ابلیس کی ترچھی نظر

 

ماجد مجید

کسی ضروری کام کے سلسلے میں ایک بار ہمارا گزر گلی سے راہِ عام کی طرف ہوا۔ بازار میں گھومے تو چہل پہل اچھی رہی۔ بازار کی خاصی رونق دیکھ کر دل باغ باغ ہوا۔ کئی کارآمد اشیاء خرید کر لوٹنے ہی والے تھے کہ دفعتاً ایک بڑی حویلی کی طرف نگاہ اٹھی، جو بقعۂ نور بنی ہوئی تھی۔ معلوم ہوا کہ شادی خانہ آبادی کی رسم انجام دی جا رہی ہے۔ سرسری جائزہ لیتے ہوئے واپس لوٹنے ہی والے تھے کہ ایک جانی پہچانی بڑبڑاہٹ کی طرف دھیان گیا۔ ابلیس ترچھی نظروں سے گھورتے ہوئے زیرِ لب مخاطب ہو کر کہہ رہا تھا:
’’آئے ہی ہو تو حویلی کا خوب نظارہ کرو۔ کسی ایرے غیرے کی نہیں، تیرے ہمسائے ارب پتی جہانگیر چوہان کی حویلی سج رہی ہے۔ باورچیوں کی تعداد ایک سو تک ہے، بھیڑیں اور بکرے سینکڑوں کی تعداد میں ذبح ہو رہے ہیں، نوکر چاکر مستعدی سے کام میں مصروف ہیں۔ حویلی کا نظارہ خوب کرو۔ مانا کہ ہماری آپس میں ان بن رہتی ہے اور تو ہمیشہ میرے منصوبوں کا پردہ فاش کرکے خود کو مطمئن کر لیتا ہے، لیکن میری چالبازیوں سے پھر بھی ناواقف ہے۔ چلو، آج تجھے ایک معمولی سی جھلک دکھاتا ہوں۔
تیرا ہمسایہ جہانگیر چوہان میرا سب سے بیوقوف بھائی ہے۔ دیکھو، کیسے بے دریغ دولت لٹا رہا ہے۔ حویلی کو بقعۂ نور بنانے پر کروڑوں روپے خرچ کر رہا ہے۔ جونہی مجھے معلوم ہوا کہ جہانگیر چوہان گھر میں شادی خانہ آبادی کا منصوبہ بنا رہا ہے، مابدولت نے اپنے کئی کارندے جہانگیر چوہان کے خاندان کے ہر فرد کے کانوں میں ڈال دیے، تاکہ خوب دولت لٹوائی جا سکے۔
تمہیں معلوم ہے کہ ہماری کامیابی یقینی ہے۔ شادی کی منصوبہ بندی کے لیے باورچیوں (وَزہ وان) اور قصابوں کو باہمی مشاورت کے لیے شامل کروایا گیا۔ بہت سارے معاملات زیرِ بحث آئے اور میرے کارندوں کے ذریعے بہت سی قراردادیں بھی منظور ہوئیں۔ پکوانوں کی تعداد ایک سو سے کچھ زیادہ رکھنے پر اتفاق ہوا، جب کہ قصابوں سے بھیڑوں اور بکروں کی تعداد بڑھا کر ایک سو پچیس تک پہنچانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ رقص، گانے، بینڈ باجے اور رقاصاؤں کی تعداد بڑھانے سے بھی شادی خانہ آبادی کو چار چاند لگانے پر سب کی منظوری مل گئی، اور جشنِ شادی ہفتہ بھر جاری رکھنے پر بھی سب کا اتفاق ہوا۔‘‘
ابلیس کی بات ختم ہوئی تو ہم کہنے لگے:
’’کیوں اس قدر اسراف کروا رہے ہو اور مظلوم عوام کی بددعائیں جہانگیر چوہان کے لیے جمع کروا رہے ہو؟ دیکھتے نہیں ہو کہ لڑکیاں شادی کی عمر پار کر چکی ہیں اور وہ نکاح کے لیے ترستی رہتی ہیں، لیکن تیرے اور جہانگیر چوہان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ آج تو جہانگیر چوہان کا ہمدرد، لیکن دھوکے باز بھائی بنا ہوا ہے۔ تو نے اسے پوری طرح اپنے جال میں پھنسایا ہے۔ کل عدالت میں کیسے بچ پائے گا؟ تو ہمدردی دکھا رہا ہے، لیکن آج اس کے ساتھ کاندھا ملا کر اسے ذلیل و خوار کرنے پر تلا ہوا ہے۔‘‘
ہم نے یہ کہا تو وہ دھوکے باز یوں کہنے لگا:
’’دیکھو، مجھے انسانوں پر کوئی زور حاصل نہیں۔ اللہ نے مجھے یہ طاقت نہیں دی ہے۔ جہانگیر چوہان خود آ کر میرے جال میں پھنسا ہے۔ میں نے اسے ایسا کرنے اور اس قدر اسراف کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ کل میں عدالت میں اسے کہوں گا کہ مجھے ملامت مت کرو، بلکہ خود کو ملامت کرو۔ میرا تم پر کوئی زور نہیں تھا۔ ہاں، میں نے تجھے دعوت دی، تجھے ورغلایا، لیکن تو نے خود میری دعوت قبول کی۔ کیا تجھے اللہ نے عقل نہیں دی تھی؟‘‘
ابلیس دیر تک اپنی برأت میں صفائی پیش کرتا رہا۔ یہ سارا واقعہ دنیائے بے ثباتی میں سب کے لیے ایک سبق آموز پیغام رکھتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کپواڑہ میں پولیس نے بوائز والی بال اور گرلز T-20کرکٹ ٹورنامنٹس کی اختتامی تقریب کی میزبانی کی

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/کپواڑہ پولیس کے زیر اہتمام والی بال...

گاندربل میں پولیس نےCAP کے تحت گرلز کرکٹ ٹورنامنٹ کا افتتاح کیا

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/کھیلوں کے فروغ، نظم و ضبط، خود...

7 اکتوبر: غزہ سے ایران تک!

7 اکتوبر 2023 کو حماس کا اسرائیل پر حملہ...

وادیٔ کشمیر میں سردیوں کا سفر: ضروری رہنمائی اور حفاظتی تدابیر

  فیضان پنجابی جیسے ہی کشمیر کی وادی پر سردیاں سایہ...

150 بنگلہ دیشی شہری جموں کشمیر سے ملک بدر

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ حکام نے آدھار کارڈ کی...

تازہ ترین خبریں

کپواڑہ میں پولیس نے بوائز والی بال اور گرلز T-20کرکٹ ٹورنامنٹس کی اختتامی تقریب کی میزبانی کی

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/کپواڑہ پولیس کے زیر اہتمام والی بال...

گاندربل میں پولیس نےCAP کے تحت گرلز کرکٹ ٹورنامنٹ کا افتتاح کیا

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/کھیلوں کے فروغ، نظم و ضبط، خود...

7 اکتوبر: غزہ سے ایران تک!

7 اکتوبر 2023 کو حماس کا اسرائیل پر حملہ...

وادیٔ کشمیر میں سردیوں کا سفر: ضروری رہنمائی اور حفاظتی تدابیر

  فیضان پنجابی جیسے ہی کشمیر کی وادی پر سردیاں سایہ...

150 بنگلہ دیشی شہری جموں کشمیر سے ملک بدر

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ حکام نے آدھار کارڈ کی...

ابلیس کی ترچھی نظر

 

ماجد مجید

کسی ضروری کام کے سلسلے میں ایک بار ہمارا گزر گلی سے راہِ عام کی طرف ہوا۔ بازار میں گھومے تو چہل پہل اچھی رہی۔ بازار کی خاصی رونق دیکھ کر دل باغ باغ ہوا۔ کئی کارآمد اشیاء خرید کر لوٹنے ہی والے تھے کہ دفعتاً ایک بڑی حویلی کی طرف نگاہ اٹھی، جو بقعۂ نور بنی ہوئی تھی۔ معلوم ہوا کہ شادی خانہ آبادی کی رسم انجام دی جا رہی ہے۔ سرسری جائزہ لیتے ہوئے واپس لوٹنے ہی والے تھے کہ ایک جانی پہچانی بڑبڑاہٹ کی طرف دھیان گیا۔ ابلیس ترچھی نظروں سے گھورتے ہوئے زیرِ لب مخاطب ہو کر کہہ رہا تھا:
’’آئے ہی ہو تو حویلی کا خوب نظارہ کرو۔ کسی ایرے غیرے کی نہیں، تیرے ہمسائے ارب پتی جہانگیر چوہان کی حویلی سج رہی ہے۔ باورچیوں کی تعداد ایک سو تک ہے، بھیڑیں اور بکرے سینکڑوں کی تعداد میں ذبح ہو رہے ہیں، نوکر چاکر مستعدی سے کام میں مصروف ہیں۔ حویلی کا نظارہ خوب کرو۔ مانا کہ ہماری آپس میں ان بن رہتی ہے اور تو ہمیشہ میرے منصوبوں کا پردہ فاش کرکے خود کو مطمئن کر لیتا ہے، لیکن میری چالبازیوں سے پھر بھی ناواقف ہے۔ چلو، آج تجھے ایک معمولی سی جھلک دکھاتا ہوں۔
تیرا ہمسایہ جہانگیر چوہان میرا سب سے بیوقوف بھائی ہے۔ دیکھو، کیسے بے دریغ دولت لٹا رہا ہے۔ حویلی کو بقعۂ نور بنانے پر کروڑوں روپے خرچ کر رہا ہے۔ جونہی مجھے معلوم ہوا کہ جہانگیر چوہان گھر میں شادی خانہ آبادی کا منصوبہ بنا رہا ہے، مابدولت نے اپنے کئی کارندے جہانگیر چوہان کے خاندان کے ہر فرد کے کانوں میں ڈال دیے، تاکہ خوب دولت لٹوائی جا سکے۔
تمہیں معلوم ہے کہ ہماری کامیابی یقینی ہے۔ شادی کی منصوبہ بندی کے لیے باورچیوں (وَزہ وان) اور قصابوں کو باہمی مشاورت کے لیے شامل کروایا گیا۔ بہت سارے معاملات زیرِ بحث آئے اور میرے کارندوں کے ذریعے بہت سی قراردادیں بھی منظور ہوئیں۔ پکوانوں کی تعداد ایک سو سے کچھ زیادہ رکھنے پر اتفاق ہوا، جب کہ قصابوں سے بھیڑوں اور بکروں کی تعداد بڑھا کر ایک سو پچیس تک پہنچانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ رقص، گانے، بینڈ باجے اور رقاصاؤں کی تعداد بڑھانے سے بھی شادی خانہ آبادی کو چار چاند لگانے پر سب کی منظوری مل گئی، اور جشنِ شادی ہفتہ بھر جاری رکھنے پر بھی سب کا اتفاق ہوا۔‘‘
ابلیس کی بات ختم ہوئی تو ہم کہنے لگے:
’’کیوں اس قدر اسراف کروا رہے ہو اور مظلوم عوام کی بددعائیں جہانگیر چوہان کے لیے جمع کروا رہے ہو؟ دیکھتے نہیں ہو کہ لڑکیاں شادی کی عمر پار کر چکی ہیں اور وہ نکاح کے لیے ترستی رہتی ہیں، لیکن تیرے اور جہانگیر چوہان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ آج تو جہانگیر چوہان کا ہمدرد، لیکن دھوکے باز بھائی بنا ہوا ہے۔ تو نے اسے پوری طرح اپنے جال میں پھنسایا ہے۔ کل عدالت میں کیسے بچ پائے گا؟ تو ہمدردی دکھا رہا ہے، لیکن آج اس کے ساتھ کاندھا ملا کر اسے ذلیل و خوار کرنے پر تلا ہوا ہے۔‘‘
ہم نے یہ کہا تو وہ دھوکے باز یوں کہنے لگا:
’’دیکھو، مجھے انسانوں پر کوئی زور حاصل نہیں۔ اللہ نے مجھے یہ طاقت نہیں دی ہے۔ جہانگیر چوہان خود آ کر میرے جال میں پھنسا ہے۔ میں نے اسے ایسا کرنے اور اس قدر اسراف کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ کل میں عدالت میں اسے کہوں گا کہ مجھے ملامت مت کرو، بلکہ خود کو ملامت کرو۔ میرا تم پر کوئی زور نہیں تھا۔ ہاں، میں نے تجھے دعوت دی، تجھے ورغلایا، لیکن تو نے خود میری دعوت قبول کی۔ کیا تجھے اللہ نے عقل نہیں دی تھی؟‘‘
ابلیس دیر تک اپنی برأت میں صفائی پیش کرتا رہا۔ یہ سارا واقعہ دنیائے بے ثباتی میں سب کے لیے ایک سبق آموز پیغام رکھتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں