ایک خواب، در نجات

 

 

شگفتہ پروین

رات بھر ہونے والی تیز بارش کے بعد صبح کا موسم نہایت خوشگوار تھا۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے زریں کے کمرے کی کھڑکی کے پردوں کو بار بار اڑا رہے تھے اور
سورج کی مدھم سنہری روشنی کھڑکی سے چھن کر کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔ کمرہ سادہ مگر نہایت نفاست سے سجا ہوا تھا۔
اچانک الارم کی آواز سے زریں کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے حسبِ معمول سب سے پہلے اپنا موبائل فون اٹھایا۔ اسکرین پر ’’صبح بخیر‘‘ کا پیغام جگمگا رہا تھا۔
گزشتہ کچھ دنوں سے موبائل فون میں اس کی دلچسپی کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی تھی۔ پیغام دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں خوشی کی ایک ہلکی سی چمک ابھری اور وہ جلدی جلدی اس کا جواب لکھنے لگی۔
ابھی اس نے پیغام بھیجا ہی تھا کہ موبائل دوبارہ بج اٹھا۔
’’تمہیں یاد ہے نا، آج ہمیں ملنا ہے؟‘‘
زریں نے چند لمحے اسکرین کو دیکھا، پھر جواب دیا
ہاں، یاد ہے ۔لیکن۔۔۔
’’لیکن کیا؟ کل ہی تو ہماری اس بارے میں تفصیل سے بات ہوئی تھی۔‘‘
’’ہاں، لیکن اگر کسی نے دیکھ لیا تو؟ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘
ذیشان نے فوراً جواب دیا:
’’ارے نہیں! کوئی نہیں دیکھے گا۔ میں تمہیں تمہارے کالج کے پاس والے راستے سے لے لوں گا۔ وہیں سے ہم میرے دوست کے گھر جائیں گے، کچھ دیر وہاں رکیں گے اور پھر میں تمہیں واپس کالج کے پاس چھوڑ دوں گا۔‘‘
ذیشان آج کی ملاقات کے لئے بے حد پُرجوش تھا اور زریں کو ہر طرح سے قائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد زریں نے لکھا:
’’اچھا، ٹھیک ہے۔ میں تیار ہو کر تمہیں فون کروں گی۔‘‘
زریں ایک اچھے گھرانے کی سیدھی سادی لڑکی تھی۔ اس کے والد بیرونِ ملک ملازمت کرتے تھے، جبکہ اس کی ماں گھر کی تمام ذمہ داریاں بخوبی نبھاتی تھیں۔
بارہویں جماعت میں اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد زریں نے کالج میں داخلہ لیا تھا۔ وہیں اس کی ملاقات ذیشان سے ہوئی۔ ابتدا میں یہ تعلق محض ایک دوستی تھا، مگر نہ جانے کب یہ دوستی پسندیدگی میں بدل گئی اور پسندیدگی رفتہ رفتہ ایک ایسی وابستگی بن گئی جس کا احساس خود زریں کو بھی پوری طرح نہ تھا۔
ذیشان اپنا جنم دن زریں کے ساتھ منانا چاہتا تھا۔ گزشتہ ایک ہفتے سے وہ اسے ملاقات کے لئے قائل کر رہا تھا اور بالآخر وہ دن آ ہی گیا۔
زریں بستر سے اٹھی اور جلدی جلدی تیار ہونے لگی۔ اس نے کالے رنگ کی شلوار قمیص زیبِ تن کی، ہلکی سی گلابی لپ اسٹک لگائی اور اپنے بال کھلے چھوڑ دیے۔ آئینے میں خود کو دیکھ کر وہ ایک لمحے کے لئے مسکرائی۔
زینے اتر کر اس نے امّاں کو سلام کیا اور کالج جانے کے بہانے گھر سے نکلنے لگی۔
’’بیٹا، ناشتہ تو کر لو۔‘‘*امّاں نے پیچھے سے آواز دی۔
’’امّاں، آج کالج کے لئے دیر ہو رہی ہے۔ واپس آ کر کھا لوں گی۔‘‘
یہ کہتے ہوئے وہ جلدی سے گھر سے باہر نکل گئی۔
وہ نہیں چاہتی تھی کہ امّاں اس کے چہرے سے اس کے دل کا راز پڑھ لیں۔
ذیشان موٹر سائیکل لئے کالج جانے والے راستے پر اس کا منتظر تھا۔ زریں کو ساتھ بٹھا کر وہ شہر کی بھیڑ سے دور ایک نسبتاً سنسان راستے پر واقع اپنے دوست کے گھر پہنچ گیا۔

گھر کا ایک کمرہ بالکل خالی تھا۔ وہاں ضرورت کی چند چیزوں کے سوا کچھ نہ تھا۔

کمرے میں قدم رکھتے ہی زریں کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی پیدا ہوئی۔ اسے محسوس ہوا جیسے کوئی انجانا خطرہ اس کے قریب آ کھڑا ہوا ہو۔
اس نے بے اختیار کہا:
’’ذیشان… واپس چلتے ہیں۔ مجھے یہاں اچھا نہیں لگ رہا۔‘‘

ذیشان نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’کیوں؟‘‘
’’بس… مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔ یہاں تمہارے ساتھ اکیلے مجھے کچھ ٹھیک محسوس نہیں ہو رہا۔ چلتے ہیں نا۔‘‘
زریں مضطرب نظروں سے کبھی دروازے کی طرف دیکھتی اور کبھی کمرے کی خالی دیواروں کو۔
ذیشان نے اس کی پریشانی کو محسوس کیا اور قدرے نرمی سے بولا:
’’دیکھو، ہم کچھ دیر یہاں رک جاتے ہیں۔ اگر اس کے بعد بھی تمہیں اچھا نہ لگا تو ہم فوراً چلے جائیں گے۔‘‘
زریں خاموش ہو گئی۔
وہ ایک طرف بیٹھ گئی اور دونوں آپس میں باتیں کرنے لگے۔ ابتدا میں زریں کے دل میں موجود بے چینی برقرار رہی، مگر کچھ ہی دیر بعد ذیشان کی باتوں میں الجھ کر وہ اپنی پریشانی بھولنے لگی۔
باتوں ہی باتوں میں دونوں ایک دوسرے کے قریب آتے گئے۔
کہتے ہیں، دو نامحرموں کے درمیان جب تنہائی ہو تو تیسرا شیطان ہوتا ہے۔*شاید وہی لمحہ تھا جب دونوں کے نفس ان کے حواس پر غالب آنے لگے اور عقل کی آواز کہیں پسِ پشت چلی گئی۔
انسان کے دل میں اٹھنے والی خواہشیں کبھی کبھی عقل کی آواز کو مدھم کر دیتی ہیں۔ وہ لمحہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ دونوں اپنے جذبات کے بہاؤ میں بہتے چلے گئے، یہاں تک کہ ایک ایسی حد کے قریب جا پہنچے جہاں سے واپس لوٹنا آسان نہیں تھا۔
زریں کے اندر کہیں ایک آواز مسلسل اسے روک رہی تھی، مگر خواہش اور جذبات نے اس آواز کو دبا دیا تھا۔
اور پھر۔۔۔
’’زریں بیٹا! اٹھو… کالج جانے کے لئے دیر ہو رہی ہے۔‘‘
امّاں کی آواز سیڑھیوں سے ہوتی ہوئی اوپر کمرے تک پہنچی۔
’’کتنی دیر سوتی رہو گی بیٹا؟ اب اٹھ جاؤ۔‘‘
زریں کی آنکھ اچانک کھل گئی۔
وہ گھبرا کر بستر پر اٹھ بیٹھی۔
چند لمحوں تک وہ خالی نظروں سے سامنے دیکھتی رہی۔ اس کی سانسیں تیز تھیں۔ پیشانی پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں نمودار ہو چکی تھیں اور آنکھوں کے کنارے نمی سے بھر گئے تھے۔
پھر اس نے اپنے اردگرد دیکھا۔
کمرہ وہی تھا۔
وہ اپنے بستر پر تھی۔
وہ کہیں گئی ہی نہیں تھی۔
زریں نے ایک لمبی سانس لی اور بے اختیار اس کے لبوں سے نکلا:’’یہ… خواب تھا؟‘‘
اس نے آنکھیں بند کیں۔
’’یا اللہ! تیرا شکر ہے… یہ صرف ایک خواب تھا۔‘‘
اس کی آواز میں خوف بھی تھا اور سکون بھی۔
اسی لمحے موبائل فون کی گھنٹی بجی۔
زریں کا دل ایک بار پھر زور سے دھڑکا۔
اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے موبائل اٹھایا۔

اسکرین پر ذیشان کا پیغام جگمگا رہا تھا:
’’آج مل رہے ہیں نا ہم دونوں؟‘‘
زریں چند لمحوں تک اس پیغام کو دیکھتی رہی۔
اس کے ذہن میں ابھی ابھی دیکھا ہوا خواب پوری شدت سے گھوم رہا تھا۔ وہ خواب جس میں ایک لمحے کی کمزوری اسے ایک ایسے راستے پر لے گئی تھی جہاں سے واپسی شاید ممکن نہ تھی۔
مگر اب وہ حقیقت میں اپنے کمرے میں تھی۔
اس کے پاس فیصلہ کرنے کا موقع تھا۔
یا یہ خواب اسے اس راستے سے واپس لوٹنے کا موقع دے گا جس کے آخر میں پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں؟
زریں نے موبائل کو مضبوطی سے تھاما۔
باہر بارش کے بعد دھلی ہوئی صبح اپنے پورے حسن کے ساتھ پھیلی ہوئی تھی۔
اور شاید آج اس کے سامنے بھی ایک نئی صبح تھی۔
ایک ایسا خواب…
جو شاید اس کے لئے درِ نجات*بن چکا تھا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

ایک خواب، در نجات

 

 

شگفتہ پروین

رات بھر ہونے والی تیز بارش کے بعد صبح کا موسم نہایت خوشگوار تھا۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے زریں کے کمرے کی کھڑکی کے پردوں کو بار بار اڑا رہے تھے اور
سورج کی مدھم سنہری روشنی کھڑکی سے چھن کر کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔ کمرہ سادہ مگر نہایت نفاست سے سجا ہوا تھا۔
اچانک الارم کی آواز سے زریں کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے حسبِ معمول سب سے پہلے اپنا موبائل فون اٹھایا۔ اسکرین پر ’’صبح بخیر‘‘ کا پیغام جگمگا رہا تھا۔
گزشتہ کچھ دنوں سے موبائل فون میں اس کی دلچسپی کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی تھی۔ پیغام دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں خوشی کی ایک ہلکی سی چمک ابھری اور وہ جلدی جلدی اس کا جواب لکھنے لگی۔
ابھی اس نے پیغام بھیجا ہی تھا کہ موبائل دوبارہ بج اٹھا۔
’’تمہیں یاد ہے نا، آج ہمیں ملنا ہے؟‘‘
زریں نے چند لمحے اسکرین کو دیکھا، پھر جواب دیا
ہاں، یاد ہے ۔لیکن۔۔۔
’’لیکن کیا؟ کل ہی تو ہماری اس بارے میں تفصیل سے بات ہوئی تھی۔‘‘
’’ہاں، لیکن اگر کسی نے دیکھ لیا تو؟ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘
ذیشان نے فوراً جواب دیا:
’’ارے نہیں! کوئی نہیں دیکھے گا۔ میں تمہیں تمہارے کالج کے پاس والے راستے سے لے لوں گا۔ وہیں سے ہم میرے دوست کے گھر جائیں گے، کچھ دیر وہاں رکیں گے اور پھر میں تمہیں واپس کالج کے پاس چھوڑ دوں گا۔‘‘
ذیشان آج کی ملاقات کے لئے بے حد پُرجوش تھا اور زریں کو ہر طرح سے قائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد زریں نے لکھا:
’’اچھا، ٹھیک ہے۔ میں تیار ہو کر تمہیں فون کروں گی۔‘‘
زریں ایک اچھے گھرانے کی سیدھی سادی لڑکی تھی۔ اس کے والد بیرونِ ملک ملازمت کرتے تھے، جبکہ اس کی ماں گھر کی تمام ذمہ داریاں بخوبی نبھاتی تھیں۔
بارہویں جماعت میں اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد زریں نے کالج میں داخلہ لیا تھا۔ وہیں اس کی ملاقات ذیشان سے ہوئی۔ ابتدا میں یہ تعلق محض ایک دوستی تھا، مگر نہ جانے کب یہ دوستی پسندیدگی میں بدل گئی اور پسندیدگی رفتہ رفتہ ایک ایسی وابستگی بن گئی جس کا احساس خود زریں کو بھی پوری طرح نہ تھا۔
ذیشان اپنا جنم دن زریں کے ساتھ منانا چاہتا تھا۔ گزشتہ ایک ہفتے سے وہ اسے ملاقات کے لئے قائل کر رہا تھا اور بالآخر وہ دن آ ہی گیا۔
زریں بستر سے اٹھی اور جلدی جلدی تیار ہونے لگی۔ اس نے کالے رنگ کی شلوار قمیص زیبِ تن کی، ہلکی سی گلابی لپ اسٹک لگائی اور اپنے بال کھلے چھوڑ دیے۔ آئینے میں خود کو دیکھ کر وہ ایک لمحے کے لئے مسکرائی۔
زینے اتر کر اس نے امّاں کو سلام کیا اور کالج جانے کے بہانے گھر سے نکلنے لگی۔
’’بیٹا، ناشتہ تو کر لو۔‘‘*امّاں نے پیچھے سے آواز دی۔
’’امّاں، آج کالج کے لئے دیر ہو رہی ہے۔ واپس آ کر کھا لوں گی۔‘‘
یہ کہتے ہوئے وہ جلدی سے گھر سے باہر نکل گئی۔
وہ نہیں چاہتی تھی کہ امّاں اس کے چہرے سے اس کے دل کا راز پڑھ لیں۔
ذیشان موٹر سائیکل لئے کالج جانے والے راستے پر اس کا منتظر تھا۔ زریں کو ساتھ بٹھا کر وہ شہر کی بھیڑ سے دور ایک نسبتاً سنسان راستے پر واقع اپنے دوست کے گھر پہنچ گیا۔

گھر کا ایک کمرہ بالکل خالی تھا۔ وہاں ضرورت کی چند چیزوں کے سوا کچھ نہ تھا۔

کمرے میں قدم رکھتے ہی زریں کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی پیدا ہوئی۔ اسے محسوس ہوا جیسے کوئی انجانا خطرہ اس کے قریب آ کھڑا ہوا ہو۔
اس نے بے اختیار کہا:
’’ذیشان… واپس چلتے ہیں۔ مجھے یہاں اچھا نہیں لگ رہا۔‘‘

ذیشان نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’کیوں؟‘‘
’’بس… مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔ یہاں تمہارے ساتھ اکیلے مجھے کچھ ٹھیک محسوس نہیں ہو رہا۔ چلتے ہیں نا۔‘‘
زریں مضطرب نظروں سے کبھی دروازے کی طرف دیکھتی اور کبھی کمرے کی خالی دیواروں کو۔
ذیشان نے اس کی پریشانی کو محسوس کیا اور قدرے نرمی سے بولا:
’’دیکھو، ہم کچھ دیر یہاں رک جاتے ہیں۔ اگر اس کے بعد بھی تمہیں اچھا نہ لگا تو ہم فوراً چلے جائیں گے۔‘‘
زریں خاموش ہو گئی۔
وہ ایک طرف بیٹھ گئی اور دونوں آپس میں باتیں کرنے لگے۔ ابتدا میں زریں کے دل میں موجود بے چینی برقرار رہی، مگر کچھ ہی دیر بعد ذیشان کی باتوں میں الجھ کر وہ اپنی پریشانی بھولنے لگی۔
باتوں ہی باتوں میں دونوں ایک دوسرے کے قریب آتے گئے۔
کہتے ہیں، دو نامحرموں کے درمیان جب تنہائی ہو تو تیسرا شیطان ہوتا ہے۔*شاید وہی لمحہ تھا جب دونوں کے نفس ان کے حواس پر غالب آنے لگے اور عقل کی آواز کہیں پسِ پشت چلی گئی۔
انسان کے دل میں اٹھنے والی خواہشیں کبھی کبھی عقل کی آواز کو مدھم کر دیتی ہیں۔ وہ لمحہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ دونوں اپنے جذبات کے بہاؤ میں بہتے چلے گئے، یہاں تک کہ ایک ایسی حد کے قریب جا پہنچے جہاں سے واپس لوٹنا آسان نہیں تھا۔
زریں کے اندر کہیں ایک آواز مسلسل اسے روک رہی تھی، مگر خواہش اور جذبات نے اس آواز کو دبا دیا تھا۔
اور پھر۔۔۔
’’زریں بیٹا! اٹھو… کالج جانے کے لئے دیر ہو رہی ہے۔‘‘
امّاں کی آواز سیڑھیوں سے ہوتی ہوئی اوپر کمرے تک پہنچی۔
’’کتنی دیر سوتی رہو گی بیٹا؟ اب اٹھ جاؤ۔‘‘
زریں کی آنکھ اچانک کھل گئی۔
وہ گھبرا کر بستر پر اٹھ بیٹھی۔
چند لمحوں تک وہ خالی نظروں سے سامنے دیکھتی رہی۔ اس کی سانسیں تیز تھیں۔ پیشانی پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں نمودار ہو چکی تھیں اور آنکھوں کے کنارے نمی سے بھر گئے تھے۔
پھر اس نے اپنے اردگرد دیکھا۔
کمرہ وہی تھا۔
وہ اپنے بستر پر تھی۔
وہ کہیں گئی ہی نہیں تھی۔
زریں نے ایک لمبی سانس لی اور بے اختیار اس کے لبوں سے نکلا:’’یہ… خواب تھا؟‘‘
اس نے آنکھیں بند کیں۔
’’یا اللہ! تیرا شکر ہے… یہ صرف ایک خواب تھا۔‘‘
اس کی آواز میں خوف بھی تھا اور سکون بھی۔
اسی لمحے موبائل فون کی گھنٹی بجی۔
زریں کا دل ایک بار پھر زور سے دھڑکا۔
اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے موبائل اٹھایا۔

اسکرین پر ذیشان کا پیغام جگمگا رہا تھا:
’’آج مل رہے ہیں نا ہم دونوں؟‘‘
زریں چند لمحوں تک اس پیغام کو دیکھتی رہی۔
اس کے ذہن میں ابھی ابھی دیکھا ہوا خواب پوری شدت سے گھوم رہا تھا۔ وہ خواب جس میں ایک لمحے کی کمزوری اسے ایک ایسے راستے پر لے گئی تھی جہاں سے واپسی شاید ممکن نہ تھی۔
مگر اب وہ حقیقت میں اپنے کمرے میں تھی۔
اس کے پاس فیصلہ کرنے کا موقع تھا۔
یا یہ خواب اسے اس راستے سے واپس لوٹنے کا موقع دے گا جس کے آخر میں پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں؟
زریں نے موبائل کو مضبوطی سے تھاما۔
باہر بارش کے بعد دھلی ہوئی صبح اپنے پورے حسن کے ساتھ پھیلی ہوئی تھی۔
اور شاید آج اس کے سامنے بھی ایک نئی صبح تھی۔
ایک ایسا خواب…
جو شاید اس کے لئے درِ نجات*بن چکا تھا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون