
عنایت اللہ ننھے
ڈیجیٹل دور میں نئی نسل کتابوں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ اب نوجوان کتابیں دیکھنے، پڑھنے یا ان کے صفحات پلٹنے کے بجائے مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ویڈیوز اسکرول کرنے میں مصروف رہتے ہیں، جہاں بیشتر مواد غیر مصدقہ ہوتا ہے۔ آج کے بچوں کو تو چھوڑیے، نوجوان بھی کتابیں پڑھنے سے کتراتے ہیں۔ ایسے میں سوشل میڈیا کی لت پر قابو پانے اور لوگوں کو کتابوں کے مطالعے کی ترغیب دینے کی اشد ضرورت ہے۔
کتابیں مستند معلومات کا اہم ذریعہ ہیں، کیونکہ اشاعت سے قبل ان کے مواد کی جانچ پڑتال اور تحقیق کی جاتی ہے۔ کتابیں پڑھنے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ جو باتیں پہلی بار سمجھ میں نہیں آتیں، انہیں بار بار پڑھنے سے ذہن نشین کیا جا سکتا ہے۔ مطالعہ نہ صرف علم میں اضافہ کرتا ہے بلکہ ذہن کو سکون بھی بخشتا ہے۔
اس کے برعکس، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مواد، ویڈیوز اور مختصر کلپس کی رفتار اتنی تیز ہوتی ہے کہ اکثر معلومات ذہن میں ٹھہر نہیں پاتیں۔ بعض اوقات کسی دلچسپ موضوع سے واسطہ پڑنے کے باوجود اس کے بارے میں مزید جاننے یا اپنے سوالات کے جوابات تلاش کرنے کا موقع نہیں ملتا۔
کتابوں کا ایک اور اہم فائدہ یہ ہے کہ اگر کسی موضوع کو مکمل طور پر سمجھنے کی ضرورت ہو یا اس کے بعض پہلو واضح نہ ہوں تو فہرستِ مضامین اور حوالہ جات کی مدد سے مطلوبہ معلومات تک بآسانی رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ مختلف کتابوں، مصنفین اور مفکرین کی آرا اور ان کے بیانات کا مطالعہ کرکے انسان خود اپنے نتائج اخذ کر سکتا ہے۔
آج ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر وقت گزارنے والوں میں صرف بچے اور نوجوان ہی نہیں بلکہ بزرگ بھی شامل ہو چکے ہیں۔ حالانکہ کتاب سے بہتر کوئی دوست نہیں۔ یہ ذہن کو تازگی بخشتی ہے اور انسان کو تنہائی میں بھی ایک بہترین رفیق فراہم کرتی ہے۔ اگر آپ ذہنی دباؤ، اضطراب، بے چینی یا کسی اور پریشانی سے دوچار ہیں اور کوئی آپ کا ساتھ دینے والا نہیں، یا آپ کسی سے مدد لینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، تو کتابوں کا سہارا لیجیے۔ کتابوں سے دوستی انسان کو کسی کا محتاج بنائے بغیر علم، سکون اور حوصلہ فراہم کرتی ہے۔
برطانیہ سے شائع ہونے والے عالمی شہرت یافتہ روزنامہ دی ٹیلی گراف نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ موجودہ ماحول میں بچوں اور نوجوانوں کے درمیان کتابیں پڑھنے کا رجحان اپنی بدترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔
دوسری جانب، پیرس میں قائم معروف بین الاقوامی تنظیم او ای سی ڈی (OECD) نے ایک سروے کیا، جس میں 91 ممالک کے 7 لاکھ 60 ہزار بچوں کی مطالعے کی عادات کا جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے۔ رپورٹ کے مطابق، 15 سال سے کم عمر بچوں میں مطالعے کے حوالے سے دلچسپی کم ہو رہی ہے۔ تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ موجودہ صدی میں کتابیں پڑھنے کا رجحان انتہائی کمزور پڑ چکا ہے۔ مزید برآں، سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ بچے ریاضی اور سائنس جیسے مضامین پڑھنے سے بھی ہچکچاتے ہیں۔
انگلینڈ کی کیمبرج یونیورسٹی کی ایک اور تحقیقی رپورٹ کے مطابق، جو افراد توجہ اور شوق سے کتابیں پڑھتے ہیں، ان میں ڈیمنشیا کی علامات ظاہر ہونے کا امکان ایک تہائی تک کم ہو سکتا ہے۔ ان علامات میں یادداشت کی کمزوری، الجھن، گفتگو میں دشواری اور رویے میں بنیادی تبدیلیاں شامل ہیں۔
آخر میں، میں عنایت اللہ ننھے، ضلع سیوان، ریاست بہار کا باشندہ ہونے کے ناطے یہ کہنا چاہوں گا کہ کتابوں سے اپنا تعلق برقرار رکھنے کے لئے ہمیں خود سے چند سوالات کرنے چاہییں: ہم کتابیں کیوں پڑھیں؟ مطالعہ کیوں ضروری ہے؟ اور کتابیں پڑھنے کے کیا فوائد ہیں؟
لوگوں میں کتابوں سے دلچسپی بحال کرنے کے لئے مختلف بیداری پروگرام منعقد کیے جانے چاہییں۔ یاد رکھیے، مطالعے سے وابستہ افراد ہی حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ محض سوشل میڈیا پر ویڈیوز اسکرول کرنے سے نہ تو ہم اپنے اسلاف کی تاریخ سے واقف ہو سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی تہذیب و ثقافت کو صحیح طور پر سمجھ سکتے ہیں۔
اس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ ہر شخص سب سے پہلے خود کتاب پڑھنے کی عادت اپنائے اور پھر دوسروں کو بھی مطالعے کی ترغیب دے، کیونکہ کتابوں سے دوری دراصل علم، شعور اور اپنی تہذیبی شناخت سے دوری ہے۔


