قومی یوم ڈاک:ہندوستانی محکمۂ ڈاک کی 172 سالہ تابناک داستان

 

عنایت اللہ ننھے

ڈیجیٹل دور میں رابطے کے ذرائع اس قدر آسان اور قابلِ رسائی ہو چکے ہیں کہ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک لوگ نہ صرف ویڈیو کالز کے ذریعے براہِ راست رابطہ کر رہے ہیں بلکہ سیکنڈوں میں وائس میسجز، تصاویر اور ویڈیوز کا تبادلہ بھی کر رہے ہیں۔ آج ہم جس مواصلاتی نظام میں رہتے ہیں، اس کی ترقی میں ہندوستانی محکمہ ڈاک کا اہم کردار رہا ہے۔ قومی ڈاک کا دن ہر سال 10 اکتوبر کو منایا جاتا ہے، جبکہ دنیا بھر میں عالمی یومِ ڈاک 9 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ ان دنوں کو منانے کا مقصد گزشتہ 172 سال کے دوران ہندوستانی محکمہ ڈاک کے اہم کردار کو اجاگر کرنا ہے۔
ہندوستان میں ڈاک کا پہلا نظام 1766 میں شروع ہوا، جبکہ انگریز وارن ہیسٹنگز نے 1774 میں کولکتہ (سابقہ کلکتہ) میں پہلا ڈاک خانہ قائم کیا۔ لارڈ ڈلہوزی نے یکم اکتوبر 1854 کو باضابطہ طور پر محکمہ ڈاک قائم کیا۔ عالمی یومِ ڈاک 9 اکتوبر کو اس لئے منایا جاتا ہے کہ 9 اکتوبر 1874 کو سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت برن میں 22 ممالک نے یونیورسل پوسٹل یونین کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اسی مناسبت سے اقوامِ متحدہ نے اس دن کو عالمی یومِ ڈاک کے طور پر منانے کا انتخاب کیا۔
ہندوستان کی متنوع ثقافتوں، روایات اور دشوار گزار جغرافیائی خطوں کے باوجود، ہندوستانی پوسٹل سروس مواصلات کے مؤثر ذرائع میں شمار ہوتی ہے۔ تاہم، افغان حکمران شیر شاہ سوری نے انگریزوں سے بہت پہلے ڈاک کا نظام قائم کیا تھا۔ اس نے ہر دس میل پر ایک ڈاک خانہ قائم کیا۔ مورخین کے مطابق، ڈاک کی ترسیل کے لئے ترکی گھوڑوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔
ہندوستانی محکمہ ڈاک ہر سال 9 اکتوبر سے 14 اکتوبر تک عالمی ڈاک ہفتہ مناتا ہے۔ ڈاک ٹکٹ سب سے پہلے 1852 میں ہندوستان میں متعارف کرائے گئے، جبکہ یکم اکتوبر 1854 کو ملکہ وکٹوریہ کی تصویر والا ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا۔ ہندوستان کا اب تک کا سب سے بڑا ڈاک ٹکٹ 20 اگست 1991 کو جاری کیا گیا، جس پر سابق وزیرِ اعظم راجیو گاندھی کی تصویر تھی۔ یکم جولائی 1876 کو ہندوستان یونیورسل پوسٹل یونین کا رکن بنا اور ایشیا کا پہلا ملک قرار پایا جس نے اس کی رکنیت حاصل کی۔
آج ہم UPI اور موبائل نمبروں کے ذریعے انٹرنیٹ پر برقی انداز میں رقم کا لین دین کرتے ہیں، لیکن اس دور میں، جب ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی نہیں کی تھی، رقم ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے کے لئے ڈاک خانوں میں منی آرڈر کی سہولت استعمال کی جاتی تھی۔ یہ نظام 1880 میں شروع ہوا تھا، جو اب الیکٹرانک یا ڈیجیٹل شکل میں ای منی آرڈر کی صورت اختیار کر چکا ہے اور ہندوستان کے کسی بھی کونے میں رقم منتقل کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
آزادی کے بعد بین الاقوامی خط و کتابت کے لئے ایک آنہ، ڈیڑھ آنہ اور ساڑھے تین آنہ مالیت کے پوسٹ کارڈ اور ڈاک ٹکٹ جاری کیے گئے، جبکہ رجسٹرڈ خطوط کی فیس اس سے دگنی یا تین گنا ہوتی تھی۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے، وہ ’’بیرنگ چٹھی‘‘ لکھتے تھے۔ یہ سفید کاغذ سے بنا ایک چھوٹا سا پیکٹ ہوتا تھا، جس کے ذریعے ضروری اطلاع بھیجی جاتی تھی۔ اس کے بدلے محکمہ ڈاک کا ڈاکیا خط وصول کرنے والے شخص سے رقم وصول کرتا تھا۔
مزید برآں، ان دنوں محکمہ ڈاک کی نگرانی میں فوری طور پر موت یا ہنگامی صورتِ حال کی اطلاع پہنچانے کے لئے ٹیلی گرام آفس بھی قائم تھا۔ ٹیلی پرنٹر کے ذریعے پیغامات بھیجنے کے لئے فی لفظ فیس وصول کی جاتی تھی۔ ان دنوں پیسے کی قدر بہت زیادہ تھی، اس لئے لوگ مختصر الفاظ میں ٹیلی گرام بھیجتے تھے۔ موت یا خرابئ صحت جیسی ہنگامی صورتِ حال سے متعلق سرکاری اطلاعات عموماً پانچ سے پندرہ الفاظ میں لکھی جاتی تھیں، جنہیں ایک مخصوص ڈاکیا فوری طور پر متعلقہ شخص تک پہنچاتا تھا۔

اسی طرح، آج ہم سرکاری ملازمتوں کے لئے درخواست کی فیس آن لائن ادا کرتے ہیں، لیکن UPI نظام کی عدم موجودگی میں پوسٹ آفس سے پوسٹل آرڈر خرید کر بھیجا جاتا تھا۔ یہ ایک قسم کا نوٹ یا چیک ہوتا تھا، جس کا استعمال آج بھی برقرار ہے۔ اگر آج آپ کو پوسٹ آفس میں پوسٹل آرڈر دستیاب نہ ہو تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ انڈیا پوسٹ کی سرکاری ویب سائٹ سے ای پوسٹل آرڈر آن لائن خرید سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ رائٹ ٹو انفارمیشن (RTI) کے تحت درخواست کے ساتھ ادا کی جانے والی فیس بھی ای پوسٹل آرڈر کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔
اگرچہ ڈیجیٹل دنیا نے انٹرنیٹ اور سائبر سیکیورٹی کی بدولت معلومات کے تبادلے کو آسان بنا دیا ہے اور لوگوں کا پوسٹ آفس سے رابطہ کافی حد تک کم ہو گیا ہے، لیکن اس کی اہمیت اب بھی برقرار ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے خط لکھنا بڑی حد تک چھوڑ دیا ہے، مگر سرکاری اور نجی دستاویزات اب بھی پوسٹ آفس کے ذریعے بھیجی جاتی ہیں۔ اگرچہ آج کل نجی کورئیر سروسز عام ہو چکی ہیں، لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سرکاری محکموں کو اب بھی ہندوستانی ڈاک کے ذریعے خطوط بھیجنے پڑتے ہیں۔

اس ڈیجیٹل دور میں محکمہ ڈاک وسیع پیمانے پر خدمات انجام دے رہا ہے، جن میں انشورنس کی سہولت اہم ہے۔ پوسٹ آفس میں بینکنگ خدمات بھی شروع کی گئی ہیں۔ مزید برآں، حکومتِ ہند نے ہر ضلع کے مرکزی ڈاک خانوں میں پاسپورٹ سیوا کیندر کی شاخیں قائم کی ہیں، جس سے لوگوں کو پاسپورٹ سے متعلق کاموں کے لئے ریاستی دارالحکومتوں کا سفر کرنے کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔ اب پاسپورٹ کی کارروائی میں ہر ضلع کے پوسٹل حکام بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
محکمہ ڈاک کے تحت کورئیر سروسز بھی قائم کی گئی ہیں، جو اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک خدمات فراہم کرتی ہیں۔ 172 سالہ سفر کے بعد ہندوستانی محکمہ ڈاک نے اپنے کام کاج کو بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل شکل دے دی ہے۔ اسپیڈ پوسٹ سروس ہندوستان میں 1986 میں متعارف کرائی گئی تھی۔ آج ہندوستان بھر میں 1.65 لاکھ سے زیادہ ڈاک خانے موجود ہیں، جو مختلف ای پورٹلز کے ذریعے خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
ہندوستانی محکمہ ڈاک نے ملک سے باہر بھی ایک ڈاک خانہ قائم کیا، جو انٹارکٹیکا کے علاقے جنوبی گنگوتری میں واقع ہے۔ یہ ہندوستانی سرحدوں سے باہر قائم کیا جانے والا پہلا ہندوستانی ڈاک خانہ تھا، جسے 1983 میں قائم کیا گیا۔

میں آپ کے ساتھ ایک اہم معلوماتی پہلو بھی شیئر کر رہا ہوں۔ اگرچہ محکمہ ڈاک نے اپنے کام کاج کو بڑی حد تک ڈیجیٹل بنا لیا ہے، لیکن 172 سال پرانا پن کوڈ سسٹم آج بھی اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اسی لئے چھ ہندسوں پر مشتمل پن کوڈ کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔ PIN کا مطلب پوسٹل انڈیکس نمبر (Postal Index Number) ہے۔ یہ چھ ہندسوں کا نظام 54 سال قبل، 15 اگست 1972 کو، مرکزی وزارتِ مواصلات نے متعارف کرایا تھا۔ پن کوڈ کا پہلا ہندسہ خطے کی نمائندگی کرتا ہے، دوسرا ذیلی خطے کی، تیسرا چھانٹی کے ضلع کی، جبکہ آخری تین ہندسے متعلقہ ڈاک خانے کی شناخت ظاہر کرتے ہیں۔
اب محکمہ ڈاک کی خدمات اور فوائد پر نظر ڈالتے ہیں۔ آج ہندوستانی ڈاک خانہ وسیع پیمانے پر خدمات فراہم کر رہا ہے۔ ان میں پوسٹل لائف انشورنس، رورل پوسٹل لائف انشورنس، سکنیہ سمردھی یوجنا، جنرل سیونگ اکاؤنٹ، ریکرنگ ڈپازٹ اکاؤنٹ، فکسڈ ڈپازٹ اکاؤنٹ، سینئر سٹیزن سیونگ اسکیم، پبلک پراویڈنٹ فنڈ، کسان وکاس پتر، نیشنل سیونگ سرٹیفکیٹ اور بلوں کی ادائیگی کی مختلف سہولتیں شامل ہیں۔ مزید برآں، محکمہ ڈاک مختلف قسم کے سرکاری فارم بھی فروخت کرتا ہے۔
انڈیا پوسٹ کے ڈیجیٹل نظام کے تحت مختلف آن لائن خدمات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ محکمہ ڈاک ڈیجیٹل کامرس کے لئے اوپن نیٹ ورک متعارف کرا کر ای کامرس کے طریقۂ کار میں تبدیلی لا رہا ہے۔ یہ ایسا پلیٹ فارم ہے جو خریداروں اور فروخت کنندگان کو مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے براہِ راست جوڑتا ہے اور درمیانی افراد پر انحصار کم کرتا ہے۔ مزید برآں، محکمہ ڈاک کی خدمات کو مستحکم بنانے کے لئے اسے گورنمنٹ ای مارکیٹ پلیس جیسے پلیٹ فارمز کے ساتھ مربوط کیا جا رہا ہے۔
محکمہ ڈاک مختلف ریاستوں کے شہروں اور دیہات میں ڈاک خانے کھولنے کے لئے فرنچائز بھی فراہم کرتا ہے۔ ان کے ذریعے اسپیڈ پوسٹ، پیمنٹ سروس بزنس، ڈاک ٹکٹ اور اسٹیشنری کی فروخت، ای گورننس اسکیموں، پوسٹل لائف انشورنس، بلوں اور ٹیکسوں کی وصولی جیسے کام انجام دیے جا سکتے ہیں۔
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عالمی یومِ ڈاک کیوں منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد عوام میں ڈاک کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنا اور روزمرہ زندگی، کاروبار، سماجی ترقی اور معاشی سرگرمیوں میں اس کے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔ ڈاک کا نظام عالمی مواصلاتی انقلاب کا ایک اہم حصہ ہے، جس نے لوگوں کو ایک دوسرے سے رابطہ کرنے، خطوط لکھنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے مواقع فراہم کیے ہیں۔
آج ہندوستانی پوسٹل سروس ترقی اور جدت کی راہ پر گامزن ہے۔ بے روزگار نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لئے مرکزی حکومت ڈاک خانے کھولنے کی فرنچائزز بھی فراہم کر رہی ہے۔ اس ذریعے سے گھر بیٹھے ماہانہ 35000 سے 40000 روپے تک کمانے کا امکان بتایا جاتا ہے۔ اس طرح محکمہ ڈاک نہ صرف مواصلات کا ایک اہم ذریعہ ہے بلکہ روزگار اور مالی خودمختاری کے نئے مواقع فراہم کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

قومی یوم ڈاک:ہندوستانی محکمۂ ڈاک کی 172 سالہ تابناک داستان

 

عنایت اللہ ننھے

ڈیجیٹل دور میں رابطے کے ذرائع اس قدر آسان اور قابلِ رسائی ہو چکے ہیں کہ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک لوگ نہ صرف ویڈیو کالز کے ذریعے براہِ راست رابطہ کر رہے ہیں بلکہ سیکنڈوں میں وائس میسجز، تصاویر اور ویڈیوز کا تبادلہ بھی کر رہے ہیں۔ آج ہم جس مواصلاتی نظام میں رہتے ہیں، اس کی ترقی میں ہندوستانی محکمہ ڈاک کا اہم کردار رہا ہے۔ قومی ڈاک کا دن ہر سال 10 اکتوبر کو منایا جاتا ہے، جبکہ دنیا بھر میں عالمی یومِ ڈاک 9 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ ان دنوں کو منانے کا مقصد گزشتہ 172 سال کے دوران ہندوستانی محکمہ ڈاک کے اہم کردار کو اجاگر کرنا ہے۔
ہندوستان میں ڈاک کا پہلا نظام 1766 میں شروع ہوا، جبکہ انگریز وارن ہیسٹنگز نے 1774 میں کولکتہ (سابقہ کلکتہ) میں پہلا ڈاک خانہ قائم کیا۔ لارڈ ڈلہوزی نے یکم اکتوبر 1854 کو باضابطہ طور پر محکمہ ڈاک قائم کیا۔ عالمی یومِ ڈاک 9 اکتوبر کو اس لئے منایا جاتا ہے کہ 9 اکتوبر 1874 کو سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت برن میں 22 ممالک نے یونیورسل پوسٹل یونین کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اسی مناسبت سے اقوامِ متحدہ نے اس دن کو عالمی یومِ ڈاک کے طور پر منانے کا انتخاب کیا۔
ہندوستان کی متنوع ثقافتوں، روایات اور دشوار گزار جغرافیائی خطوں کے باوجود، ہندوستانی پوسٹل سروس مواصلات کے مؤثر ذرائع میں شمار ہوتی ہے۔ تاہم، افغان حکمران شیر شاہ سوری نے انگریزوں سے بہت پہلے ڈاک کا نظام قائم کیا تھا۔ اس نے ہر دس میل پر ایک ڈاک خانہ قائم کیا۔ مورخین کے مطابق، ڈاک کی ترسیل کے لئے ترکی گھوڑوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔
ہندوستانی محکمہ ڈاک ہر سال 9 اکتوبر سے 14 اکتوبر تک عالمی ڈاک ہفتہ مناتا ہے۔ ڈاک ٹکٹ سب سے پہلے 1852 میں ہندوستان میں متعارف کرائے گئے، جبکہ یکم اکتوبر 1854 کو ملکہ وکٹوریہ کی تصویر والا ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا۔ ہندوستان کا اب تک کا سب سے بڑا ڈاک ٹکٹ 20 اگست 1991 کو جاری کیا گیا، جس پر سابق وزیرِ اعظم راجیو گاندھی کی تصویر تھی۔ یکم جولائی 1876 کو ہندوستان یونیورسل پوسٹل یونین کا رکن بنا اور ایشیا کا پہلا ملک قرار پایا جس نے اس کی رکنیت حاصل کی۔
آج ہم UPI اور موبائل نمبروں کے ذریعے انٹرنیٹ پر برقی انداز میں رقم کا لین دین کرتے ہیں، لیکن اس دور میں، جب ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی نہیں کی تھی، رقم ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے کے لئے ڈاک خانوں میں منی آرڈر کی سہولت استعمال کی جاتی تھی۔ یہ نظام 1880 میں شروع ہوا تھا، جو اب الیکٹرانک یا ڈیجیٹل شکل میں ای منی آرڈر کی صورت اختیار کر چکا ہے اور ہندوستان کے کسی بھی کونے میں رقم منتقل کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
آزادی کے بعد بین الاقوامی خط و کتابت کے لئے ایک آنہ، ڈیڑھ آنہ اور ساڑھے تین آنہ مالیت کے پوسٹ کارڈ اور ڈاک ٹکٹ جاری کیے گئے، جبکہ رجسٹرڈ خطوط کی فیس اس سے دگنی یا تین گنا ہوتی تھی۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے، وہ ’’بیرنگ چٹھی‘‘ لکھتے تھے۔ یہ سفید کاغذ سے بنا ایک چھوٹا سا پیکٹ ہوتا تھا، جس کے ذریعے ضروری اطلاع بھیجی جاتی تھی۔ اس کے بدلے محکمہ ڈاک کا ڈاکیا خط وصول کرنے والے شخص سے رقم وصول کرتا تھا۔
مزید برآں، ان دنوں محکمہ ڈاک کی نگرانی میں فوری طور پر موت یا ہنگامی صورتِ حال کی اطلاع پہنچانے کے لئے ٹیلی گرام آفس بھی قائم تھا۔ ٹیلی پرنٹر کے ذریعے پیغامات بھیجنے کے لئے فی لفظ فیس وصول کی جاتی تھی۔ ان دنوں پیسے کی قدر بہت زیادہ تھی، اس لئے لوگ مختصر الفاظ میں ٹیلی گرام بھیجتے تھے۔ موت یا خرابئ صحت جیسی ہنگامی صورتِ حال سے متعلق سرکاری اطلاعات عموماً پانچ سے پندرہ الفاظ میں لکھی جاتی تھیں، جنہیں ایک مخصوص ڈاکیا فوری طور پر متعلقہ شخص تک پہنچاتا تھا۔

اسی طرح، آج ہم سرکاری ملازمتوں کے لئے درخواست کی فیس آن لائن ادا کرتے ہیں، لیکن UPI نظام کی عدم موجودگی میں پوسٹ آفس سے پوسٹل آرڈر خرید کر بھیجا جاتا تھا۔ یہ ایک قسم کا نوٹ یا چیک ہوتا تھا، جس کا استعمال آج بھی برقرار ہے۔ اگر آج آپ کو پوسٹ آفس میں پوسٹل آرڈر دستیاب نہ ہو تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ انڈیا پوسٹ کی سرکاری ویب سائٹ سے ای پوسٹل آرڈر آن لائن خرید سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ رائٹ ٹو انفارمیشن (RTI) کے تحت درخواست کے ساتھ ادا کی جانے والی فیس بھی ای پوسٹل آرڈر کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔
اگرچہ ڈیجیٹل دنیا نے انٹرنیٹ اور سائبر سیکیورٹی کی بدولت معلومات کے تبادلے کو آسان بنا دیا ہے اور لوگوں کا پوسٹ آفس سے رابطہ کافی حد تک کم ہو گیا ہے، لیکن اس کی اہمیت اب بھی برقرار ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے خط لکھنا بڑی حد تک چھوڑ دیا ہے، مگر سرکاری اور نجی دستاویزات اب بھی پوسٹ آفس کے ذریعے بھیجی جاتی ہیں۔ اگرچہ آج کل نجی کورئیر سروسز عام ہو چکی ہیں، لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سرکاری محکموں کو اب بھی ہندوستانی ڈاک کے ذریعے خطوط بھیجنے پڑتے ہیں۔

اس ڈیجیٹل دور میں محکمہ ڈاک وسیع پیمانے پر خدمات انجام دے رہا ہے، جن میں انشورنس کی سہولت اہم ہے۔ پوسٹ آفس میں بینکنگ خدمات بھی شروع کی گئی ہیں۔ مزید برآں، حکومتِ ہند نے ہر ضلع کے مرکزی ڈاک خانوں میں پاسپورٹ سیوا کیندر کی شاخیں قائم کی ہیں، جس سے لوگوں کو پاسپورٹ سے متعلق کاموں کے لئے ریاستی دارالحکومتوں کا سفر کرنے کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔ اب پاسپورٹ کی کارروائی میں ہر ضلع کے پوسٹل حکام بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
محکمہ ڈاک کے تحت کورئیر سروسز بھی قائم کی گئی ہیں، جو اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک خدمات فراہم کرتی ہیں۔ 172 سالہ سفر کے بعد ہندوستانی محکمہ ڈاک نے اپنے کام کاج کو بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل شکل دے دی ہے۔ اسپیڈ پوسٹ سروس ہندوستان میں 1986 میں متعارف کرائی گئی تھی۔ آج ہندوستان بھر میں 1.65 لاکھ سے زیادہ ڈاک خانے موجود ہیں، جو مختلف ای پورٹلز کے ذریعے خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
ہندوستانی محکمہ ڈاک نے ملک سے باہر بھی ایک ڈاک خانہ قائم کیا، جو انٹارکٹیکا کے علاقے جنوبی گنگوتری میں واقع ہے۔ یہ ہندوستانی سرحدوں سے باہر قائم کیا جانے والا پہلا ہندوستانی ڈاک خانہ تھا، جسے 1983 میں قائم کیا گیا۔

میں آپ کے ساتھ ایک اہم معلوماتی پہلو بھی شیئر کر رہا ہوں۔ اگرچہ محکمہ ڈاک نے اپنے کام کاج کو بڑی حد تک ڈیجیٹل بنا لیا ہے، لیکن 172 سال پرانا پن کوڈ سسٹم آج بھی اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اسی لئے چھ ہندسوں پر مشتمل پن کوڈ کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔ PIN کا مطلب پوسٹل انڈیکس نمبر (Postal Index Number) ہے۔ یہ چھ ہندسوں کا نظام 54 سال قبل، 15 اگست 1972 کو، مرکزی وزارتِ مواصلات نے متعارف کرایا تھا۔ پن کوڈ کا پہلا ہندسہ خطے کی نمائندگی کرتا ہے، دوسرا ذیلی خطے کی، تیسرا چھانٹی کے ضلع کی، جبکہ آخری تین ہندسے متعلقہ ڈاک خانے کی شناخت ظاہر کرتے ہیں۔
اب محکمہ ڈاک کی خدمات اور فوائد پر نظر ڈالتے ہیں۔ آج ہندوستانی ڈاک خانہ وسیع پیمانے پر خدمات فراہم کر رہا ہے۔ ان میں پوسٹل لائف انشورنس، رورل پوسٹل لائف انشورنس، سکنیہ سمردھی یوجنا، جنرل سیونگ اکاؤنٹ، ریکرنگ ڈپازٹ اکاؤنٹ، فکسڈ ڈپازٹ اکاؤنٹ، سینئر سٹیزن سیونگ اسکیم، پبلک پراویڈنٹ فنڈ، کسان وکاس پتر، نیشنل سیونگ سرٹیفکیٹ اور بلوں کی ادائیگی کی مختلف سہولتیں شامل ہیں۔ مزید برآں، محکمہ ڈاک مختلف قسم کے سرکاری فارم بھی فروخت کرتا ہے۔
انڈیا پوسٹ کے ڈیجیٹل نظام کے تحت مختلف آن لائن خدمات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ محکمہ ڈاک ڈیجیٹل کامرس کے لئے اوپن نیٹ ورک متعارف کرا کر ای کامرس کے طریقۂ کار میں تبدیلی لا رہا ہے۔ یہ ایسا پلیٹ فارم ہے جو خریداروں اور فروخت کنندگان کو مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے براہِ راست جوڑتا ہے اور درمیانی افراد پر انحصار کم کرتا ہے۔ مزید برآں، محکمہ ڈاک کی خدمات کو مستحکم بنانے کے لئے اسے گورنمنٹ ای مارکیٹ پلیس جیسے پلیٹ فارمز کے ساتھ مربوط کیا جا رہا ہے۔
محکمہ ڈاک مختلف ریاستوں کے شہروں اور دیہات میں ڈاک خانے کھولنے کے لئے فرنچائز بھی فراہم کرتا ہے۔ ان کے ذریعے اسپیڈ پوسٹ، پیمنٹ سروس بزنس، ڈاک ٹکٹ اور اسٹیشنری کی فروخت، ای گورننس اسکیموں، پوسٹل لائف انشورنس، بلوں اور ٹیکسوں کی وصولی جیسے کام انجام دیے جا سکتے ہیں۔
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عالمی یومِ ڈاک کیوں منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد عوام میں ڈاک کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنا اور روزمرہ زندگی، کاروبار، سماجی ترقی اور معاشی سرگرمیوں میں اس کے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔ ڈاک کا نظام عالمی مواصلاتی انقلاب کا ایک اہم حصہ ہے، جس نے لوگوں کو ایک دوسرے سے رابطہ کرنے، خطوط لکھنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے مواقع فراہم کیے ہیں۔
آج ہندوستانی پوسٹل سروس ترقی اور جدت کی راہ پر گامزن ہے۔ بے روزگار نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لئے مرکزی حکومت ڈاک خانے کھولنے کی فرنچائزز بھی فراہم کر رہی ہے۔ اس ذریعے سے گھر بیٹھے ماہانہ 35000 سے 40000 روپے تک کمانے کا امکان بتایا جاتا ہے۔ اس طرح محکمہ ڈاک نہ صرف مواصلات کا ایک اہم ذریعہ ہے بلکہ روزگار اور مالی خودمختاری کے نئے مواقع فراہم کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں