کپواڑہ /روز گارڈن اسکول ہانگاہ کے زیرِ اہتمام ”تعلیم اور طلبہ پر مصنوعی ذہانت کے اثرات“ کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد ہوا، جس میں مختلف اسکولوں کے طلبہ نے شرکت کی اور تعلیم کے میدان میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے بڑھتے ہوئے اثرات کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
شرکاء نے طلبہ اور تعلیمی نظام کے لئے مصنوعی ذہانت کے فوائد اور ممکنہ نقصانات دونوں کو اجاگر کیا۔ طلبہ نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت سیکھنے، تحقیق، معلومات تک رسائی، زبان کی نشوونما، مسائل کے حل اور مختلف مضامین کو بہتر طور پر سمجھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
طلبہ نے مصنوعی ذہانت پر حد سے زیادہ انحصار کے ممکنہ منفی اثرات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کو سیکھنے کے ایک معاون ذریعے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ آزادانہ سوچ، تخلیقی صلاحیت اور محنت کا متبادل بنایا جائے۔ مقررین نے کہا کہ طلبہ کو ٹیکنالوجی کا مثبت اور ذمہ دارانہ استعمال کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں اور مہارتوں کو بھی فروغ دینا چاہیے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مصنوعی ذہانت اساتذہ کی جگہ نہیں لے سکتی، کیونکہ اساتذہ رہنمائی، تجربہ، اقدار اور انسانی تعامل فراہم کرتے ہیں، جن کا مکمل متبادل ٹیکنالوجی نہیں ہو سکتی۔ تاہم، اساتذہ اور طلبہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے مؤثر اور ذمہ دارانہ استعمال کے لئے اپنی معلومات اور مہارتوں کو مسلسل اپ ڈیٹ کرتے رہیں۔
تمام طلبہ کی پیشکشیں معلوماتی اور اچھی تیاری پر مبنی تھیں، جبکہ سامعین نے بھی شرکاء کی گفتگو کو گہری دلچسپی سے سنا۔
روز گارڈن اسکول آف سائنس اینڈ مورالٹی کی اریبہ مہراج نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ پرلز گارڈن ہانگاہ کے اوزیر عرفان نے دوسری اور شیخ العالم پبلک اسکول ہانگاہ کی اربینہ مشتاق نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
معروف کالم نگار اور سینئر استاد خورشید ریشی نے پروگرام میں واحد جیوری رکن کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے ہوئے طلبہ کی پیشکشوں کا جائزہ لیا۔
پروگرام کے اختتام پر روز گارڈن اسکول آف سائنس اینڈ مورالٹی کی انتظامیہ نے کامیاب طلبہ اور دیگر شرکاء میں انعامات اور اسناد تقسیم کیں۔


