
مسعود محبوب خان
شادی انسانی زندگی کا عظیم واقعہ ہے، مگر آج کل سب سے بڑا سوال یہ ہوتا ہے: "برائیڈل میک اپ کس کا ہے؟” دلہن کا نام بعد میں، میک اپ آرٹسٹ کا نام پہلے معلوم کیا جاتا ہے۔ اگر پوچھیں "دلہن کہاں ہے؟” تو جواب ملتا ہے: "میک اپ روم میں ہے، تین گھنٹے بعد آئیں گی!” یوں لگتا ہے شادی نہیں، کسی تعمیراتی منصوبے کا افتتاح ہونے والا ہے۔
قدیم زمانے میں دلہن لباس، زیور، مہندی اور خوشبو سے تیار ہو جاتی تھی۔ آج Primer، Foundation، Concealer، Contour، Highlighter، Blush، مصنوعی پلکوں، لپ اسٹک اور Setting Spray کی پوری دنیا درکار ہے۔ آخر میں ماں پوچھتی ہے: "بیٹی کہاں ہے؟” جواب آتا ہے: "یہی تو ہیں!” ماں حیران ہوکر کہتی ہے: "میری بیٹی تو ایسی نہیں تھی!” جواب: "آنٹی! یہی تو ہماری کامیابی ہے۔”
میک اپ آرٹسٹ آج کسی معمار سے کم نہیں۔ معمار اینٹ، سیمنٹ اور ریت استعمال کرتا ہے، جبکہ میک اپ آرٹسٹ Primer، Foundation، Concealer، Contour اور Highlighter۔ معمار دیوار سیدھی کرتا ہے، میک اپ آرٹسٹ ناک اور چہرے کے نقشے کو۔
پہلے دلہن ایک شخص سے تیار ہو جاتی تھی، آج makeup artist، hairstylist، nail artist، lash specialist، skincare expert، mehndi artist اور فوٹوگرافر کی پوری ٹیم ہوتی ہے۔ پھر editing کے بعد دلہن خود تصویر دیکھ کر پوچھتی ہے: "یہ کون ہے؟” جواب ملتا ہے: "آپ ہی ہیں!”
برائیڈل میک اپ میں ریاضی بھی دلچسپ ہے: عمر 25 سال، میک اپ کے بعد 22، فلٹر کے بعد 19 اور فوٹوشاپ کے بعد 17 سال۔ خالہ پھر کہتی ہیں: "بیٹی! تم تو پہلے بھی بہت پیاری تھیں!”
Natural Look ایسا میک اپ ہے جس میں محسوس ہو کہ میک اپ کیا ہی نہیں گیا۔ یہ ایسے ہے جیسے دس کلو چینی ڈال کر کہا جائے: "چائے بالکل سادہ ہے۔”
شادی میں سب وقت کے پابند ہوتے ہیں، صرف دلہن کا میک اپ نہیں۔ "کتنا وقت لگے گا؟” جواب: "بس آدھا گھنٹہ!” پھر lashes، hairstyle اور setting آتے ہیں۔ تین گھنٹے بعد دلہا سوچتا ہے: "اگر یہ آخری ٹچ ہے تو ابتدائی ٹچ کب ہوا تھا؟”
طنز اپنی جگہ، برائیڈل میک اپ بذاتِ خود مسئلہ نہیں۔ خوشی کے موقع پر خود کو سنوارنا فطری ہے۔ مسئلہ تب بنتا ہے جب آرائش مقابلہ اور مقابلہ دباؤ بن جائے۔ سوشل میڈیا کی flawless تصاویر کو حقیقی حسن کا معیار بنانا بھی خود اعتمادی کے لئے نقصان دہ ہے۔ قدرت نے کسی انسان کو Instagram Filter کے ساتھ پیدا نہیں کیا۔
مسلسل مصنوعات کے استعمال کے دوران جلد اور صفائی کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ خاص طور پر آنکھوں کے میک اپ اور مشترکہ brushes یا applicators میں غفلت سے جلن اور انفیکشن ہوسکتے ہیں۔
اصل سوال ہے: دلہن خوب صورت کس کے لئے؟ لوگوں کی تعریف کے لئے یا اپنی خوشی اور اعتماد کے لئے؟ ہر شخص کو خوش کرنا ممکن نہیں۔ ایک سادگی پسند کرے گا، دوسرا زیادہ میک اپ کو، تیسرا کسی اور سے موازنہ کرے گا۔
حسن صرف چہرے کا نام نہیں۔ خوب صورت چہرہ چند گھنٹوں میں سجایا جاسکتا ہے، مگر خوب صورت کردار برسوں میں بنتا ہے۔ ہائی لائٹر چہرے کو روشن کرسکتا ہے، دل کو نہیں؛ لپ اسٹک ہونٹوں کو رنگین کرسکتی ہے، گفتگو کو شیریں نہیں بنا سکتی۔ ازدواجی زندگی کے لئے صبر، وفا، برداشت اور حسنِ سلوک درکار ہے۔
دلہن کو دلہن ہی رہنے دیجیے، اسے حسنِ تعمیر کا منصوبہ نہ بنائیے۔ اتنا میک اپ نہ کیجیے کہ مسکراہٹ بھی اجازت لے کر باہر آئے، اور اتنی editing نہ کیجیے کہ نکاح کے بعد سوال اٹھے: "یہ وہی ہیں؟”
آخرکار میک اپ اتر جاتا ہے، تصویریں پرانی ہوجاتی ہیں اور فیشن بدل جاتا ہے—مگر حسنِ اخلاق قائم رہے تو چہرہ بوڑھا ہوکر بھی خوب صورت رہتا ہے۔


