
جنگ فیچر ڈیسک
1905 میں برطانوی وائسرائے لارڈ کرزن نے بنگال کی تقسیم کا اعلان کیا، جس کا نفاذ 16 اکتوبر کو ہوا۔ اس وقت بنگال برطانوی ہندوستان کا ایک وسیع صوبہ تھا، جس میں موجودہ بنگلہ دیش، مغربی بنگال اور بہار و اڑیسہ کے بعض علاقے شامل تھے۔ برطانوی حکومت نے اس تقسیم کو انتظامی سہولت کے لئے ضروری قرار دیا، تاہم ہندوستانی قوم پرستوں نے اسے سیاسی مقاصد سے جوڑتے ہوئے ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کا حصہ قرار دیا۔ اس منصوبے کے تحت مشرقی بنگال اور آسام کو ایک الگ صوبہ بنایا گیا، جس کا دارالحکومت ڈھاکہ مقرر ہوا، جبکہ مغربی بنگال کا مرکز کلکتہ رہا۔
تقسیم کے اعلان نے بنگال میں شدید سیاسی ردعمل پیدا کیا۔ قوم پرست رہنماؤں کا خیال تھا کہ برطانوی حکومت بنگال کی قومی یکجہتی کو کمزور کرکے آزادی کی تحریک کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔ اس فیصلے کے خلاف جلسے، جلوس اور عوامی مظاہرے شروع ہوئے۔ کلکتہ، ڈھاکہ اور دیگر شہروں میں لوگوں نے تقسیم کے خلاف آواز بلند کی۔ طلبہ، تاجروں، وکلا اور سیاسی کارکنوں نے احتجاج میں حصہ لیا، جبکہ مختلف رہنماؤں نے عوام کو اس اقدام کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی۔
اس تحریک کے نتیجے میں سودیشی تحریک نے زور پکڑا، جس میں غیر ملکی اشیا کے بائیکاٹ اور مقامی مصنوعات کے استعمال پر زور دیا گیا۔ ہندوستانیوں نے برطانوی کپڑے اور دیگر مصنوعات ترک کرکے دیسی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی۔ اس تحریک نے قومی تعلیم، مقامی کاروبار اور خود انحصاری کے تصورات کو بھی فروغ دیا۔ رابندر ناتھ ٹیگور نے اتحاد اور بھائی چارے کے پیغام کو عام کیا، جبکہ تحریک نے عوامی سیاست میں خواتین اور نوجوانوں کی شرکت کے لئے بھی نئے راستے کھولے۔
بنگال کی تقسیم نے ہندوستانی قومی تحریک کو ایک نئی سمت دی۔ اس سے پہلے آزادی کی جدوجہد بڑی حد تک سیاسی رہنماؤں اور محدود حلقوں تک مرکوز تھی، لیکن سودیشی تحریک نے اسے عوامی سطح پر وسیع کیا۔ بائیکاٹ، احتجاج اور قومی مصنوعات کے فروغ جیسے طریقوں نے سیاسی مزاحمت کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنا دیا۔ اس دور میں قومی شعور، خود اعتمادی اور سیاسی بیداری میں نمایاں اضافہ ہوا، اگرچہ تحریک کے اندر مختلف نظریات اور حکمت عملیوں پر اختلافات بھی موجود تھے۔
مسلسل عوامی احتجاج اور سیاسی دباؤ کے باعث برطانوی حکومت نے 1911 میں بنگال کی تقسیم منسوخ کردی۔ اسی سال ہندوستان کا دارالحکومت کلکتہ سے دہلی منتقل کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔ تقسیم کی منسوخی کو تحریک کی بڑی کامیابی سمجھا گیا، تاہم اس واقعے کے اثرات ہندوستانی سیاست میں دیر تک باقی رہے۔ 1905 کی تقسیم نے یہ واضح کیا کہ نوآبادیاتی حکومت کے فیصلے عوامی مزاحمت کو جنم دے سکتے ہیں اور قومی اتحاد، خود انحصاری اور اجتماعی جدوجہد آزادی کی تحریک کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔


