ریاستی درجہ کی بحالی کی قرارداد پر افسر شاہی کو اعتراض

جنگ نیوز

سرینگر/جموں و کشمیر میں مکمل ریاستی درجے کی بحالی سے متعلق قرارداد پر اسمبلی میں بحث شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل اعلیٰ افسران کی مداخلت نے سیاسی اور انتظامی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔

چیف سیکریٹری اٹل ڈولو اور قانون سیکریٹری اچل سیٹھی نے اسمبلی سیکریٹریٹ کو الگ الگ خطوط ارسال کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے، لہٰذا قرارداد کو ایوان میں زیرِ بحث نہ لایا جائے۔

یہ خطوط وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے قرارداد پیش کیے جانے اور ایوان کی طرف سے بحث کے لئے منظور کیے جانے کے تین روز بعد بھیجے گئے۔ اعلیٰ افسران کے اس غیر معمولی اقدام نے منتخب حکومت اور انتظامیہ کے درمیان قانون ساز ایوان کی کارروائی کے اختیار پر نئی کشیدگی پیدا کردی۔

اسمبلی اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے این ڈی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ بیوروکریسی نے ایوان کی کارروائی روکنے کے لئے اسمبلی سیکریٹریٹ کو خط لکھا ہو۔

انہوں نے کہا کہ متعلقہ وزیر کی منظوری کے بغیر افسران کی جانب سے ایوان کی کارروائی میں مداخلت کی کوئی نظیر ان کے علم میں نہیں۔

افسر شاہی کو کس کے اشارے پر چلایا جا رہا ہے؟

فوٹو: اقبال بیگ/ سرینگر جنگ
فوٹو: اقبال بیگ/ سرینگر جنگ

سرینگر/وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ریاستی درجے کی بحالی سے متعلق قرارداد کے خلاف اعلیٰ افسران کی جانب سے اسمبلی سیکریٹریٹ کو خطوط بھیجنے پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ بیوروکریسی نے یہ اقدام کس کے حکم پر کیا۔

عمر عبداللہ، جو محکمہ قانون کا قلمدان بھی رکھتے ہیں، نے ایوان کو بتایا کہ انہیں ان خطوط کے بارے میں پہلے سے کوئی علم نہیں تھا اور اسمبلی سیکریٹریٹ سے موصول ہونے کے بعد ہی اس معاملے کا پتہ چلا۔

قرارداد کی منظوری سے قبل خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ اور وزیر قانون دونوں ہیں، اس کے باوجود ان کی پیش کردہ قرارداد کے خلاف بیوروکریسی نے قانونی رائے ارسال کی، جس کی انہیں کوئی اطلاع نہیں تھی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر میں بیوروکریسی کو کوئی اور چلا رہا ہے۔

عمر عبداللہ نے اس معاملے کو جموں و کشمیر کی مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی حیثیت سے جوڑتے ہوئے کہا کہ کسی مکمل ریاست میں ایسا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وزیر اعلیٰ قرارداد پیش کرے اور اسی کی بیوروکریسی اس کے خلاف کھڑی ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ منتخب حکومت کے اختیارات کی حدود اور ریاستی درجے کی بحالی کی ضرورت کو واضح کرتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسمی صورتحال 

آج سہ پہر یا شام کے وقت جموں و...

شیخ نورالدین نورانیؒ کے عرس کی تعطیل 9 اکتوبر کو ہوگی

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/جموں و کشمیر حکومت نے شیخ...

جموں و کشمیر کی اشاعتی تاریخ میں تاریخی اعزاز FPBAI کے 72ویں سالانہ جنرل اجلاس

  بلال بشیر بٹ جنگ نیوز نئی دہلی/جموں و کشمیر کی اشاعتی...

NIT سری نگر میں ہندی پکھواڑہ اختتام پذیر

  فیضان پنچابی جنگ نیوز سری نگر/نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی NIT...

نریندر مودی کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے25 سال مکمل

    جنگ نیوز نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے حکومت کے سربراہ...

تازہ ترین خبریں

موسمی صورتحال 

آج سہ پہر یا شام کے وقت جموں و...

شیخ نورالدین نورانیؒ کے عرس کی تعطیل 9 اکتوبر کو ہوگی

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/جموں و کشمیر حکومت نے شیخ...

جموں و کشمیر کی اشاعتی تاریخ میں تاریخی اعزاز FPBAI کے 72ویں سالانہ جنرل اجلاس

  بلال بشیر بٹ جنگ نیوز نئی دہلی/جموں و کشمیر کی اشاعتی...

NIT سری نگر میں ہندی پکھواڑہ اختتام پذیر

  فیضان پنچابی جنگ نیوز سری نگر/نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی NIT...

نریندر مودی کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے25 سال مکمل

    جنگ نیوز نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے حکومت کے سربراہ...

ریاستی درجہ کی بحالی کی قرارداد پر افسر شاہی کو اعتراض

جنگ نیوز

سرینگر/جموں و کشمیر میں مکمل ریاستی درجے کی بحالی سے متعلق قرارداد پر اسمبلی میں بحث شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل اعلیٰ افسران کی مداخلت نے سیاسی اور انتظامی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔

چیف سیکریٹری اٹل ڈولو اور قانون سیکریٹری اچل سیٹھی نے اسمبلی سیکریٹریٹ کو الگ الگ خطوط ارسال کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے، لہٰذا قرارداد کو ایوان میں زیرِ بحث نہ لایا جائے۔

یہ خطوط وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے قرارداد پیش کیے جانے اور ایوان کی طرف سے بحث کے لئے منظور کیے جانے کے تین روز بعد بھیجے گئے۔ اعلیٰ افسران کے اس غیر معمولی اقدام نے منتخب حکومت اور انتظامیہ کے درمیان قانون ساز ایوان کی کارروائی کے اختیار پر نئی کشیدگی پیدا کردی۔

اسمبلی اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے این ڈی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ بیوروکریسی نے ایوان کی کارروائی روکنے کے لئے اسمبلی سیکریٹریٹ کو خط لکھا ہو۔

انہوں نے کہا کہ متعلقہ وزیر کی منظوری کے بغیر افسران کی جانب سے ایوان کی کارروائی میں مداخلت کی کوئی نظیر ان کے علم میں نہیں۔

افسر شاہی کو کس کے اشارے پر چلایا جا رہا ہے؟

فوٹو: اقبال بیگ/ سرینگر جنگ
فوٹو: اقبال بیگ/ سرینگر جنگ

سرینگر/وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ریاستی درجے کی بحالی سے متعلق قرارداد کے خلاف اعلیٰ افسران کی جانب سے اسمبلی سیکریٹریٹ کو خطوط بھیجنے پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ بیوروکریسی نے یہ اقدام کس کے حکم پر کیا۔

عمر عبداللہ، جو محکمہ قانون کا قلمدان بھی رکھتے ہیں، نے ایوان کو بتایا کہ انہیں ان خطوط کے بارے میں پہلے سے کوئی علم نہیں تھا اور اسمبلی سیکریٹریٹ سے موصول ہونے کے بعد ہی اس معاملے کا پتہ چلا۔

قرارداد کی منظوری سے قبل خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ اور وزیر قانون دونوں ہیں، اس کے باوجود ان کی پیش کردہ قرارداد کے خلاف بیوروکریسی نے قانونی رائے ارسال کی، جس کی انہیں کوئی اطلاع نہیں تھی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر میں بیوروکریسی کو کوئی اور چلا رہا ہے۔

عمر عبداللہ نے اس معاملے کو جموں و کشمیر کی مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی حیثیت سے جوڑتے ہوئے کہا کہ کسی مکمل ریاست میں ایسا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وزیر اعلیٰ قرارداد پیش کرے اور اسی کی بیوروکریسی اس کے خلاف کھڑی ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ منتخب حکومت کے اختیارات کی حدود اور ریاستی درجے کی بحالی کی ضرورت کو واضح کرتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں