جنگ نیوز
بی جے پی نے جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کرتے ہوئے ریاستی درجے کی قرارداد میں خصوصی حیثیت کے مبینہ غیر آئینی ذکر پر اعتراض کیا۔
وقفۂ سوالات کے آغاز پر بی جے پی رکن آر ایس پٹھانیا نے اسپیکر سے کرسی چھوڑنے کا مطالبہ کیا، تاہم اسپیکر نے واضح کیا کہ قواعد کے مطابق تحریکِ عدم اعتماد پر کارروائی نوٹس موصول ہونے کے 14 دن بعد ہی ہوسکتی ہے۔
بی جے پی اراکین نے نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں احتجاج کیا اور متوازی اجلاس منعقد کیا۔ اس دوران رکن اسمبلی بلونت سنگھ نے کانگریس رکن نظام الدین بھٹ پر خودمختاری کی حمایت کا الزام لگایا، جبکہ منکوٹیا نے ان سے جموں و کشمیر میں وزیر اعظم کے عہدے کی بحالی سے متعلق سوال کیا۔
اپوزیشن لیڈر سنیل کمار شرما نے کہا کہ بی جے پی ریاستی درجے کی بحالی کی حامی ہے، تاہم 1953 سے پہلے کی پوزیشن پر کوئی بحث قابل قبول نہیں۔ احتجاج کے دوران بی جے پی اراکین نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سمیت متعدد اراکین کی تقاریر میں بھی خلل ڈالا۔


