
محمد اعجاز افضل
صبح کے چھ بجے تھے۔چوراہے پر ہلکی دھند اور ادھ کھلے دکانوں کا منظر ایک عام دن کا پتہ دے رہا تھا۔لیکن ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر چار پر کچھ مختلف ہلچل تھی۔ایک پرانی وردی میں ملبوس سوکھا چہرہ لیے بزرگ،کندھے پر جھولا لٹکائے،ایک بینچ پر بیٹھے انتظار میں تھا۔
یہ عبدالرشید تھے،ریٹائیرڈ ریلوے گارڈ،جنہیں اب اس شہر میں لوگ بس”رشید چاچا”کے نام سے جانتے تھے۔ان کی آنکھیں بار بار گھڑی کی سوئیوں اور ریل کے پٹری پر اٹھتی رہتی تھی،جیسے کسی بہت اہم چیز کا انتظار ہو۔
"چاچا جی کوئی خاص مہمان آ رہا ہے کیا؟اسٹیشن کے چائے والے لڑکے نے پوچھا،
"ہاں بیٹا،بہت خاص ہے۔۔۔۔بہت پرانا وعدہ ہے،شاید اج پورا ہو جائے۔۔۔۔رشید چاچا کی آواز میں ایک عجیب سی چمک تھی۔
لڑکا مسکرایا،لیکن سمجھا نہیں اور بھاگ کر اپنے چائے کے کیتلی کی طرف لوٹ گیا۔
رشید چاچا جب جوان تھے تو ریلوے گارڈ تھے۔کالی وردی،سیٹی،لال جھنڈا اور وقت کی پابندی ان کی پہچان تھی۔ان کی ایمانداری اور سختی مشہور تھی۔مگر دل کے اندر نرمی بھی تھی جو صرف کچھ خاص کو دکھتی تھی۔
ایک دن ایک واقعہ ہوا۔ٹرین دیر سے آئی تھی،اور پلیٹ فارم پر شور تھا۔اس ہجوم میں ایک پندرہ سال کا لڑکا،پتلا،سہما ہوا،پھٹے پرانے کپڑوں میں کسی کی تلاش میں بھٹک رہا تھا۔
"ابا….ابا….”وہ بار بار آوازیں دیتا،لیکن جواب نہیں ملتا۔
رشید چاچا نے قریب جا کر پوچھا،”کیا ہوا بیٹے”؟
"نام کیا ہے بیٹا تمہارا”؟
"ایاز”
کافی دیر تلاش کے بعد پتہ چلا کہ اس کا باپ مزدوری کے لیے شہر گیا تھا اور وہیں ایک حادثے میں فوت ہو گیا۔
رشید چاچا کا دل دہل گیا۔وہ لڑکا تنہا،بے آسرا،اور اج نبی شہر میں اکیلا رہ گیا تھا۔
اسی سام رشید چاچا نے ایاز سے کہا بیٹا،اب تو میرے ساتھ رہو گے۔تمہارا خرچ میں اٹھاؤں گا۔
ایاز کی آنکھوں میں پہلی بار روشنی جھلکی۔کچھ مہینوں میں وہ چاچا کے گھر،اس کے اصولوں اور زندگی کے اندر سے مانوس ہو گیا۔
اسکول میں بھی داخلہ ہو گیا۔ایک دن ایاز نے کہا،”چاچا،ایک وعدہ کرتا ہوں۔۔۔۔۔جب میں بڑا ہو کر کچھ بنوں گا،تو اپ کی خدمت کا قرض ضرور چکاؤں گا۔
چاچا نے ہنس کر کہا،”بیٹا،یہ کوئی قرض نہیں،صرف انسانیت ہے۔تم بس ایماندار انسان بننا،یہی کافی ہے میرے لیے”۔
مگر وقت کا دھارا کب سیدھا چلتا ہے؟
کالج کی آخری سال میں،ایاز کو ایک پرائیویٹ کمپنی میں نوکری ملی اور وہ اچانک شہر چھوڑ کر دہلی روانہ ہو گیا۔رشید چاچا کو اس کی خبر صرف ایک خط سے ملی۔
"چاچا،آپ کا ایاز آج اپنے پیروں پر کھڑا ہو گیا ہے۔وعدہ ہے کہ جلد واپس آؤں گا،آپ کے قدم چومنے”۔
مگر یہ وعدہ برسوں برسوں تک ایک انتظار بن کر رہ گیا۔
اب رشید چاچا کی عمر پچھتر سال ہو چکی تھی۔وہ اب بھی اسٹیشن آتے،وہی بینچ پر بیٹھتے،وہی انتظار کرتے۔محلے والے کہتے”چاچا کا دماغ اب بوڑھا ہو گیا ہے،کسی پرانے وعدے کی زنجیر میں قید ہے”۔
لیکن چاچا کی دل میں ابھی بھی ایک روشنی تھی،ایک امید جو ابھی تک بجھی نہیں تھی۔
اسی رات،ایک نئی سوٹ پہنیں،سلیقے سے کٹا ہوا بال،اور چمکتی گاڑی سے ایک 30 سالہ جوان اترا۔وہ سیدھا رشید چاچا کے پاس آیا۔
"چاچا۔۔۔۔پہچانا؟”
رشید چاچا نے آنکھیں گھمائیں،اور کچھ دیر کے لیے دونوں کے درمیان خاموشی چھا گئی۔
"ایاز۔۔۔۔؟”
"جی چاچا۔۔۔۔آپ کا ایاز،اج اپ کے وعدے کو سنبھالنے آیا ہے”۔
چاچا کی آنکھوں میں آنسوں آگئے۔وہ کھڑے ہوئے،مگر لڑکھڑاتے ہوئے۔ایاز نے جلدی سے سنبھالا۔
"کہاں رہ گئے تھے اتنے سال”؟
چاچا۔۔۔مصروفیت،مجبوری اور شاید خودغرضی لیکن ضمیر روزانہ لڑتا رہا۔جب سنا اپ کی طبیعت ناساز ہے تو سب کچھ چھوڑ کر آگیا۔”
چاچا خاموش ہو گئے۔صرف اتنا بولے
"بس۔۔۔اچھا ہے کہ آخری وعدہ یاد رہا۔”
ایاز نے رشید چاچا کو اپنے ساتھ دہلی لے جانےکی ضد کیا مگر چاچا نے انکار کر دیا اور کہا کہ یہی میرا شہر ہے،یہی میری مٹی ہے۔
آخر کار ایاز میں گاؤں میں ایک پرائمری اسکول کا سنگ بنیاد رکھا اور اس کا نام رکھا”عبدالرشید پرائمری اسکول”۔
اب وہ اکثر دہلی سے آتا،اسکول دیکھتا،چاچا کو دوائیں دیتا ان کے ساتھ وقت گزارتا اور بچوں کو ریلوے کے قصے سنا تھا۔
اور رشید چاچا وہ اپنی بینچ پر بیٹھتے،سیٹی بجاتے اور ہلکی مسکراہٹ سے کہتے”یہی تھا میرا آخری وعدہ۔۔۔۔۔اب مکمل ہو گیا”۔


