غزل: بےنام گیلانی

 

 

بےنام گیلانی

حق زباں اردو کو دنیا سے دلانے والے
اب کہاں لوگ ہیں تحریک چلانے والے
کذب گوئی کو سمجھتے ہیں بقا کا باعث
کتنے نادان ہیں یہ خواب دکھانے والے
مکر کا جال سلیقے سے بچھا رکھا ہے
خود ہیں گمراہ یہاں راہ بتانے والے
اب وہی بے وقعت اتے ہیں نظر دنیا میں
اپنی انگلی پہ زمانے کو نچانے والے
کیسی مجبوریاں درپیش ہیں کچھ تو بولیں
اب جگاتے ہیں مجھے خود ہی زمانے والے
عزت و مرتبہ پاتے ہیں زمانے بھر میں
خون انسان سے ہر روز نہانے والے
اب کہاں ملتے ہیں دنیا کے کسی گوشے میں
بات کمزوروں کا کاندھے پہ اٹھانے والے

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

DPL ہندوارہ میں خواتین کرکٹ ٹورنامنٹ اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/خواتین کرکٹ ٹورنامنٹ آج ڈسٹرکٹ پولیس لائنز...

کپواڑہ میں پولیس نے بوائز والی بال اور گرلز T-20کرکٹ ٹورنامنٹس کی اختتامی تقریب کی میزبانی کی

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/کپواڑہ پولیس کے زیر اہتمام والی بال...

گاندربل میں پولیس نےCAP کے تحت گرلز کرکٹ ٹورنامنٹ کا افتتاح کیا

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/کھیلوں کے فروغ، نظم و ضبط، خود...

7 اکتوبر: غزہ سے ایران تک!

7 اکتوبر 2023 کو حماس کا اسرائیل پر حملہ...

وادیٔ کشمیر میں سردیوں کا سفر: ضروری رہنمائی اور حفاظتی تدابیر

  فیضان پنجابی جیسے ہی کشمیر کی وادی پر سردیاں سایہ...

تازہ ترین خبریں

DPL ہندوارہ میں خواتین کرکٹ ٹورنامنٹ اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/خواتین کرکٹ ٹورنامنٹ آج ڈسٹرکٹ پولیس لائنز...

کپواڑہ میں پولیس نے بوائز والی بال اور گرلز T-20کرکٹ ٹورنامنٹس کی اختتامی تقریب کی میزبانی کی

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/کپواڑہ پولیس کے زیر اہتمام والی بال...

گاندربل میں پولیس نےCAP کے تحت گرلز کرکٹ ٹورنامنٹ کا افتتاح کیا

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/کھیلوں کے فروغ، نظم و ضبط، خود...

7 اکتوبر: غزہ سے ایران تک!

7 اکتوبر 2023 کو حماس کا اسرائیل پر حملہ...

وادیٔ کشمیر میں سردیوں کا سفر: ضروری رہنمائی اور حفاظتی تدابیر

  فیضان پنجابی جیسے ہی کشمیر کی وادی پر سردیاں سایہ...

غزل: بےنام گیلانی

 

 

بےنام گیلانی

حق زباں اردو کو دنیا سے دلانے والے
اب کہاں لوگ ہیں تحریک چلانے والے
کذب گوئی کو سمجھتے ہیں بقا کا باعث
کتنے نادان ہیں یہ خواب دکھانے والے
مکر کا جال سلیقے سے بچھا رکھا ہے
خود ہیں گمراہ یہاں راہ بتانے والے
اب وہی بے وقعت اتے ہیں نظر دنیا میں
اپنی انگلی پہ زمانے کو نچانے والے
کیسی مجبوریاں درپیش ہیں کچھ تو بولیں
اب جگاتے ہیں مجھے خود ہی زمانے والے
عزت و مرتبہ پاتے ہیں زمانے بھر میں
خون انسان سے ہر روز نہانے والے
اب کہاں ملتے ہیں دنیا کے کسی گوشے میں
بات کمزوروں کا کاندھے پہ اٹھانے والے

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں