سکونِ قلب جو حاصل نہ ہوا

شیخ افلاق حسین سیمانی 
 پلوامہ ، کشمیر
شہر کی روشنیاں رات کے اندھیرے کو شکست دینے کی کوشش کر رہی تھیں، مگر حمزہ کے کمرے میں پھیلا اندھیرا کسی بلب کا محتاج نہیں تھا۔ وہ کھڑکی کے پاس بیٹھا باہر دیکھ رہا تھا۔ سڑک پر گاڑیوں کی قطاریں تھیں، لوگ اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹ رہے تھے، کہیں ہنسی کی آواز آ رہی تھی، کہیں کسی بچے کے رونے کی، کہیں کسی دکان کے بند ہونے کی آہٹ۔ زندگی چل رہی تھی، صرف حمزہ رک گیا تھا۔
اس نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ میز پر رکھا موبائل کئی بار روشن ہوا، مگر اس نے اسے اٹھانے کی زحمت نہیں کی۔ اسے معلوم تھا کہ اسکرین کے دوسری طرف بھی وہی لوگ ہوں گے، وہی سوال، وہی رسمی باتیں، وہی مصنوعی مسکراہٹیں۔ ’’کیا حال ہے؟‘‘ وہ ہر بار جواب دیتا، ’’الحمدللہ، بالکل ٹھیک۔‘‘ مگر اسے معلوم تھا کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ تھا جو وہ روز خود سے بھی بولتا تھا۔ وہ ٹھیک نہیں تھا، کئی برسوں سے ٹھیک نہیں تھا۔
حمزہ نے زندگی میں وہ سب حاصل کیا تھا جسے لوگ کامیابی کہتے ہیں۔ اچھی ملازمت، مناسب آمدنی، شہر میں ایک خوبصورت گھر، نئی گاڑی، بینک اکاؤنٹ میں معقول رقم، الماری میں قیمتی لباس اور موبائل میں ایسے لوگوں کی ایک لمبی فہرست جو اسے ’’کامیاب‘‘ سمجھتے تھے۔ لیکن جب رات گہری ہوتی، جب شور خاموشی میں بدل جاتا اور جب وہ اپنے کمرے میں اکیلا ہوتا، تو ایک سوال اس کے سامنے آ کر بیٹھ جاتا: ’’کیا تم خوش ہو؟‘‘ اور حمزہ کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
اس نے بہت کم عمری میں فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ غریب نہیں رہے گا۔ اس نے اپنے والد کو ساری عمر محدود وسائل میں زندگی گزارتے دیکھا تھا۔ کبھی گھر کا کرایہ، کبھی بجلی کا بل، کبھی دواؤں کے اخراجات، کبھی بچوں کی فیس۔ والد ہمیشہ کہتے، ’’بیٹا، انسان کو اپنی محنت پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ اللہ محنت کرنے والوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔‘‘ حمزہ نے اس جملے کو اپنے دل میں اتار لیا تھا۔ وہ پڑھتا رہا، محنت کرتا رہا، مقابلے کے امتحانات دیتا رہا، ناکام ہوتا رہا، پھر کوشش کرتا رہا۔ آخر ایک دن اسے کامیابی مل گئی۔ اس دن والد کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ انہوں نے حمزہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا، ’’اب میرا بیٹا اپنے باپ سے بہتر زندگی گزارے گا۔‘‘ حمزہ مسکرایا تھا۔ اسے لگا تھا کہ شاید یہی خوشی ہے، مگر وقت نے اسے بتایا کہ کامیابی اور سکون ایک چیز نہیں ہوتے۔ کامیابی انسان کو لوگوں کی نظروں میں بڑا بنا دیتی ہے، مگر سکون انسان کو اپنی نظروں میں قابلِ قبول بناتا ہے، اور حمزہ اپنی ہی نظروں میں کہیں گم ہو چکا تھا۔
ملازمت کے چند سال بعد اس کی شادی ہوئی۔ اس کی بیوی مریم ایک سادہ مزاج لڑکی تھی۔ اسے بڑی خواہشیں نہیں تھیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں خوش رہتی تھی۔ ایک شام مریم نے چائے کا کپ حمزہ کے سامنے رکھتے ہوئے پوچھا، ’’آپ اتنے خاموش کیوں ہیں؟‘‘ حمزہ نے جواب دیا، ’’کچھ نہیں، تھکا ہوا ہوں۔‘‘ مریم بولی، ’’ہر روز تھکے ہوئے ہوتے ہیں۔‘‘ حمزہ نے اخبار اٹھا لیا۔ مریم کچھ دیر اسے دیکھتی رہی، پھر آہستہ سے بولی، ’’آپ کو یاد ہے، شادی سے پہلے آپ نے مجھ سے کیا کہا تھا؟‘‘ حمزہ نے اخبار سے نظریں ہٹائے بغیر پوچھا، ’’کیا؟‘‘ مریم نے کہا، ’’آپ نے کہا تھا کہ ہم ایک چھوٹا سا گھر بنائیں گے۔ شام کو چھت پر بیٹھ کر چائے پئیں گے۔ آپ مجھے اپنی پسند کی کتابیں پڑھ کر سنائیں گے۔‘‘ حمزہ ہلکا سا مسکرایا اور بولا، ’’اب بھی تو گھر ہے۔‘‘ مریم نے اس کی طرف دیکھا اور کہا، ’’گھر ہے، لیکن آپ کہاں ہیں؟‘‘ حمزہ خاموش ہو گیا۔ یہ سوال اسے اندر تک چیر گیا۔ وہ واقعی کہاں تھا؟ صبح دفتر، دن بھر کام، شام کو میٹنگز، رات کو موبائل، پھر نیند، اور درمیان میں زندگی کہیں رہ گئی تھی۔
چند برس گزر گئے۔ ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ حمزہ نے سوچا کہ اب سب بدل جائے گا، مگر ذمہ داریاں بڑھ گئیں۔ اس نے بیٹے کے بہتر مستقبل کے لئے مزید محنت شروع کر دی۔ وہ اکثر خود سے کہتا، ’’میں یہ سب اپنے خاندان کے لئے کر رہا ہوں۔‘‘ یہ جملہ اسے اپنے ضمیر کے سامنے مطمئن رکھنے کے لئے کافی تھا۔
ایک دن اس کا بیٹا اسکول سے آیا اور بولا، ’’بابا، آپ میرے ساتھ کرکٹ کھیلیں گے؟‘‘ حمزہ لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا۔ اس نے کہا، ’’بیٹا، ابھی بابا مصروف ہیں۔ کل کھیلیں گے۔‘‘ بچے نے پوچھا، ’’پکا؟‘‘ حمزہ نے جواب دیا، ’’ہاں، پکا۔‘‘ اگلے دن بھی یہی ہوا، پھر اگلے ہفتے، پھر اگلے مہینے۔ ایک شام حمزہ دفتر سے واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ بیٹا صحن میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ حمزہ نے پوچھا، ’’آج میرے ساتھ کیوں نہیں کھیل رہے؟‘‘ بچے نے معصومیت سے جواب دیا، ’’آپ تو ہمیشہ مصروف ہوتے ہیں نا۔‘‘ یہ جملہ بہت چھوٹا تھا، مگر حمزہ کے اندر ایک بہت بڑی چیز ٹوٹ گئی۔
اس رات وہ دیر تک سو نہ سکا۔ اس نے سوچا، ’’میں کس کے لئے بھاگ رہا ہوں؟‘‘ اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ جس مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے وہ اپنا آج قربان کر رہا ہے، شاید وہ مستقبل اس کے ہاتھ آنے سے پہلے ہی گزر جائے گا۔ اگلے دن دفتر میں اسے ایک بڑا عہدہ مل گیا۔ سب نے مبارک باد دی، کیک کاٹا گیا، تالیاں بجیں۔ اس کے باس نے کہا، ’’حمزہ، آپ نے ثابت کر دیا کہ محنت کا کوئی نعم البدل نہیں۔‘‘ حمزہ مسکرایا، مگر اس کے دل میں عجیب سی خالی جگہ تھی۔
رات کو گھر آیا تو والد کا فون آیا۔ انہوں نے کہا، ’’بیٹا، طبیعت کچھ خراب ہے۔‘‘ حمزہ فوراً بولا، ’’ابو، ڈاکٹر کو دکھایا؟‘‘ والد نے جواب دیا، ’’ہاں، بس کمزوری ہے۔ تم فکر نہ کرو۔‘‘ حمزہ نے کہا، ’’میں کل آتا ہوں۔‘‘ والد ہنسے اور بولے، ’’کل؟ تم ہمیشہ کل ہی آتے ہو۔‘‘ حمزہ خاموش ہو گیا۔ یہ ’’کل‘‘ اس کی زندگی کا سب سے خطرناک لفظ بن چکا تھا۔
اگلی صبح فون آیا۔ والد اسپتال میں تھے۔ حمزہ جلدی سے وہاں پہنچا، مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ والد خاموش پڑے تھے، چہرے پر عجیب سا سکون تھا۔ حمزہ ان کے پاس بیٹھ گیا۔ اس نے والد کا ہاتھ پکڑا، وہی ہاتھ جس نے بچپن میں اسے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تھا، وہی ہاتھ جس نے اس کے سر پر دعاؤں کے لئے اٹھنا کبھی نہیں چھوڑا تھا۔ حمزہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ ’’ابو… میں آ گیا ہوں۔‘‘ مگر اس بار والد نے آنکھیں نہیں کھولیں۔ اسے پہلی بار معلوم ہوا کہ بعض ’’کل‘‘ کبھی نہیں آتے۔
جنازے کے بعد گھر خالی خالی لگنے لگا۔ والد کی کرسی وہیں تھی، ان کی تسبیح وہیں رکھی تھی، چشمہ میز پر پڑا تھا۔ حمزہ نے تسبیح اٹھائی تو اس کی انگلیاں کانپنے لگیں۔ اسے والد کی بات یاد آئی، ’’بیٹا، دنیا میں بہت کچھ حاصل کر لینا، مگر اپنے دل کا سکون مت کھونا۔‘‘ حمزہ نے آنکھیں بند کر لیں۔ وہ برسوں سے دنیا حاصل کرتا رہا تھا، مگر سکون؟ وہ کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔
والد کے انتقال کے بعد حمزہ نے کچھ دن خود کو بدلنے کی کوشش کی۔ ملازمت کم کی، گھر میں وقت دینے لگا، بیٹے کے ساتھ کھیلنے لگا اور مریم کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنے لگا۔ کچھ دن اسے لگا کہ شاید اب سب ٹھیک ہو جائے گا، مگر انسان کے اندر جمع شدہ تھکن اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوتی۔ وہ راتوں کو جاگتا، اپنے ماضی کو یاد کرتا، ان لوگوں کو یاد کرتا جنہیں اس نے اپنی مصروفیت کے نام پر کھو دیا تھا۔ کچھ دوست دور ہو گئے تھے، کچھ رشتے رسمی رہ گئے تھے، کچھ خواب وقت کی دھول میں دفن ہو گئے تھے، اور سب سے بڑھ کر، وہ خود سے دور ہو گیا تھا۔
ایک رات وہ شہر سے باہر نکل گیا۔ گاڑی سڑک پر دوڑ رہی تھی۔ کچھ دیر بعد شہر کی روشنیاں پیچھے رہ گئیں۔ سامنے پہاڑ تھے، خاموش رات تھی۔ دور ایک چھوٹی سی مسجد سے اذانِ فجر کی آواز بلند ہوئی۔ حمزہ نے گاڑی روک دی اور سڑک کے کنارے کھڑا ہو گیا۔ اذان کی آواز ہوا میں پھیل رہی تھی: ’’حی علی الفلاح…‘‘ اس کے قدم خود بخود مسجد کی طرف اٹھ گئے۔ وہ وضو کر کے صف میں کھڑا ہو گیا۔ نماز ختم ہوئی تو لوگ آہستہ آہستہ جانے لگے، مگر حمزہ وہیں بیٹھا رہا۔
مسجد کے ایک کونے میں ایک بوڑھا شخص تسبیح لئے بیٹھا تھا۔ اس نے حمزہ کی طرف دیکھا اور مسکرا کر پوچھا، ’’بیٹا، بہت پریشان ہو؟‘‘ حمزہ نے پہلی بار کسی اجنبی کے سامنے سچ بول دیا، ’’جی۔‘‘ بوڑھے نے پوچھا، ’’کیا ڈھونڈ رہے ہو؟‘‘ حمزہ نے کچھ دیر سوچا، پھر جواب دیا، ’’سکون۔‘‘ بوڑھا مسکرایا اور پوچھا، ’’کہاں ڈھونڈ رہے ہو؟‘‘ حمزہ نے جواب نہیں دیا۔
بوڑھے نے آہستہ سے کہا، ’’لوگ سکون کو مکانوں میں، دولت میں، عہدوں میں، لوگوں کی محبت میں اور اپنی خواہشوں کی تکمیل میں ڈھونڈتے ہیں۔ پھر تھک جاتے ہیں۔‘‘ حمزہ خاموشی سے سنتا رہا۔ بوڑھے نے کہا، ’’سکون چیزوں کے ملنے سے نہیں آتا، بیٹا۔ کبھی کبھی سکون ان چیزوں کو اللہ کے حوالے کرنے سے آتا ہے جنہیں ہم اپنے اختیار میں سمجھ بیٹھتے ہیں۔‘‘ حمزہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے پوچھا، ’’لیکن اگر بہت کچھ کھو دیا ہو تو؟‘‘ بوڑھے نے جواب دیا، ’’جو کھو گیا، وہ تمہارا تھا ہی نہیں۔ جو تمہارے پاس ہے، اسے سنبھالو۔ اور جو آنے والا ہے، اسے اللہ پر چھوڑ دو۔‘‘
حمزہ نے سر جھکا لیا۔ اس صبح وہ مسجد سے نکلا تو دنیا وہی تھی۔ سڑکیں وہی تھیں، پہاڑ وہی تھے، آسمان وہی تھا، مگر اس کے اندر کچھ بدل گیا تھا۔ اس نے پہلی بار زندگی کو جیتنے کے بجائے اسے قبول کرنے کی کوشش کی۔
وہ گھر واپس آیا۔ مریم ابھی سو رہی تھی، بیٹا بھی۔ حمزہ کچھ دیر دروازے پر کھڑا انہیں دیکھتا رہا، پھر اس نے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھا۔ بچہ نیند میں مسکرایا۔ حمزہ کے دل میں عجیب سی نرمی اتر گئی۔ مریم جاگ گئی۔ اس نے حمزہ کو دیکھا اور پوچھا، ’’آپ کب آئے؟‘‘ حمزہ نے مسکرا کر کہا، ’’ابھی۔‘‘ مریم نے پوچھا، ’’سب ٹھیک ہے؟‘‘ حمزہ نے جواب دیا، ’’نہیں۔‘‘ مریم حیران ہوئی۔ حمزہ نے کہا، ’’سب ٹھیک نہیں ہے، لیکن شاید اب میں اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کر سکتا ہوں۔‘‘ مریم خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔
حمزہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور کہا، ’’مریم، مجھے معاف کر دو۔ میں تمہیں گھر تو دے سکا، مگر اپنا وقت نہیں دے سکا۔ اپنے بیٹے کو چیزیں تو دے سکتا ہوں، مگر اس کا بچپن واپس نہیں لا سکتا۔‘‘ مریم کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ اس نے صرف اتنا کہا، ’’ابھی دیر نہیں ہوئی۔‘‘ حمزہ نے سر جھکا لیا۔
اس دن اس نے اپنے کمرے کی میز سے بہت سی چیزیں ہٹا دیں: فائلیں، غیر ضروری کاغذات اور وہ موبائل جسے وہ ہر وقت دیکھتا رہتا تھا۔ اس نے ایک چھوٹی سی ڈائری نکالی اور پہلے صفحے پر لکھا، ’’سکون حاصل کرنے کے لئے مجھے دنیا نہیں، خود کو بدلنا ہے۔‘‘ پھر اس نے نیچے ایک جملہ لکھا، ’’جو میرے پاس ہے، اس پر شکر؛ جو نہیں ہے، اس پر صبر؛ اور جو میرے اختیار میں نہیں، اسے اللہ کے سپرد۔‘‘
دن گزرتے گئے۔ حمزہ نے ملازمت نہیں چھوڑی، اس نے دولت سے نفرت بھی نہیں کی، اس نے اپنے خواب بھی نہیں چھوڑے۔ بس اس نے خوابوں کو اپنی زندگی کا مالک بنانا چھوڑ دیا۔ اب وہ کام کرتا تھا، مگر کام کو زندگی نہیں سمجھتا تھا۔ وہ کماتا تھا، مگر کمائی کو خوشی کی واحد وجہ نہیں سمجھتا تھا۔ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ کھیلتا تھا، مریم کے ساتھ چائے پیتا تھا، والد کی قبر پر جاتا تھا اور کبھی کبھی رات کو خاموشی سے آسمان دیکھتا تھا۔
ایک رات وہ اسی کھڑکی کے پاس بیٹھا تھا جہاں کئی ماہ پہلے بیٹھ کر اس نے خود سے پوچھا تھا، ’’کیا تم خوش ہو؟‘‘ آج بھی سوال وہی تھا، مگر جواب بدل گیا تھا۔ اس نے آہستہ سے کہا، ’’میں مکمل طور پر خوش نہیں ہوں۔ زندگی میں اب بھی دکھ ہیں، کمی ہے، خوف ہے، جدائی ہے۔ مگر اب مجھے معلوم ہے کہ سکون کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی میں کوئی غم نہ ہو۔‘‘ وہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر مسکرایا اور بولا، ’’سکون شاید یہ ہے کہ غم کے باوجود دل ٹوٹ کر بکھرے نہیں۔‘‘
باہر بارش شروع ہو گئی تھی۔ مریم نے کمرے سے آواز دی، ’’حمزہ! چائے بناؤں؟‘‘ حمزہ نے کھڑکی بند کی اور مسکرا کر جواب دیا، ’’ہاں، آج چائے ساتھ پئیں گے۔‘‘ بیٹا دوڑتا ہوا آیا اور بولا، ’’بابا! بارش میں کھیلنے چلیں؟‘‘ حمزہ نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ پہلے وہ کہتا، ’’کل چلیں گے۔‘‘ مگر آج اس نے گھڑی نہیں دیکھی۔ اس نے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور کہا، ’’چلو۔‘‘
وہ دونوں بارش میں نکل گئے۔ حمزہ بھیگ رہا تھا، اس کا بیٹا ہنس رہا تھا، مریم دروازے پر کھڑی انہیں دیکھ رہی تھی۔ اور حمزہ نے محسوس کیا کہ برسوں سے جس سکون کو وہ دنیا کے ہر کونے میں ڈھونڈ رہا تھا، وہ شاید کسی بڑی کامیابی میں نہیں، کسی قیمتی چیز میں نہیں، کسی بلند مقام پر نہیں۔ وہ تو اسی لمحے میں تھا؛ ایک بچے کی ہنسی میں، ایک شریکِ حیات کی موجودگی میں، ایک باپ کی یاد میں، اللہ کے سامنے جھکے ہوئے سر میں، اور اس دل میں جو آخرکار یہ ماننے پر آمادہ ہو گیا تھا کہ ہر چیز کا مل جانا ضروری نہیں، بعض چیزوں کا نہ ملنا بھی زندگی کا حصہ ہے۔
حمزہ نے آسمان کی طرف دیکھا۔ بارش اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ شاید سکونِ قلب کوئی ایسی منزل نہیں جس تک پہنچ کر انسان ہمیشہ کے لئے ٹھہر جاتا ہے۔ یہ تو ایک کیفیت ہے۔ کبھی آتی ہے، کبھی چلی جاتی ہے؛ کبھی آنسوؤں میں ملتی ہے، کبھی دعا میں؛ کبھی کسی کے ساتھ بیٹھنے میں، کبھی تنہائی میں۔ اور کبھی انسان کو برسوں بھٹکنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ جس سکون کو وہ دنیا سے مانگتا رہا، اس کی ایک جھلک تو ہمیشہ اس کے اپنے دل کے اندر موجود تھی۔ بس دل کو خاموش ہونے کی فرصت نہیں ملی تھی۔
حمزہ نے اپنے بیٹے کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ اور اس رات، بہت عرصے بعد، جب وہ سویا تو اس کے پاس دولت کا کوئی نیا منصوبہ نہیں تھا، کسی عہدے کا خواب نہیں تھا، کسی انسان سے شکایت نہیں تھی۔ صرف ایک شکر تھا، خاموش، گہرا اور بے لفظ۔ اور شاید یہی وہ سکون تھا جس کے لئے وہ ساری عمر بھٹکتا رہا۔
سکونِ قلب جو اسے دنیا سے حاصل نہ ہوا، وہ اسے آخرکار اپنے رب کے سامنے جھکنے، اپنے لوگوں کو وقت دینے اور اپنی زندگی کو قبول کرنے سے مل گیا۔
کبھی کبھی سکون ہمیں اس وقت نہیں ملتا جب ہماری خواہش پوری ہو جاتی ہے، بلکہ سکون تب ملتا ہے جب ہم اپنی خواہش اور اپنی تقدیر کے درمیان جنگ ختم کر دیتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

سکونِ قلب جو حاصل نہ ہوا

شیخ افلاق حسین سیمانی 
 پلوامہ ، کشمیر
شہر کی روشنیاں رات کے اندھیرے کو شکست دینے کی کوشش کر رہی تھیں، مگر حمزہ کے کمرے میں پھیلا اندھیرا کسی بلب کا محتاج نہیں تھا۔ وہ کھڑکی کے پاس بیٹھا باہر دیکھ رہا تھا۔ سڑک پر گاڑیوں کی قطاریں تھیں، لوگ اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹ رہے تھے، کہیں ہنسی کی آواز آ رہی تھی، کہیں کسی بچے کے رونے کی، کہیں کسی دکان کے بند ہونے کی آہٹ۔ زندگی چل رہی تھی، صرف حمزہ رک گیا تھا۔
اس نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ میز پر رکھا موبائل کئی بار روشن ہوا، مگر اس نے اسے اٹھانے کی زحمت نہیں کی۔ اسے معلوم تھا کہ اسکرین کے دوسری طرف بھی وہی لوگ ہوں گے، وہی سوال، وہی رسمی باتیں، وہی مصنوعی مسکراہٹیں۔ ’’کیا حال ہے؟‘‘ وہ ہر بار جواب دیتا، ’’الحمدللہ، بالکل ٹھیک۔‘‘ مگر اسے معلوم تھا کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ تھا جو وہ روز خود سے بھی بولتا تھا۔ وہ ٹھیک نہیں تھا، کئی برسوں سے ٹھیک نہیں تھا۔
حمزہ نے زندگی میں وہ سب حاصل کیا تھا جسے لوگ کامیابی کہتے ہیں۔ اچھی ملازمت، مناسب آمدنی، شہر میں ایک خوبصورت گھر، نئی گاڑی، بینک اکاؤنٹ میں معقول رقم، الماری میں قیمتی لباس اور موبائل میں ایسے لوگوں کی ایک لمبی فہرست جو اسے ’’کامیاب‘‘ سمجھتے تھے۔ لیکن جب رات گہری ہوتی، جب شور خاموشی میں بدل جاتا اور جب وہ اپنے کمرے میں اکیلا ہوتا، تو ایک سوال اس کے سامنے آ کر بیٹھ جاتا: ’’کیا تم خوش ہو؟‘‘ اور حمزہ کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
اس نے بہت کم عمری میں فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ غریب نہیں رہے گا۔ اس نے اپنے والد کو ساری عمر محدود وسائل میں زندگی گزارتے دیکھا تھا۔ کبھی گھر کا کرایہ، کبھی بجلی کا بل، کبھی دواؤں کے اخراجات، کبھی بچوں کی فیس۔ والد ہمیشہ کہتے، ’’بیٹا، انسان کو اپنی محنت پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ اللہ محنت کرنے والوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔‘‘ حمزہ نے اس جملے کو اپنے دل میں اتار لیا تھا۔ وہ پڑھتا رہا، محنت کرتا رہا، مقابلے کے امتحانات دیتا رہا، ناکام ہوتا رہا، پھر کوشش کرتا رہا۔ آخر ایک دن اسے کامیابی مل گئی۔ اس دن والد کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ انہوں نے حمزہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا، ’’اب میرا بیٹا اپنے باپ سے بہتر زندگی گزارے گا۔‘‘ حمزہ مسکرایا تھا۔ اسے لگا تھا کہ شاید یہی خوشی ہے، مگر وقت نے اسے بتایا کہ کامیابی اور سکون ایک چیز نہیں ہوتے۔ کامیابی انسان کو لوگوں کی نظروں میں بڑا بنا دیتی ہے، مگر سکون انسان کو اپنی نظروں میں قابلِ قبول بناتا ہے، اور حمزہ اپنی ہی نظروں میں کہیں گم ہو چکا تھا۔
ملازمت کے چند سال بعد اس کی شادی ہوئی۔ اس کی بیوی مریم ایک سادہ مزاج لڑکی تھی۔ اسے بڑی خواہشیں نہیں تھیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں خوش رہتی تھی۔ ایک شام مریم نے چائے کا کپ حمزہ کے سامنے رکھتے ہوئے پوچھا، ’’آپ اتنے خاموش کیوں ہیں؟‘‘ حمزہ نے جواب دیا، ’’کچھ نہیں، تھکا ہوا ہوں۔‘‘ مریم بولی، ’’ہر روز تھکے ہوئے ہوتے ہیں۔‘‘ حمزہ نے اخبار اٹھا لیا۔ مریم کچھ دیر اسے دیکھتی رہی، پھر آہستہ سے بولی، ’’آپ کو یاد ہے، شادی سے پہلے آپ نے مجھ سے کیا کہا تھا؟‘‘ حمزہ نے اخبار سے نظریں ہٹائے بغیر پوچھا، ’’کیا؟‘‘ مریم نے کہا، ’’آپ نے کہا تھا کہ ہم ایک چھوٹا سا گھر بنائیں گے۔ شام کو چھت پر بیٹھ کر چائے پئیں گے۔ آپ مجھے اپنی پسند کی کتابیں پڑھ کر سنائیں گے۔‘‘ حمزہ ہلکا سا مسکرایا اور بولا، ’’اب بھی تو گھر ہے۔‘‘ مریم نے اس کی طرف دیکھا اور کہا، ’’گھر ہے، لیکن آپ کہاں ہیں؟‘‘ حمزہ خاموش ہو گیا۔ یہ سوال اسے اندر تک چیر گیا۔ وہ واقعی کہاں تھا؟ صبح دفتر، دن بھر کام، شام کو میٹنگز، رات کو موبائل، پھر نیند، اور درمیان میں زندگی کہیں رہ گئی تھی۔
چند برس گزر گئے۔ ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ حمزہ نے سوچا کہ اب سب بدل جائے گا، مگر ذمہ داریاں بڑھ گئیں۔ اس نے بیٹے کے بہتر مستقبل کے لئے مزید محنت شروع کر دی۔ وہ اکثر خود سے کہتا، ’’میں یہ سب اپنے خاندان کے لئے کر رہا ہوں۔‘‘ یہ جملہ اسے اپنے ضمیر کے سامنے مطمئن رکھنے کے لئے کافی تھا۔
ایک دن اس کا بیٹا اسکول سے آیا اور بولا، ’’بابا، آپ میرے ساتھ کرکٹ کھیلیں گے؟‘‘ حمزہ لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا۔ اس نے کہا، ’’بیٹا، ابھی بابا مصروف ہیں۔ کل کھیلیں گے۔‘‘ بچے نے پوچھا، ’’پکا؟‘‘ حمزہ نے جواب دیا، ’’ہاں، پکا۔‘‘ اگلے دن بھی یہی ہوا، پھر اگلے ہفتے، پھر اگلے مہینے۔ ایک شام حمزہ دفتر سے واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ بیٹا صحن میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ حمزہ نے پوچھا، ’’آج میرے ساتھ کیوں نہیں کھیل رہے؟‘‘ بچے نے معصومیت سے جواب دیا، ’’آپ تو ہمیشہ مصروف ہوتے ہیں نا۔‘‘ یہ جملہ بہت چھوٹا تھا، مگر حمزہ کے اندر ایک بہت بڑی چیز ٹوٹ گئی۔
اس رات وہ دیر تک سو نہ سکا۔ اس نے سوچا، ’’میں کس کے لئے بھاگ رہا ہوں؟‘‘ اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ جس مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے وہ اپنا آج قربان کر رہا ہے، شاید وہ مستقبل اس کے ہاتھ آنے سے پہلے ہی گزر جائے گا۔ اگلے دن دفتر میں اسے ایک بڑا عہدہ مل گیا۔ سب نے مبارک باد دی، کیک کاٹا گیا، تالیاں بجیں۔ اس کے باس نے کہا، ’’حمزہ، آپ نے ثابت کر دیا کہ محنت کا کوئی نعم البدل نہیں۔‘‘ حمزہ مسکرایا، مگر اس کے دل میں عجیب سی خالی جگہ تھی۔
رات کو گھر آیا تو والد کا فون آیا۔ انہوں نے کہا، ’’بیٹا، طبیعت کچھ خراب ہے۔‘‘ حمزہ فوراً بولا، ’’ابو، ڈاکٹر کو دکھایا؟‘‘ والد نے جواب دیا، ’’ہاں، بس کمزوری ہے۔ تم فکر نہ کرو۔‘‘ حمزہ نے کہا، ’’میں کل آتا ہوں۔‘‘ والد ہنسے اور بولے، ’’کل؟ تم ہمیشہ کل ہی آتے ہو۔‘‘ حمزہ خاموش ہو گیا۔ یہ ’’کل‘‘ اس کی زندگی کا سب سے خطرناک لفظ بن چکا تھا۔
اگلی صبح فون آیا۔ والد اسپتال میں تھے۔ حمزہ جلدی سے وہاں پہنچا، مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ والد خاموش پڑے تھے، چہرے پر عجیب سا سکون تھا۔ حمزہ ان کے پاس بیٹھ گیا۔ اس نے والد کا ہاتھ پکڑا، وہی ہاتھ جس نے بچپن میں اسے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تھا، وہی ہاتھ جس نے اس کے سر پر دعاؤں کے لئے اٹھنا کبھی نہیں چھوڑا تھا۔ حمزہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ ’’ابو… میں آ گیا ہوں۔‘‘ مگر اس بار والد نے آنکھیں نہیں کھولیں۔ اسے پہلی بار معلوم ہوا کہ بعض ’’کل‘‘ کبھی نہیں آتے۔
جنازے کے بعد گھر خالی خالی لگنے لگا۔ والد کی کرسی وہیں تھی، ان کی تسبیح وہیں رکھی تھی، چشمہ میز پر پڑا تھا۔ حمزہ نے تسبیح اٹھائی تو اس کی انگلیاں کانپنے لگیں۔ اسے والد کی بات یاد آئی، ’’بیٹا، دنیا میں بہت کچھ حاصل کر لینا، مگر اپنے دل کا سکون مت کھونا۔‘‘ حمزہ نے آنکھیں بند کر لیں۔ وہ برسوں سے دنیا حاصل کرتا رہا تھا، مگر سکون؟ وہ کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔
والد کے انتقال کے بعد حمزہ نے کچھ دن خود کو بدلنے کی کوشش کی۔ ملازمت کم کی، گھر میں وقت دینے لگا، بیٹے کے ساتھ کھیلنے لگا اور مریم کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنے لگا۔ کچھ دن اسے لگا کہ شاید اب سب ٹھیک ہو جائے گا، مگر انسان کے اندر جمع شدہ تھکن اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوتی۔ وہ راتوں کو جاگتا، اپنے ماضی کو یاد کرتا، ان لوگوں کو یاد کرتا جنہیں اس نے اپنی مصروفیت کے نام پر کھو دیا تھا۔ کچھ دوست دور ہو گئے تھے، کچھ رشتے رسمی رہ گئے تھے، کچھ خواب وقت کی دھول میں دفن ہو گئے تھے، اور سب سے بڑھ کر، وہ خود سے دور ہو گیا تھا۔
ایک رات وہ شہر سے باہر نکل گیا۔ گاڑی سڑک پر دوڑ رہی تھی۔ کچھ دیر بعد شہر کی روشنیاں پیچھے رہ گئیں۔ سامنے پہاڑ تھے، خاموش رات تھی۔ دور ایک چھوٹی سی مسجد سے اذانِ فجر کی آواز بلند ہوئی۔ حمزہ نے گاڑی روک دی اور سڑک کے کنارے کھڑا ہو گیا۔ اذان کی آواز ہوا میں پھیل رہی تھی: ’’حی علی الفلاح…‘‘ اس کے قدم خود بخود مسجد کی طرف اٹھ گئے۔ وہ وضو کر کے صف میں کھڑا ہو گیا۔ نماز ختم ہوئی تو لوگ آہستہ آہستہ جانے لگے، مگر حمزہ وہیں بیٹھا رہا۔
مسجد کے ایک کونے میں ایک بوڑھا شخص تسبیح لئے بیٹھا تھا۔ اس نے حمزہ کی طرف دیکھا اور مسکرا کر پوچھا، ’’بیٹا، بہت پریشان ہو؟‘‘ حمزہ نے پہلی بار کسی اجنبی کے سامنے سچ بول دیا، ’’جی۔‘‘ بوڑھے نے پوچھا، ’’کیا ڈھونڈ رہے ہو؟‘‘ حمزہ نے کچھ دیر سوچا، پھر جواب دیا، ’’سکون۔‘‘ بوڑھا مسکرایا اور پوچھا، ’’کہاں ڈھونڈ رہے ہو؟‘‘ حمزہ نے جواب نہیں دیا۔
بوڑھے نے آہستہ سے کہا، ’’لوگ سکون کو مکانوں میں، دولت میں، عہدوں میں، لوگوں کی محبت میں اور اپنی خواہشوں کی تکمیل میں ڈھونڈتے ہیں۔ پھر تھک جاتے ہیں۔‘‘ حمزہ خاموشی سے سنتا رہا۔ بوڑھے نے کہا، ’’سکون چیزوں کے ملنے سے نہیں آتا، بیٹا۔ کبھی کبھی سکون ان چیزوں کو اللہ کے حوالے کرنے سے آتا ہے جنہیں ہم اپنے اختیار میں سمجھ بیٹھتے ہیں۔‘‘ حمزہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے پوچھا، ’’لیکن اگر بہت کچھ کھو دیا ہو تو؟‘‘ بوڑھے نے جواب دیا، ’’جو کھو گیا، وہ تمہارا تھا ہی نہیں۔ جو تمہارے پاس ہے، اسے سنبھالو۔ اور جو آنے والا ہے، اسے اللہ پر چھوڑ دو۔‘‘
حمزہ نے سر جھکا لیا۔ اس صبح وہ مسجد سے نکلا تو دنیا وہی تھی۔ سڑکیں وہی تھیں، پہاڑ وہی تھے، آسمان وہی تھا، مگر اس کے اندر کچھ بدل گیا تھا۔ اس نے پہلی بار زندگی کو جیتنے کے بجائے اسے قبول کرنے کی کوشش کی۔
وہ گھر واپس آیا۔ مریم ابھی سو رہی تھی، بیٹا بھی۔ حمزہ کچھ دیر دروازے پر کھڑا انہیں دیکھتا رہا، پھر اس نے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھا۔ بچہ نیند میں مسکرایا۔ حمزہ کے دل میں عجیب سی نرمی اتر گئی۔ مریم جاگ گئی۔ اس نے حمزہ کو دیکھا اور پوچھا، ’’آپ کب آئے؟‘‘ حمزہ نے مسکرا کر کہا، ’’ابھی۔‘‘ مریم نے پوچھا، ’’سب ٹھیک ہے؟‘‘ حمزہ نے جواب دیا، ’’نہیں۔‘‘ مریم حیران ہوئی۔ حمزہ نے کہا، ’’سب ٹھیک نہیں ہے، لیکن شاید اب میں اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کر سکتا ہوں۔‘‘ مریم خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔
حمزہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور کہا، ’’مریم، مجھے معاف کر دو۔ میں تمہیں گھر تو دے سکا، مگر اپنا وقت نہیں دے سکا۔ اپنے بیٹے کو چیزیں تو دے سکتا ہوں، مگر اس کا بچپن واپس نہیں لا سکتا۔‘‘ مریم کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ اس نے صرف اتنا کہا، ’’ابھی دیر نہیں ہوئی۔‘‘ حمزہ نے سر جھکا لیا۔
اس دن اس نے اپنے کمرے کی میز سے بہت سی چیزیں ہٹا دیں: فائلیں، غیر ضروری کاغذات اور وہ موبائل جسے وہ ہر وقت دیکھتا رہتا تھا۔ اس نے ایک چھوٹی سی ڈائری نکالی اور پہلے صفحے پر لکھا، ’’سکون حاصل کرنے کے لئے مجھے دنیا نہیں، خود کو بدلنا ہے۔‘‘ پھر اس نے نیچے ایک جملہ لکھا، ’’جو میرے پاس ہے، اس پر شکر؛ جو نہیں ہے، اس پر صبر؛ اور جو میرے اختیار میں نہیں، اسے اللہ کے سپرد۔‘‘
دن گزرتے گئے۔ حمزہ نے ملازمت نہیں چھوڑی، اس نے دولت سے نفرت بھی نہیں کی، اس نے اپنے خواب بھی نہیں چھوڑے۔ بس اس نے خوابوں کو اپنی زندگی کا مالک بنانا چھوڑ دیا۔ اب وہ کام کرتا تھا، مگر کام کو زندگی نہیں سمجھتا تھا۔ وہ کماتا تھا، مگر کمائی کو خوشی کی واحد وجہ نہیں سمجھتا تھا۔ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ کھیلتا تھا، مریم کے ساتھ چائے پیتا تھا، والد کی قبر پر جاتا تھا اور کبھی کبھی رات کو خاموشی سے آسمان دیکھتا تھا۔
ایک رات وہ اسی کھڑکی کے پاس بیٹھا تھا جہاں کئی ماہ پہلے بیٹھ کر اس نے خود سے پوچھا تھا، ’’کیا تم خوش ہو؟‘‘ آج بھی سوال وہی تھا، مگر جواب بدل گیا تھا۔ اس نے آہستہ سے کہا، ’’میں مکمل طور پر خوش نہیں ہوں۔ زندگی میں اب بھی دکھ ہیں، کمی ہے، خوف ہے، جدائی ہے۔ مگر اب مجھے معلوم ہے کہ سکون کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی میں کوئی غم نہ ہو۔‘‘ وہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر مسکرایا اور بولا، ’’سکون شاید یہ ہے کہ غم کے باوجود دل ٹوٹ کر بکھرے نہیں۔‘‘
باہر بارش شروع ہو گئی تھی۔ مریم نے کمرے سے آواز دی، ’’حمزہ! چائے بناؤں؟‘‘ حمزہ نے کھڑکی بند کی اور مسکرا کر جواب دیا، ’’ہاں، آج چائے ساتھ پئیں گے۔‘‘ بیٹا دوڑتا ہوا آیا اور بولا، ’’بابا! بارش میں کھیلنے چلیں؟‘‘ حمزہ نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ پہلے وہ کہتا، ’’کل چلیں گے۔‘‘ مگر آج اس نے گھڑی نہیں دیکھی۔ اس نے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور کہا، ’’چلو۔‘‘
وہ دونوں بارش میں نکل گئے۔ حمزہ بھیگ رہا تھا، اس کا بیٹا ہنس رہا تھا، مریم دروازے پر کھڑی انہیں دیکھ رہی تھی۔ اور حمزہ نے محسوس کیا کہ برسوں سے جس سکون کو وہ دنیا کے ہر کونے میں ڈھونڈ رہا تھا، وہ شاید کسی بڑی کامیابی میں نہیں، کسی قیمتی چیز میں نہیں، کسی بلند مقام پر نہیں۔ وہ تو اسی لمحے میں تھا؛ ایک بچے کی ہنسی میں، ایک شریکِ حیات کی موجودگی میں، ایک باپ کی یاد میں، اللہ کے سامنے جھکے ہوئے سر میں، اور اس دل میں جو آخرکار یہ ماننے پر آمادہ ہو گیا تھا کہ ہر چیز کا مل جانا ضروری نہیں، بعض چیزوں کا نہ ملنا بھی زندگی کا حصہ ہے۔
حمزہ نے آسمان کی طرف دیکھا۔ بارش اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ شاید سکونِ قلب کوئی ایسی منزل نہیں جس تک پہنچ کر انسان ہمیشہ کے لئے ٹھہر جاتا ہے۔ یہ تو ایک کیفیت ہے۔ کبھی آتی ہے، کبھی چلی جاتی ہے؛ کبھی آنسوؤں میں ملتی ہے، کبھی دعا میں؛ کبھی کسی کے ساتھ بیٹھنے میں، کبھی تنہائی میں۔ اور کبھی انسان کو برسوں بھٹکنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ جس سکون کو وہ دنیا سے مانگتا رہا، اس کی ایک جھلک تو ہمیشہ اس کے اپنے دل کے اندر موجود تھی۔ بس دل کو خاموش ہونے کی فرصت نہیں ملی تھی۔
حمزہ نے اپنے بیٹے کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ اور اس رات، بہت عرصے بعد، جب وہ سویا تو اس کے پاس دولت کا کوئی نیا منصوبہ نہیں تھا، کسی عہدے کا خواب نہیں تھا، کسی انسان سے شکایت نہیں تھی۔ صرف ایک شکر تھا، خاموش، گہرا اور بے لفظ۔ اور شاید یہی وہ سکون تھا جس کے لئے وہ ساری عمر بھٹکتا رہا۔
سکونِ قلب جو اسے دنیا سے حاصل نہ ہوا، وہ اسے آخرکار اپنے رب کے سامنے جھکنے، اپنے لوگوں کو وقت دینے اور اپنی زندگی کو قبول کرنے سے مل گیا۔
کبھی کبھی سکون ہمیں اس وقت نہیں ملتا جب ہماری خواہش پوری ہو جاتی ہے، بلکہ سکون تب ملتا ہے جب ہم اپنی خواہش اور اپنی تقدیر کے درمیان جنگ ختم کر دیتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں