ہوم اسٹے پالیسی 2026: سیاحت اور مقامی روزگار کو فروغ ملنے کی امید

 

جنگ نیوز

سری نگر/ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر ہوم اسٹے پالیسی 2026 کو پائیدار سیاحت کے فروغ، مقامی کاروبار کو مضبوط بنانے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔
کونسل آف منسٹرز کی منظوری کے بعد حکومت نے پالیسی نافذ کر دی ہے، جس کا مقصد بالخصوص دیہی، سرحدی، تاریخی اور ابھرتے ہوئے سیاحتی مقامات پر معیاری رہائشی سہولیات کو فروغ دینا ہے۔
پالیسی کے تحت سہولیات، صفائی اور حفاظتی معیار کی بنیاد پر ہوم اسٹے کی سلور اور گولڈ درجہ بندی کی جائے گی۔ مقامی رہائشی اپنے گھروں میں سیاحوں کو ٹھہرا کر آمدنی حاصل کر سکیں گے۔ اہل رہائشی عمارتوں کو بستر و ناشتے کی سہولت (Bed & Breakfast) کے طور پر بھی رجسٹر کیا جا سکے گا۔
مکمل درخواست جمع ہونے کے بعد 28 دن کے اندر عارضی سلور رجسٹریشن فراہم کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے، جو 6 ماہ تک مؤثر رہے گی۔
پالیسی کے تحت اہل منصوبوں کو وزیر اعظم روزگار پیداوار پروگرام (PMEGP) کے تحت 35 فیصد سبسڈی دینے کی سہولت بھی شامل ہے، جبکہ منصوبے کے لئے مالی معاونت کی زیادہ سے زیادہ حد 20 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔ اہل ہوم اسٹے کو گھریلو یوٹیلیٹی ٹیرف میں رعایت بھی مل سکتی ہے۔
اس کے علاوہ، PM Surya Ghar اسکیم کے تحت شمسی توانائی کے استعمال کے لئے سبسڈی اور جموں و کشمیر بینک کے ذریعے کم لاگت قرضوں تک رسائی کی سہولت بھی متعلقہ ضوابط کے مطابق فراہم کی جائے گی۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اس پالیسی سے روایتی سیاحتی مقامات سے آگے بھی سیاحت کو فروغ ملے گا، مقامی معیشت مضبوط ہوگی اور خطے کی ثقافت و مہمان نوازی کو نمایاں کرنے کے ساتھ سیاحت کے فوائد مختلف برادریوں تک پہنچیں گے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

ہوم اسٹے پالیسی 2026: سیاحت اور مقامی روزگار کو فروغ ملنے کی امید

 

جنگ نیوز

سری نگر/ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر ہوم اسٹے پالیسی 2026 کو پائیدار سیاحت کے فروغ، مقامی کاروبار کو مضبوط بنانے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔
کونسل آف منسٹرز کی منظوری کے بعد حکومت نے پالیسی نافذ کر دی ہے، جس کا مقصد بالخصوص دیہی، سرحدی، تاریخی اور ابھرتے ہوئے سیاحتی مقامات پر معیاری رہائشی سہولیات کو فروغ دینا ہے۔
پالیسی کے تحت سہولیات، صفائی اور حفاظتی معیار کی بنیاد پر ہوم اسٹے کی سلور اور گولڈ درجہ بندی کی جائے گی۔ مقامی رہائشی اپنے گھروں میں سیاحوں کو ٹھہرا کر آمدنی حاصل کر سکیں گے۔ اہل رہائشی عمارتوں کو بستر و ناشتے کی سہولت (Bed & Breakfast) کے طور پر بھی رجسٹر کیا جا سکے گا۔
مکمل درخواست جمع ہونے کے بعد 28 دن کے اندر عارضی سلور رجسٹریشن فراہم کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے، جو 6 ماہ تک مؤثر رہے گی۔
پالیسی کے تحت اہل منصوبوں کو وزیر اعظم روزگار پیداوار پروگرام (PMEGP) کے تحت 35 فیصد سبسڈی دینے کی سہولت بھی شامل ہے، جبکہ منصوبے کے لئے مالی معاونت کی زیادہ سے زیادہ حد 20 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔ اہل ہوم اسٹے کو گھریلو یوٹیلیٹی ٹیرف میں رعایت بھی مل سکتی ہے۔
اس کے علاوہ، PM Surya Ghar اسکیم کے تحت شمسی توانائی کے استعمال کے لئے سبسڈی اور جموں و کشمیر بینک کے ذریعے کم لاگت قرضوں تک رسائی کی سہولت بھی متعلقہ ضوابط کے مطابق فراہم کی جائے گی۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اس پالیسی سے روایتی سیاحتی مقامات سے آگے بھی سیاحت کو فروغ ملے گا، مقامی معیشت مضبوط ہوگی اور خطے کی ثقافت و مہمان نوازی کو نمایاں کرنے کے ساتھ سیاحت کے فوائد مختلف برادریوں تک پہنچیں گے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں