جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر/ کشمیر یونیورسٹی کے مرکز برائے کریئر کونسلنگ، کوچنگ اینڈ پلیسمنٹ (CCCP) نے مین کیمپس میں ’’پائلٹ ٹریننگ اور ہوا بازی میں کریئر کے راستے‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ ورکشاپ منعقد کی۔ ورکشاپ کا مقصد طلبہ کو پائلٹ تربیت، لائسنسنگ کے تقاضوں اور ہوا بازی کے شعبے میں دستیاب کریئر کے مواقع سے آگاہ کرنا تھا۔
یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر نیلوفر خان نے کہا کہ طلبہ کو روایتی کریئر سے ہٹ کر ابھرتے ہوئے شعبوں میں مواقع تلاش کرنے کے لیے مناسب رہنمائی اور صنعتی ماہرین سے رابطہ فراہم کرنا ضروری ہے۔ رجسٹرار پروفیسر نصیر اقبال نے بھی خصوصی پیشہ ورانہ شعبوں سے طلبہ کی واقفیت بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔
کلیدی خطاب کرتے ہوئے ممبئی کی نومبر الفا ایوی ایشن اکیڈمی (NAAA) کے بانی اور سینئر ہوا بازی کے ماہر کیپٹن نیتش اروڑا نے پائلٹ بننے کے مختلف مراحل اور پیشہ ورانہ تقاضوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے طلبہ کو ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) کے ضوابط، اہلیت، طبی معائنے، لائسنسنگ، بھارت اور بیرونِ ملک پرواز کی تربیت اور فضائی کمپنیوں میں کریئر کے امکانات سے آگاہ کیا۔
کیپٹن اروڑا نے پائلٹ تربیت کے لیے مالی اور تعلیمی تقاضوں، مناسب منصوبہ بندی اور مستند معلومات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ورکشاپ کے دوران سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا، جس میں طلبہ نے تربیتی مراحل، اہلیت اور کریئر کے امکانات سے متعلق سوالات کیے۔
اس موقع پر CCCP کے ڈائریکٹر پروفیسر نذیر دار نے خیرمقدمی خطاب میں طلبہ کو مختلف کریئر کے مواقع اور ماہرین کی رہنمائی فراہم کرنے کے لیے مرکز کی کوششوں کا ذکر کیا۔ NAAA کے نمائندوں کیپٹن کرشن کھنٹی لال اور کیپٹن عشرت منصوری بھی موجود تھے۔ کیپٹن عشرت منصوری نے ہوا بازی کے شعبے میں اپنے تجربات اور خیالات طلبہ کے ساتھ شیئر کیے۔
ورکشاپ میں یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔ کارروائی CCCP کی فیکلٹی فاطمہ علی نے چلائی، جبکہ شکریہ کی تحریک CCCP کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر یحییٰ بختیار نے پیش کی۔


