جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس پشپندر سنگھ بھاٹی نے زرعی شعبے میں تکنیکی ترقی کے ساتھ کسانوں کے ڈیجیٹل، معاشی اور قانونی حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔
شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کشمیر (SKUAST-K) ، شالیمار میں انڈین سوسائٹی آف ایگریکلچرل انجینئرز (ISAE) کے 60ویں ڈائمنڈ جوبلی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسانوں سمیت ہر شعبے سے وابستہ افراد کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونا ہوگا۔
تین روزہ کنونشن میں بھارت اور بیرون ملک سے تقریباً 700 زرعی انجینئرز، سائنس دان، ماہرین اور طلبہ شریک ہوئے۔ جسٹس بھاٹی نے زرعی نمائش کا دورہ کرکے ڈرپ آبپاشی، فصلوں کی نگرانی اور ڈرون ٹیکنالوجی کا جائزہ بھی لیا اور جدید ٹیکنالوجی کو کسانوں کے لئے قابل رسائی بنانے پر زور دیا۔
SKUAST-K کے وائس چانسلر پروفیسر نذیر اے گنائی نے زرعی شعبے میں ٹیکنالوجی، ہنرمند افرادی قوت اور جدت کو فروغ دینے کی ضرورت اجاگر کی۔ انہوں نے ڈرونز، سینسرز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بڑھتے استعمال کے پیش نظر کسانوں کے ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیا۔
کنونشن میں این ایس راتھوڑ اور پروفیسر وی پی سنگھ سمیت ماہرین نے مصنوعی ذہانت، جدید زرعی تکنیک اور پانی، توانائی، ماحولیات و خوراک کے باہمی تعلق پر اظہارِ خیال کیا۔
SKUAST-K کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں یونیورسٹی نے 148 IPRs حاصل کیے، جن میں 62 مصنوعات کے پیٹنٹ اور 5 عالمی پیٹنٹ شامل ہیں، جبکہ 115 طلبہ کے اسٹارٹ اپس اور 130 سے زائد تجارتی مصنوعات کی معاونت کی گئی۔


