جدید موسیقی سے لبریز، ’فنکارِ کشمیر‘ کا چوتھا سیزن اختتام

 

 

بلال بشیر بٹ
سرینگر جنگ

سرینگر/سنتور اور رباب کی دلکش دھنوں سے لے کر جدید موسیقی اور ریپ تک، ’فنکارِ کشمیر‘ کے چوتھے سیزن نے وادی کی نئی نسل کے فنکاروں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا ایک منفرد موقع فراہم کیا۔ اس ثقافتی سرگرمی کا شاندار اختتام 28 ستمبر کو سرینگر کے تاریخی ٹیگور ہال میں ہوا، جہاں نوجوان فنکاروں نے اپنی پرفارمنس سے حاضرین کو محظوظ کیا اور کشمیری موسیقی کے بدلتے ہوئے رنگوں کو نمایاں کیا۔
اس سال تقریباً 120 نوجوان فنکاروں نے مقابلے کے لئے اندراج کرایا، جن میں سے 70 براہِ راست آڈیشن کے مرحلے تک پہنچے، جبکہ 15 بہترین فنکاروں نے آخری مرحلے میں اپنی جگہ بنائی۔ دو روزہ آڈیشن کے دوران ہر روز 35 فنکاروں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اس بار ساز بجانے والے فنکاروں کی نمایاں شرکت کے علاوہ دو ریپرز کی شمولیت نے بھی مقابلے کو ایک نیا رنگ بخشا۔
مانسبل سے تعلق رکھنے والے اذان ایوب میر نے ’فنکارِ کشمیر 2026‘ کا خطاب اپنے نام کیا، جبکہ مجگنڈ، ایچ ایم ٹی کے نوجوان سنتور نواز عمر مجید دوسرے مقام پر رہے۔
کشمیر رباب اکیڈمی، شوکیس ایونٹس اور دی ایگل کے اشتراک سے منعقد ہونے والا یہ پروگرام محض ایک موسیقی کا مقابلہ نہیں بلکہ نوجوان فنکاروں کے لئے تربیت، رہنمائی، عملی تجربے اور پیشہ ورانہ مواقع فراہم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ وقت کے ساتھ اس اقدام نے لوک موسیقی کی نمائش سے آگے بڑھ کر براہِ راست پرفارمنس، تربیتی نشستوں، معلوماتی مجالس اور موسیقی کی ریکارڈنگ کے مواقع کو بھی اپنے دائرے میں شامل کیا ہے۔
کشمیر رباب اکیڈمی کے بانی اور صحافی نذیر گنائی نے کہا کہ اس سال فنکاروں کی متنوع شرکت اس حقیقت کی عکاس ہے کہ کشمیر کی موسیقی کی روایت جامد نہیں بلکہ نئی نسل اسے اپنے تخلیقی انداز میں آگے بڑھا رہی ہے۔ ان کے مطابق سازندوں اور ریپرز کی شرکت اس بدلتے ہوئے موسیقی کے منظرنامے کی واضح مثال ہے۔
دی ایگل کی بانی انجلینا فرنانڈس نے کہا کہ اپنے آغاز سے اب تک یہ پلیٹ فارم نمایاں وسعت اختیار کر چکا ہے اور ابھرتے ہوئے فنکاروں کو شناخت دلانے کے ساتھ ساتھ کشمیر سے باہر پیشہ ورانہ مواقع فراہم کرنے کے لئے بھی کوشاں ہے۔
شوکیس ایونٹس کے چیف ایگزیکٹو ننی سنگھ نے کہا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد نوجوان صلاحیتوں کے لئے مستقل مواقع پیدا کرنا اور مقامی موسیقی کے گرد ایک وسیع ثقافتی معیشت کو فروغ دینا ہے۔
اس ثقافتی سرگرمی کو جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز (JKAACL) کی معاونت حاصل رہی، جبکہ سسٹینوویٹ ریسرچ اینڈ ایڈووکیسی فاؤنڈیشن (SIRAF) نے غیر سرکاری شراکتی ادارے اور راب فاؤنڈیشن نے سرپرست ادارے کے طور پر تعاون کیا۔
’فنکارِ کشمیر‘ کا چوتھا سیزن اس حقیقت کا مظہر بن کر سامنے آیا کہ کشمیر کی موسیقی اپنی روایتی جڑوں سے وابستہ رہتے ہوئے نئے تجربات اور تخلیقی امکانات کو بھی قبول کر رہی ہے۔ رباب اور سنتور کی قدیم دھنوں کے ساتھ جدید موسیقی کی ہم آہنگی نے ثابت کیا کہ ثقافتی ورثے کو زندہ رکھنے کے لئے نئی نسل کی شرکت اور تخلیقی کاوشیں ناگزیر ہیں۔
یہ پلیٹ فارم نہ صرف کشمیر کی لوک موسیقی کو نئی زندگی بخشنے کی کوشش ہے بلکہ ان نوجوان آوازوں کے لئے امید کی ایک کرن بھی ہے جو اپنے فن کے ذریعے وادی کی ثقافت کو نئی نسلوں اور دنیا کے وسیع تر حلقوں تک پہنچانے کا عزم رکھتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسمی صورتحال 

آج سہ پہر یا شام کے وقت جموں و...

شیخ نورالدین نورانیؒ کے عرس کی تعطیل 9 اکتوبر کو ہوگی

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/جموں و کشمیر حکومت نے شیخ...

جموں و کشمیر کی اشاعتی تاریخ میں تاریخی اعزاز FPBAI کے 72ویں سالانہ جنرل اجلاس

  بلال بشیر بٹ جنگ نیوز نئی دہلی/جموں و کشمیر کی اشاعتی...

NIT سری نگر میں ہندی پکھواڑہ اختتام پذیر

  فیضان پنچابی جنگ نیوز سری نگر/نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی NIT...

نریندر مودی کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے25 سال مکمل

    جنگ نیوز نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے حکومت کے سربراہ...

تازہ ترین خبریں

موسمی صورتحال 

آج سہ پہر یا شام کے وقت جموں و...

شیخ نورالدین نورانیؒ کے عرس کی تعطیل 9 اکتوبر کو ہوگی

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/جموں و کشمیر حکومت نے شیخ...

جموں و کشمیر کی اشاعتی تاریخ میں تاریخی اعزاز FPBAI کے 72ویں سالانہ جنرل اجلاس

  بلال بشیر بٹ جنگ نیوز نئی دہلی/جموں و کشمیر کی اشاعتی...

NIT سری نگر میں ہندی پکھواڑہ اختتام پذیر

  فیضان پنچابی جنگ نیوز سری نگر/نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی NIT...

نریندر مودی کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے25 سال مکمل

    جنگ نیوز نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے حکومت کے سربراہ...

جدید موسیقی سے لبریز، ’فنکارِ کشمیر‘ کا چوتھا سیزن اختتام

 

 

بلال بشیر بٹ
سرینگر جنگ

سرینگر/سنتور اور رباب کی دلکش دھنوں سے لے کر جدید موسیقی اور ریپ تک، ’فنکارِ کشمیر‘ کے چوتھے سیزن نے وادی کی نئی نسل کے فنکاروں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا ایک منفرد موقع فراہم کیا۔ اس ثقافتی سرگرمی کا شاندار اختتام 28 ستمبر کو سرینگر کے تاریخی ٹیگور ہال میں ہوا، جہاں نوجوان فنکاروں نے اپنی پرفارمنس سے حاضرین کو محظوظ کیا اور کشمیری موسیقی کے بدلتے ہوئے رنگوں کو نمایاں کیا۔
اس سال تقریباً 120 نوجوان فنکاروں نے مقابلے کے لئے اندراج کرایا، جن میں سے 70 براہِ راست آڈیشن کے مرحلے تک پہنچے، جبکہ 15 بہترین فنکاروں نے آخری مرحلے میں اپنی جگہ بنائی۔ دو روزہ آڈیشن کے دوران ہر روز 35 فنکاروں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اس بار ساز بجانے والے فنکاروں کی نمایاں شرکت کے علاوہ دو ریپرز کی شمولیت نے بھی مقابلے کو ایک نیا رنگ بخشا۔
مانسبل سے تعلق رکھنے والے اذان ایوب میر نے ’فنکارِ کشمیر 2026‘ کا خطاب اپنے نام کیا، جبکہ مجگنڈ، ایچ ایم ٹی کے نوجوان سنتور نواز عمر مجید دوسرے مقام پر رہے۔
کشمیر رباب اکیڈمی، شوکیس ایونٹس اور دی ایگل کے اشتراک سے منعقد ہونے والا یہ پروگرام محض ایک موسیقی کا مقابلہ نہیں بلکہ نوجوان فنکاروں کے لئے تربیت، رہنمائی، عملی تجربے اور پیشہ ورانہ مواقع فراہم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ وقت کے ساتھ اس اقدام نے لوک موسیقی کی نمائش سے آگے بڑھ کر براہِ راست پرفارمنس، تربیتی نشستوں، معلوماتی مجالس اور موسیقی کی ریکارڈنگ کے مواقع کو بھی اپنے دائرے میں شامل کیا ہے۔
کشمیر رباب اکیڈمی کے بانی اور صحافی نذیر گنائی نے کہا کہ اس سال فنکاروں کی متنوع شرکت اس حقیقت کی عکاس ہے کہ کشمیر کی موسیقی کی روایت جامد نہیں بلکہ نئی نسل اسے اپنے تخلیقی انداز میں آگے بڑھا رہی ہے۔ ان کے مطابق سازندوں اور ریپرز کی شرکت اس بدلتے ہوئے موسیقی کے منظرنامے کی واضح مثال ہے۔
دی ایگل کی بانی انجلینا فرنانڈس نے کہا کہ اپنے آغاز سے اب تک یہ پلیٹ فارم نمایاں وسعت اختیار کر چکا ہے اور ابھرتے ہوئے فنکاروں کو شناخت دلانے کے ساتھ ساتھ کشمیر سے باہر پیشہ ورانہ مواقع فراہم کرنے کے لئے بھی کوشاں ہے۔
شوکیس ایونٹس کے چیف ایگزیکٹو ننی سنگھ نے کہا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد نوجوان صلاحیتوں کے لئے مستقل مواقع پیدا کرنا اور مقامی موسیقی کے گرد ایک وسیع ثقافتی معیشت کو فروغ دینا ہے۔
اس ثقافتی سرگرمی کو جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز (JKAACL) کی معاونت حاصل رہی، جبکہ سسٹینوویٹ ریسرچ اینڈ ایڈووکیسی فاؤنڈیشن (SIRAF) نے غیر سرکاری شراکتی ادارے اور راب فاؤنڈیشن نے سرپرست ادارے کے طور پر تعاون کیا۔
’فنکارِ کشمیر‘ کا چوتھا سیزن اس حقیقت کا مظہر بن کر سامنے آیا کہ کشمیر کی موسیقی اپنی روایتی جڑوں سے وابستہ رہتے ہوئے نئے تجربات اور تخلیقی امکانات کو بھی قبول کر رہی ہے۔ رباب اور سنتور کی قدیم دھنوں کے ساتھ جدید موسیقی کی ہم آہنگی نے ثابت کیا کہ ثقافتی ورثے کو زندہ رکھنے کے لئے نئی نسل کی شرکت اور تخلیقی کاوشیں ناگزیر ہیں۔
یہ پلیٹ فارم نہ صرف کشمیر کی لوک موسیقی کو نئی زندگی بخشنے کی کوشش ہے بلکہ ان نوجوان آوازوں کے لئے امید کی ایک کرن بھی ہے جو اپنے فن کے ذریعے وادی کی ثقافت کو نئی نسلوں اور دنیا کے وسیع تر حلقوں تک پہنچانے کا عزم رکھتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں