جنگ نیوز ڈیسک
بڈگام/ بڈگام پولیس نے 2019 سے سرگرم مبینہ ملازمت اور سرکاری سبسڈی فراڈ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے 2 کروڑ روپے سے زائد کے فراڈ کے الزام میں ایک وکیل سمیت 2 افراد کو گرفتار کیا ہے۔
ایس ایس پی بڈگام کے کے ہری پرساد نے بتایا کہ گرفتار افراد کی شناخت فردوس نبی ساکن زبگلہ، بیروہ اور ایڈووکیٹ جہانگیر احمد ڈار ساکن رتھسونا، بیروہ کے طور پر ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملزمان مبینہ طور پر سرکاری ملازمت، SPO تقرری، سرکاری سبسڈی، غیر ملکی جامعات میں داخلے اور دیگر مراعات دلانے کے نام پر لوگوں سے رقم وصول کرتے تھے۔
پولیس نے جہانگیر احمد ڈار کی جموں میں واقع رہائش سے مبینہ جعلی سرکاری احکامات، مہریں، 12 ATM کارڈز، خالی J&K بینک لیٹر ہیڈز، شناختی کارڈز، پاسپورٹ اور ویزا دستاویزات برآمد کیے۔ ایک ڈائری بھی ملی جس میں مبینہ مالی لین دین اور رقم دینے والے افراد کی تفصیلات درج تھیں۔
ایس ایس پی کے مطابق مختلف شکایات میں 2.3 لاکھ، 15 لاکھ اور 27 لاکھ روپے تک کے مبینہ فراڈ سامنے آئے، جبکہ متاثرین میں بڈگام کے علاوہ پلوامہ اور دیگر اضلاع کے لوگ بھی شامل ہیں۔
پولیس نے کہا کہ ملزمان مبینہ طور پر جعلی سرکاری دستاویزات WhatsApp کے ’View Once‘ فیچر کے ذریعے متاثرین کو بھیجتے تھے۔ تحقیقات میں اب تک 2 کروڑ روپے سے زائد کے مبینہ فراڈ کا اندازہ لگایا گیا ہے، جو مزید بڑھ سکتا ہے۔
کے کے ہری پرساد نے کہا کہ تحقیقات ابتدائی مرحلے میں ہیں اور گرفتار افراد پورے نیٹ ورک کی نمائندگی نہیں کرتے۔ پولیس دیگر ملزمان اور متاثرین کی شناخت کر رہی ہے جبکہ پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات کی برآمدگی کے پیشِ نظر نیٹ ورک کے J&K سے باہر اور ممکنہ طور پر بیرون ملک روابط کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔


