوئی مشکل کام ہے تو وہ کہتے، شہریار کو بلا لو، اسے سمجھ ہے۔

اسے مریم بھی یاد آئی، جس نے کہا تھا کہ میری پہلی تنخواہ آپ کے نام۔ شہریار ہنس کر سوچنے لگا کہ میں نے تو صرف وہی کیا تھا جو کبھی کسی نے میرے لئے کیا تھا۔ سیکھنے والا جب سیکھ جائے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ اگلے شخص کے لئے راستہ آسان کرے۔

اسے وہ اتوار بھی یاد آیا جب چھٹی کے باوجود وہ ہسپتال پہنچ گیا تھا۔ کسی نے کہا تھا کہ تم واقعی عجیب لڑکے ہو، چھٹی کے دن بھی آجاتے ہو۔ شہریار نے مسکرا کر جواب دیا تھا، سر، اگر مریض کی چھٹی نہیں تو میری کیسے ہو سکتی ہے۔ اب گھر میں بیٹھے اسے اپنا وہ جملہ یاد آیا تو اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔

پھر اسے وہ دن بھی یاد آیا جب اس نے اپنے دوستوں کے لئے CMO ڈاکٹر اعجاز احمد کے پاس جا کر معافی مانگی تھی۔ اس نے کسی فائدے کے لئے ایسا نہیں کیا تھا۔ وہ صرف اپنے دوستوں کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔ اسے اس وقت بھی یہی محسوس ہوا تھا کہ دوستوں کی مدد کرنا بھی خدمت کا حصہ ہے۔

اس کے بعد اسے اپنی معطلی کا کاغذ یاد آیا۔ وہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا۔ اس کے دل میں دکھ تھا مگر نفرت نہیں۔ اسے لگا کہ شاید اسے ایک بار پھر غلط سمجھا گیا ہے۔ لیکن اس بار بھی اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی تلخی کو نفرت نہیں بننے دے گا۔ اگر کبھی اسے اختیار ملا تو وہ کسی طالب علم کو اس طرح نہیں ڈانٹے گا جس طرح اسے کبھی ڈانٹا گیا تھا۔ وہ غلطی پر ضرور سمجھائے گا، مگر عزت کے ساتھ۔

رات گئے شہریار اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔ میز پر اس کا پرانا روسٹر رکھا تھا، ساتھ ہی معطلی کا کاغذ بھی تھا۔ اس نے دونوں کاغذ ایک ساتھ دیکھے۔ ایک کاغذ اسے بتا رہا تھا کہ وہ کہاں کھڑا ہو سکتا ہے، دوسرا اسے یاد دلا رہا تھا کہ وہ کہاں کھڑا ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس نے دونوں کو احتیاط سے ایک فائل میں رکھ دیا۔ پھر کھڑکی کھولی۔ باہر شہر سو رہا تھا، مگر ہسپتال کی دور کی روشنیاں اب بھی جل رہی تھیں۔ شہریار نے آہستہ سے خود سے کہا، شاید ایک اچھے نرس کی پہچان یہ نہیں کہ اسے کتنے اختیارات ملے بلکہ یہ ہے کہ اختیار نہ ہونے کے باوجود وہ کتنے لوگوں کے کام آیا۔

کمرے میں پھر خاموشی اتر آئی۔ شہریار نے کھڑکی سے دور جلتی ہوئی انہی روشنیوں کو دیکھا جن کے درمیان اس نے اپنی انٹرن شپ کے دن اور راتیں گزار دی تھیں۔ اسے معلوم تھا کہ اگلی صبح وہ ہسپتال نہیں جائے گا۔ انٹرن شپ کے آخری دو دن اس سے چھین لئے گئے تھے۔ مگر اسے یہ بھی معلوم تھا کہ ہسپتال سے باہر آ جانے سے وہ سیکھنا بند نہیں کرے گا۔

اس نے میز پر رکھا معطلی کا کاغذ دوبارہ اٹھایا، اسے تہہ کیا اور روسٹر کے ساتھ فائل میں رکھ دیا۔ پھر اس نے لائٹ بند کر دی۔ شہر سو رہا تھا۔ مگر شہریار کے اندر ایک نئی صبح جاگ چکی تھی۔

کئی برس بعد اسی ہسپتال کی ایک راہداری میں نئے طلبہ کا ایک گروہ کھڑا تھا۔ ایک نوجوان نے دوسرے سے پوچھا وہ شہریار کون تھا جس کا سب اتنا ذکر کرتے ہیں؟ قریب کھڑی ایک سینیئر نرس نے یہ سوال سنا تو چند لمحوں کے لئے خاموش ہوگئی جیسے برسوں پرانی کوئی یاد اچانک اس کے سامنے زندہ ہوگئی ہو۔ پھر وہ آہستہ سے بولی، وہ ایک ایسا شخص تھا جس نے شاید کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس ہسپتال کی راہداریاں ایک دن اسے ہمیشہ یاد رکھیں گی۔ وہ دوسروں سے مختلف تھا جہاں اکثر لوگ وقت گزرنے اور ڈیوٹی ختم ہونے کا انتظار کرتے تھے، وہ ہر گزرتے لمحے سے کچھ سیکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ نوجوان نے حیرت سے پوچھا کہ کیا وہ یہاں کوئی بہت بڑا افسر تھا۔ نرس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی مگر اس کی آنکھوں میں عجیب سی سنجیدگی تھی۔ اس نے چند لمحے توقف کے بعد کہا، نہیں وہ نہ کوئی بڑا افسر تھا اور نہ ہی کسی بڑے عہدے پر فائز تھا وہ صرف ایک طالب علم تھا۔ نوجوان حیرت سے اسے دیکھنے لگا تو نرس نے راہداری کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، مگر اس نے ہمیں یہ سکھایا کہ کبھی کبھی انسان کا عہدہ چھوٹا ہوتا ہے مگر اس کا کردار اتنا بڑا۔

اور شاید شہریار کی اصل کہانی یہی تھی۔ ایک پچاس کلومیٹر دور گھر سے روز ہسپتال آنے والے ایک عام سے طالب علم کی کہانی جسے ابتدا میں کسی نے خاص نہیں سمجھا، جس نے غلطی بھی کی، جسے ڈانٹ بھی پڑی، جسے ذلت بھی برداشت کرنا پڑی، جسے معطلی کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر جس نے اپنی تلخی کو نفرت نہیں بننے دیا۔ اس نے روسٹر مانگا تو اس لئے نہیں کہ اسے اختیار چاہیے تھا بلکہ اس لئے کہ اسے سیکھنے کا حق چاہیے تھا۔ اس نے چھٹی کے دن ہسپتال کا رخ اس لئے نہیں کیا کہ اسے کوئی انعام ملے گا بلکہ اس لئے کہ اسے یقین تھا کہ مریض کی تکلیف وقت نہیں دیکھتی۔ اور جب اس کے ہاتھ میں آخرکار کوئی بڑا عہدہ نہیں بلکہ صرف ایک نرسنگ کی شناخت آئی، تب بھی اس نے اپنے آپ سے یہی کہا کہ میں پہلے بھی طالب علم تھا، آج بھی سیکھ رہا ہوں اور جب تک کسی کے درد کو کم کرنے کی کوشش کرتا رہوں گا، میری تعلیم ختم نہیں ہوگی۔

شاید اسی لئے اس ہسپتال کے کچھ پرانے ملازمین آج بھی شہریار کا نام لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ کالج کو اسے معطل نہیں بلکہ اس پر فخر محسوس کرنا چاہیے تھا کیونکہ ہر ادارے کو ایسے طالب علم ملنا خوش قسمتی ہوتی ہے جو صرف نصاب مکمل کرنے نہیں آتے بلکہ اپنے کردار سے ادارے کی پہچان بن جاتے ہیں۔ شہریار نے کوئی بڑا عہدہ حاصل نہیں کیا تھا مگر اس نے لوگوں کے دلوں میں ایک چھوٹی سی جگہ ضرور بنا لی تھی۔ اور کبھی کبھی انسان کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ جب وہ کسی جگہ سے رخصت ہو تو عمارت وہیں کھڑی رہے، مگر اس کی غیر موجودگی محسوس ہونے لگے۔

افسانہ نگار
محمد عرفات وانی

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون