جنگ نیوز
نیشنل کانفرنس کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری اور رکن پارلیمنٹ چودھری محمد رمضان نے کہا ہے کہ محدود اختیارات، بیوروکریٹک رکاوٹوں اور یونین ٹیریٹری نظام کے باوجود عمر عبداللہ حکومت نے گزشتہ دو برسوں کے دوران مختلف شعبوں میں نمایاں کام کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوامی راحت، جمہوری حقوق کے تحفظ اور جموں و کشمیر کی ترقی کو ترجیح دی، تاہم اختیارات کی غیر مساوی تقسیم کے باعث کئی اہم فیصلوں کی رفتار متاثر ہوئی۔
چودھری محمد رمضان کے مطابق حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی خصوصی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد اسمبلی میں پیش کی، جبکہ ریاستی درجے کی بحالی کی قرارداد بھی کابینہ کی منظوری کے بعد اسمبلی میں منظور کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے تعلیم، بجلی، سماجی بہبود، روزگار، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں عوام کو راحت فراہم کرنے کے اقدامات کیے۔ غریب خاندانوں کے لئے شادی کی مالی امداد 50 ہزار سے بڑھا کر 75 ہزار روپے، خواتین، طلبہ اور معذور افراد کے لئے مفت بس خدمات، اہل خاندانوں کے لئے اضافی مفت راشن، اے اے وائی صارفین کو 200 یونٹ مفت بجلی اور چھ مفت ایل پی جی سلنڈر فراہم کرنے جیسے اقدامات کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ روزگار کے مواقع بڑھانے، خالی آسامیوں کو پُر کرنے اور مسابقتی امتحانات میں امیدواروں کی بالائی عمر کی حد بڑھانے کے لئے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ روزانہ اجرت اور عارضی ملازمین کے مسائل کے حل کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی، تاہم اس کی رپورٹ میں تاخیر پر انہوں نے افسوس ظاہر کیا۔
چودھری محمد رمضان نے کہا کہ حکومت نے بجلی کی فراہمی، سڑکوں، پانی، صحت اور عوامی نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ریاستی درجے کی بحالی مؤثر جمہوری حکمرانی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لئے ضروری ہے۔
نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر کشمیر ایڈووکیٹ شوکت احمد میر نے بھی حکومت کے دو سالہ دور کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ منتخب حکومت کے قیام سے مختلف شعبوں میں نئی توانائی پیدا ہوئی ہے۔


