
ابراہیم آتش
اگلے سال ملک کی سات ریاستوں کے انتخابات بی جے پی اور کانگریس کے لئے بہت اہم ہوں گے۔ سات ریاستوں میں پانچ پرجہاں بی جے پی اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے ایک پر کانگریس اور ایک پر عام آدمی پارٹی کا قبضہ ہے۔ سات ریاستوں کے جملہ 940 اسمبلی سیٹ ہیںجن میں بی جے پی 537 سیٹ حاصل کر چکی تھی کانگریس 112 اور یس پی کو 111 ملے تھے جبکہ عام آدمی پارٹی کو 92 سیٹ پنجاب میں ملے تھے دو چار اور ریاستوں میں ملے ہیں۔ اب یہاں اہم بات بی جے پی اور کانگریس کا موازنہ کرنا ہے بی جے پی کو سب سے زیادہ یو پی میں 403 میں 255 سیٹ حاصل ہوئے تھے جبکہ کانگریس کا وہاں بہت خراب مظاہرہ رہا تھا کانگریس کو صرف دو سیٹ ملے تھے اور سماج وادی پارٹی 111 سیٹ لے کر بی جے پی کا اچھا مقابلہ کیا تھا ۔ گجرات کی 182 سیٹوں میںبی جے پی نے 156 سیٹ حاصل کرکے اپنی برتری ثابت کر دی تھی کانگریس صرف17 سیٹوں پر سمٹ گئی تھی پنجاب میں 117 سیٹوں میں عاپ نے 92 سیٹ حاصل کر کے سب کو چونکایا اور سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی کانگریس 18 سیٹوں سے آگے نہیں بڑھ پائی تھی ۔ اتر کھنڈ جہاں 70 سیٹوں پر مقابلہ ہوا تھا بی جے پی 47 سیٹ حاصل کرکے حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تھی کانگریس کو صرف 19 سیٹ ملے تھے۔ ہماچل پردیش میں 68 سیٹوں پر مقابلہ ہوا تھا جس میں کانگریس کو 40 سیٹ حاصل ہوئے تھے اور بی جے پی کو 25 سیٹ ملے سات ریاستوں میں ایک واحد ریاست ہے جہاں کانگریس اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تھی۔ منی پور کے 60 سیٹوں میں بی جے پی کو 32 سیٹ حاصل ہوئے تھے اور وہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تھی سات ریاستوں میں آخری ریاست گوا ہے جہاں 40 سیٹوں میں بی جے پی 20 سیٹ حاصل کرکے کے حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تھی اگر تمام سات ریاستوں کا سروے کیا جائے تو بی جے پی بہت طاقتور نظر آتی ہے پانچ ریاستوں میں اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے ہندسوںسے یہی ظاہر ہوتا ہے کانگریس بی جے پی کے قریب بھی نہیں پہنچ رہی ہے۔
2027 کیا پھر سے دہرایا جا سکتا ہے یہ سوال سب کے ذہن میں ابھر رہا ہوگا سوائے گجرات کے تمام ریاستوں میں کچھ بھی ہو سکتا ہے حالات اب بالکل بدل گئے ہیں کیونکہ جب ہم 2024 کے لوک سبھا کا الیکشن دیکھتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے 2022۔اور 2024 کے ووٹروں کے سوچنے میں کتنا فرق آیا تھاجہاںو وٹرس 2022 میں دل کھول کر بی جے پی کو ووٹ دیا ا تھا وہی ووٹرس چوبیس کے لوک سبھا کے الیکشن میں ناراض نظر آئے خاص کر اترپردیش میں بی جے پی کو دھول چٹائے۔
2024 میں لوک سبھا کے انتخابات ہوئے ہم صرف ان سات ریا ستو ں کی رپورٹ دیکھیں گے جہاں 2027 میں اسمبلی الیکشن ہونے ہیں لوک سبھا میں کس پارٹی کا مظاہرہ کیسا رہا ان سات ریاستوں کے نتیجے دیکھنے کے بعد ہمیں تصویر نظر آئے گی دو سال میں کتنی تبدیلی ہوئی تھی۔ 2024 سے 2027 تک تین سال ہوتے ہیں اور بھی صحیح اندازہ لگانے میں آسانی ہوگی اترپردیش کے 80 لوک سبھا کے سیٹوں میں سماج وادی پارٹی 37 سیٹ حاصل کر کے سب سے زیادہ سیٹ حاصل کرنے والی پارٹی بنی تھی بی جے پی کو 33 سیٹ ملے تھے اور کانگریس کو 6 سیٹ ملے تھے جس ریاست میں بی جے پی کی حکومت تھی وہاں سماج وادی پارٹی بی جے پی سے زیادہ سیٹ لینے میں کامیاب ہوئی تھی اور کانگریس جہاں اسمبلی الیکشن میں صرف دو سیٹ لی تھی لوک سبھا میں 6 سیٹ لینے میں کامیاب ہوئی تھی اترپردیش کا اسمبلی اور لوک سبھا کا الیکشن دیکھیں تو معلوم ہوگا اسمبلی نتیجے کے برعکس ہمیں لوک سبھا کا نتیجہ دیکھنے کو ملا تھا۔ گجرات ایک ایسی ریاست ہے جہاں فی لحال بی جے پی کو شکست دینا ممکن نہیں ہے بی جے پی کو 26 میں سے 25 سیٹ ملے تھے۔ پنجاب میں کانگریس کا مظاہرہ کوئی خاص نہیں تھا عام آ دی پارٹی نے حکومت بنائی تھی اس کے با وجود کانگریس کو پنجاب میں 7 سیٹ حاصل ہوئے تھے اور عام آدمی پارٹی کو تین سیٹ ملے تھے اتر کھنڈ میں بی جے پی پورے پانچ سیٹ لینے میں کامیاب ہوئی تھی ہماچل میں نتیجہ الٹا دیکھنے میں آیا جہاں اسمبلی میں کانگریس حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تھی وہیں پر لوک سبھا میں بی جے پی چاروں سیٹوں پر قبضہ کر لیتی ہے۔ منی پور میں بھی ایسا ہی دیکھنے میں آیا وہاں بی جے پی کی حکومت تھی اور لوک سبھا میں کانگریس دونوں سیٹوں پر قبضہ کر لیتی ہے گوا کی دو سیٹوں میں ایک کانگریس اور بی جے پی بانٹ لیتے ہیں ۔
آپ کے سامنے 2022 کے سات ریاستوں کا اور 2024 کے لوک سبھا کی رپورٹ تفصیل سے پیش کی جا چکی ہے 2027 کے ان سات ریاستوں کا نتیجہ کیا ہوسکتا ہے اس کے لئے ہمیں ملک کا ماحول دیکھنا ہوگا ماحول بی جے پی کے ساتھ ہے یا کانگریس کے ساتھ اور اس کو سمجھنے کے لئے 2026 کے واقعات بہت اہم ہیں ان واقعات پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں بی جے پی کو نقصان ہوتے ہوئے نظر آتا ہے خاص کر جنتر منتر پر جس طرح سے gen_z نے نریندر مودی کی حکومت کی امیج کو بری طرح متاثر کیا اس کا فائدہ کانگریس اور انڈیا کو کہیں نہ کہیں ملتا ہوئے ہمیںنظر آتا ہے۔ 2026 سپٹمبر میں راجستھان کے لوکل چنا ئو ہوئے جس میں کانگریس نے برابر کی ٹکر دی اس سے ظاہہر ہوتا ہے لوگوں کا مزاج بدل رہا ہے ملک میں مذہب اور ذات پات کی سیاست معاشرہ میںبہت گہرائی تک سرایت کر گئی ہے اس سے چھٹکار اپانا بہت مشکل ہے اترپردیش کی سیاست میں پہلے مسلمانوں کابہت اہم کردار رہا کرتا تھا جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے وہ اہم کردار بھی اب باقی نہیں رہا اترپردیش کے بڑے بڑے مسلم سیاسی لیڈروں کا انکاوئنٹر کر وایا گیا یا پھر سیاسی شکار بنا کر جیلوں میں ڈالا گیا وہاں کوئی بڑی مسلم سیاسی شخصیت باقی نہیں رہی۔ سلمان خورشید ہیں مگر ان کا بھی مسلمانوں میں کوئی خاص اثر رسوخ دیکھنے میں نہیں آتا ہاں ایم آئی ایم کوشش کر رہی ہے اس سے پہلے بھی کوشش کی تھی جو ناکام ہوئی تھی اس مرتبہ اعلان کیا ہے وہ اتر پردیش کے انتخابات میں حصہ لیں گے کون آتا ہے کون جاتا ہے کس کی حکومت بنتی ہے اس سے ایم ائی ایم کوئی لینا دینا نہیں وہ تو الیکشن میں قسمت آزمائے گی ۔اترپردیش کی سیاست میں کون کامیاب ہوگا آنے والا وقت ہی بتائے گا آج کل بھیم آرمی بھی بہت سرگرم دیکھی جا رہی ہے چندر شیکھر آزاد جو آزاد سماج پارٹی سے نگینہ کے ایم پی ہیں دلتوں کے اور مسلمانوں کے ووٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یادوئوں کے و وٹ تو سماج وادی پارٹی کو جائیں گے کانگریس کو کس کے ووٹ ملیں گے یہ تعطل ہنوز برقرار ہے۔ اگر دلتوں اور مسلمانوں کے وو ٹ کانگریس کو جاتے ہیں تو کانگریس اچھا مظاہرہ کر سکتی ہے حالانکہ گذ شتہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو صرف دو سیٹ ملے تھے ہو سکتا ہے کانگریس اور سماج وادی پارٹی میں سمجھوتہ ہو جائے اترپردیش کے نوجوان بھی اس الیکشن میں بہت بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر وہ جنتر منتر والا جوش باقی رہے گا تو اترپردیش کا پورا نقشہ بدل سکتے ہیں ۔
ان سات ریاستوں میںگجرات ایک ایسی واحدریاست نظر آتی ہے جہاں بی جے پی کا دبدبہ قائم رہے گا اور کانگریس کچھ نہیں کر پائے گی یہ نریندر مودی اور امیت شاہ کی زمین ہیجس کو ہندو توا کی لیباریٹری بھی کہا جاتا ہے پنجاب میں عام آدمی پارٹی یا کانگریس آ سکتے ہیں مگر بی جے پی کے لئے کوئی امید نہیں ہے اتر کھنڈ میں بی جے پی کی امید کی جا سکتی ہے ہماچل میں کانگریس کی پھر سے واپسی ہو سکتی ہے منی پور اور گوا میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے ۔
نوٹ:ادارہ جنگ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا لازمی نہیں ہے۔


