مسلمانوں کی سیاسی موجودگی: ووٹ کی طاقت سے نمائندگی کی حقیقت تک

 

 

قاری اسحاق گورا

جمہوریت میں ووٹ صرف پرچی نہیں ہوتا، پرچی سے پیدا ہونے والی پرچھائیں بھی ہوتا ہے۔ یہ پرچھائیں کبھی ایوانوں میں نظر آتی ہے، کبھی اقتدار کے فیصلوں میں، کبھی پالیسیوں کے رخ میں اور کبھی صرف انتخابی موسم میں دروازے کھٹکھٹاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مسلمان ووٹ دیتے ہیں یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ ان کے ووٹ کی آواز کہاں تک پہنچتی ہے؟
بھارت کی سیاست میں مسلمانوں کی موجودگی ایک ایسی حقیقت ہے جسے نہ صرف انتخابی اعداد و شمار سے سمجھا جا سکتا ہے اور نہ صرف سیاسی نعروں سے۔ یہ ایک وسیع سماجی، جمہوری اور نمائندگی کا مسئلہ ہے۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں 24 مسلمان امیدوار کامیاب ہوکر پارلیمنٹ پہنچے۔ یہ لوک سبھا کی کل تعداد کا تقریباً 4.42 فیصد بنتا ہے، جبکہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب تقریباً 14 فیصد تھا۔ یہ اعداد کسی جماعت کے حق یا مخالفت میں فیصلہ نہیں سناتے؛ مگر اعداد کبھی کبھی وہ سوال پوچھ دیتے ہیں جنہیں الفاظ ٹالتے رہتے ہیں۔

ووٹ موجود، نمائندگی کم کیوں؟یہاں سے اصل بحث شروع ہوتی ہے۔انتخابات کے دن مسلمان بھی ووٹ ڈالتے ہیں، پولنگ بوتھ پر قطار میں کھڑے ہوتے ہیں، سیاسی بحث میں حصہ لیتے ہیں اور اپنے پسندیدہ امیدوار کے لئے مہم بھی چلاتے ہیں۔ لیکن جب نتیجہ سامنے آتا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ووٹ دینے والوں کی تعداد اور فیصلہ سازی کی میز تک پہنچنے والوں کی تعداد میں اتنا فاصلہ کیوں ہے؟
2024 میں ملک بھر سے 78 مسلمان امیدوار لوک سبھا کا انتخاب لڑے، جن میں سے 24 کامیاب ہوئے۔ 2019 میں مسلمان امیدواروں کی تعداد اور کامیاب ہونے والوں کی تعداد دونوں مختلف تھیں؛ اس سال 26 مسلمان ارکان لوک سبھا پہنچے تھے۔ یہاں ایک نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے: جمہوریت صرف نمائندہ چننے کا نام نہیں، نمائندہ پیدا کرنے کا نام بھی ہے۔اگر کسی معاشرے کے پاس ووٹر تو بہت ہوں لیکن مقامی سطح سے قومی سطح تک تیار ہونے والا سیاسی، تعلیمی، قانونی اور سماجی قیادت کا ڈھانچہ کمزور ہو تو ووٹ کی طاقت ہمیشہ نمائندگی میں تبدیل نہیں ہوتی۔اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں صرف دوسروں سے سوال نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے۔
انتخابی موسم میں یاد آنے والا معاشرہ،ہمارے ہاں انتخاب آتے ہیں تو لفظ بدل جاتے ہیں، لہجے بدل جاتے ہیں، وعدے بدل جاتے ہیں اور ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں۔ کبھی مسلمان ووٹ بن جاتے ہیں، کبھی اقلیت، کبھی کسی اتحاد کا حصہ اور کبھی کسی انتخابی حساب کتاب کا عدد۔لیکن انتخابات ختم ہونے کے بعد کیا ہوتا ہے؟

کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے یہ حساب کیا کہ ہمارے علاقے سے کتنے لوگ بلدیاتی اداروں میں پہنچے؟ کتنے لوگ اسمبلی تک گئے؟ کتنے نوجوان سیاسی عمل کو سمجھتے ہیں؟ کتنے وکیل قانون سازی اور پالیسی کے معاملات پر کام کر رہے ہیں؟ کتنے محققین اعداد و شمار جمع کر رہے ہیں؟ کتنے ایسے افراد ہیں جو سیاست کو صرف تقریر نہیں بلکہ ادارہ سمجھتے ہیں؟یہ سوال کسی ایک جماعت سے زیادہ بڑا ہے، کسی ایک انتخاب سے زیادہ پرانا ہے اور کسی ایک حکومت سے زیادہ وسیع ہے۔
سیاسی نمائندگی کا مطلب صرف دہلی کی پارلیمنٹ تک پہنچنا نہیں۔سیاست کی پہلی سیڑھی اکثر وہی گلی ہوتی ہے جہاں نالی، سڑک، اسکول، اسپتال، بجلی، پانی اور روزگار کے مسائل کھڑے ہوتے ہیں۔ جو شخص اپنے محلے کی ضرورت کو سمجھتا ہے، وہی آگے چل کر بڑے مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرسکتا ہے۔اس لئے اگر سیاسی موجودگی پر گفتگو ہو تو اس میں پنچایت سے پارلیمنٹ تک پورا سفر شامل ہونا چاہیے۔بلدیاتی ادارے، ضلع سطح کی سیاست، طلبہ کی جمہوری سرگرمیاں، سماجی تنظیمیں، قانونی شعبہ، پالیسی ریسرچ، صحافت اور عوامی خدمت—یہ سب سیاسی تربیت کے میدان ہوسکتے ہیں۔جو معاشرہ صرف منزل دیکھتا ہے، راستہ کھو دیتا ہے؛ اور جو راستے بناتا ہے، منزلیں اس کے لئے اجنبی نہیں رہتیں۔
قیادت صرف تقریر سے نہیں بنتی:ہمارے معاشرے میں مقررین کی کمی نہیں، لیکن کیا ہمیں صرف مقررین چاہییں یا مفکرین بھی؟جذبات اپنی جگہ، مگر سیاست صرف جذبات سے نہیں چلتی۔ سیاست میں آئین پڑھنا پڑتا ہے، قانون سمجھنا پڑتا ہے، بجٹ دیکھنا پڑتا ہے، اعداد و شمار کا مطالعہ کرنا پڑتا ہے، حلقۂ انتخاب کی سماجی ساخت سمجھنی پڑتی ہے اور مخالف رائے سننے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا پڑتا ہے۔

ایک سیاسی نمائندہ صرف وہ نہیں جو مائیک پر بول سکے؛ وہ بھی ہے جو فائل پڑھ سکے، قانون کی زبان سمجھ سکے، عوامی مسئلے کو دستاویز بنا سکے اور ایوان میں اس مسئلے کو مؤثر انداز میں پیش کرسکے۔آواز بہت سوں کے پاس ہوتی ہے، مگر آواز کو دلیل بنانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔
کیا ہماری سیاست افراد کے گرد گھومتی ہے؟مسلمانوں کی سیاسی موجودگی پر بحث کرتے ہوئے ایک اور سوال اہم ہے: کیا ہماری سیاسی سوچ اداروں کے بجائے افراد کے گرد زیادہ گھومتی ہے؟ایک چہرہ مقبول ہوا تو امیدیں اس سے وابستہ ہوگئیں۔ ایک امیدوار کامیاب ہوا تو اسے پوری قوم کی سیاسی کامیابی سمجھ لیا گیا۔ کوئی شکست کھا گیا تو گویا پوری سیاست ناکام ہوگئی۔
یہ طرزِ فکر کسی بھی معاشرے کے لئے طویل مدتی سیاسی منصوبہ نہیں بن سکتا۔
قیادت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ ایک لیڈر کتنا بڑا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کتنے لوگ کھڑے ہونے کے قابل ہیں۔اگر ایک شخص کے جانے سے پورا سیاسی منظر خالی ہوجائے تو مسئلہ صرف شخص کا نہیں، سیاسی تربیت کے نظام کا بھی ہے۔

مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کا سوال صرف مذہبی شناخت کا سوال نہیں ہونا چاہیے۔ ایک مسلمان نمائندے سے اس کے حلقے کے ہر شہری کو روزگار، تعلیم، صحت، بنیادی سہولیات، قانون کی بالادستی اور ترقی کے سوال کا جواب بھی چاہیے۔اسی طرح مسلمان ووٹر کے سامنے بھی صرف شناخت کا سوال نہیں بلکہ کارکردگی کا سوال ہونا چاہیے۔کسی امیدوار کا تعلق کسی خاص مذہب یا برادری سے ہونا ایک شناخت ہوسکتی ہے؛ لیکن نمائندگی کی اصل آزمائش عوامی خدمت، آئینی ذمہ داری اور کارکردگی کے میدان میں ہوتی ہے۔یہ فرق سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ جمہوریت میں شناخت دروازہ کھول سکتی ہے، مگر صلاحیت ہی کمرہ آباد کرتی ہے۔
نوجوان کہاں ہیں؟آج کا سب سے بڑا سوال شاید یہ ہے کہ ہماری نئی نسل سیاست کو کس نظر سے دیکھتی ہے؟کیا سیاست صرف جلسہ، نعرہ اور الیکشن ہے؟

یا سیاست معاشرے کو سمجھنے، مسائل کی جڑ تک پہنچنے، قانون سازی میں حصہ لینے اور عوامی خدمت کا نام بھی ہے؟اگر نوجوان صرف سوشل میڈیا پر سیاسی بحث کریں گے لیکن آئین نہیں پڑھیں گے، اگر وہ سیاسی ویڈیوز تو دیکھیں گے لیکن اپنے شہر کا بجٹ نہیں سمجھیں گے، اگر وہ لیڈروں کے بیانات یاد رکھیں گے لیکن اپنے علاقے کے بنیادی مسائل کا ڈیٹا نہیں رکھیں گے تو پھر ہماری سیاسی گفتگو شور تو پیدا کرسکتی ہے، وزن نہیں۔
نئی نسل کو سیاست سے دور کرنا بھی حل نہیں اور اسے صرف جذبات کے حوالے کردینا بھی نہیں۔ ضرورت ایک ایسے سیاسی شعور کی ہے جس میں جذبہ بھی ہو، جستجو بھی؛ شناخت بھی ہو، ذمہ داری بھی؛ آواز بھی ہو، دلیل بھی۔

مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کم ہے—یہ ایک قابلِ بحث اور اعداد و شمار سے جانچا جانے والا مسئلہ ہے۔ لیکن صرف شکایت کافی نہیں۔ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کتنے مسلمان نوجوان سیاسی جماعتوں میں باقاعدہ کام کر رہے ہیں؟ کتنے مقامی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں؟ کتنے لوگ پالیسی سازی، قانون، معیشت، تعلیم اور انتظامیہ کے میدان میں تیاری کر رہے ہیں؟
شکایت اگر سوال بن جائے تو راستہ کھولتی ہے؛ شکایت اگر عادت بن جائے تو راستہ بند بھی کرسکتی ہے۔اس لئے شاید اب وقت ہے کہ ہم سیاسی سوال کو صرف “ہمیں کیا ملا؟” تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اس کے ساتھ یہ سوال بھی رکھیں:
“ہم نے کیا تیاری کی؟”
ووٹ کی عزت، ووٹر کی ذمہ داری:
ووٹ کی طاقت کو سمجھنے کا مطلب کسی ایک جماعت یا امیدوار کی حمایت کرنا نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ووٹر اپنے حق کو شعوری طور پر استعمال کرے، امیدوار کے منشور، سابقہ کارکردگی، عوامی مسائل پر موقف اور آئینی ذمہ داریوں کو سمجھے۔جمہوریت میں کسی بھی شہری کا ووٹ اس کی امانت ہے۔ اس امانت کا استعمال جذبات سے بھی ہوسکتا ہے اور شعور سے بھی۔
ووٹ انگلی پر لگنے والی سیاہی ہے، مگر اس سیاہی میں پانچ سال کی کہانی لکھی جاسکتی ہے۔اسی لئے سیاسی شعور صرف انتخاب کے دن کی ضرورت نہیں؛ یہ پانچ سال کی ضرورت ہے۔

آخر ہم کہاں کھڑے ہیں؟2024 کی لوک سبھا میں 24 مسلمان ارکان کی موجودگی ایک حقیقت ہے، اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ تعداد ایوان کی مجموعی طاقت کے مقابلے میں تقریباً 4.42 فیصد بنتی ہے۔ 2011 کی مردم شماری کے اعداد کے ساتھ اسے دیکھا جائے تو نمائندگی اور آبادی کے تناسب کے درمیان واضح فرق سامنے آتا ہے۔ لیکن اس فرق کو صرف سیاسی نعروں میں تبدیل کردینا مسئلے کا حل نہیں۔اصل سوال اس سے کہیں گہرا ہے۔
کیا ہم ووٹر سے نمائندہ بننے کا سفر طے کر رہے ہیں؟
کیا ہم شکایت سے حکمتِ عملی تک پہنچ رہے ہیں؟
کیا ہم افراد سے اداروں کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
کیا ہم نعروں سے دستاویزات، جذبات سے تحقیق اور انتخابی موسم سے مستقل سیاسی شعور کی طرف بڑھ رہے ہیں؟قوموں کی سیاسی طاقت صرف ان کے ووٹوں سے نہیں ناپی جاتی؛ ان کے علم، تنظیم، قیادت، اداروں اور مسلسل جدوجہد سے بھی ناپی جاتی ہے۔آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ مسلمان صرف یہ گنیں کہ کتنے ووٹ ہمارے پاس ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ یہ بھی گنیں کہ کتنے ماہرین ہمارے پاس ہیں، کتنے وکیل، کتنے محقق، کتنے اساتذہ، کتنے پالیسی ماہر، کتنے سماجی کارکن اور کتنے ایسے نوجوان ہیں جو کل کی ذمہ داری سنبھالنے کے لئے تیار ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

تازہ ترین خبریں

دہلی پولیس نے راہل گاندھی اور بہن پرینکا کو حراست میں لیا

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی پولیس نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ...

فیصلہ کن قیادت نےجموں کشمیر میں امن اور اعتماد کو مضبوط کیا/ مرکزی کابینہ

  جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم نریندر مودی...

سرکاری اداروں کے 4385 کروڑ روپے بجلی واجبات پر AIP کا سوال

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف...

کسانوں کے حقوق اور زرعی ٹیکنالوجی میں خودمختاری پر زور

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ...

مسلمانوں کی سیاسی موجودگی: ووٹ کی طاقت سے نمائندگی کی حقیقت تک

 

 

قاری اسحاق گورا

جمہوریت میں ووٹ صرف پرچی نہیں ہوتا، پرچی سے پیدا ہونے والی پرچھائیں بھی ہوتا ہے۔ یہ پرچھائیں کبھی ایوانوں میں نظر آتی ہے، کبھی اقتدار کے فیصلوں میں، کبھی پالیسیوں کے رخ میں اور کبھی صرف انتخابی موسم میں دروازے کھٹکھٹاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مسلمان ووٹ دیتے ہیں یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ ان کے ووٹ کی آواز کہاں تک پہنچتی ہے؟
بھارت کی سیاست میں مسلمانوں کی موجودگی ایک ایسی حقیقت ہے جسے نہ صرف انتخابی اعداد و شمار سے سمجھا جا سکتا ہے اور نہ صرف سیاسی نعروں سے۔ یہ ایک وسیع سماجی، جمہوری اور نمائندگی کا مسئلہ ہے۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں 24 مسلمان امیدوار کامیاب ہوکر پارلیمنٹ پہنچے۔ یہ لوک سبھا کی کل تعداد کا تقریباً 4.42 فیصد بنتا ہے، جبکہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب تقریباً 14 فیصد تھا۔ یہ اعداد کسی جماعت کے حق یا مخالفت میں فیصلہ نہیں سناتے؛ مگر اعداد کبھی کبھی وہ سوال پوچھ دیتے ہیں جنہیں الفاظ ٹالتے رہتے ہیں۔

ووٹ موجود، نمائندگی کم کیوں؟یہاں سے اصل بحث شروع ہوتی ہے۔انتخابات کے دن مسلمان بھی ووٹ ڈالتے ہیں، پولنگ بوتھ پر قطار میں کھڑے ہوتے ہیں، سیاسی بحث میں حصہ لیتے ہیں اور اپنے پسندیدہ امیدوار کے لئے مہم بھی چلاتے ہیں۔ لیکن جب نتیجہ سامنے آتا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ووٹ دینے والوں کی تعداد اور فیصلہ سازی کی میز تک پہنچنے والوں کی تعداد میں اتنا فاصلہ کیوں ہے؟
2024 میں ملک بھر سے 78 مسلمان امیدوار لوک سبھا کا انتخاب لڑے، جن میں سے 24 کامیاب ہوئے۔ 2019 میں مسلمان امیدواروں کی تعداد اور کامیاب ہونے والوں کی تعداد دونوں مختلف تھیں؛ اس سال 26 مسلمان ارکان لوک سبھا پہنچے تھے۔ یہاں ایک نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے: جمہوریت صرف نمائندہ چننے کا نام نہیں، نمائندہ پیدا کرنے کا نام بھی ہے۔اگر کسی معاشرے کے پاس ووٹر تو بہت ہوں لیکن مقامی سطح سے قومی سطح تک تیار ہونے والا سیاسی، تعلیمی، قانونی اور سماجی قیادت کا ڈھانچہ کمزور ہو تو ووٹ کی طاقت ہمیشہ نمائندگی میں تبدیل نہیں ہوتی۔اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں صرف دوسروں سے سوال نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے۔
انتخابی موسم میں یاد آنے والا معاشرہ،ہمارے ہاں انتخاب آتے ہیں تو لفظ بدل جاتے ہیں، لہجے بدل جاتے ہیں، وعدے بدل جاتے ہیں اور ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں۔ کبھی مسلمان ووٹ بن جاتے ہیں، کبھی اقلیت، کبھی کسی اتحاد کا حصہ اور کبھی کسی انتخابی حساب کتاب کا عدد۔لیکن انتخابات ختم ہونے کے بعد کیا ہوتا ہے؟

کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے یہ حساب کیا کہ ہمارے علاقے سے کتنے لوگ بلدیاتی اداروں میں پہنچے؟ کتنے لوگ اسمبلی تک گئے؟ کتنے نوجوان سیاسی عمل کو سمجھتے ہیں؟ کتنے وکیل قانون سازی اور پالیسی کے معاملات پر کام کر رہے ہیں؟ کتنے محققین اعداد و شمار جمع کر رہے ہیں؟ کتنے ایسے افراد ہیں جو سیاست کو صرف تقریر نہیں بلکہ ادارہ سمجھتے ہیں؟یہ سوال کسی ایک جماعت سے زیادہ بڑا ہے، کسی ایک انتخاب سے زیادہ پرانا ہے اور کسی ایک حکومت سے زیادہ وسیع ہے۔
سیاسی نمائندگی کا مطلب صرف دہلی کی پارلیمنٹ تک پہنچنا نہیں۔سیاست کی پہلی سیڑھی اکثر وہی گلی ہوتی ہے جہاں نالی، سڑک، اسکول، اسپتال، بجلی، پانی اور روزگار کے مسائل کھڑے ہوتے ہیں۔ جو شخص اپنے محلے کی ضرورت کو سمجھتا ہے، وہی آگے چل کر بڑے مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرسکتا ہے۔اس لئے اگر سیاسی موجودگی پر گفتگو ہو تو اس میں پنچایت سے پارلیمنٹ تک پورا سفر شامل ہونا چاہیے۔بلدیاتی ادارے، ضلع سطح کی سیاست، طلبہ کی جمہوری سرگرمیاں، سماجی تنظیمیں، قانونی شعبہ، پالیسی ریسرچ، صحافت اور عوامی خدمت—یہ سب سیاسی تربیت کے میدان ہوسکتے ہیں۔جو معاشرہ صرف منزل دیکھتا ہے، راستہ کھو دیتا ہے؛ اور جو راستے بناتا ہے، منزلیں اس کے لئے اجنبی نہیں رہتیں۔
قیادت صرف تقریر سے نہیں بنتی:ہمارے معاشرے میں مقررین کی کمی نہیں، لیکن کیا ہمیں صرف مقررین چاہییں یا مفکرین بھی؟جذبات اپنی جگہ، مگر سیاست صرف جذبات سے نہیں چلتی۔ سیاست میں آئین پڑھنا پڑتا ہے، قانون سمجھنا پڑتا ہے، بجٹ دیکھنا پڑتا ہے، اعداد و شمار کا مطالعہ کرنا پڑتا ہے، حلقۂ انتخاب کی سماجی ساخت سمجھنی پڑتی ہے اور مخالف رائے سننے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا پڑتا ہے۔

ایک سیاسی نمائندہ صرف وہ نہیں جو مائیک پر بول سکے؛ وہ بھی ہے جو فائل پڑھ سکے، قانون کی زبان سمجھ سکے، عوامی مسئلے کو دستاویز بنا سکے اور ایوان میں اس مسئلے کو مؤثر انداز میں پیش کرسکے۔آواز بہت سوں کے پاس ہوتی ہے، مگر آواز کو دلیل بنانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔
کیا ہماری سیاست افراد کے گرد گھومتی ہے؟مسلمانوں کی سیاسی موجودگی پر بحث کرتے ہوئے ایک اور سوال اہم ہے: کیا ہماری سیاسی سوچ اداروں کے بجائے افراد کے گرد زیادہ گھومتی ہے؟ایک چہرہ مقبول ہوا تو امیدیں اس سے وابستہ ہوگئیں۔ ایک امیدوار کامیاب ہوا تو اسے پوری قوم کی سیاسی کامیابی سمجھ لیا گیا۔ کوئی شکست کھا گیا تو گویا پوری سیاست ناکام ہوگئی۔
یہ طرزِ فکر کسی بھی معاشرے کے لئے طویل مدتی سیاسی منصوبہ نہیں بن سکتا۔
قیادت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ ایک لیڈر کتنا بڑا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کتنے لوگ کھڑے ہونے کے قابل ہیں۔اگر ایک شخص کے جانے سے پورا سیاسی منظر خالی ہوجائے تو مسئلہ صرف شخص کا نہیں، سیاسی تربیت کے نظام کا بھی ہے۔

مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کا سوال صرف مذہبی شناخت کا سوال نہیں ہونا چاہیے۔ ایک مسلمان نمائندے سے اس کے حلقے کے ہر شہری کو روزگار، تعلیم، صحت، بنیادی سہولیات، قانون کی بالادستی اور ترقی کے سوال کا جواب بھی چاہیے۔اسی طرح مسلمان ووٹر کے سامنے بھی صرف شناخت کا سوال نہیں بلکہ کارکردگی کا سوال ہونا چاہیے۔کسی امیدوار کا تعلق کسی خاص مذہب یا برادری سے ہونا ایک شناخت ہوسکتی ہے؛ لیکن نمائندگی کی اصل آزمائش عوامی خدمت، آئینی ذمہ داری اور کارکردگی کے میدان میں ہوتی ہے۔یہ فرق سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ جمہوریت میں شناخت دروازہ کھول سکتی ہے، مگر صلاحیت ہی کمرہ آباد کرتی ہے۔
نوجوان کہاں ہیں؟آج کا سب سے بڑا سوال شاید یہ ہے کہ ہماری نئی نسل سیاست کو کس نظر سے دیکھتی ہے؟کیا سیاست صرف جلسہ، نعرہ اور الیکشن ہے؟

یا سیاست معاشرے کو سمجھنے، مسائل کی جڑ تک پہنچنے، قانون سازی میں حصہ لینے اور عوامی خدمت کا نام بھی ہے؟اگر نوجوان صرف سوشل میڈیا پر سیاسی بحث کریں گے لیکن آئین نہیں پڑھیں گے، اگر وہ سیاسی ویڈیوز تو دیکھیں گے لیکن اپنے شہر کا بجٹ نہیں سمجھیں گے، اگر وہ لیڈروں کے بیانات یاد رکھیں گے لیکن اپنے علاقے کے بنیادی مسائل کا ڈیٹا نہیں رکھیں گے تو پھر ہماری سیاسی گفتگو شور تو پیدا کرسکتی ہے، وزن نہیں۔
نئی نسل کو سیاست سے دور کرنا بھی حل نہیں اور اسے صرف جذبات کے حوالے کردینا بھی نہیں۔ ضرورت ایک ایسے سیاسی شعور کی ہے جس میں جذبہ بھی ہو، جستجو بھی؛ شناخت بھی ہو، ذمہ داری بھی؛ آواز بھی ہو، دلیل بھی۔

مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کم ہے—یہ ایک قابلِ بحث اور اعداد و شمار سے جانچا جانے والا مسئلہ ہے۔ لیکن صرف شکایت کافی نہیں۔ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کتنے مسلمان نوجوان سیاسی جماعتوں میں باقاعدہ کام کر رہے ہیں؟ کتنے مقامی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں؟ کتنے لوگ پالیسی سازی، قانون، معیشت، تعلیم اور انتظامیہ کے میدان میں تیاری کر رہے ہیں؟
شکایت اگر سوال بن جائے تو راستہ کھولتی ہے؛ شکایت اگر عادت بن جائے تو راستہ بند بھی کرسکتی ہے۔اس لئے شاید اب وقت ہے کہ ہم سیاسی سوال کو صرف “ہمیں کیا ملا؟” تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اس کے ساتھ یہ سوال بھی رکھیں:
“ہم نے کیا تیاری کی؟”
ووٹ کی عزت، ووٹر کی ذمہ داری:
ووٹ کی طاقت کو سمجھنے کا مطلب کسی ایک جماعت یا امیدوار کی حمایت کرنا نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ووٹر اپنے حق کو شعوری طور پر استعمال کرے، امیدوار کے منشور، سابقہ کارکردگی، عوامی مسائل پر موقف اور آئینی ذمہ داریوں کو سمجھے۔جمہوریت میں کسی بھی شہری کا ووٹ اس کی امانت ہے۔ اس امانت کا استعمال جذبات سے بھی ہوسکتا ہے اور شعور سے بھی۔
ووٹ انگلی پر لگنے والی سیاہی ہے، مگر اس سیاہی میں پانچ سال کی کہانی لکھی جاسکتی ہے۔اسی لئے سیاسی شعور صرف انتخاب کے دن کی ضرورت نہیں؛ یہ پانچ سال کی ضرورت ہے۔

آخر ہم کہاں کھڑے ہیں؟2024 کی لوک سبھا میں 24 مسلمان ارکان کی موجودگی ایک حقیقت ہے، اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ تعداد ایوان کی مجموعی طاقت کے مقابلے میں تقریباً 4.42 فیصد بنتی ہے۔ 2011 کی مردم شماری کے اعداد کے ساتھ اسے دیکھا جائے تو نمائندگی اور آبادی کے تناسب کے درمیان واضح فرق سامنے آتا ہے۔ لیکن اس فرق کو صرف سیاسی نعروں میں تبدیل کردینا مسئلے کا حل نہیں۔اصل سوال اس سے کہیں گہرا ہے۔
کیا ہم ووٹر سے نمائندہ بننے کا سفر طے کر رہے ہیں؟
کیا ہم شکایت سے حکمتِ عملی تک پہنچ رہے ہیں؟
کیا ہم افراد سے اداروں کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
کیا ہم نعروں سے دستاویزات، جذبات سے تحقیق اور انتخابی موسم سے مستقل سیاسی شعور کی طرف بڑھ رہے ہیں؟قوموں کی سیاسی طاقت صرف ان کے ووٹوں سے نہیں ناپی جاتی؛ ان کے علم، تنظیم، قیادت، اداروں اور مسلسل جدوجہد سے بھی ناپی جاتی ہے۔آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ مسلمان صرف یہ گنیں کہ کتنے ووٹ ہمارے پاس ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ یہ بھی گنیں کہ کتنے ماہرین ہمارے پاس ہیں، کتنے وکیل، کتنے محقق، کتنے اساتذہ، کتنے پالیسی ماہر، کتنے سماجی کارکن اور کتنے ایسے نوجوان ہیں جو کل کی ذمہ داری سنبھالنے کے لئے تیار ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں