محمد اعجاز افضل بصیرؔ
بارش ابھی ابھی رکی تھی۔گلی میں جگہ جگہ پانی جمع تھا اور بجلی کے کھمبے کے نیچے جلتا ہوا پیلا بلب پانی میں اپنا عکس بنا رہا تھا۔ لوگ اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹ چکے تھے۔ دکانوں کے شٹر گر چکے تھے اور سڑک پر کبھی کبھار کسی سائیکل یا موٹر سائیکل کے گزرنے کی آواز سنائی دیتی تھی۔
ہوا میں گیلی مٹی کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔
گلی کے ایک سرے پر چائے کی دکان کے باہر پڑی لکڑی کی بینچ بھیگ چکی تھی۔ دکاندار اپنا سامان اندر رکھ کر شٹر گرا رہا تھا۔
اسی گلی کے آخری سرے پر ایک لڑکا آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔اس کے ایک ہاتھ میں چند کتابیں تھیں اور دوسرے ہاتھ میں ایک پرانا سا اخبار۔
کپڑے معمولی تھے، جوتوں پر کیچڑ لگی ہوئی تھی اور بال بارش کی بوندوں سے بھیگے ہوئے تھے۔
وہ جلدی میں نہیں تھا۔
حالانکہ بارش دوبارہ شروع ہونے والی تھی۔تیز قدموں سے چلنا اس کی عادت تھی، مگر اس روز وہ غیر معمولی طور پر دھیمی چال چل رہا تھا اور اپنے ارد و گرد کے ہر منظر کا بغور جائزہ لیتے ہوئے اپنے گھر کی جانب بڑھ رہا تھا۔
اس کے چہرے پر تھکن تھی، مگر بے چینی نہیں۔
جیسے زندگی نے اسے انتظار کرنا سکھا دیا ہو۔
گھر کے دروازے پر پہنچ کر اس نے آہستہ سے دستک دی۔
اندر سے آواز آئی:کون؟”میں ہوں۔”دروازہ کھلا۔
ماں دروازے پر کھڑی تھی۔
اس نے بیٹے کو دیکھا تو فوراً بولی:
"اتنی دیر کہاں لگا دی؟ بارش بھی ہو رہی تھی۔”
لڑکے نے ہاتھ میں پکڑی کتابیں میز پر رکھیں اور مسکرا کر بولا:
"کالج میں تھوڑا کام تھا۔”
ماں نے اس کے کپڑوں کی طرف دیکھا۔
"کام تھا یا پھر وہی کتابیں؟”
لڑکا خاموش رہا۔
وہ جانتی تھی کہ اس کا بیٹا کتابوں سے صرف پڑھنے کا تعلق نہیں رکھتا تھا۔
وہ کتابوں میں کچھ تلاش کرتا تھا۔
شاید اپنے سوالوں کے جواب۔
شاید اپنے مستقبل کا راستہ۔
یا شاید خود کو۔
وہ شروع ہی سے کچھ ایسا تھا۔زیادہ لوگوں میں گھلنا ملنا اسے کبھی پسند نہیں تھا۔محلے میں جب بچے کھیلتے تو میں کبھی کبھار کھڑے ہو کر انہیں دیکھ تو لیتا، مگر کھیلنے کبھی نہ جاتا۔
کسی بھی جگہ جانا اسے زیادہ پسند نہیں تھا اور اگر کسی تقریب میں چل بھی جاتا تو سب سے ملنے کے بجائے ایک خاموش کونے میں بیٹھ جاتا۔
لوگ اسے کبھی کبھی عجیب نظروں سے دیکھتے۔
کسی نے کہا:
"یہ لڑکا بہت خاموش ہے۔”
کسی نے کہا:
"بڑا مغرور لگتا ہے۔”
اور کسی نے ہنس کر کہا:
"اسے لوگوں سے ملنا جلنا ہی نہیں آتا۔”
وہ سب سنتا۔
مگر جواب نہیں دیتا۔
کیونکہ وہ جانتا تھا کہ خاموشی کو سمجھنے کے لئے بھی ایک خاموش دل چاہیے۔
اسے ہر شخص سے بات کرنے کی خواہش نہیں تھی۔
نہ اسے یہ پسند تھا کہ ہر شخص اسے جاننے کی کوشش کرے۔
اسے لوگوں کی بہتات سے زیادہ چند سچے لوگوں کی موجودگی پسند تھی۔
اسے جھوٹی توجہ سے زیادہ سچی بے اعتنائی قبول تھی۔وہ خاموش تھا، مگر بے حس نہیں۔
وہ کم بولتا تھا، مگر محسوس بہت کرتا تھا۔
کسی کی آواز میں معمولی سی اداسی بھی محسوس کر لیتا۔
کسی کے چہرے کی مصنوعی مسکراہٹ بھی پہچان لیتا۔
کسی کے لفظوں اور نیت کے درمیان چھپا ہوا فرق بھی اسے نظر آ جاتا۔
شاید اسی لئے اسے ہر کسی سے قریب ہونا پسند نہیں تھا۔
اسے معلوم تھا کہ ہر قریب آنے والا اپنا نہیں ہوتا۔
کچھ لوگ صرف تجسس میں قریب آتے ہیں۔
کچھ وقت گزارنے کے لئے۔
کچھ اپنی ضرورت کے لئے۔
اور کچھ صرف اس لئے کہ انہیں کسی خاموش انسان کی زندگی میں جھانکنے کا شوق ہوتا ہے۔
وہ ایسے لوگوں سے دور رہتا تھا۔
وہ کسی کے سامنے اس لئے مسکرانا نہیں چاہتا تھا کہ سامنے والا اسے پسند کرے۔
"وہ صرف ان لوگوں کے سامنے اپنا دل کھولتا تھا جن کے ساتھ اسے اپنے لفظوں کو تولنا نہ پڑے۔”
اور شاید اسی لئے اس کے دوست کم تھے،نہ کے برابر۔
وہ اس کی خاموش دنیا کے چند دروازے تھے۔
رات کا کھانا کھانے کے بعد سب سو گئے۔
مگر وہ لڑکا نہیں سویا۔
وہ اپنی چھوٹی سی میز پر بیٹھا تھا۔
سامنے ایک کتاب کھلی تھی، ساتھ ایک کاپی اور ایک قلم۔
کمرے میں روشنی بہت کم تھی۔
کھڑکی کے باہر اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔
اسے اندھیرا پسند تھا۔
اسے معلوم نہیں تھا کہ لوگ اندھیرے سے کیوں ڈرتے ہیں۔
اسے تو اندھیرے میں سکون ملتا تھا۔اسے اندھیرے سے کبھی خوف نہیں آتا۔
اسے روشنی سے زیادہ اندھیرے میں اپنے خیالات صاف دکھائی دیتے تھے۔”روشنی میں جہاں ہر چیز دکھائی دیتی ہے، اندھیرے میں انسان صرف وہی دیکھتا ہے جسے دیکھنا چاہتا ہے۔”اور شاید اسی لئے اندھیرا اسے اپنے قریب لگتا تھا۔
زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب مسائل نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا۔ایک کے بعد ایک مشکل۔کبھی گھر کے حالات،کبھی تعلیم کا دباؤ،
کبھی مستقبل کی فکر،کبھی لوگوں کی بے اعتنائی،
کبھی اپنے ہی فیصلوں پر شک۔
ایسے وقت میں کئی لوگ اس کے قریب تھے۔
مگر عجیب بات یہ تھی کہ مشکل کے سب سے گہرے لمحوں میں اسے اپنے اندر ہی اترنا پڑا۔
اس نے کئی راتیں ایسی گزاریں جب کسی سے بات کرنے کا دل چاہتا تھا۔
مگر اس نے فون اٹھا کر کسی کو کال نہیں کی۔
وہ کھڑکی کے پاس بیٹھا رہتا۔
اندھیرا دیکھتا۔
اور خود سے کہتا:
“یہ وقت بھی گزر جائے گا۔”
کبھی آنکھوں میں نمی آ جاتی۔
کبھی دل بہت بھاری ہو جاتا۔
کبھی ایسا لگتا جیسے راستہ ختم ہو گیا ہو۔
مگر اگلی صبح وہ پھر اٹھتا۔
کتاب کھولتا۔
اپنے کام میں لگ جاتا۔
لوگوں کو شاید معلوم بھی نہیں ہوتا تھا کہ پچھلی رات اس شخص نے اپنے اندر کتنی لڑائیاں لڑی ہیں۔
یہ اس کی عادت بن گئی تھی۔
دکھ کو شور نہیں بنانا۔
درد کو تماشہ نہیں بنانا۔
اور اپنی پریشانی کو ہر دروازے پر لے کر نہیں جانا۔
وہ اپنے مسائل سے بھاگتا نہیں تھا۔
وہ ان کے سامنے کھڑا ہو جاتا تھا۔
چاہے ڈرتا ہی کیوں نہ ہو۔
ایک رات مشکل کچھ زیادہ بڑھ گئی۔
وہ اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا۔
میز پر کتابیں بکھری ہوئی تھیں۔
کاپی کھلی تھی۔
قلم ہاتھ میں تھا مگر الفاظ نہیں آ رہے تھے۔
اس نے کئی بار لکھنے کی کوشش کی۔
ہر بار صفحہ پھاڑ دیا۔
آخرکار اس نے قلم میز پر رکھ دیا۔
کرسی سے اٹھا اور کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا۔
باہر مکمل اندھیرا تھا۔
اس نے شیشے میں اپنا عکس دیکھا۔
کچھ دیر تک خود کو دیکھتا رہا۔
پھر آہستہ سے بولا:
"تھک گئے ہو؟”
خاموشی۔
"ڈر لگ رہا ہے؟”
پھر خاموشی۔
اس نے گہری سانس لی۔
"تو کیا ہوا؟”
اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
"ڈرنے سے مسئلہ ختم تو نہیں ہوگا۔”
وہ واپس کرسی پر آیا۔
کاپی کھولی۔
وہ چند لمحے خاموش بیٹھا رہا۔ پھر قلم دوبارہ چلنے لگا۔
یہ پہلی بار نہیں تھا کہ وہ اپنے احساسات کو لفظوں میں ڈھال رہا تھا۔ اس نے اس سے پہلے بھی کئی کہانیاں لکھی تھیں۔ اس کی پہلی کہانی "رشتہ” تھی، پھر "خالی کرسی”، "تلاش” اور "آخری وعدہ” جیسے افسانے اس کی کاپی کے صفحات پر اترتے گئے۔ اس نے سماج کے دکھ، رشتوں کی حقیقت اور انسان کے بدلتے رویوں پر کئی سماجی و اصلاحی مضامین بھی لکھے تھے۔
"اس رات اس نے ایک ایسی کہانی لکھی، جس کا ہر لفظ جیسے کسی جیتی جاگتی زندگی سے نکلا ہوں۔”
لکھتے لکھتے رات گزر گئی۔
صبح کی ہلکی روشنی کھڑکی سے اندر آنے لگی۔ اس نے آخری سطر لکھی، قلم میز پر رکھا اور دیر تک خاموش بیٹھا اپنی تحریر کو دیکھتا رہا۔
پھر اس نے آہستہ سے کاپی بند کی، کرسی سے اٹھا اور کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا۔ باہر وہی گلی تھی، وہی خاموشی، وہی صبح… مگر شاید آج کچھ بدل گیا تھا۔
اس نے ایک بار پھر بند کاپی کی طرف دیکھا اور دھیرے سے مسکرایا۔


