جنگ نیوز
شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی آف کشمیر (SKUAST-K) نے پہلی بار کشمیر میں کیڑے مار ادویات سے پاک سیب تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر نذیر احمد گنائی نے جمعہ کو بتایا کہ سیب کے نمونوں کی 55 اقسام کی کیڑے مار ادویات کے لئے جانچ کی گئی، تاہم تمام کیمیکلز کی مقدار مقررہ حدِ پیمائش سے کم پائی گئی۔
یہ بات انہوں نے شالیمار میں SKUAST-K، بھارتیہ کسان سنگھ اور جموں و کشمیر کے کسان مشاورتی بورڈ کے اشتراک سے قدرتی کاشتکاری پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
پروفیسر گنائی نے کہا کہ کیمیائی ادویات اور کھادوں کے بے تحاشا استعمال سے مٹی، پانی، ہوا اور حیاتیاتی تنوع متاثر ہو رہے ہیں، جس کے انسانی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے قدرتی اور نامیاتی کاشتکاری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے بتایا کہ SKUAST-K میں قدرتی کاشتکاری کے لئے سینٹر آف ایکسیلنس اور نامیاتی زراعت کا ایک بڑا مرکز قائم کیا گیا ہے، جہاں صنعتی پیمانے پر حیاتیاتی زرعی مصنوعات تیار کرنے کی سہولیات دستیاب ہیں۔ یہاں کسانوں اور نوجوانوں کو حیاتیاتی کھادیں، حیاتیاتی انسدادِ آفات کی مصنوعات اور دیگر زرعی اجزا تیار کرنے اور استعمال کرنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔
وائس چانسلر کے مطابق یونیورسٹی کسانوں، حکومت اور زرعی ماہرین کے اشتراک سے جموں و کشمیر میں پائیدار کاشتکاری کے بارے میں بیداری پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے SKUAST-K کے ’ون ہیلتھ‘ پروگرام کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت ماحولیات، زراعت، حیوانات اور انسانی صحت کو باہم مربوط انداز میں دیکھا جاتا ہے۔


