امریکہ کی جانب سے بڑی بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کو مستقل رہائش (گرین کارڈ) کے حصول سے متعلق PERM پروگرام سے معطل کرنے کا فیصلہ بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں نئے تناؤ کی علامت ہے۔ یہ اقدام اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے جس کے تحت امریکی انتظامیہ غیر ملکی افرادی قوت پر انحصار کم کرنا اور امیگریشن نظام کو سخت بنانا چاہتی ہے۔اس سے قبل H-1B ویزا کے لئے ایک لاکھ ڈالر کی فیس متعارف کرانے کا فیصلہ بھی بھارتی آئی ٹی صنعت کے لئے تشویش کا باعث بنا تھا۔ ICICI Securities کی رپورٹ کے مطابق، اکتوبر 2024ء سے ستمبر 2025ء کے دوران دائر ہونے والی ایک لاکھ 17 ہزار 849 PERM درخواستوں میں بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کا حصہ دو فیصد سے بھی کم تھا۔ تاہم، اگر پابندیاں دیگر ورک ویزا زمروں تک پھیل گئیں تو بھارتی کمپنیوں کے لئے امریکی منڈی میں کاروبار جاری رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
بھارت کی سافٹ ویئر، کاروباری اور دیگر خدمات کی برآمدات 2025-26ء میں 221 ارب ڈالر تک پہنچیں۔ یہ شعبہ ملک کے لئے غیر ملکی زرمبادلہ کا اہم ذریعہ ہے۔ ایسے میں امریکی پالیسیوں میں سختی بھارتی آئی ٹی صنعت، روزگار اور سرمایہ کاری کو متاثر کر سکتی ہے۔
امریکی اقدامات کا ایک اور اہم پہلو روس سے تیل کی خریداری ہے۔ واشنگٹن طویل عرصے سے نئی دہلی پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ روسی تیل پر انحصار کم کرے۔ سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر کے مطابق، دسمبر 2022ء سے اگست 2026ء کے دوران روسی خام تیل کی برآمدات میں چین کا حصہ تقریباً نصف، جبکہ بھارت کا حصہ 37 فیصد رہا۔اسی دوران امریکہ میں منظور ہونے والے نئے قانون کے تحت روس سے توانائی خریدنے والے چین اور بھارت جیسے ممالک پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔ اس سے بھارت کے لئے توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور امریکی منڈی تک رسائی برقرار رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
امریکی پالیسی کا تضاد بھی قابلِ غور ہے۔ ایک طرف واشنگٹن بھارت پر روسی تیل کی خریداری کم کرنے کے لئے دباؤ ڈالتا ہے، دوسری طرف امریکی انتظامیہ نے روس سے ڈیزل کی فراہمی کے معاہدے کا اعلان کیا۔ اگرچہ دونوں معاملات کی تفصیلات مختلف ہو سکتی ہیں، تاہم یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ عالمی تجارت اور توانائی کے معاملات میں اصولوں کا اطلاق سب پر یکساں کیوں نہیں ہوتا۔
بھارت کو اس صورت حال کا جواب جذباتی ردعمل کے بجائے متوازن حکمت عملی سے دینا ہوگا۔ امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری رکھتے ہوئے آئی ٹی صنعت کے مفادات کا تحفظ، برآمدی منڈیوں میں تنوع اور توانائی کے شعبے میں قومی مفادات کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ ہنرمند افرادی قوت کے لئے متبادل عالمی مواقع تلاش کرنا بھی اہم ہے تاکہ کسی ایک ملک کی امیگریشن پالیسی بھارتی معیشت کے لئے بڑا خطرہ نہ بن سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت اور امریکہ ایک دوسرے کے اہم اقتصادی اور تزویراتی شراکت دار ہیں، لیکن مضبوط تعلقات کے لئے باہمی احترام، پالیسیوں میں تسلسل اور اعتماد ضروری ہے۔ اگر امریکہ تجارت، ویزا اور توانائی کے معاملات کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا رہا تو دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی بڑھ سکتی ہے۔
ززز
بھارت کےخلاف امریکہ کا نیا محاذ!
بھارت کےخلاف امریکہ کا نیا محاذ!
امریکہ کی جانب سے بڑی بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کو مستقل رہائش (گرین کارڈ) کے حصول سے متعلق PERM پروگرام سے معطل کرنے کا فیصلہ بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں نئے تناؤ کی علامت ہے۔ یہ اقدام اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے جس کے تحت امریکی انتظامیہ غیر ملکی افرادی قوت پر انحصار کم کرنا اور امیگریشن نظام کو سخت بنانا چاہتی ہے۔اس سے قبل H-1B ویزا کے لئے ایک لاکھ ڈالر کی فیس متعارف کرانے کا فیصلہ بھی بھارتی آئی ٹی صنعت کے لئے تشویش کا باعث بنا تھا۔ ICICI Securities کی رپورٹ کے مطابق، اکتوبر 2024ء سے ستمبر 2025ء کے دوران دائر ہونے والی ایک لاکھ 17 ہزار 849 PERM درخواستوں میں بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کا حصہ دو فیصد سے بھی کم تھا۔ تاہم، اگر پابندیاں دیگر ورک ویزا زمروں تک پھیل گئیں تو بھارتی کمپنیوں کے لئے امریکی منڈی میں کاروبار جاری رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
بھارت کی سافٹ ویئر، کاروباری اور دیگر خدمات کی برآمدات 2025-26ء میں 221 ارب ڈالر تک پہنچیں۔ یہ شعبہ ملک کے لئے غیر ملکی زرمبادلہ کا اہم ذریعہ ہے۔ ایسے میں امریکی پالیسیوں میں سختی بھارتی آئی ٹی صنعت، روزگار اور سرمایہ کاری کو متاثر کر سکتی ہے۔
امریکی اقدامات کا ایک اور اہم پہلو روس سے تیل کی خریداری ہے۔ واشنگٹن طویل عرصے سے نئی دہلی پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ روسی تیل پر انحصار کم کرے۔ سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر کے مطابق، دسمبر 2022ء سے اگست 2026ء کے دوران روسی خام تیل کی برآمدات میں چین کا حصہ تقریباً نصف، جبکہ بھارت کا حصہ 37 فیصد رہا۔اسی دوران امریکہ میں منظور ہونے والے نئے قانون کے تحت روس سے توانائی خریدنے والے چین اور بھارت جیسے ممالک پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔ اس سے بھارت کے لئے توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور امریکی منڈی تک رسائی برقرار رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
امریکی پالیسی کا تضاد بھی قابلِ غور ہے۔ ایک طرف واشنگٹن بھارت پر روسی تیل کی خریداری کم کرنے کے لئے دباؤ ڈالتا ہے، دوسری طرف امریکی انتظامیہ نے روس سے ڈیزل کی فراہمی کے معاہدے کا اعلان کیا۔ اگرچہ دونوں معاملات کی تفصیلات مختلف ہو سکتی ہیں، تاہم یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ عالمی تجارت اور توانائی کے معاملات میں اصولوں کا اطلاق سب پر یکساں کیوں نہیں ہوتا۔
بھارت کو اس صورت حال کا جواب جذباتی ردعمل کے بجائے متوازن حکمت عملی سے دینا ہوگا۔ امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری رکھتے ہوئے آئی ٹی صنعت کے مفادات کا تحفظ، برآمدی منڈیوں میں تنوع اور توانائی کے شعبے میں قومی مفادات کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ ہنرمند افرادی قوت کے لئے متبادل عالمی مواقع تلاش کرنا بھی اہم ہے تاکہ کسی ایک ملک کی امیگریشن پالیسی بھارتی معیشت کے لئے بڑا خطرہ نہ بن سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت اور امریکہ ایک دوسرے کے اہم اقتصادی اور تزویراتی شراکت دار ہیں، لیکن مضبوط تعلقات کے لئے باہمی احترام، پالیسیوں میں تسلسل اور اعتماد ضروری ہے۔ اگر امریکہ تجارت، ویزا اور توانائی کے معاملات کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا رہا تو دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی بڑھ سکتی ہے۔
ززز


